لندن میں لوگوں کا رویہ ہتک آمیز تھا، نازیہ حسن میرے لیے ڈھال بن جاتی تھیں، زوہیب حسن

میوزک کمپنی والوں کا فون آیا ’’گانا،بنارہے ہیں یا بلڈنگ‘‘، پاکستان میں پوپ میوزک کے بانی زوہیب حسن کی یادیں اور باتیں۔ فوٹو : فائل

میوزک کمپنی والوں کا فون آیا ’’گانا،بنارہے ہیں یا بلڈنگ‘‘، پاکستان میں پوپ میوزک کے بانی زوہیب حسن کی یادیں اور باتیں۔ فوٹو : فائل

پاکستانی شعبۂ موسیقی میں ایک دور ایسا بھی گزرا جب عالمگیر ، احمد رشدی اور محمد علی شہکی کے فلم، ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر گائے گئے گیتوں میں کچھ حد تک مغربی ساز وانداز کی جھلک نظر آتی تھی، مگر نازیہ اور زوہیب کو اس سے ایک قدم اور آگے مغربی موسیقی کے امتزاج سے مزین گیتوں اور کچھ حد تک مغربی گائیکی کے انداز کی بنا پر پاکستان میں پوپ میوزک کے بانیان میں شمار کیا جاتا ہے۔

80ء کی دہائی میں ٹیلی ویژن اسکرین پر چلنے والے پروگرام ’’کلیوں کی مالا‘‘ اور ’’سنگ سنگ چلیں‘‘ سے متعارف ہونے والے ننھے فن کاروں نے پہلے کراچی اور بعدازاں لندن میں اپنی صلاحیتوں کی دھاک بٹھائی اور یوں ان کے چرچے بھارتی فلم صنعت تک جاپہنچے، انتہائی قلیل مدت میں دونوں بہن بھائی نے منفرد اور بہترین گائیگی پر 12گولڈ، 4 پلاٹینیم اور 2 ڈبل پلاٹینیم ڈسک ایوارڈ اپنے نام کیے۔

نازیہ حسن کی وفات سے اب تک گذشتہ سترہ برسوں کے دوران زوہیب حسن نے کچھ مکمل اور کچھ ادھورے کام کے ذریعے اپنی موجودگی کا وقتاًفوقتاً احساس ضرور دلایا مگر بات اگر پچھلے دس سالوں کی کی جائے تو اس دوران زوہیب کی جانب سے گائیکی کے حوالے سے ایک ان دیکھا جمود طاری رہا۔ نازیہ کی موت اور اور زوہیب کی طویل خاموشی سے ان کے مداحوں کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھنے لگا کہ کیا پاکستانی میوزک کو نئی جدتوں سے روشناس کروانے والی یہ سریلی آوازیں قصہ پارینہ بن جائیں گی ۔

اسی دوران خوش آئند بات یہ رہی کہ زوہیب حسن نے اپنی مسحور کن دھنوں سے سجے میوزک البم کے ساتھ ماضی سے ٹوٹا ہوا سلسلہ ازسر نو جوڑنے کا تہیہ کرلیا۔ کچھ عرصے میں منظر عام پر آنے والی میوزک البم سگ نیچر میں شامل کچھ گانے ایسے بھی ہیں، جو نازیہ اور زوہیب نے مل کر گانے تھے، زوہیب حسن بولی ووڈ میں نازیہ حسن کی زندگی پر بننے والی فلم کے حوالے سے بھی متحرک ہیں۔ زوہیب حسن کے ساتھ ایک نشست ہوئی جو ایکسپریس کے قارئین کے لیے پیش خدمت ہے ۔

سوال: دس سال کے لمبے عرصے تک میوزک انڈسٹری سے غیرحاضر رہنے کا کیا پس منظر ہے؟

زوہیب حسن: دراصل میری زندگی میں میوزک کے علاوہ اور بہت سی چیزیں ہوتی رہی ہیں۔ خاص طور پر نازیہ کی وفات کے بعد گھر کا ہر فرد شدید ذہنی کرب سے دوچار تھا اور ایسے میں ہم سب کے لیے والدہ کو سنبھالنا بہت مشکل ہورہا تھا۔ اس وقت میں نے کچھ عرصے کے بعد کوشش بھی کی کہ حالات سے سمجھوتا کرلوں، اور دوبارہ نارمل زندگی کی طرف لوٹ آؤں، مگر فن کار جب کوئی تخلیقی کام کررہا ہو اور اس کا دل آمادہ نہ ہوتو اس وقت تخلیق کرنا ممکن نہیں ہوتا یا پھر آپ یوں کہہ لیں کہ وہ اپنے کام سے انصاف نہیں کرپاتا، جہاں تک میری بات ہے تو میں آرٹ کے اس شعبے میں جسے فن موسیقی کہتے ہیں، نوٹ کمانے نہیں آیا تھا، بل کہ اس کے پس پردہ میر ی موسیقی سے وابستگی اور اس فن کی خدمت کا جذبہ تھا۔

موسیقی سے کنارہ کشی کے دوران کئی دوستوں نے دوبارہ موسیقی کی طرف آنے کا مشورہ دیا جب کہ کئی کمپنیز نے پُرکشش آفرز بھی دیں، مگر دل نہیں مان رہا تھا۔ پھر میں نے سوچا کہ میوزک میں جو کرنا تھا وہ کرلیا، یہی وجوہات تھیں جن کی وجہ سے موسیقی کو وقت نہیں دے پایا اور میوزک کو ری کور کرنا انتہائی مشکل تھا۔ پھر نازیہ کا بیٹا بھی تھا، جو اب بھی ہمارے پاس ہے اور ماشاء اللہ اکیس سال کا چھے فٹ کا کڑیل جوان ہے، اس کی پڑھائی اور پھر لندن اور پاکستان میں اپنے پراپرٹی اور کنسٹرکشن کے بزنس کی بھی کچھ مصروفیات رہیں۔

اس دوران میں نے آزمائشی طور پر نازیہ حسن کو ایک ٹری بیوٹ بھی دیا، مگر یقین جانیے کہ اس میں بھی پرفارم کرنا انتہائی مشکل ہوگیا تھا۔ اس میوزیکل کنسرٹ میں نازیہ کے بغیر پرفارم کرنا بہت ہی عجیب لگ رہا تھا، اور مجھے لگا کہ اگر ذہن پر یہ خیالات حاوی رہے تو پھر شاید میں اس طرح سے نہیں گا سکوں گا جو اس گانے کی ڈیمانڈ ہوگی۔ تو غیرحاضری کے پس پردہ یہی وجوہات تھیں، مگر میں انتہائی شکرگزار ہوں تمام پاکستانیوں کا جنھوں نے آج تک ہمیں یاد رکھا ہوا ہے۔ ان کی محبت کو میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا۔

سوال: آپ کے اور نازیہ کے غالباً کچھ مشترکہ گانے ایسے بھی تھے جو ان کے انتقال کی وجہ سے ادھورے رہ گئے؟

زوہیب حسن: جی بالکل اس دور میں کچھ گانے تھے جو میں نے اور نازیہ نے مل کر گانے تھے، مگر نازیہ کی بیماری اور پھر انتقال کی وجہ سے یہ دُھنیں باقاعدہ گانے بننے سے رہ گئیں۔ اس وقت ہم پرفارم نہیں کرسکے تھے ، اب جو میرا ’’سگنیچر‘‘ کے نام سے میوزک البم مارکیٹ میں آرہا ہے، جو میں نے دس سال پہلے شروع کیا تھا۔ اس کے بننے پر دس سال نہیں لگے مگر جیسے میں بتا رہا تھا کہ دل نہیں مان رہا تھا میوزک پر کام کرنے کے حوالے سے، اس البم میں کچھ گانے ہیں، خاص طور پر ایک گانا ہے۔

جس کے بول ہیں ’’ہمت سے‘‘، جو مجھے اور نازیہ کو ڈوئٹ گانا تھا، مگر بعدازاں جو حالات پیدا ہوئے تو یہ گانا مجھے اکیلے گانا پڑا ہے۔ میں ان چند برسوں کے دوران کبھی گانا شروع کردیتا تھا پھر دوبارہ ذہن مائل نہیں ہوتا تھا اور چھوڑ دیتا تھا۔ ایک دن اسی وجہ سے میوزک کمپنی والوں کا فون آیا کہ بھائی آپ گانا بنار ہے ہیں یا بلڈنگ بنارہے ہیں؟ (ہنستے ہوئے)۔ بہرحال دس سال کے بعد اب یہ البم مکمل ہوگیا ہے۔ اس کا ایک گانا ’’سلسلے‘‘ ترکی میں شوٹ ہوا ہے، جس کی سافٹ لانچنگ ہوچکی ہے جب کہ مکمل میوزک البم کی باقاعدہ لانچنگ اب ہونے جارہی ہے۔

 سوال: نازیہ حسن کی زندگی پر بننے والی فلم کے حوالے سے کچھ بتائیے؟

زوہیب حسن: بولی ووڈ کے فلم میکر نے مجھ سے نازیہ کی زندگی پر بننے والی فلم کے لیے رجوع کیا، مگر میں نے ابتدا میں ہی انھیں یہ بات باور کروادی تھی کہ چوںکہ انڈین فلم فارمولا بیسڈ ہوتی ہے اور اس میں غیرضروری طور پر ناچ گانا بھی شامل ہوتا ہے، تو اگر فلم میں حقائق کے برعکس کو ئی چیز شامل کی گئی، جس کی ہماری معاشرتی اقدار اجازت نہیں دیتیں یا پھر ہماری گھریلو روایات کے منافی ہوئیں تو پھر شاید ہم یہ فلم نہ کرسکیں۔ تاہم ان کا جوا ب تھا کہ دراصل وہ نازیہ اور میرے اصل حالات وواقعات پر فلم بنانا چاہتے ہیں کہ کس طرح سے کراچی میں سہیل رعنا کے پروگرام سے دو کم سِن بہن بھائی نے اپنا فنی سفر شروع کیا اور پھر لندن پہنچ کر انھوں نے اپنی محنت سے دنیا بھر میں اپنی پہچان بنائی۔ اس فلم کے ذکر سے مجھے یاد آیا کہ کراچی کے بعد جب ہم لندن پہنچے تو ہماری راہوں میں اس وقت کوئی ریڈکارپٹ نہیں بچھائے گئے۔

بل کہ اس دور میں وہاں کے لوگوں کا عجیب ہتک آمیز رویہ تھا، ایک طرف اگر ہماری اپنے آپ کو منوانے کی جدوجہد تھی تو دوسری طرف وہاں پر کچھ لوگوں کی کوشش تھی کہ ہمارے حوصلے پست ہوجائیں، مگر نازیہ چوںکہ مجھ سے بڑی تھیں اور ان میں بلا کی خود اعتمادی تھی، تو وہ اکثر ڈٹ جاتی تھیں، اور ان تمام لوگوں کے سامنے میرے لیے ڈھال بن جاتی تھیں۔ نازیہ کی زندگی پر فلم لندن میں بنے گی اور اس میں یقیناً پاکستان والے دور کی منظرکشی بھی شامل ہوگی۔ فلم کا اسکرپٹ مکمل ہے۔ یوں تو فلم کے رائٹر کا تعلق بھارت سے ہی ہے مگر اس کی کہانی کے دوران میری معاونت اور مشورے بھی شامل رہے ہیں۔ اس فلم میں بولی وڈ والوں نے کچھ اداکاروں کا انتخاب بھارت سے کیا تھا، مگر میرا مدعا یہ تھا کہ پاکستان اور بھارت سے فلم میں کردار نگاری کے لیے مساوی اداکاروں کا چناؤ کیا جائے، ورنہ میں یہ فلم نہیں کرسکوں گا۔ اب فلم کے لیے نازیہ حسن سے ملتی جلتی کسی لڑکی کی تلاش ہے اور نوجوان زوہیب کا کردار ادا کرنے والے لڑکے کی تلاش بھی کی جارہی ہے۔ جب یہ مراحل گزر جائیں گے، تو یقیناً پھر فلم اگلے مرحلے میں سیٹ پر چلی جائے گی۔

سوال: ایک مثالی محبت کرنے والی بہن جو اب اس دنیا میں نہیں ہے، سترہ سال بعد آج بھی ان کی کمی اور کسک یقیناً محسوس ہوتی ہوگی؟

زوہیب خان: جن دنوں نازیہ بیمار تھیں وہ ہماری فیملی کے لیے انتہائی مشکل اور کڑ ا وقت تھا۔ آج بھی جب میں اس وقت کو یاد کرتا ہوں کہ نادیہ کینسر کی وجہ سے بستر علالت پر تھیں اور میں اور میرے گھر والے اسپتال کے چکر پر چکر لگاتے تھے، مگر جس طر ح میں نے پہلے بتایا کہ نازیہ حسن بہت ہی مضبوط اعصاب کی مالک تھیں اور شدید بیمار ہونے کے باوجود گھر والوں کی پریشانی کی وجہ سے اکثر غلط بیانی بھی کرجاتی تھیں۔ اس دوران بھی میوزک البم کی تیار ی کے بارے میں مجھ سے اکثروبیشتر باز پرس کرتی تھیں، تو میرا جواب یہ ہوتا کہ آپ کی طبیعت خراب ہے تو فوراً جواب آتا کہ کس نے کہہ دیا کہ میری طبیعت خراب ہے میں بلکہ ٹھیک تو ہوں۔ وہ چاہتی تھیں کہ میوزک کے حوالے سے میری رغبت کم نہ ہو۔ ان کی شخصیت کے دو مختلف پہلو تھے، ایک نرم خو ئی اور دوسرا سخت مزاجی۔ جن دنوں وہ اسپتال میں داخل تھیں اور کینسر کی وجہ سے کیموتھراپی جیسے مشکل مرحلے سے گزر رہی تھیں، وہ وقت یا د کرکے آج بھی افسردہ ہوجا تا ہوں (آنکھوں میں نمی آگئی) کیوںکہ آہستہ آہستہ وہ میری آنکھوں کے سامنے ختم ہوتی جارہی تھیں۔ وہ لندن میں بیماری کے دوران دو سال میرے پاس رہیں۔ میں شاید نازیہ کے خلا کو کبھی بھی پر نہ کرسکوں۔

سوال: کسی فلم یا ڈرامے میں اداکاری کی پیش کش ہوئی تو کیا جواب ہوگا؟

زوہیب حسن: بنیادی طور پر اداکاری میرا شعبہ نہیں ہے، اور نہ ہی کبھی اس حوالے سے سنجیدگی سے کبھی سوچا، نہ ہی مجھے اداکاری میں کوئی دل چسپی ہے۔ میرا خیال ہے کہ سیانے لوگوں کا یہ مقولہ صحیح ہے کہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ دراصل اداکاری کا شعبہ اپنے مزاج کے اعتبار سے بالکل ہی الگ معاملہ ہے۔ میں نے ایک نجی ٹی وی چینل کی ٹی وی سیریل میں اداکاری ضرور کی تھی، مگر اس ڈراما سیریل کا مقصد بھی دراصل اپنے میوزک کو پروموٹ کرنا تھا، مگر اگر آپ کا سوال آئندہ کی اداکاری کے متعلق ہے تو مستقبل میں ٹیلی ویژن یا سلور اسکرین پر میرا کسی فلم یا ٹی وی ڈرامے میں اداکاری کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

سوال: مستقبل میں کیا اپنے بچوں کو میوزک انڈسٹری سے منسلک کروانے کا ارادہ ہے؟

زوہیب حسن: میری دو بیٹیاں ہیں، عالیانہ ماشاء اللہ سولہ سال کی ہوچکی ہے، اس کی آواز بہت اچھی ہے جب کہ چھوٹی بیٹی میاہ تیرہ سال کی ہے، وہ کی بورڈ بڑی مہارت سے بجاتی ہے اور ایسی ایسی دھنیں ترتیب دیتی ہے جن کو سن کر مجھے تو بعض اوقات یہ لگتا ہے کہ وہ کہیں سے کاپی کیے گئے ہیں۔ دونوں بچیوں کو میوزک ورثے میں ملا ہے۔ میں اپنی اولاد کو زبردستی میوزک میں نہیں لے کر آسکتا۔ ہاں اگر ان میں ٹیلنٹ ہے اور وہ اپنے آپ کو منوانے کے لیے سخت محنت کرسکتی ہیں تو پھر میں بھی انھیں ویلکم کروں گا، مگر وہ اگر یہ سوچیں کے ان کے والد زوہیب حسن ہیں اور وہ انھیں پروموٹ کریں گے تو ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔

سوال: پاکستان میں موسیقی کی زبوںحالی کی آپ کے خیال میں کیا وجوہات ہیں؟

زوہیب حسن: پاکستان میں میوزک انڈسٹری کو میرے خیال میں سب سے زیادہ پائریسی نے نقصان پہنچایا ہے، مگر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں میوزک کے شعبے میں کچھ تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں۔ اس بات کو ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ شاید بہت سی جگہوں پر ہم دنیا سے قدم ملا کر نہیں چل سکے۔ پاکستان میں موسیقی کا فن سکھانے والے اداروں کی بھی کمی رہی ہے، جن کی تعداد بڑھنی چاہیے، کیوںکہ موسیقی کی تربیت دینے والے اداروں کا نئی آوازوں کو متعارف کروانے اور موسیقی اور نئے گلوکاروں کی حوصلہ افزائی میں کلیدی کردار ہوتا ہے، کیوںکہ آپ کے پاس کسی بھی شعبے میں اگر عصرِحاضر کے عین مطابق آلات اور مہارت رکھنے والے لوگو ں کا فقدان ہو تو پھر ساتھ نہیں چل سکتے اور پیچھے رہ جاتے ہیں، ماضی کے مقابلے میں اب گانے والوں اور سننے والوں کے تقاضوں میں بھی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ پہلے پورے پورے البم ریلیز ہوتے تھے، مگر اب عموماً گلوکار اکثروبیشتر ایک ویڈیو ریلیز کرنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے کہ میوزک انڈسٹری پر جو جمود طاری ہے وہ ہمیشہ ایسے ہی رہے گا، پاکستان میں کا نیا ٹیلنٹ ایک امید ہے۔

سوال: نوآموز گلوکاروں کو کیا مشورہ دینا چاہیں گے؟

زوہیب حسن: پاکستان میں سریلی آوازوں اور فن کی کوئی کمی نہیں ہے۔ گذشتہ برسوں میں پرانے گانے والوں کے ساتھ پاکستان کی میوزک انڈسٹری میں بہت ساری آوازیں ایسی بھی ابھری ہیں جنھوں نے نہ صرف پاکستان بل کہ ملک سے باہر بھی موسیقی سننے والوں کو چونکا دیا ہے۔ تاہم میوزک کے شعبے سے وابستہ ہونے والے نوآموز گلوکار عموماً شارٹ کٹ پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ راتوں رات مشہور ہوکر ایک دم سے بلندی پر پہنچ جائیں، مگر ہوتا یہ ہے کہ اس عجلت کی وجہ سے وہ گلوکار پیچھے رہ جاتے ہیں۔ دراصل یہ چیزیں وقت لیتی ہیں۔ وہ بچے جو اس فن سے وابستہ ہوئے ہیں اور موسیقی میں نام پیدا کرنا چاہتے ہیں، ان کو چاہیے کہ سخت محنت کو اپنا وطیرہ بنائے، کسی دوسرے گلوکار کا سرقہ یعنی کاپی نہ کریں، اپنا الگ انداز اپناکر لگن سے کام کریں اور خاص طور پر کسی گانے کے فلاپ ہونے ہرگز دل برداشتہ نہ ہوں، کیوںکہ آگ میں جل کر ہی سونا کندن بنتا ہے۔

دوبارہ ذہن مائل نہیں ہوتا تھا اور چھوڑ دیتا تھا۔ ایک دن اسی وجہ سے میوزک کمپنی والوں کا فون آیا کہ بھائی آپ گانا بنار ہے ہیں یا بلڈنگ بنارہے ہیں؟ (ہنستے ہوئے)۔ بہرحال دس سال کے بعد اب یہ البم مکمل ہوگیا ہے۔ اس کا ایک گانا ’’سلسلے‘‘ ترکی میں شوٹ ہوا ہے، جس کی سافٹ لانچنگ ہوچکی ہے جب کہ مکمل میوزک البم کی باقاعدہ لانچنگ اب ہونے جارہی ہے۔

 سوال: نازیہ حسن کی زندگی پر بننے والی فلم کے حوالے سے کچھ بتائیے؟

زوہیب حسن: بولی ووڈ کے فلم میکر نے مجھ سے نازیہ کی زندگی پر بننے والی فلم کے لیے رجوع کیا، مگر میں نے ابتدا میں ہی انھیں یہ بات باور کروادی تھی کہ چوںکہ انڈین فلم فارمولا بیسڈ ہوتی ہے اور اس میں غیرضروری طور پر ناچ گانا بھی شامل ہوتا ہے، تو اگر فلم میں حقائق کے برعکس کو ئی چیز شامل کی گئی، جس کی ہماری معاشرتی اقدار اجازت نہیں دیتیں یا پھر ہماری گھریلو روایات کے منافی ہوئیں تو پھر شاید ہم یہ فلم نہ کرسکیں۔ تاہم ان کا جوا ب تھا کہ دراصل وہ نازیہ اور میرے اصل حالات وواقعات پر فلم بنانا چاہتے ہیں کہ کس طرح سے کراچی میں سہیل رعنا کے پروگرام سے دو کم سِن بہن بھائی نے اپنا فنی سفر شروع کیا اور پھر لندن پہنچ کر انھوں نے اپنی محنت سے دنیا بھر میں اپنی پہچان بنائی۔

اس فلم کے ذکر سے مجھے یاد آیا کہ کراچی کے بعد جب ہم لندن پہنچے تو ہماری راہوں میں اس وقت کوئی ریڈکارپٹ نہیں بچھائے گئے، بل کہ اس دور میں وہاں کے لوگوں کا عجیب ہتک آمیز رویہ تھا، ایک طرف اگر ہماری اپنے آپ کو منوانے کی جدوجہد تھی تو دوسری طرف وہاں پر کچھ لوگوں کی کوشش تھی کہ ہمارے حوصلے پست ہوجائیں، مگر نازیہ چوںکہ مجھ سے بڑی تھیں اور ان میں بلا کی خود اعتمادی تھی، تو وہ اکثر ڈٹ جاتی تھیں، اور ان تمام لوگوں کے سامنے میرے لیے ڈھال بن جاتی تھیں۔

نازیہ کی زندگی پر فلم لندن میں بنے گی اور اس میں یقیناً پاکستان والے دور کی منظرکشی بھی شامل ہوگی۔ فلم کا اسکرپٹ مکمل ہے۔ یوں تو فلم کے رائٹر کا تعلق بھارت سے ہی ہے مگر اس کی کہانی کے دوران میری معاونت اور مشورے بھی شامل رہے ہیں۔ اس فلم میں بولی وڈ والوں نے کچھ اداکاروں کا انتخاب بھارت سے کیا تھا، مگر میرا مدعا یہ تھا کہ پاکستان اور بھارت سے فلم میں کردار نگاری کے لیے مساوی اداکاروں کا چناؤ کیا جائے، ورنہ میں یہ فلم نہیں کرسکوں گا۔ اب فلم کے لیے نازیہ حسن سے ملتی جلتی کسی لڑکی کی تلاش ہے اور نوجوان زوہیب کا کردار ادا کرنے والے لڑکے کی تلاش بھی کی جارہی ہے۔ جب یہ مراحل گزر جائیں گے، تو یقیناً پھر فلم اگلے مرحلے میں سیٹ پر چلی جائے گی۔

سوال: ایک مثالی محبت کرنے والی بہن جو اب اس دنیا میں نہیں ہے، سترہ سال بعد آج بھی ان کی کمی اور کسک یقیناً محسوس ہوتی ہوگی؟

زوہیب خان: جن دنوں نازیہ بیمار تھیں وہ ہماری فیملی کے لیے انتہائی مشکل اور کڑ ا وقت تھا۔ آج بھی جب میں اس وقت کو یاد کرتا ہوں کہ نادیہ کینسر کی وجہ سے بستر علالت پر تھیں اور میں اور میرے گھر والے اسپتال کے چکر پر چکر لگاتے تھے، مگر جس طر ح میں نے پہلے بتایا کہ نازیہ حسن بہت ہی مضبوط اعصاب کی مالک تھیں اور شدید بیمار ہونے کے باوجود گھر والوں کی پریشانی کی وجہ سے اکثر غلط بیانی بھی کرجاتی تھیں۔ اس دوران بھی میوزک البم کی تیار ی کے بارے میں مجھ سے اکثروبیشتر باز پرس کرتی تھیں، تو میرا جواب یہ ہوتا کہ آپ کی طبیعت خراب ہے تو فوراً جواب آتا کہ کس نے کہہ دیا کہ میری طبیعت خراب ہے میں بلکہ ٹھیک تو ہوں۔ وہ چاہتی تھیں کہ میوزک کے حوالے سے میری رغبت کم نہ ہو۔ ان کی شخصیت کے دو مختلف پہلو تھے، ایک نرم خو ئی اور دوسرا سخت مزاجی۔ جن دنوں وہ اسپتال میں داخل تھیں اور کینسر کی وجہ سے کیموتھراپی جیسے مشکل مرحلے سے گزر رہی تھیں، وہ وقت یا د کرکے آج بھی افسردہ ہوجا تا ہوں (آنکھوں میں نمی آگئی) کیوںکہ آہستہ آہستہ وہ میری آنکھوں کے سامنے ختم ہوتی جارہی تھیں۔ وہ لندن میں بیماری کے دوران دو سال میرے پاس رہیں۔ میں شاید نازیہ کے خلا کو کبھی بھی پر نہ کرسکوں۔

سوال: کسی فلم یا ڈرامے میں اداکاری کی پیش کش ہوئی تو کیا جواب ہوگا؟

زوہیب حسن: بنیادی طور پر اداکاری میرا شعبہ نہیں ہے، اور نہ ہی کبھی اس حوالے سے سنجیدگی سے کبھی سوچا، نہ ہی مجھے اداکاری میں کوئی دل چسپی ہے۔ میرا خیال ہے کہ سیانے لوگوں کا یہ مقولہ صحیح ہے کہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ دراصل اداکاری کا شعبہ اپنے مزاج کے اعتبار سے بالکل ہی الگ معاملہ ہے۔ میں نے ایک نجی ٹی وی چینل کی ٹی وی سیریل میں اداکاری ضرور کی تھی، مگر اس ڈراما سیریل کا مقصد بھی دراصل اپنے میوزک کو پروموٹ کرنا تھا، مگر اگر آپ کا سوال آئندہ کی اداکاری کے متعلق ہے تو مستقبل میں ٹیلی ویژن یا سلور اسکرین پر میرا کسی فلم یا ٹی وی ڈرامے میں اداکاری کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

سوال: مستقبل میں کیا اپنے بچوں کو میوزک انڈسٹری سے منسلک کروانے کا ارادہ ہے؟

زوہیب حسن: میری دو بیٹیاں ہیں، عالیانہ ماشاء اللہ سولہ سال کی ہوچکی ہے، اس کی آواز بہت اچھی ہے جب کہ چھوٹی بیٹی میاہ تیرہ سال کی ہے، وہ کی بورڈ بڑی مہارت سے بجاتی ہے اور ایسی ایسی دھنیں ترتیب دیتی ہے جن کو سن کر مجھے تو بعض اوقات یہ لگتا ہے کہ وہ کہیں سے کاپی کیے گئے ہیں۔ دونوں بچیوں کو میوزک ورثے میں ملا ہے۔ میں اپنی اولاد کو زبردستی میوزک میں نہیں لے کر آسکتا۔ ہاں اگر ان میں ٹیلنٹ ہے اور وہ اپنے آپ کو منوانے کے لیے سخت محنت کرسکتی ہیں تو پھر میں بھی انھیں ویلکم کروں گا، مگر وہ اگر یہ سوچیں کے ان کے والد زوہیب حسن ہیں اور وہ انھیں پروموٹ کریں گے تو ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔

سوال: پاکستان میں موسیقی کی زبوںحالی کی آپ کے خیال میں کیا وجوہات ہیں؟

زوہیب حسن: پاکستان میں میوزک انڈسٹری کو میرے خیال میں سب سے زیادہ پائریسی نے نقصان پہنچایا ہے، مگر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں میوزک کے شعبے میں کچھ تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں۔ اس بات کو ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ شاید بہت سی جگہوں پر ہم دنیا سے قدم ملا کر نہیں چل سکے۔ پاکستان میں موسیقی کا فن سکھانے والے اداروں کی بھی کمی رہی ہے، جن کی تعداد بڑھنی چاہیے، کیوںکہ موسیقی کی تربیت دینے والے اداروں کا نئی آوازوں کو متعارف کروانے اور موسیقی اور نئے گلوکاروں کی حوصلہ افزائی میں کلیدی کردار ہوتا ہے، کیوںکہ آپ کے پاس کسی بھی شعبے میں اگر عصرِحاضر کے عین مطابق آلات اور مہارت رکھنے والے لوگو ں کا فقدان ہو تو پھر ساتھ نہیں چل سکتے اور پیچھے رہ جاتے ہیں، ماضی کے مقابلے میں اب گانے والوں اور سننے والوں کے تقاضوں میں بھی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ پہلے پورے پورے البم ریلیز ہوتے تھے، مگر اب عموماً گلوکار اکثروبیشتر ایک ویڈیو ریلیز کرنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے کہ میوزک انڈسٹری پر جو جمود طاری ہے وہ ہمیشہ ایسے ہی رہے گا، پاکستان میں کا نیا ٹیلنٹ ایک امید ہے۔

سوال: نوآموز گلوکاروں کو کیا مشورہ دینا چاہیں گے؟

زوہیب حسن: پاکستان میں سریلی آوازوں اور فن کی کوئی کمی نہیں ہے۔ گذشتہ برسوں میں پرانے گانے والوں کے ساتھ پاکستان کی میوزک انڈسٹری میں بہت ساری آوازیں ایسی بھی ابھری ہیں جنھوں نے نہ صرف پاکستان بل کہ ملک سے باہر بھی موسیقی سننے والوں کو چونکا دیا ہے۔ تاہم میوزک کے شعبے سے وابستہ ہونے والے نوآموز گلوکار عموماً شارٹ کٹ پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ راتوں رات مشہور ہوکر ایک دم سے بلندی پر پہنچ جائیں، مگر ہوتا یہ ہے کہ اس عجلت کی وجہ سے وہ گلوکار پیچھے رہ جاتے ہیں۔ دراصل یہ چیزیں وقت لیتی ہیں۔ وہ بچے جو اس فن سے وابستہ ہوئے ہیں اور موسیقی میں نام پیدا کرنا چاہتے ہیں، ان کو چاہیے کہ سخت محنت کو اپنا وطیرہ بنائے، کسی دوسرے گلوکار کا سرقہ یعنی کاپی نہ کریں، اپنا الگ انداز اپناکر لگن سے کام کریں اور خاص طور پر کسی گانے کے فلاپ ہونے ہرگز دل برداشتہ نہ ہوں، کیوںکہ آگ میں جل کر ہی سونا کندن بنتا ہے۔

علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تاریخی حقائق کیا کہتے ہیں؟

علاء الدین خلجی کے عہد سے متعلق تفصیلی معلومات کے لیے شیخ محمد اکرام کی کتاب ’’آب کوثر‘‘ کی طرف مراجعت مفید رہے گی۔ فوٹو : فائل

علاء الدین خلجی کے عہد سے متعلق تفصیلی معلومات کے لیے شیخ محمد اکرام کی کتاب ’’آب کوثر‘‘ کی طرف مراجعت مفید رہے گی۔ فوٹو : فائل

حال ہی میں ہندوستان کے مشہور فلم ڈائریکٹر سنجے لیلابھنسالی نے ہندوستان پر حکومت کرنے والے آٹھویں صدی ہجری کے مسلم حکم راں علاء الدین خلجی کے راجستھان کے قلعہ چتوڑ پر حملے سے متعلق ایک فلم بنائی ہے، جس میں کہانی نویس نے علاء الدین خلجی کو ایک وحشی اور ظالم حکم راں کے طور پر دکھایا ہے جو کہ چتوڑ پر حملہ وہاں کے راجہ رتن سین کی دوسری رانی پدماوتی کی خوب صورتی کا سن کر اس کو پانے کے لیے کرتا ہے۔

پہلی بات تو یہ یاد رہے کہ علاء الدین خلجی کا چتوڑ پر حملہ صرف اور صرف میواڑ کو دہلی سلطنت کا باج گزار بنانے کے لیے تھا۔ اس کے پیچھے کسی رانی کو پانے کا کوئی خواب یا مقصد کسی ہم عصر مورخ نے کبھی بیان نہیں کیا۔ جناب امیر خسرو جو کہ علاء الدین خلجی کے ساتھ اس لشکر میں شامل تھے جو کہ چتوڑ کا قلعہ فتح کرنے گیا تھا اور جنھوں نے چتوڑ پر حملے کی پوری داستان کو اپنی تصنیف خزائن الفتوح میں بیان کیا ہے، وہ چتوڑ پر حملے کی ایسی کوئی وجہ نہیں لکھتے۔

تاریخ فیروز شاہی کے مولف جناب ضیاء الدین برنی جو کہ چتوڑ کے محاصرے کے وقت جوان تھے، اپنی تاریخ میں علاء الدین خلجی کے چتوڑ پر حملہ کرنے کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ علاء الدین خلجی کے کوتوال علاء الملک نے خلجی کو چتوڑ پر حملہ کرنے کا مشورہ دیا تھا، کیوںکہ میواڑ کی ریاست نے علاء الدین خلجی کے خلاف بغاوت کرنے والوں کو پناہ دے رکھی تھی۔

ضیاء الدین برنی رانی پدماوتی یا اس کی وجہ سے چتوڑ پر حملہ کرنے کا کوئی ذکر نہیں کرتے۔ اسی طرح سے ایک اور مورخ عبدالملک عصامی، جو کہ بہمنی سلطنت کا درباری شاعر اور مورخ تھا اور چتوڑ کے محاصرے کے آٹھ سال بعد پیدا ہوا تھا، وہ بھی علاء الدین خلجی کے چتوڑ پر حملے کی وجہ باغیوں کے وہاں پناہ گزین ہونے کو قرار دیتا ہے۔

یاد رہے کہ مورخ ضیاء الدین برنی اور عبدالملک عصامی دونوں خلجی خاندان کے حریف خاندانوں کے دل دادہ تھے، گویا ان کی گواہی دشمن کی گواہی قرار دی جاسکتی ہے سو اگر چتوڑ کے محاصرے میں رانی پدماوتی کو پانے کا کوئی مقصد ہوتا تو یہ دونوں مورخین اس بات کو ضرور بڑھا چڑھا کر بیان کرتے۔ ان کا اس طور کی کسی وجہ کا ذکر نہ کرنا ہی اس بات کو ثابت کردیتا ہے کہ علاء الدین خلجی کے چتوڑ پر حملے کی وجہ کوئی رانی نہیں تھی، بل کہ یہ باغیوں کو پناہ دینے کی سزا اور ملک گیری کی ایک مہم تھی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رانی پدماوتی کا قصہ اس متعلق کیوں مشہور ہوا؟ رانی پدماوتی کی خیالی کہانی سب سے پہلے مغل بادشاہ بابر کے زمانے کے صوفی شاعر ملک محمد جائسی (متوفی 1542عیسوی) نے چتوڑ قلعے کے محاصرے کے کوئی 237 سال کے بعد اپنی نظم میں تحریر فرمائی۔ گویا ہیر رانجھا، لیلیٰ مجنوں کی طرز پر صوفی ملک محمد جائسی نے ایک دیومالائی کہانی تصنیف کی، جس میں بیان کیا کہ علاء الدین خلجی کو رانی پدماوتی کے حسن کی بابت راجا رتن سین کا مہا پنڈت راگھو چیتن بتاتا ہے، جس کو راجا رتن سین اس جرم میں ملک بدر کردیتا ہے کہ وہ رانی پدماوتی اور راجا رتن سین کو خلوت میں دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

راجا رتن سین سے انتقام لینے کی غرض سے مہاپنڈت، علاء الدین خلجی کو رانی پدماوتی کے حسن کی تفصیلات بتا کر میواڑ پر چڑھائی کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ رانی کے حسن کی تفصیل سے متاثر ہوکر علاء الدین خلجی دہلی سے میواڑ چڑھائی کرنے پہنچ جاتا ہے۔ لیکن راجا رتن سین کی موت اور قلعہ فتح کرنے کے باوجود وہ رانی پدماوتی کو حاصل نہیں کرپاتا، کیوںکہ قلعہ فتح ہونے سے قبل ہی راجا رتن سین کی موت کا سن کر رانی پدماوتی اپنے محل کی سیکڑوں داسیوں کو لے کر آگ میں کود جاتی ہے، تاکہ علاء الدین خلجی اور اس کے سپاہیوں کے ’’ناپاک‘‘ وجود سے خود کو بچا سکے۔ آگ میں کودنے کی اس رسم کو ’’جوہر‘‘ کہا جاتا ہے اور اس رسم کو ادا کرنے کی وجہ سے رانی پدماوتی کو ہندوؤں کی لوک کہانیوں میں دیوی مانا جاتا ہے۔

صوفی شاعر ملک محمد جائسی نے بغیر کسی سند اور پچھلے مورخ کا ذکر کیے اس کہانی کو نظم میں پیش کیا اور وہاں سے ہندو مورخین نے اس کہانی کو اخذ کرکے اس میں مزید مرچ مسالا لگا کر مسلمان بادشاہ علاء الدین خلجی کو خوب بدنام کیا جب کہ پدماوتی کی اس کہانی میں کوئی صداقت نہیں اور نہ ہی علاء الدین خلجی نے چتوڑ پر حملہ کسی رانی کے لیے کیا تھا۔

اور جہاں تک بات رہی کہ علاء الدین خلجی ایک وحشی اور ظالم حکم راں تھا، جس کی رعیت اس کے ظلم و جبر کا شکار تھی تو یہ بات بھی سرتاپا غلط ہے۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ خلجی خاندان کا پہلا بادشاہ اور علاء الدین خلجی کا سگا چچا جلال الدین خلجی بہت نرم دل تھا، یہاں تک کہ وہ باغیوں کو بھی پکڑے جانے پر معاف کردیا کرتا تھا، جس کی وجہ سے امور ملکی میں خلل پڑنا شروع ہوگیا تھا۔

یہی وجہ ہوئی کہ جب جلال الدین خلجی کی نرم دلی کی شہرت عام ہوئی تو ملک بھر میں چوروں، ڈاکوؤں اور راہ زنوں نے سر اٹھا کر فتنہ فساد پھیلانا شروع کردیا اور جب وہ گرفتار ہوکر بادشاہ کے پاس لائے جاتے تو بادشاہ ان کو پیروں اور مشائخ کی طرح بغیر سزا دیے وعظ و نصیحت کرکے چھوڑدیتا اور وہ لوگ واپس جاکر پھر سے لوٹ مار کا بازار گرم کرتے۔ اس ڈھیل کی وجہ سے بادشاہ کے خلاف جگہ جگہ سازشیں شروع ہوگئیں اور خلجی امراء یہ کہنے لگے کہ اب بادشاہ سٹھیا گیا ہے اور حکومت کے لیے ناموزوں ہوگیا ہے۔ بہتر ہے کہ اسے معزول کیا جائے اور اس کی جگہ کوئی دوسرا موزوں شخص تخت نشین ہو۔

یہ وہ حالات تھے جنھوں نے جلال الدین خلجی کے بھتیجے اور داماد علاء الدین خلجی کو اپنے چچا کے قتل پر ابھار کر زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لینے پر آمادہ کیا۔ علاء الدین خلجی کا حال اپنے چچا جلال الدین جیسا نہ ہو، اسی لیے علاء الدین خلجی نے حکومت میں آتے ہی چوروں، ڈاکوؤں اور باغیوں کے خلاف سخت تادیبی کاروائیاں کیں۔ وہ دیکھ چکا تھا کہ حکومتی معاملات میں نرم دلی دکھانے کا کیا نقصان ہوتا ہے، سو پہلے دن سے ہی علاء الدین خلجی ہر مجرم کے لیے قہر ثابت ہوا۔ لیکن اس قہر کا صدور اس وقت ہوتا جب کوئی کسی جرم کا ارتکاب کرتا یا ملک میں فساد ڈالنے کی کوشش کرتا۔ وگرنہ علاء الدین خلجی میں اعلیٰ حکم رانوں کی کئی خوبیاں پائی جاتی تھیں۔

ہندوستان کا جس قدر علاقہ اس کے زیرنگیں تھا، برطانوی حکومت سے پہلے کسی کو نصیب نہ ہوا۔ علاء الدین خلجی کے دور میں منگولوں کا خوف پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھا لیکن یہ علاء الدین خلجی کا زور بازو اور حسن تدبیر تھا کہ اس نے ہندوستان کو منگولوں کے حملوں سے بچا کر رکھا۔ چتوڑ کے قلعے کی فتح کے بعد جب علاء الدین خلجی واپس دہلی آیا تو سوا لاکھ منگولوں کے ساتھ مغل سردار ترغی عین دہلی کے سامنے آن پہنچا تھا، جس کو علاء الدین خلجی نے اپنے زور بازو اور حسن تدبیر سے ایک انچ زمین فتح کیے بغیر واپس جانے پر مجبور کردیا۔

اس کے بعد تاتاریوں کے مزید کسی حملے سے بچنے کے لیے علاء الدین خلجی نے شمال مغربی سرحد پر مضبوط قلعے بنوائے اور ان کا انتظام غازی ملک کے سپرد کیا جو کہ بعد میں سلطان غیاث الدین تغلق کے نام سے تخت نشین ہوا۔ غازی ملک نے منگولوں اور تاتاریوں کو پے در پے شکست دی اور ان کا ہندوستان فتح کرنے کا خواب چکنا چور کردیا۔ گویا اگر علاء الدین خلجی ہمت دکھا کر حسن تدبیر سے کام نہ لیتا تو منگول ہندوستان کا بھی وہی حال کرتے جو انہوں نے بغداد کا کیا تھا۔

جہاں تک علاء الدین خلجی کی اپنی رعایا کے ساتھ سلوک کی بات ہے تو اس بابت ہم عصر مورخ ضیا ء الدین برنی اپنی کتاب ’’تاریخ فیروز شاہی‘‘ میں خلجی کے خلاف تمام تر تعصب کے باوجود عہد علائی کی جو خصوصیات بیان کرتے ہیں وہ بالاختصار یہ ہیں:

۱۔ منگول حملہ آوروں کا قلع وقمع

۲۔ چھوٹے تاجروں پر سے ٹیکس کی معافی

۳۔ علاء الدین خلجی کی غیر معمولی اور مسلسل فتوحات

۴۔ غریبوں پر شفقت اور باغیوں اور متکبروں پر قہر

۵۔ مہنگائی میں از حد کمی اور غلے اور سامان معیشت کی فراوانی جس پر بارش کی کمی بیشی کا کوئی اثر نہ ہوتا تھا۔

۶۔ ملک اور راستوں کا امن و سکون

۷۔ بے شمار نئی عمارتوں جیسے مساجد، سرائے اور قلعوں کی تعمیر۔

۸۔ تاجروں اور دکانداروں کی ترقی اور قواعد شاہی کی پابندی

۹۔ ملک میں علماء اور مختلف ماہر فن کا جمع ہونا

۰۱۔ عام رعایا کی روحانی اور علمی ترقی

(ماخوذ از تاریخ فیروز شاہی صفحہ نمبر 329 تا341)

اسی طرح مشہور سیاح اور مورخ ابن بطوطہ جو کہ خلجی کی وفات کے چند سال بعد ہی ہندوستان میں وارد ہوا تھا، اپنے سفرنامہ ’’رحال‘‘ میں علاء الدین خلجی کی بابت لکھتا ہے :

علاء الدین خلجی نے بیس برس حکومت کی، و ہ بہت اچھے بادشاہوں میں شمار ہوتا تھا۔ اہل ہند اب تک اس کی تعریفیں کرتے ہیں۔ وہ خود امورسلطنت انجام دیتا تھا اور ہر روز نرخ وغیرہ کی بابت دریافت کرتا تھا۔ کہتے ہیں کہ ایک روز اس نے محتسب سے دریافت کیا کہ گوشت کے گراں ہونے کا کیا سبب ہے؟ اس نے کہا کہ گائے اور بکری پر محصول یعنی ٹیکس لیا جاتا ہے۔ بادشاہ نے اسی روز سے گائے بکری پر محصول ختم کردیا۔ ایک دفعہ غلہ بہت منہگا ہوگیا تو اس نے سرکاری گودام کھلوادیے اور نرخ کم ہوگئے۔

رہی بات ملک کافور اور علاء الدین خلجی کے مابین غیرفطری تعلقات کی، جسے سنجے لیلا بھنسالی صاحب نے بھی دکھانے کی نارروا سعی کی ہے تو یاد رہے کہ یہ سب خرافات متعصب ہندو مورخوں کا گھڑا ہوا جھوٹ ہیں۔ کسی ہم عصر مورخ نے ملک کافور اور خلجی کے مابین اس طور کے غیرفطری تعلقات کی بات نہیں کی۔ تین /چار سو سال کے بعد آنے والے مورخین کا اس طرح کا جھوٹ گھڑ کر کسی حکم راں کی طرف منسوب کردینا خود اس بات کے وضعی ہونے کو کافی ہے۔ البتہ یہ سچ ہے کہ علاء الدین خلجی ملک کافور پر از حد اعتماد کرتا تھا جس کی وجہ سے خلجی سے چند انتظامی بداعمالیاں بھی سر زد ہوئیں جو کہ یقیناً لائق مذمت بات ہے، لیکن اس سے خلجی کے دور کی اچھی باتیں منحوس نہیں ہو جاتیں۔ سو ملک کافور اور خلجی کے مابین کسی غیرفطری تعلق سے متعلق بعد کے کسی مورخ کا کچھ لکھنا، چاہے وہ ہندو ہو یا مسلمان، صرف ایک گپ ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔

المختصر علاء الدین خلجی نہ تو کوئی ولی اللہ تھا اور نہ ہی کوئی ظالم و جابر بادشاہ۔ وہ ایک عام مسلم حکم راں تھا، جس کے دور میں رعایا خیروخوبی اور ترقی کے ساتھ خوش حال زندگی جی رہی تھی اور جس کے دور میں ہندوستان نے نہ صرف ترقی کی بلکہ منگولوں کے فتنے سے بھی محفوظ رہا جس کے لیے ہندوستان رہتی دنیا تک علاء الدین خلجی کا احسان مند رہے گا۔ خلجی کے دور کا خیر اس کے دور کے شر سے زیادہ تھا اور یہ بات اس کی ذات پر بھی صادق آتی ہے۔ البتہ اس کی طرف جو جھوٹی تاریخ کی نسبت کی جاتی ہے اس کا ابطال ضروری ہے۔

علاء الدین خلجی کے عہد سے متعلق تفصیلی معلومات کے لیے شیخ محمد اکرام کی کتاب ’’آب کوثر‘‘ کی طرف مراجعت مفید رہے گی۔

خیال گائیکی کو آسان بنانا فنکار کے اپنے بس میں ہوتا ہے، استاد مبارک علی خان

 بغیر رہبر کے موسیقی کے فن میں راستہ نہیں ملتا، معروف کلاسیکل گائیک استاد مبارک علی خان کی ’’ایکسپریس‘‘ سے گفتگو۔ فوٹو:ایکسپریس

 بغیر رہبر کے موسیقی کے فن میں راستہ نہیں ملتا، معروف کلاسیکل گائیک استاد مبارک علی خان کی ’’ایکسپریس‘‘ سے گفتگو۔ فوٹو:ایکسپریس

بیسیویں صدی میں خیال گائیکی کو نئی حیرتوں سے ہمکنار کرنے والے فنکار استاد امیر خان اندور والے نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا ، صرف آروہی، امروہی سے راگ کی پوری شکل سامنے نہیں آتی جب تک گانے والا راگ میں اپنی Imegination شامل نہیں کرتا، اسی طرح انہوں نے ایک اور مقام پر کہا بہت سے لوگ گا بجا رہے ہیں لیکن ان میں Poetic Sense نہیں ہے جب تک گویے میں یہ شعور نہیں ہو گا، اس میں بھاؤ نہیں آئے گا، اس کی گائیکی Emotion Less ہو گی۔

استاد مبارک علی خان کی گائیکی استاد امیر خان کی کہی ہوئی ان باتوں کی ہوبہو تصویر ہے، 1937ء میں جالندھر کے ایک گاؤں میں پیدا ہونے والے استاد مبارک علی خان کی موسیقی کی دنیا میں غیر معمولی کامیابی اپنے اندر کئی حیرتیں رکھتی ہے، مثلاً ان کا تعلق موسیقی کے کسی معروف گھرانے سے نہیں لیکن یہ اپنے خاندان میں جاری موسیقی کی روایت کو ایک گھرانے کی سطح پر لے آئے ہیں۔ موسیقی کی دنیا میں ان کا کیریئر ایک اور طرح کی حیرت سامنے لاتا ہے، یہ غزل، کافی گاتے گاتے خیال گائیکی کی طرف آئے اور ان میں یہ تبدیلی استاد امیر خان کی گائیکی سے عشق کے بعد پیدا ہوئی، اس کہانی میں ایک حیرت یہ بھی ہے کہ موسیقی کے حوالے سے ان کا علم وراثتی کم اکتسابی زیادہ ہے۔

انہوں نے خیال گائیکی کی پوری ایک صدی کی روایت سے اپنا علم اکتساب کیا ایک ریسرچ سکالر کی طرح پورے عہد کی گائیکی سے گزرے اور پھر علم کے ایک فقیر کی طرح استاد امیر خان اندور والے کے دروازے پر بیٹھ گئے۔ 1992ء میں آل پاکستان موسیقی کانفرنس سے کلاسیکل گائیکی کے کیریئر کا آغاز کرنے والے استاد مبارک علی خان راگ ودیا کے ساتھ ساتھ بول ودیا کے گہرے شعور سے بھی متصف ہیں، راگ کی اوریجنل شکل سامنے لانے اور سامعین کے سامنے آئینہ کر دینے میں بھی انہیں ملکہ حاصل ہے، محفل میں گاتے ہوئے یہ سامعین پر راگ کے راستے اس قدر واضح کر دیتے ہیں کہ جونہی اپنی سحرکاری سے گُر پر واپس آتے ہیں تو پوری محفل بھی گر پر آجاتی ہے اور بے ساختہ داد دیتی ہے۔

ان کی گائیکی کا ایک وصف روحانی اور داخلی کیفیات کا اظہار بھی ہے۔ استاد مبارک علی خان پاکستان میں کلاسیکل موسیقی کے سینئر ترین اساتذہ میں شامل ہیں، اس فیلڈ میں انہوں نے سفر نہیں کیا بلکہ جست بھری ہے۔ آج کلاسیکل موسیقی کے اہم ترین اجتماعات ان کی گائیکی کے بغیر ادھورے سمجھے جاتے ہیں۔ 2007ء میں انہوں نے پرائیڈ آف پرفارمنس حاصل کیا اور اسی سال کے آخر میں انہیں موسیقی کے صدیوں پرانے مرکز ہری بلبھ (جالندھر) میں نہ صرف گانے کا اعزاز حاصل ہوا بلکہ انہیں ہری بلبھ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ استاد مبارک علی خان کی زندگی میں ملتان شہر کی ایک خاص اہمیت ہے، اسی شہر میں ان کا بچپن گزرا اور یہیں رہتے ہوئے یہ استاد امیر خان کے عشق میں مبتلا ہوئے، پھر ان کا دل ایک روشنی سے بھر گیا۔ ہم نے ملتان سے لاہور جا کر استاد مبارک علی خان سے ان کی زندگی اور فن کے بارے میں خصوصی گفتگو کی جو نذر قارئین ہے:

ایکسپریس:۔ سب سے پہلے اپنے خاندانی پس منظر‘ ابتدائی تعلیم اور جالندھر سے پاکستان ہجرت کے حوالے سے بتائیں؟

استاد مبارک علی:۔ ہمارے خاندان کا بنیادی تعلق ضلع جالندھر کے گاؤں ’’نالاں‘‘ سے ہے، میں اسی گاؤں میں 1937ء میں پیدا ہوا‘ ہمارے بزرگ قوالی کرتے تھے‘ میرے والد کے تین بھائیوں نے مل کر اپنی پارٹی بنائی تھی‘ ان میں سب سے بڑے میرے والد غلام بھیک خان تھے، ان کے بعد فضل محمد پھر استاد غضنفر علی گجو خان‘ ہمارے بزرگوں کی یہ پارٹی فضل محمد‘ غضنفر علی قوال کے نام سے مشہور تھی۔ میرے والد غلام بھیک خان اپنی پارٹی میں طبلہ بجاتے اور گاتے بھی تھے، گانا ان کی اضافی خوبی تھی کیونکہ طبلہ بجانے والے آواز نہیں لگاتے۔

جالندھر میں رہتے ہوئے ہمارے بزرگوں نے قوالی میں بڑا نام پیدا کیا، یہ دوآبہ میں ’’نالاں والے‘‘ کے نام سے مشہور تھے اور زیادہ تر دوآبہ کے صوفیاء کا پنجابی کلام کافی کی صورت میں گاتے تھے۔ قیام پاکستان سے پہلے ان کے لانگ پلے ریکارڈ بھی تیار ہوئے جو کولمبیا ریکارڈنگ کمپنی نے ریلیز کئے تھے۔ نالاں سے ایک میل کے فاصلے پر پڈوری گاؤں تھا جہاں زیادہ تر سکھ رہتے تھے‘ اسی گاؤں میں ایک گردوارہ سکول تھا جہاں سکھ عبادت بھی کرتے تھے جبکہ تین کمرے سکول کیلئے وقف تھے۔ میری عمر آٹھ سال تھی جب مجھے اس سکول میں داخل کرایا گیا‘ دوسری جماعت میں پڑھتے ہوئے ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے کہ تقسیم کا ہنگامہ برپا ہو گیا ۔ پھر ہمیں مجبوراً پاکستان ہجرت کرنا پڑی۔ پہلے پہل ہم نے 17 دن لاہور میں قیام کیا‘ اس کے بعد ہمارا خاندان ملتان آ گیا‘ جہاں ہم اندرون پاک گیٹ رہنے لگے‘ پھر شجاع آباد چک آر ایس کے قریب خان پور قاضیاں میں چلے گئے جہاں میں نے اپنا تعلیمی سلسلہ دوبارہ شروع کیا‘ بعد میں ہم زیادہ تر ملتان ہی رہے کیونکہ ہماری پارٹی کی زیادہ تر مصروفیات ملتان میں ہی تھیں۔

ایکسپریس:۔ آپ کے ملتان میں قیام کے دنوں میں موسیقی کے حوالے سے وہاں کیا ماحول تھا‘ اس شہر کی آپ کی زندگی میں کیا اہمیت ہے؟

استاد مبارک علی:۔ میرے بچپن اور جوانی کے ایام ملتان اور خان پور قاضیاں میں گزرے‘ ملتان میں ہمارا اور سلامت علی خان کا قریباً ایک ہی گھر تھا جبکہ حرم گیٹ کے قریب ہمارے بزرگوں کا ڈیرہ تھا، تھوڑی دور ہی تکیہ بھیڈی پوترہ تھا جہاں ہم نے بابا معشوقے خان اور بابا غلامن کو دیکھا اور سنا، بھیڈی پوترہ تکیہ کے ساتھ ہی اقبال بانو کی کوٹھی تھی اس کے قریب ایک خالی جگہ پر ہم کبڈی کھیلا کرتے تھے۔ ملتان میں نقارچی خاندان کے بزرگوں سے بھی ملاقاتیں رہیں، کوڑے خان‘ میاں رحیم بخش نقارچی جن سے میرے بڑے بھائی عاشق علی طبلہ بھی سیکھتے رہے۔ ملتان میں میری زندگی کا جو وقت گزرا وہ کمال کا وقت تھا۔

ملتان میں ان دنوں مثالی رونقیں تھیں، حرم گیٹ سے پیدل چلتے ہوئے النگ کے راستے ہم دہلی گیٹ استاد فدا حسین جالندھری کے ہاں آجاتے‘ وہاں ان دنوں بہت سی قوال پارٹیاں تھیں جن میں استاد فدا حسین جالندھری‘ رفیق قوال‘ نذیر قوال‘ بخشی سلامت قوال اور ہماری پارٹی تھی۔ وہاں یہ رواج تھا کہ ہر شادی پر قوالی ضرور ہوتی تھی‘ لوکل آرٹسٹ سولو گاتے‘ زیادہ تر خواجہ فرید کی کافیاں گائی جاتی تھیں، اس دور میں ملتان موسیقی کا گڑھ تھا‘ نزاکت‘ سلامت اور طفیل نیازی بھی ان دنوں وہیں تھے، اس وقت لاہور سے بھی زیادہ ملتان کی اہمیت تھی، وقت کے ساتھ ساتھ یہ سب لوگ اِدھر اُدھر بکھر گئے، پھر اسی ملتان میں اتنی اداسی ہو گئی کہ دل نہیں لگتا تھا‘ یوں ہم ملتان سے کسووال شفٹ ہو گئے کیونکہ وہاں ہمارا پورا قبیلہ آباد تھا۔

ایکسپریس:۔ ملتان میں رہتے ہوئے آپ نے چند قوال پارٹیوں کے ساتھ پرفارم کیا جن میں استاد فدا حسین جالندھری کے ساتھ آپ کا بہت سا وقت گزرا‘ قوالی میں ان کی انفرادیت کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

استاد مبارک علی:۔ قوالی کی ابتداء میں نے اپنی ہی پارٹی سے کی لیکن میں نے دیگر قوال پارٹیاں بھی جوائن کیں۔ استاد فدا حسین جالندھری جنہیں میں داء جی کہتا تھا کے ساتھ میں نے بہت سے یادگار پروگرام کئے، وہ مجھے اپنی سنگت میں لے جا کر بہت خوش ہوتے اور میں بذات خود بھی ان کی معیت میں بڑی خوشی محسوس کرتا تھا ۔ ان کی پارٹی میں اور بھی بڑے نامور لوگ تھے لیکن میں ان کی پارٹی میں دوسرے ہارمونیم پر بیٹھتا تھا۔ ان کی قوالی بڑی رنگین سلجھی ہوئی اور علمی انداز کی قوالی تھی۔ قوالی کے شروع میں خیال گاتے اور بڑے سلیقے، قرینے سے کلاسیکل پیش کرتے تھے‘ سرگم میں بھی ان کی بڑی روانی تھی اور ہارمونیم پر بھی بڑی گرفت تھی۔ اس دور میں ملتان میں بہت سی قوال پارٹیاں تھیں لیکن جو سلجھاؤ ان میں تھا وہ کسی اور میں نہیں تھا، ان جیسا تعلیم یافتہ آدمی بھی کوئی اس فیلڈ میں نہیں تھا اور نہ ہی ان کی طرح کوئی ریسرچ کر سکتا تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں ان جیسا بااصول آدمی بھی کوئی اور نہیں دیکھا۔

ایکسپریس:۔ ملتان میں قیام کے دوران آپ قوالی سے سولوگائیکی کی طرف بھی آئے‘ کافی گائیکی کی طرف آپ کا خصوصی رحجان رہا‘ اپنے کیریئر کے اس دور کے حوالے سے کچھ بتائیں؟

استاد مبارک علی:۔ میری مادری زبان پنجابی ہے لیکن میں سرائیکی زبان سے بہت محبت کرتا ہوں، میں بچپن سے ہی سرائیکی بولتا تھا‘ دراصل اس زبان کی محبت ہی مجھے کافی گائیکی کی طرف لے کر آئی۔ میں کافی شروع سے ہی گا رہا ہوں‘ یوں سمجھ لیں میرے کیریئر کا آغاز ہی کافی سے ہوا ہے۔ میں نے کافی کی ابتدائی ریکارڈنگز لاہور ریڈیو پر کرائیں، یہ غالباً 1961ء کی بات ہے، اس وقت یہاں ایوب رومانی میوزک پروڈیوسر تھے۔ یہ ملتان گئے اور فن کاروں سے رابطہ کیا کہ ہم انہیں لاہور ریڈیو کیلئے ریکارڈ کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے بھی اطلاع ملی تو میں اور میرے بڑے بھائی عاشق علی خان‘ ثریا ملتانیکر سب مینا لودھی کے گھر جمع ہوئے، وہیں ہمارے ایک طرح کے آڈیشن ہوئے سبھی کو سنا گیا‘ میرے بڑے بھائی نے کلاسیکل ‘ میں نے کافی اور غزل گائی۔

دو ماہ بعد سب کو ریکارڈنگ کے کنٹریکٹ بھیجے گئے میں نے یہاں کافیاں اور غزلیں ریکارڈ کرائیں جو لاہور ریڈیو سے نشر ہوتی رہیں جن سے مجھے شہرت بھی ملی اور موسیقی کے حلقوں میں بھی متعارف ہوا۔ میری مائیک پر وائس کوالٹی بہت اچھی تھی، معروف گلوکار سلیم رضا اور منیر حسین اسی دور میں میرے پرستار تھے۔ لاہور ریڈیو سے میں قریباً دس سال کافیاں اور غزلیں گاتا رہا۔ جب 1971ء میں ملتان ریڈیو سٹیشن کا افتتاح ہوا تو مجھے کہا گیا کہ اب آپ ملتان ریڈیو سے ہی گائیں۔ ابتداء میں ملتان ریڈیو پر بھی میں نے بہت سی ریکارڈنگز کرائیں لیکن بات یہ ہے حقیقی فن کاروں کیساتھ ہر دور میں ناانصافیاں ہوتی رہی ہیں۔ ملتان ریڈیو پر مقامی فنکاروں کو زیادہ ترجیح دی جانے لگی‘ تو میں نے یہ سلسلہ ہی ختم کر دیا اور ریڈیو سے بد دل ہو کر پارٹیوں کے ساتھ جانے لگا۔

ایکسپریس:۔ آپ نے موسیقی کی تربیت کس استاد سے حاصل کی‘ قوالی اور کافی گائیکی سے کلاسیکل موسیقی کی طرف آپ کے سفر کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟

استاد مبارک علی:۔ میں بچپن میں ہی اپنے چچا استاد غضنفر علی گجو خان کا شاگرد ہو گیا تھا، ان کی طبیعت بڑی جلالی تھی لیکن وہ بڑے صاحب علم آدمی تھے۔ میں نے بچپن میں ان سے کچھ چیزیں بھی یاد کیں، پھر سوچا چچا گھر میں ہی ہیں‘ ان سے سیکھتے رہیں گے لیکن وہ جلد ہی اللہ کو پیارے ہو گئے اور ہم محروم رہ گئے۔ میرا کلاسیکل موسیقی کی طرف آنے کا معاملہ بڑا عجیب ہے، ملتان میں قیام کے دوران مجھ پر ایسا وقت بھی تھا میں کلاسیکل موسیقی کے ہی خلاف تھا، میری نظر میں لائٹ میوزک ہی اہم تھا، میرے بڑے بھائی عاشق علی خان جو کلاسیکل گانے والے تھے سے میری اس معاملے پر جھڑپ بھی ہو جاتی اور میں اکثر بے ادبی کر بیٹھتا تھا لیکن جب مجھے سمجھ آئی تو میں نے اپنے بڑے بھائی سے باقاعدہ معذرت کی، پھر میرا کلاسیکل موسیقی کا شوق بہت زیادہ بڑھ گیا دراصل میرے اندر یہ شوق استاد امیر خان اندور والے کی گائیکی سننے کے بعد پیدا ہوا۔

ایکسپریس:۔ استاد امیر خان اندور والے سے آپ کے عشق اور ان کے روحانی شاگرد ہونے کی حیثیت کو زمانہ جانتا ہے، یہ بتائیں کہ ان کی گائیکی سے آپ کب اور کیسے متعارف ہوئے؟

استاد مبارک علی:۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں ملتان میں ہوتا تھا، رادھو سینما حرم گیٹ میں ان دنوں فلم ’’بیجو باورا‘‘ لگی ہوئی تھی جو غالباً ڈیڑھ سال چلتی رہی، اس فلم میں استاد امیر خان کا ڈی وی پلوسکر کے ساتھ ایک معروف ترین آئٹم ’’آج گاوت من مورا‘‘ میرے دل میں کچھ ایسا اترا کہ میں ایک عجیب طرح کے اضطراب کا شکار ہو گیا اور ہر وقت ان کی آواز میرے دل میں گونجنے لگی، پھر یوں ہوا میں دوسرے تیسرے دن یہ فلم دیکھنے جانے لگا، فلم سے مجھے کوئی سروکار نہیں تھا، میں صرف ان کی گائیکی سننے جاتا تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے مجھے اس وقت تک ان کے نام کا بھی پتہ نہیں تھا، وہ تو ایک دن یوں ہوا میں فلم دیکھنے جا رہا تھا حرم گیٹ چوک پر مجھے نذیر قوال مل گئے، میں نے دعا سلام کی تو کہنے لگے ، یار مبارک تم کدھر؟ میں نے کہا، جی میں تو فلم دیکھنے آیا ہوں۔

وہ کہنے لگے میں بھی ’’بیجوباورا‘‘ دیکھنے آیا ہوں، آؤ چلتے ہیں، خیر ہم نے ٹکٹ لیے اور سینما ہال میں چلے گئے فلم چل پڑی، دیکھتے رہے، جس وقت اکبر بادشاہ کے دربار کا وہ سین آیا تو میں نے نذیر قوال سے پوچھا، یہ جو بھاری سی آواز ہے، یہ کس کی ہے؟ وہ کہنے لگے یہ استاد امیر خان اندور والے ہیں جو ہندوستان کے معروف گائیک ہیں لو جی میں نے یہ نام سنا اور اپنے دل پر لکھ لیا، اس وقت میری عمر 18 سال تھی اور اب 80 ہے لیکن وہ نام آج بھی میرے دل پر اسی طرح لکھا ہوا ہے۔ میری ان سے عاشقی کا آغاز تو پہلے ہی ہوچکا تھا، تعارف کے بعد میرا عشق اور بھی پختہ ہوگیا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب صرف میری سماعت اچھی تھی راگ داری کا کچھ بھی پتہ نہیں تھا لیکن اچھی آواز اور اچھی موسیقی کا شعور مجھے اس وقت بھی تھا۔ فلم دیکھ کر جب ہم واپس آرہے تھے تو بھائی نذیر نے کہا یار مبارک تم نے صرف استاد امیر خان کا ہی پوچھا ہے، اس کا راز کیا ہے؟ میں نے کہا بھائی نذیر مجھے ان کی آواز بہت ہی زیادہ پسند ہے اور مجھے ان سے عشق ہو گیا ہے، وہ کہنے لگے، یار تم ابھی بچے ہو تمہیں موسیقی کی کوئی سوجھ بوجھ تو ہے نہیں اور تم نے استاد امیر خان کو پسند کرلیا ہے، میں نے کہا، جی یہ سب خدا کی طرف سے ہوا ہے، کسی غیبی طاقت نے مجھے ان کی طرف مائل کر دیا ہے۔ وہ بڑے حیران ہوئے، یار بڑی بات ہے۔

ایکسپریس:۔ استاد امیر خان کی گائیکی میں آپ کو ایسی کیا انفرادیت نظر آئی کہ آپ ان کے عشق میں مبتلا ہوگئے، دوسرے گویوں میں آپ کو ایسی بات کیوں نہیں دکھائی دی؟

استاد مبارک علی:۔ کلاسیکل موسیقی میں میرے نزدیک کچھ فن کار بہت اہم ہیں جن میں سرفہرست استاد امیر خان ہیں پھر بڑے غلام علی خان ہیں، انہی میں سلامت علی خان کا نام بھی شامل ہے، وہ بھی اپنے انداز کے بڑے اچھے گائیک تھے، لیکن استاد امیر خان اور بڑے غلام علی خاں کلاسیکل موسیقی کے دو سکول آف تھاٹ ہیں، میں بنیادی طور پر استاد امیر خان کو اپنا روحانی استاد مانتا ہوں، مجھے ان کے ساتھ بے پناہ عشق اور لگن ہے میں کلاسیکل گاتے ہوئے انہی کو فالو کرتا ہوں، جتنا مجھ سے ہوسکتا ہے۔ دیکھا جائے تو کلاسیکل موسیقی کی دنیا میں بڑے بڑے اچھے فنکار ہوئے ہیں، ان لوگوں نے بڑا نام، عزت اور شہرت بھی حاصل کی ہے۔

، ہر پھول کی اپنی خوشبو ہوتی ہے، اس لیے سب فن کار میرے لیے قابل احترام ہیں لیکن میرا عشق اور میرا عقیدہ استاد امیر خان ہیں۔ کچھ لوگوں کو خدا تعالیٰ بہت سی صلاحیتیں دے کر اور ان پر خاص کرم نوازی کر کے دنیا میں بھیجتا ہے، استاد امیر خان انہی لوگوں میں سے تھے۔ ان کی ہستی دنیا کے لیے ایک عجوبہ بنا کر بھیجی گئی، یہ نہیں وہ میرے استاد ہیں اور میں حد سے زیادہ ان کی تعریف کرتا ہوں، یہ میرا مشاہدہ اور میری ریسرچ بھی ہے۔ ایسا گائیک دنیا میں کوئی اور نہیں ہے حالانکہ دنیا میں بڑے بڑے گائیک ہوئے ہیں لیکن خیال گائیکی میں جو اسلوب استاد امیر خان نے وضع کیا، وہ انہی کا حصہ ہے جو گائیکی ان کے پاس ہے، وہ آپ کسی اور سے نہیں سُن سکتے۔ مجھے یہ کہنا تو نہیں چاہیے خدا نے مجھے موسیقی کی بڑی اچھی سوجھ بوجھ دی ہے، میں نے سارے لوگوں کو سُن کر یہ فیصلہ کیا، استاد امیر خان یکتا ہیں۔

ان کی کوئی مثال نہیں۔ میں یہ بات بڑی سوچ بچار اور پرکھ کے بعد کہہ رہا ہوں، استاد امیر خان کی میرے نزدیک اس لیے بھی بہت اہمیت ہے کہ انہوں نے موسیقی کی بہت اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر پریکٹیکل ایسا کر کے دکھایا کوئی دوسرا ایسا نہیں کرسکا حالانکہ سنگیت کے یہی راگ ہیں جو دوسرے لوگوں نے بھی گائے ہیں لیکن استاد امیر خان خیال گائیکی میں اپنا منفرد انداز وضع کر کے سب سے الگ ہو گئے۔ ہندوستان میں استاد امیر خان کو فالو کرنے والے بہت سے لوگ ہیں، ان کی گائیکی نے اپنے بعد آنے والی نسل کو جس طرح متاثر کیا کسی اور فنکار کی گائیکی نے نہیں کیا، دراصل ان کی گائیکی رائج ہوئی، بچے سے لے کر جوان اور جوان سے لے کر بوڑھے تک سب نے ان کے انداز کو اپنانے کی کوشش اور ان کے انداز کو جس جس نے بھی اپنایا ان کو نام بھی ملا اور عزت بھی ملی۔ میں بڑے عجز سے یہ کہتا ہوں میرے گانے میں کمی کجی ہو گی لیکن جو میری سوجھ بوجھ ہے، اس میں کوئی کمی نہیں ہے، میری پسند کا مقام بہت بلند ہے۔ میں نے ساری دنیا میں پسند ہی استاد امیر خان کو کیا لوگ مجھے اس بات کی داد بھی دیتے ہیں کہ مبارک علی خان کی پسند بے مثال ہے۔

ایکسپریس:۔ موسیقی کی دنیا میں روحانی شاگردی کی روایت بہت کم دیکھنے میں آتی ہے، یہ بتایئے اس روحانی وابستگی اور فریفتگی نے آپ کو کس حد تک فیض پہنچایا ؟

استاد مبارک علی:۔ روحانی شاگردی کے بہت سارے واقعات ہوئے ہیں، دیکھیں گنڈا باندھنا اور شاگردی ایک رسم ہے جو گھڑی کی گھڑی ادا ہو جاتی ہے، باقی صرف یقین اور عقیدہ ہوتا ہے۔ ہم نے ایسا بھی دیکھا ہے لوگ باقاعدہ شاگرد ہو کر بعد میں مکر جاتے ہیں جو دل سے مانتے ہیں وہ پھر ساری زندگی کے لیے استاد کے تابع ہو جاتے ہیں لیکن میری مثال سب سے الگ ہے، میرے استاد امیر خان انڈیا میں تھے اور میں پاکستان میں لیکن میری مانتا ہی کچھ ایسی تھی کہ یہ دوری کوئی دوری نہیں تھی۔ بزرگوں کی کہاوت ہے مان لینے سے ہی مراد ملتی ہے، جب کسی کو صدق دل سے مان لیا جاتا ہے تو مراد مل جاتی ہے۔

میں نے مانا ہی استاد امیر خان کو کچھ ایسا تھا مجھے مراد مل گئی، دراصل بات اچھی نیت پر ختم ہو جاتی ہے۔ استاد امیر خان سے میری روحانی وابستگی اس مقام تک آگئی تھی، وہ میرے خوابوں میں آنے لگے، یہ ایک طرح کی میری رہنمائی ہی تھی، اگر میں اپنے ریاض اور گائیکی میں کچھ غلط کر رہا ہوتا تو وہ مجھے ضرور ٹوکتے اور میری درستی کرتے، میرا ان سے عشق ایسا تھا میرے گھر میں بھی ہر وقت استاد امیر خان کا تذکرہ ہوتا تھا، اتنا کہ ایک بار وہ میری بیوی کے خواب میں بھی آئے اور کہنے لگے بیٹی! وہ جو ہمارا پرستار ہے، عاشق ہے، اسے ہمارا ایک پیغام دینا کہ تم جو ہمیں مانتے ہو تمہیں بہت رنگ بھاگ لگیں گے۔ میری بیوی نے جب مجھے اپنا یہ خواب سنایا تو میرے کئی دن اس خواب کی سرشاری میں گزرے اور میں نے سوچا میں جو دن رات ان کو یاد کرتا ہوں، ان کا نام جپتا ہوں تو میں بھی کہیں ان کی یاد میں شامل ہوں، وہ بھی میرے اس عشق کو محسوس کرتے ہیں۔ خدا گواہ ہے مجھ میں کوئی قابلیت نہیں تھی‘ میں کچھ بھی نہیں تھا، میں آج جو کچھ بھی ہوں، یہ سب ان کا روحانی فیض ہے‘ سچی بات ہے مجھے میرا عشق اس مقام تک لایا ہے‘ میں اگر استاد امیر خان کے عشق میں مبتلا نہ ہوتا تو میری زندگی کی کہانی ہی کچھ اور ہوتی۔

ایکسپریس:۔ اپنے کیریئر کی ابتداء میں آپ قوالی‘ کافی اور غزل گائیکی سے وابستہ رہے‘ کس مقام پر آکر آپ نے فیصلہ کیا اب میں کلاسیکل ہی گاؤں گا اور اسی فن میں نام پیدا کروں گا‘ یہ بھی بتایئے کلاسیکل گائیکی کے لئے آپ نے کتنا ریاض کیا، خود کو کیسے بنایا اور تراشا؟

استاد مبارک علی:۔ استاد امیر خان کے عشق میں مبتلا ہونے کے بعد میں ایک طرح کے اضطراب کا شکار ہو گیا تھا، میں جو پہلے کلاسیکل موسیقی کے ہی خلاف تھا، اب کلاسیکل گانے کے خواب میں رہنے لگا‘ لیکن کچھ معاشی مجبوریاں تھیں جن کی وجہ سے میں پارٹیوں کے ساتھ جاتا رہا‘ جب ہم ملتان سے کسووال شفٹ ہوئے تو پھر میں نے فیصلہ کر لیا اب میں صرف کلاسیکل کا ہی ریاض کروں گا‘ میں بچپن میں اپنے چچا استاد گجوخان کا شاگرد ہوا تھا لیکن جب مجھے سیکھنے کی ضرورت پڑی تو وہ ہمارے درمیان نہیں تھے وہ تو استاد امیر خان سے روحانی وابستگی اور ان کی گائیکی نے مجھے اعتماد بخشا اور میں ان کی گائیکی سن سن کر یاد کرنے لگا۔

اس دور میں نیا نیا ٹرانسسٹر آیا تھا، سو میں باقاعدگی سے ریڈیو سننے لگا کسی سٹیشن سے لائیو پروگرام یا ریکارڈنگ چل رہی ہوتی تو میں بڑے دھیان سے سنتا، مجھے راگوں اور ان کے ٹھاٹھوں کی ریڈیو سے بہت زیادہ معلومات ہوئیں۔ اس دور میں، میں نے بہت سے فنکاروں کو سُنا جس سے مجھے استاد امیر خان کی انفرادیت کا بھی پتہ چلا‘ جب ریڈیو پر استاد امیر خان کا پروگرام ہوتا تو میری خوشی کی انتہاء نہ رہتی‘ پھر میں نے ان کی بہت سی ریکارڈنگز تلاش کیں، انہیں سُنتا رہا اور ان کے انداز کو اپنے ذہن میں بٹھاتا چلا گیا‘ ان کا سُر لگانے کا خاص انداز میں نوٹیشن کے حساب سے یاد کرنے لگا کہ اس خیال بندش کا انہوں نے کس سُر سے آغاز کیا، استھائی میں کون کون سے سُر لگائے ہیں‘ انترے میں یہ کس سُر سے اٹھے ہیں، آگے جا کر کون کون سے سُر استعمال کرکے واپس آئے ہیں۔ شروع شروع میں مجھے بہت مشکل پیش آئی، میں سوچتا تھا یار تم نے اتنی بڑی چھلانگ لگا دی کہ لائٹ میوزک سے کلاسیکل موسیقی کی طرف آ گئے‘ یہ تو بڑا وسیع فیلڈ ہے۔

دراصل میں نے ایک طویل عرصہ انتظار کیا اور دعائیں مانگیں کہ یا اللہ مجھے ایک ایسا وقت دے میں کلاسیکل کی ریاضت کروں اور اس فیلڈ میں باقاعدہ داخل ہو جاؤں اور پھر یہ وقت آیا، جب میرے بچے امانت علی اور کرامت علی چار پیسے گھرمیں لانے لگے تو میں نے قوالی کو خیر باد کہہ دیا اور کسووال میں اپنے گھر بیٹھ گیا، پھر میں نے سات سال کا ایک ریاضتی چلا کاٹا‘ میں نے اتنا ریاض کیا کہ رات اور دن کا کوئی فرق ہی نہ رہا‘ میرے اس ریاض کا آغاز 1983ء میں ہوا اور 1990ء تک چلا‘ میں نے سارا وقت سُر منڈل کے ساتھ ریاض کیا یعنی تار کے ساز کے ساتھ، میرے پاس ان دنوں ایک بہت اچھا ہارمونیم بھی تھا جرمن ساختہ لیکن میں نے سُر منڈل کے ساتھ ریاض کو ترجیح دی‘ ان سات سال میں ریاض کرتے کرتے میں اتنا پختہ ہو گیا تھا کہ گاتے گاتے میں گھر سے باہر چلا جاتا‘ راستے میں گنگناتا رہتا اور جب گھر آ کر سُر منڈل پر ہاتھ رکھتا تو سُر منڈل سے وہی سر نکلتا جس سے میں گا رہا ہوتا تھا۔

ایکسپریس:۔ کسووال سے لاہور شفٹ ہونے کے بعد آپ کے کلاسیکل موسیقی کے کیریئر کا آغاز کیسے ہوا‘ اس فیلڈ میں آپ کی قبولیت کا مقام کیا تھا۔؟

استاد مبارک علی:۔ ایک دور تھا میں نے لاہور شہر میں فلم اور ٹی وی میں گانے کے لئے بڑے جتن کئے لیکن مجھے کوئی کامیابی نہ حاصل ہوئی‘ کسووال میں ریاض کے ساتھ ساتھ میرا ایک اور سفر بھی جاری تھا، وہ میری روحانی عقیدت کا سفر تھا‘ میں نے کسووال میں حضرت نانو شہیدؒ کے مزار پر سالہا سال چاکری کی‘ میں نے وہاں ہر وہ کام کیا جس کا مجھے حکم دیا گیا اور جب میں کسووال سے اپنا ریاض مکمل کرکے لاہور آیا تو ان سے باقاعدہ اجازت لے کر اور ان کی دعاؤں کے سائے میں آیا۔ اسی شہر میں جہاں میں ناکام ہو گیا تھا جب ایک ولی کامل کی دعائیں لے کر آیا تو لاہور جیسے میرا انتظار کر رہا تھا‘ اللہ تعالیٰ نے دعاؤں کی منظوری کا ایک وقت طے کر رکھا ہوتا ہے اور وہ وقت میری دعاؤں کی منظوری کا تھا۔ 1991ء میں ہم کسووال سے لاہور شفٹ ہوئے‘ اسی سال میں نے لاہور ریڈیو پر کلاسیکل موسیقی کا ایک پروگرام کیا‘ جس سے میں بطور کلاسیکل گائیک متعارف ہوا‘ 1992ء میں پہلی بار میں نے آل پاکستان میوزک کانفرنس میں گایا‘ جس سے میری شہرت دور دور تک پھیل گئی اور لوگوں نے مجھے کلاسیکل گائیک تسلیم کر لیا‘ یوں میرا نام ونشان بن گیا اور نام بھی کس فن میں بنا جو دنیا کا مشکل ترین فن اور شعبہ ہے یعنی کلاسیکل موسیقی۔

ایکسپریس:۔ موسیقی کے حلقوں میں آپ اپنے لائٹ میوزک کے حوالے سے متعارف تھے، بطور کلاسیکل گلوکار آپ کو اپنے ہم عصر گانے والوں کے کیسے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا؟

استاد مبارک علی:۔ دیکھیں جب میں کلاسیکل موسیقی کی فیلڈ میں آیا تو امانت علی‘ فتح علی اور نزاکت‘ سلامت کی جوڑیاں گا چکی تھیں اور اپنا عہد گزار چکی تھیں‘ ان کے علاوہ جو لوگ تھے میں ان کو کراس کرکے ہی آگے آیا اور کوئی آئے گا تو اسی طرح کراس کرکے ہی آئے گا‘ نام بنائے گا۔ ہم سے پہلے روشن آراء بیگم‘ امانت علی‘ فتح علی‘ نزاکت، سلامت‘ امید علی خان اور چھوٹے غلام علی خان سبھی اپنے دور کے بہت اچھے گائیک تھے جو معیاری کلاسیکل ان لوگوں نے پیش کیا وہ اب نہیں ہے۔ آل پاکستان موسیقی کانفرنس میں گانے کے بعد ایک دم میرا چرچا ہو گیا تو لوگ حیران ہو گئے، یہ تو لائٹ موسیقی کا آدمی تھا ایک دم کلاسیکل کی طرف کیسے آگیا، آخر یہ کہاں چھپ کر سارا ریاض کرتا رہا جس کا اظہار اس کے گانے میں ہو رہا ہے، یہ تبدیلی واقعی کوئی عام بات نہیں تھی لیکن میں وہی کہوں گا میرا عشق اور میری مانتا میرے کام آگئی، جب کلاسیکل موسیقی کے حوالے سے میری شہرت ہو گئی تو سلامت علی خان جو میری بنیاد اور ابتداء تک کو جانتے تھے بھی میرے اس فیلڈ میں آنے پر حیران تھے کہ یہ بندہ تو غزل اور کافی گانے والا تھا، اس نے اتنی بڑی جست کیسے بھر لی‘ اور پھر یہ کیسا رنگ اور اسلوب لے کر آیا ہے۔

استاد امیر خان اندور والے کا جو یہاں پاکستان میں کسی اور کے پاس ہے ہی نہیں‘ آخر انہوں نے بھی کہا یار مبارک تم امیر خان کو فالو کرتے ہو‘ تمہارے گانے سے ان کی خوشبو آتی ہے‘ باقی تم ہمارے بھائی ہو ہمارے ننھیالی خاندان سے ہو‘ تمہارے کلاسیکل کی طرف آنے کی ہمیں بڑی خوشی ہے اس فیلڈ میں ایک اچھے فنکار کا اضافہ ہوا ہے۔ ابتدا میں مجھ سے محبت کرنے والوں میں استاد غلام شبیر خان‘ جعفر خان اور فلم میوزک ڈائریکٹر سلیم اقبال بھی تھے جو میرے بہت اچھے دوست تھے‘ ہر کوئی یہی کہتا تھا یار مبارک علی کو سن کر لطف آتا ہے‘ لیکن مجھ سے گھرانوں کے لوگ حسد بھی کرتے رہے لو جی ہم گھرانے والے ہیں یہ ایک سائیڈ سے اٹھا، کلاسیکل موسیقی کی طرف آیا اور اس کا نام بن گیا یا ہم گھرانے والوں کے ہوتے ہوئے یہ کیوں اچھا گاتا ہے۔

ایکسپریس:۔ خیال گائیکی میں آپ کی انفرادیت اور شہرت کا ایک حوالہ آپ کی تخلیق کردہ بندشیں بھی ہیں‘ یہ بتائیے خیال گائیکی میں اختراع کے اس مقام تک آپ کیسے آئے پھر خیال بندشیں آپ نے بنائیں تو استاد بڑے غلام علی خان، استاد امیر خاں اور استاد فیاض خان کی طرح اپنا تخلص کیوں نہیں رکھا۔؟

استاد مبارک علی:۔ جن دنوں میں استاد امیر خان کی گائیکی بطور طالب علم بغور سن رہا تھا تو خیال بندشوں اور ان کے بولوں پر بھی ایک خاص انداز سے غورو فکر کر رہا تھا۔ استاد امیر خان نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا پُوربی زبان میں خیال بندشیں آسان ہونی چاہئیں، بول ٹھمری نما اور چار مصرعوں میں ہوں جو عام لوگوں کی سمجھ میں بھی آئیں۔ میرا جو ریاض اور ریسرچ کا دور ہے، اس دوران میں ریڈیو اور دیگر ذرائع سے اپنا علم بڑھاتا رہا‘ کچھ استاد امیر خان کی روحانی مدد اور دعائیں مجھے پہنچیں اور میرا ذہن روشن ہوتا چلا گیا، پھر مجھے خیال بندش کی اختراع کی تکنیک آگئی، میں نے پھر بے شمار بندشیں اور ترانے تخلیق کئے۔ اب آپ کا یہ سوال کہ میں نے اپنا کوئی تخلص کیوں نہیں رکھا تو اسے آپ میری عاجزی اور انکساری سمجھ لیں‘ مجھے بہت سے لوگوں نے کہا خان صاحب بندشیں آپ کی تخلیق کردہ ہیں تو آپ اپنا تخلص بھی رکھیں لیکن میں کہتا ہوں نہیں میں نائیک نہیں ہوں، یہ درجہ اور مقام نائیکوں کا ہے۔

خیال بندش تخلیق کرنے والے واقعی بڑے لوگ تھے اور نائیک کے درجے کے بھی وہی مستحق تھے‘ میں نے تو اپنی مجبوری اور ضرورت کے تحت خیال بندشیں تخیلق کی ہیں۔ میں بھی اگر نائیک لوگوں کی طرح تخلص رکھوں تو یہ بے ادبی میں شامل ہو جائے گا‘ نائیک وہی ہیں جن کو دنیا نے نائیک تسلیم کیا ہے۔ نائیک کا درجہ بہت بلند ہے‘ میں تو صرف گائیک ہوں۔ میرے بھتیجے جاوید بشیر اور اکبر علی انڈیا جاتے ہیں تو ان سے پوچھا جاتا ہے آپ کے گرو کون ہیں، وہ میرا نام بتاتے ہیں تو فرمائش کی جاتی ہے ان کی بنائی ہوئی کوئی خیال بندش سنائیں، یہ سناتے ہیں تو وہ لوگ بہت خوش ہوتے ہیں واہ آپ کے گرو نے تو کمال کردیا، میرے اکثر ماننے والے اور شاگرد گانے سے پہلے میرا نام لیتے ہیں استاد مبارک علی خان کی بندش سُنا رہے ہیں، میرے لئے یہی اعزاز کافی ہے۔

ایکسپریس:۔ آپ کی تخلیق کردہ خیال بندشیں ٹھمری انگ کی خیال بندشیں ہیں جن میں استھائی اور انترے کے التزام کے ساتھ ساتھ بولوں میں بھی ٹھمری انگ ملتا ہے، اپنی اس خصوصیت کے حوالے سے کچھ بتائیں؟

استاد مبارک علی:۔ دیکھیں اکثر خیال بندشیں ٹھمریوں کے بولوں سے ہی متاثر ہو کر بنائی گئی ہیں، اساتذہ کا کہنا ہے خیال بندش ایسی ہو جو لوگوں کی سمجھ میں آئے اور پتہ چلے گانے والا اپنے منہ سے یہ بول ادا کر رہا ہے، پھر گانے کا انداز ایسا ہونا چاہئے کہ سامعین خوش ہو جائیں یہ نہ کہیں پکے راگ سمجھ نہیں آتے‘ خیال بندش جسے ہم ’’لچھن گیت‘‘ بھی کہتے ہیں میں تلفظ کا خاص خیال رکھا جانا چاہئے یعنی سننے والا سُر کے ساتھ ساتھ بولوں کا بھی لطف اٹھائے‘ پہلے نائیکوں نے جو بندشیں بنائی ہیں بول وہ بھی بہت اچھے ہیں لیکن ان میں گنجلتا بہت ہے‘ جب خیال بندشیں ٹھمری انگ میں بننے لگیں تو لوگوں نے بہت پسند کیں۔ میں اکثر سٹیج پر کہتا ہوں جتنا خوبصورت راگ ہے، خیال بندش اس سے بھی خوبصورت ہونی چاہئے جس طرح غزل اور گیت کی کمپوزیشن ہوتی ہے خیال کی بھی ہونی چاہئے، بول جیسے غزل اور گیت میں واضح ہوتے ہیں خیال بندش میں بھی پوری صحت کے ساتھ ادا ہونے چاہئیں۔

ایکسپریس:۔آپ کے خیال میں کلاسیکل گانے والے فن کار کو کن اوصاف کا حامل ہونا چاہئے‘ یہ بھی بتائیں پاکستان ایسے معاشرے میں کلاسیکل موسیقی کو عوامی مقبولیت کیونکر مل سکتی ہے؟

استاد مبارک علی:۔ کلاسیکل موسیقی کی فیلڈ میں سب سے پہلے اچھی تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے پھر فن کار کے اندر ایک تجسس ہونا چاہئے، وہ راگوں کے بارے میں تحقیق کرے کہ اس راگ کو کون کون سے اساتذہ کس انداز سے گاتے رہے ہیں‘ پھر اچھا ریاض ہونا چاہئے، یہ نہیں ریاض ہی اوٹ پٹانگ کیا ہوا ہو‘ ریاض سے ہی گلوکار بنتا ہے اور ریاض سے ہی بگڑتا ہے‘ اچھا استاد مل جائے اور اچھی ریاضت ہو جائے تو پھر بات بنتی ہے۔ اگر فن کار ہر جگہ اپنی مرضی کرے گا تو وہاں کمی رہ جائے گی، اس لئے رہبر بہت ضروری ہے بغیر رہبر کے موسیقی کے فن میں راستہ نہیں ملتا اور فن کار ساری زندگی الجھا ہی رہتا ہے‘ جن لوگوں نے اچھی تعلیم کسی اچھے استاد سے حاصل کی ریسرچ اور اچھا ریاض کیا کیونکہ ریاض ہوتا ہی اس لئے ہے کہ اپنے گانے میں کمی کجی دور کی جائے۔

فن کار خود اندازہ لگائے مجھ میں کیا کمی ہے، کیا نقص ہے، وہی فن کار سدھر سکتا ہے جسے اندازہ ہو مجھ میں کیا کمی ہے۔ ہمارے کلاسیکل گانے والے زحمت ہی نہیں کرتے اچھے لوگوں کو سنا جائے، ہمارے فن کار دوسروں کو سننے میں اپنی ہتک محسوس کرتے ہیں، آپ ہی بیٹھ کر خود کو عظیم تصور کر لیتے ہیں یا اپنے خاندان کو عظیم سمجھنے لگتے ہیں۔ بہت سے گائیک خیال گائیکی کو مبہم بنا کر پیش کرتے ہیں جسے لوگ سن تو لیتے ہیں لیکن بعد میں یہی کہتے ہیں ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آیا‘ اساتذہ کہتے ہیں جو سلجھا ہوا گائیک ہوتا ہے وہ سمجھا کر گاتا ہے‘ وہ اپنے گانے کی ترتیب ہی ایسی رکھتا ہے کہ ہر خاص و عام کو اچھا لگے اور لوگ کہیں کلاسیکل موسیقی تو بہت اچھی ہے اور ان کا کلاسیکل گائیکی کے بارے میں تصور ہی بدل جائے‘ یہ صرف گانے والے پر منحصر ہے وہ ایسا کر کے دکھائے‘ اپنی گائیکی کو اچھے طریقے سے پیش کرے‘ اسی طرح کلاسیکی موسیقی پاپولر ہو سکتی ہے اور میں نے ایسا کر کے دکھایا ہے۔

ایکسپریس:۔اس قدر ناشناس ملک میں کیا آپ اپنی اب تک کی پذیرائی سے مطمئن ہیں؟

استاد مبارک علی:۔ کلاسیکل موسیقی میں میری اصل کمائی یہی ہے خدا نے میرا نام و نشان بنا دیا‘ میری شہرت ہی میری اصل کمائی ہے اصل بات تو نام بننے کی ہے، شہرت تو نام پر ختم ہوتی ہے۔ دراصل کسی کا نام ہوجانا ہی شہرت ہوتی ہے اور نام میرے پاس ہے، پاکستان میں بھی میرا نام ہے لیکن پاکستان سے باہر میرا نام زیادہ ہے‘ انڈیا میں مجھے خصوصی طور پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ میں تو سمجھتا ہوں مجھ پر یہ خصوصی کرم ہوا ہے خدا کا کہ فن کے نمایاں لوگوں میں میرا نام موجود ہے، یہی میری زندگی بھر کی کمائی ہے۔ یہ ملال اپنی جگہ یہ ملک بے قدر ہے یہاں فن کار کی قدر نہیں کی جاتی‘ میرے بڑے بھائی عاشق علی خان مجھ سے بھی اچھا گاتے تھے لیکن ان کو کوئی مقام نہیں دیا گیا‘ ان کی وفات پر بھی کسی ادارے نے ان کو خراج تحسین پیش نہیں کیا‘ یہ موت کا بھی احساس نہیں کرتے۔ انڈیا کے فن کاروں کی غیرمعمولی پذیرائی دیکھ کر رشک تو آتا ہے لیکن پھر سوچتا ہوں ہم اپنے وطن میں ٹھیک بیٹھے ہیں یہاں ہم اذانیں بھی سنتے ہیں اور ریاض کی آواز بھی۔

ٹھمری گانے کے لئے خاص لہجے کی ضرورت ہوتی ہے
ٹھمری بہت سے لوگوںنے گائی ہے مجھ سے بھی اکثر ٹھمری کی فرمائش کی جاتی ہے جیسے خیال گاتے ہوئے میں، استاد امیر خان کو فالو کرتا تو اسی طرح ٹھمری گاتے ہوئے استاد بڑے غلام علی خان کی تقلید کرتا ہوں کیونکہ جیسی ٹھمریاں استاد بڑے غلام علی خان اور برکت علی خان نے گائی ہیں، ویسی کسی نے بھی نہیں گائیں، وہ ٹھمری کے ایک خاص انداز کے موجد ہیں، دیگر لوگوں نے بھی ٹھمریاں گائی ہیں جو میڈیا کے ذریعے معروف بھی ہوئیں لیکن بات پھر بھی نہیں بنی کیونکہ ٹھمری کیلئے ایک خاص انداز اور لہجے کی ضرورت ہوتی ہے، اکثر ٹھمری گانے والوں کے پاس ٹھمری کا لہجہ ہی نہیں ہے، ٹھمری کا جو اصل اسلوب ہے وہ بڑے غلام علی خان اور برکت علی خان کے پاس ہی ہے، ان جیسی ٹھمری کوئی گا ہی نہیں سکتا‘ میں جب ٹھمری گاتا ہوں تو باقاعدہ ان کا نام لیتا ہوں اب آپ کو استاد بڑے غلام علی خان کی ٹھمری سنا رہا ہوں۔

’’پدماوت‘‘ سے ’’زیرو‘‘ تک

[unable to retrieve full-text content]

بڑھتے جاتے ہیں رفتگاں میرے

رسا بھائی ویسے مذہب سے بالکل بیگانے بھی نہیں تھے۔ فوٹو : فائل

رسا بھائی ویسے مذہب سے بالکل بیگانے بھی نہیں تھے۔ فوٹو : فائل

مرزا محتشم علی بیگ جنھیں ہمارے ادب کی دنیا رسا چغتائی کے نام سے پہچانتی ہے، 5 جنوری 2018ء کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگئے۔ اُن کی تدفین 6 جنوری کو بعد نمازِ ظہر کورنگی 6 کے قبرستان میں ہوئی۔

زندگی کے مختلف شعبوں اور خصوصاً ادب و شعر کی دنیا کے معروف لوگ اُن کے جنازے میں شریک تھے۔ عام طور سے شکایت کی جاتی ہے جو ایسی بے جا بھی نظر نہیں آتی کہ (خصوصاً) الیکٹرونک میڈیا ہماری تہذیبی اور ادبی شخصیات کے بارے میں بے پروائی کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ تاہم اس بار دیکھا گیا کہ سیاسی اسکینڈلز کی گرماگرمی کے اس موسم میں بھی پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا دونوں ہی نے رسا چغتائی صاحب کے انتقال کی خبر کو مناسب توجہ اور وقت دیا جس کے وہ بجا طور پر مستحق تھے۔

رسا چغتائی نے ایک بھرپور اور تادمِ آخر فعال ادبی زندگی بسر کی۔ آخری دنوں کی معمولی علالت کے سوا وہ تمام عمر ادبی شخصیات اور تقریبات کے لیے ہمیشہ کشادہ دل رہے۔ انھوں نے لگ بھگ نوے برس کی عمر پائی۔ ضیف العمری کے باوجود وہ نہ صرف تخلیقی سطح پر فعال تھے، بلکہ احباب اور شاگردوں کی دل جوئی اور خوشی کے لیے ادبی محفلوں اور مشاعروں میں بھی شریک ہوتے رہتے تھے۔

اُن کے مداحوں اور قدر دانوں کا ایک وسیع حلقہ تھا جو صرف کراچی تک محدود نہ تھا، بلکہ ملک کے مختلف شہروں اور متعدد ممالک میں جہاں اردو زبان و ادب کے حلقے ہیں، اُن سے محبت کرنے اور اُن کے کام کو سراہنے والے پائے جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بیرونِ ملک سے بھی انھیں مشاعروں کے لیے بہت محبت اور اصرار سے مدعو کیا جاتا تھا۔

رسا چغتائی برطانوی عہد کے ہندوستان کی ریاست راجستھان کے ضلع مادھوپور کے علاقے سوائے میں 1928ء میں متوسط طبقے کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ بتایا کرتے تھے کہ قیامِ پاکستان کے بعد اُن کا ارادہ یہی تھا کہ ہندوستان ہی میں رہیں گے۔ اس لیے کہ اہلِ خانہ، عزیز رشتے دار اور دوست احباب سب وہیں تھے، لیکن بعد میں ایک خیال نے انھیں پاکستان ہجرت پر مائل کیا۔ رسا چغتائی کے بقول یہ وہ دور تھا جب مے نوشی کی رغبت نے انھیں پوری طرح اپنا اسیر کیا ہوا تھا۔

پینے پلانے کا یہ شوق دن دیکھتا تھا اور نہ ہی رات۔ ظاہر ہے کہ یہ رویہ مذہبی رجحان رکھنے والے اہلِ خانہ کے لیے سخت الجھن اور کوفت کا باعث تھا۔ ایک روز رسا چغتائی صاحب نے بھی شدت سے اس بات کو محسوس کیا۔ بس یہی وہ دن تھا جب انھوں نے ہندوستان کو چھوڑنے اور پاکستان ہجرت کا فیصلہ کیا۔ چلنے سے پہلے انھوں نے بیوی سے کہا کہ اگر وہ اُن کے فیصلے پر راضی نہ ہوں یا مے نوشی کی اس لت سے نالاں ہوں تو بے شک ہندوستان میں ہی رُک جائیں۔ بیوی بولیں، جو بھی ہے، میرا تو مرنا جینا اب آپ ہی کے ساتھ ہے۔ چناںچہ اطمینان سے اُن کے ساتھ پاکستان چلی آئیں۔

یہ 1950ء کی بات ہے جب انھوں نے ہندوستان سے چلنے کی ٹھانی۔ حالات دگرگوں تھے۔ پاکستان پہنچنے کے لیے آگ اور خون کے دریا پار کرنے پڑتے تھے۔ رسا چغتائی صاحب ہندوستان سے نکلنے کی ٹھان چکے تھے۔ صورتِ حال سفر کی اجازت نہ دیتی تھی، لیکن وہ چل دیے۔ انھیں کئی مہینے ہندوستانی کیمپ میں گزارنے پڑے اور 1951ء میں یہ موقع ملا کہ وہ پاکستان پہنچیں۔ یہاں آکر انھوں نے کراچی میں رہائش اختیار کی۔ گزر اوقات کے لیے مالیات کے شعبے میں ملازمت مل گئی۔

طویل عرصہ اُس سے وابستہ رہے، لیکن پھر ملازمت سے سبک دوشی کا فیصلہ کیا اور 1977ء میں قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر الگ ہوگئے۔ اس کے بعد وہ روزنامہ ’’حریت‘‘ سے وابستہ ہوئے اور 1989ء تک وہاں کام کرتے رہے۔ اس کے بعد کہیں ملازمت نہیں کی۔ گزربسر کے لیے مشاعروں میں شرکت سے حاصل ہونے والی آمدنی پر انحصار کیا۔

رسا چغتائی صاحب مزاجاً، طبعاً اور فطرتاً شاعر تھے— اور شاعر بھی اُس سانچے کے تھے کہ جس کے بارے میں عام تأثر یہ پایا جاتا ہے کہ وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر اپنی ہی دُھن میں رہتا ہے۔ وہ بھی ذاتی حیثیت میں کچھ اسی وضع کے فن کار تھے، لیکن جہاں تک عائلی زندگی اور اس کی ذمے داریوں کا معاملہ ہے، رسا چغتائی صاحب غافل یا بے پروا انسان نہیں تھے۔ بیوی بچوں کے لیے جو کچھ ممکن تھا، وہ ہمیشہ کرتے رہے۔

اس کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ کورنگی کا وہ مکان جو اس بستی کے بسائے جانے کے بعد انھوں نے اہلِ خانہ کے لیے بڑے چاؤ سے بنایا تھا اور جہاں انھوں نے لگ بھگ نصف صدی سے زائد کا عرصہ بسر کیا، انتقال سے کوئی سال ڈیڑھ سال پہلے بیچ دیا تھا۔ یقینا یہ فیصلہ اُن کے لیے پریشان کن، بلکہ تکلیف دہ بھی رہا ہوگا، لیکن ظاہر ہے اس اقدام کا مقصد یہ تھا کہ جائیداد میں اولاد کا جو حصہ ہے، وہ اپنے ہاتھ سے انھیں دے دیا جائے۔

رسا بھائی سے صاحب سلامت اور ذاتی ملاقاتوں کا موقع تو کہیں بعد میں آیا، اُن کی شاعری سے تعارف بہت پہلے ہوگیا۔ یہ ہماری جواں عمری کے دن تھے اور رسا بھائی کے ایسے شعر دل و دماغ پر کچھ اور انداز سے اثر کرتے تھے۔ سچ پوچھیے تو شعر کیا تھے، احوال کا بیان تھے اور جیسے قال کو حال کی سطح پر سمجھنے کا نسخہ بھی۔

گرمی اُس کے ہاتھوں کی
چشمہ ٹھنڈے پانی
—————
تیرے آنے کا انتظار رہا
عمر بھر موسمِ بہار رہا
اور یہ شعر تو جیسے عجب طرح سے اثر کرتا تھا:
صرف مانع تھی حیا ، بندِ قبا کھلنے تک
پھر تو وہ جانِ حیا ایسا کھلا، ایسا کھلا

رسا بھائی سے ملاقاتوں کا سلسلہ بعد میں آغاز ہوا تو، راہ میں ہم ملیں کہاں بزم میں وہ بلائے کیوں والا معاملہ یقینا نہیں تھا۔ ہاں اس کا ایک اہم سبب یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ مشاعروں میں تو آجاتے تھے، لیکن ادبی تقریبات میں ذرا کم کم ہی شریک ہوتے تھے۔ اِدھر یہ حال کہ مشاعرے میں جانے کا موقع بھولے سے بھی نہ آپاتا تھا۔ سو، ملاقات ہو تو کیوں کر۔ خیر، ملاقات کی صورت بھی خوب نکلی۔ ہوا یہ کہ ایک روز کوئی صاحب دفتر پہنچے۔ ہم کہیں باہر تھے۔ وہ ایک بند لفافہ چھوڑ گئے۔ کھول کر دیکھا۔ اس میں ایک مختصر سا رقعہ تھا۔ کچھ اس قسم کا مضمون تھا کہ تمھاری چیزیں نظر سے گزرتی رہتی ہیں۔ خوشی ہوتی ہے۔

مزید توفیق کے لیے دعا کرتا ہوں۔ اس وقت ایک کام سے رقعہ لکھ رہا ہوں، امید ہے مایوس نہ کرو گے۔ فلاں صاحب شعر کہتے ہیں اور اچھا کہتے ہیں۔ ان کا مجموعہ شائع ہوا ہے۔ اس کی رونمائی آرٹس کونسل میں ہو رہی ہے۔ ان کی خواہش ہے اور میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ تم اس کی کتاب پر تقریب میں آکر بات کرو۔ یہ رقعہ پہلے بھیج رہا ہوں۔ ایک آدھ دن میں شاعر صاحب خود آکر ملیں گے اور مجموعہ بھی تم کو دیں گے۔ وہ اپنی تقریب کی تفصیل سے بھی آگاہ کریں گے۔ دعائیں۔

یہ رقعہ رسا بھائی کی طرف سے تھا۔ رقعے کے سادہ اور راست اندازِ نگارش نے دل ہی تو موہ لیا۔ انکار کا بھلا کیا سوال تھا۔ تقریب میں پہنچے تو رسا بھائی پہلے سے آئے تھے، اور کھڑے ہوئے کچھ بات کررہے تھے۔ کئی لوگ حلقہ کیے ہوئے ہمہ تن گوش تھے۔ ہم نے جاکر سلام کیا اور مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو انھوں نے گلے سے لگالیا۔ اُس کے بعد اُن کا یہ ہمیشہ کا معمول رہا۔ رسا بھائی سے جہاں ملاقات ہوتی، وہ اسی تپاک اور محبت سے پیش آتے۔ ہمارے چھوٹے موٹے کام کا ذکر کرتے اور دل بڑھاتے۔

اصل میں رسائی بھائی ہمارے تہذیبی سانچے کے آدمی تھے اور اگلے وقتوں کی نشانیوں میں تھے۔ وضع قطع، لباس، مزاج، طرزِ کلام اور تعلقات میں رکھ رکھاؤ غرضے کہ کسی بھی رُخ سے دیکھ لیجیے، اُن کے یہاں شخصیت کا ہر رنگ اُس تہذیب کا آئینہ دار نظر آتا ہے، اوائلِ عمر سے ہی وہ جس کے رنگ میں رنگتے چلے آئے تھے۔ انفرادی شخصیت کے خدوخال سے لے کر اجتماعی رویوں تک اُن کے یہاں پوری طرح اس تہذیب کی عمل داری نظر آتی تھی۔

رسا بھائی کوئی بہت مذہبی آدمی نہیں تھے، لیکن وہ اُن لوگوں میں بھی نہیں تھے جو اپنی آزاد مشربی اور روشن خیالی کے اظہار کے لیے مذہب اور اہلِ مذہب کو تفریح اور استہزا کا ذریعہ بنانا ضروری خیال کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ہم نے تو ہمیشہ یہی دیکھا کہ کہ وہ جس طرح گرم جوشی سے آزاد منش لوگوں سے ملتے تھے، وہی طور وہ اہلِ مذہب کے لیے بھی اختیار کرتے۔ وہ جس تہذیب کے پروردہ تھے، یہ اسی کی دین تھی۔ افکار و نظریات کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن اس تہذیب میں سب سے پہلے تو آدمی کی قدر کی جاتی تھی۔ اس کی تکریم کو اوّلیت دی جاتی تھی۔

رسا بھائی ویسے مذہب سے بالکل بیگانے بھی نہیں تھے۔ برادرم اجمل سراج بتا رہے تھے کہ میں ایک روز ملنے کے لیے گیا۔ یہ کوئی عصر کی نماز کا وقت تھا۔ کمرے میں پہنچا تو دیکھا وہ بڑے خشوع و خضوع سے نماز پڑھتے ہیں۔ فارغ ہوئے تو میں نے کہا، ’’رسا بھائی! آج تو آپ کو نماز پڑھتے دیکھ لیا۔ کیا روز پڑھتے ہیں؟‘‘

وہ مسکرائے بولے، ’’پیارے صاحب بس پڑھ لیتا ہوں، جب پڑھنی ہو۔‘‘ ذرا تأمل کیا پھر کہا، ’’دیکھو، میں تو بس اُس سے یہ کہتا ہوں کہ میں تیرا باغی تھوڑی ہوں۔ تیرا بندہ ہوں، بس تیرا۔‘‘

سچ ہے، خداے بزرگ و برتر سے سب کا اپنا رشتہ ہوتا ہے۔

رسا بھائی نے زندگی تو اسی دنیا میں گزاری، لیکن جاننے والے جانتے ہیں اور دیکھنے والے گواہی دیں گے کہ انھیں دنیا طلبی اور دنیا داری سے کچھ علاقہ نہ تھا۔ طبیعت میں قناعت تھی۔ قلندرانہ مزاج تھا۔ انھوں نے زندگی کی ضرورتوں کو ضرورت ہی سمجھا، کبھی اُن کے لیے اپنی وضع نہ بدلی۔ اب یہی دیکھ لیجیے کہ کورنگی میں جاکر بسے تو باقی عمر کے پچاس پچپن برس وہیں گزار دیے۔ کسی دوڑ کا حصہ بنے اور نہ ہی طلب گاروں کی کسی قطار میں کھڑے نظر آئے۔ بیرونی ممالک سے مشاعروں کی دعوت آتی، جانے پر طبیعت آمادہ نہ ہوتی تو صاف انکار کردیتے۔

کئی بار ایسا بھی ہوا کہ منتظمین نے خیال کیا کہ شاید مشاہرہ یا نذرانہ کم معلوم ہوتا ہے، اس لیے انکار کرتے ہیں۔ انھوں نے بڑھا کر دینے کی بات کی اور اتنا بڑھا کر کہ دگنے سے بھی زیادہ کیا، تین گنا تک کہا، لیکن رسا بھائی کو نہ جانا تھا اور نہ گئے۔ مال کا زور انھیں کسی بات پر آمادہ کرے، یہ ممکن نہ تھا۔ دوسری طرف وضع داری کا یہ عالم کہ خوردوں میں سے بھی کسی نے مشاعرے یا تقریب میں آنے کی فرمائش کی تو رسا بھائی نے کوئی سوال کیا اور نہ تفصیل جاننی چاہی، فوراً آمادگی کا اظہار کردیا۔

سال بھر پہلے کی بات ہے، جمال بھائی (جمال پانی پتی) مرحوم کے بیٹے رضوان احمد نے قیصر عالم اور فراست رضوی سے اُن کا مجموعہ مرتب کروا کر اس کی اشاعت کا اہتمام کیا۔ اس موقعے پر جمال بھائی کے لیے آرٹس کونسل کراچی میں ایک عمدہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ پہلے حصے میں جمال بھائی کی شخصیت اور کام کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ دوسرے حصے میں مشاعرہ تھا۔ رسا بھائی سے بات کرنے کی ذمے داری ہمیں سونپی گئی۔ ہم نے فون کیا اور بتایا کہ جمال بھائی کے لیے ایک پروگرام کررہے ہیں۔ مشاعرہ بھی ہوگا اور آپ کو صدارت کرنی ہے۔ رسا بھائی نے کسی تکلف کے بغیر ہامی بھرلی۔ پھر بولے، ’’اسٹیج پر نہ بٹھاؤ۔ جاڑوں کے دن ہیں، مجھے پیشاب زیادہ آتا ہے، بار بار جانا پڑتا ہے۔‘‘

عرض کیا، ’’صدارت تو آپ ہی کی ہوگی۔ آپ جب کہیں گے آپ کو واش روم لے چلیں گے۔‘‘ بولے، ’’اچھا، جو تمھاری خوشی۔‘‘ پروگرام سے ایک دن پہلے فون کیا اور بتایا کہ آپ کو لانے کی ذمے داری برادرم کاشف حسین غائر کو سونپی ہے۔ کہنے لگے، ’’یہ بہت اچھا ہے، آسانی ہو جائے گی مجھے۔‘‘ کراچی میں جیسی سردی اُن دنوں پڑ رہی تھی، ایسی کم ہی پڑتی ہے۔ رسا بھائی کی طبیعت اچھی نہیں تھی، لیکن وہ آئے اور مشاعرے کی صدارت بھی کی۔ طبیعت نے پریشان کیا تو بولے، ’’بیٹھا نہیں جارہا۔ برا نہ مانو تو مجھے پڑھوا کر بھیج دو۔‘‘ اللہ اکبر۔ کس وضع اور کیسی تہذیب کے آدمی تھے۔

رسا بھائی اگلے وقتوں کے آدمی تھے۔ اُن کی شاعری کا مزاج بھی روایت کے رنگوں سے ترکیب پاتا ہے۔ غمِ جاں، غمِ دنیا، آسماں سے شکایت اور وقت کی بے مہری اور وقت کا گلہ ان کی شاعری میں ملتا ہے۔ تاہم یہ معاملہ صرف رنگِ سخن تک ہے۔ زندگی میں اُن کے یہاں ہم نے آسماں کی شکایت اور وقت کا گلہ کبھی نہیں دیکھا۔ دنیا کا شکوہ کرتے ہوئے وہ کبھی نظر نہ آئے۔ یہ سمجھنا تو سراسر غلط ہوگا کہ انھیں زندگی اور زمانے کی تلخیوں سے کبھی واسطہ نہ پڑا ہوگا۔ ضرور پڑا ہوگا، آخر آدمی تھے وہ بھی اور دل بھی دکھا ہوگا، لیکن ایسے کسی بھی مسئلے کو انھوں نے کبھی دیر تک دل و دماغ میں نہیں رکھا۔

مسائل اور تکلیفوں سے ان کا معاملہ بہت سیدھا تھا۔ وہ انھیں زندگی کا حصہ سمجھتے تھے، کُل زندگی نہیں۔ اس لیے وہ ان کے اثر میں نہیں رہتے تھے۔ احباب سے بھی وہ اسی طریقے کی توقع رکھتے تھے۔ کسی عزیز کو یا دوست کو الجھن میں دیکھتے تو کہتے، ’’پیارے صاحب، یہ زندگی ہے، اس کے ساتھ بکھیڑے تو لگے ہوں گے ناں۔‘‘ کسی سے زیادہ بے تکلفی سے کہتے، ’’ابے کاہے کو الجھتا ہے۔ جینا ہے تو جوکھم بھی اٹھانا ہی پڑے گا۔‘‘

سچ یہ ہے کہ رسا بھائی نے بھرپور اور کارآمد زندگی گزاری۔ ایک ایسی زندگی جس میں اہلِ خانہ، شاگردوں اور دوست احباب سب کا حصہ تھا۔ وقت کا عمل اور عمر کا سفر سب پر تھکن لادتا چلا جاتا ہے۔ تھکن رسا بھائی پر بھی اُتری ہوگی، لیکن انھوں نے اس تھکن کو خود پر سوار نہیں کیا۔ جھاڑ کر خود کو ہلکا کرتے رہتے تھے، بلکہ دوستوں اور ملنے والوں کو بھی ہلکا رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ زندگی کو تاعمر زندگی سمجھا، بیگار نہیں بننے دیا۔ اس سانچے کے لوگ اور اس نمونے کی شخصیات تیزی سے مٹتی جاتی ہیں:

گھٹتی جاتی ہے رونقِ دنیا
بڑھتے جاتے ہیں رفتگاں میرے
لیجیے، آخر میں اُن کے چند شعر دیکھ لیجیے:
آئینہ آئینہ رہا پھر بھی
لاکھ در پردۂ غبار رہا
—————
کب تلک جھوٹ بولتے صاحب
اس طرح خاندان کے آگے
—————
لطفِ دیوانگی نہیں آیا
بزم میں لوگ تھے شناسا کچھ
—————
دیکھتی کیا ہے اے نگاہِ کرم
میرے دستِ سوال میں کیا ہے
تو نہیں ہے تو کون ہے مجھ میں
فرق ہجر و وصال میں کیا ہے
بات اظہارِ حال میں کیا تھی
راز اخفائے حال میں کیا ہے
—————
زلف اُس کی ہے جو اسے چھولے
بات اُس کی ہے جو بنالے جائے
خاک ہونا ہی جب مقدر ہے
اب جہاں بختِ نارسا لے جائے
—————
جب بھی تیری یادوں کا سلسلہ سا چلتا ہے
اک چراغ بجھتا ہے، اک چراغ جلتا ہے
شرط غم گساری ہے ورنہ یوں تو سایہ بھی
دور دور رہتا ہے، ساتھ ساتھ چلتا ہے

2017؛ اسٹارز کی نئی کھیپ سلور اسکرین پر

استاد فتح علی خان‘ بانو قدسیہ‘ اُستاد رئیس خان اور فاروق ضمیر جیسے عظیم فنکار ہم سے جدا ہوگئے۔ فوٹو؛ فائل

استاد فتح علی خان‘ بانو قدسیہ‘ اُستاد رئیس خان اور فاروق ضمیر جیسے عظیم فنکار ہم سے جدا ہوگئے۔ فوٹو؛ فائل

گزشتہ برسوں کی طرح 2017ء بھی اپنے اختتام کوپہنچ گیا۔ سال گزشتہ کا سورج اپنے دامن میں بہت سی تلخ وشیریں یادیں سمیٹتا ہوا آج غروب ہوجائے گا۔ لیکن اس سال جہاں ہمیں بہت سی خوشیاں ملیں، وہیں بہت سے غم بھی ہمارے حصے میں آئے۔ اپنے پیارے وطن اوراس کے باسیوں کی بات کریں توزندگی کے تمام شعبوں میں زبردست قسم کے اتارچڑھاؤ دیکھنے کوملے۔ جوکل تک اعلیٰ عہدوں پرفائز تھے، ان پربرقرار رہنے کے اہل نہ رہے۔

کسی نے بازی جیتی اورکسی نے ہاری۔ کسی نے کھیل کے میدان میں ان گنت ریکارڈ بنائے توکسی کوشکست کا سامنا رہا۔ کسی نے شوبز کے مختلف شعبوں پرراج کیا اورکسی کے حصے ناکامی آئی۔ بس یوں کہئے کہ 2017ء بہت سی یادیں چھوڑ گیا ، جن کے ساتھ ہی اب ہمیں نئے سال 2018ء میں قدم رکھنا ہے اوریہ عزم کرنا ہے کہ ہم اپنی ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے اپنے اپنے شعبوں میں بہتری کیلئے کام کرینگے۔

اب ایک نظرڈالتے ہیں 2017ء میں شوبز اور اس سے منسلک دیگر شعبوں کے اہم واقعات پرہمیشہ کی طرح اس برس بھی کئی فنکار ہم سے بچھڑ گئے، کئی باصلاحیت نوجوانوں نے شوبز کی چمکتی دمکتی دنیا میں قدم رکھا اور کئی شخصیات نے اپنے راستے جدا کرلئے،کئی فنکاروں کے گھروں میں نئے مہمان بھی آئے۔ غرض اس سال بھی ایسے بہت سے یادگار واقعات پیش آئے جن کی یادیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی۔سب سے پہلے بات کرتے ہیں ان فنکاروںکی جواس دنیا سے رخصت ہوئے۔سال گزشتہ کے پہلے ہی دن یعنی یکم جنوری کو سٹیج کے معروف اداکارہ افضل بوبی انتقال کرگئے۔

پٹیالہ گھرانے کے معروف گلوکار استاد فتح علی خان 4جنوری کو انتقال کر گئے۔ استاد فتح علی خان معروف کلاسیکل گائیک استاد امانت علی خان کے چھوٹے اور استاد حامد علی خان کے بڑے بھائی تھے، جبکہ رستم فتح علی خاں کے والد تھے۔ ان کے والد استاد اختر حسین اور دادا استاد علی بخش جرنیل تھے۔انہیں ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی طرف سے ’’پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘ سے نوازا گیا۔ پٹیالہ گھرانہ پاکستان کا وہ موسیقی کا گھرانہ ہے جس کے پاس سب سے زیادہ ’’پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘ ہیں۔

مرحوم ادیب اشفاق احمد کی اہلیہ اور معروف مصنفہ بانو قدسیہ 4فروری کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں۔ دنیائے ادب کا روشن ستارہ بانو قدسیہ 28 نومبر 1928ء کو مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئیں اور تقسیم ہند کے بعد لاہور آئیں۔ اشفاق احمد گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم اے اردو میں ان کے کلاس فیلو تھے۔ دسمبر 1956 میں بانو قدسیہ کی شادی اشفاق احمد سے ہوئی۔

آپ نے ریڈیو کیلئے بے پناہ کام کیا۔ پی ٹی وی پر بانو قدسیہ کی پہلی ڈرامہ سیریل ’’سدھراں‘‘ تھی جبکہ ان کے ڈرامہ ’’آدھی بات‘‘ کو کلاسک کا درجہ حاصل ہوا۔ ان کے مقبول ڈراموں میں ’دھوپ جلی‘، ’خانہ بدوش‘، ’کلو‘، امر بیل‘، ’بازگشت‘، اور ’پیا نام کا دیا‘ جیسے ڈرامے شامل ہیں۔1981ء میں شائع ہونے والا ناول ’’راجہ گدھ‘‘ بانو قدسیہ کی حقیقی شناخت بنا۔ بانو قدسیہ نے 27 کے قریب ناول، کہانیاں اور ڈرامے لکھے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے انھیں 2003 میں ’’ستارہ امتیاز‘‘ اور 2010 میں ’’ہلالِ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔

فروری میں ہی ہمیں ٹی وی کے سینئر اداکار فاروق ضمیر کی جدائی کا غم بھی سہنا پڑا جو 23فروری کو دنیائے فانی سے رخصت ہوئے۔فاروق ضمیر کا شمار ٹی وی ڈرامہ کے بانیوں میں کیا جاتا ہے۔ فاروق ضمیر کو ان کی فن اداکاری میں خدمات کے اعتراف میں پرائیڈ آف پرفارمنس ، پی ٹی وی ایوارڈ ز، بولان ایوارڈ سمیت سینکڑوں ایوارڈز سے نوازا گیا۔ تھیٹرکی معروف ہدایتکارہ ،مصنفہ اوراداکارہ ناہیدخانم 31مارچ کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں۔

ناہید خانم نے کریئر کاآغازفلموں میں بطور چائلڈ سٹار کیا۔ 70ء کی دہائی میں تھیٹرکی دنیا میں قدم رکھا اور بطوراداکارہ، مصنفہ، ہدایتکارہ اور پروڈیوسر خدمات انجام دیں اور کمرشل تھیٹرکے فروغ کیلئے کردار اداکیا۔ انہوں نے متعددفنکاروں کوتھیٹرپرمتعارف کرایااورایک ہزارسے زائدسٹیج ڈراموں کی نمائش کی۔ممتاز ستار نواز استاد رئیس خان 6 مئی کو عارضہ قلب کے باعث 77سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ستار نوازی میں نام کمانے والے استاد رئیس خان ہندوستان کے شہر اندور میں 25 نومبر 1939ء کو پیدا ہوئے۔

استاد رئیس کو حکومت پاکستان کی جانب سے صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔ 12 مئی کو پشتو زبان کی شاعرہ اور ریڈیو صداکارہ فوزیہ انجم ہم سے جدا ہوئیں۔26 مئی کو3 ہزار سے زائد فلمی گیتوں کے موسیقار وجاہت عطرے اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ وجاہت عطرے موسیقار رشید عطرے کے صاحبزادے تھے ان کا شمار فلم انڈسٹری کے ان چند موسیقاروں میں ہوتا ہے جن کے سپرہٹ نغمات کی تعداد 3 ہزار سے زیادہ ہے۔

انہوں نے 40 برس تک فن کی خدمت کی اور 200 سے زائد فلموں کی موسیقی ترتیب دی اور ان کے ترتیب دیئے گانوں کو تقریباً تمام گلوکاروں نے گایا جن میں ملکہ ترنم نورجہاں بھی شامل ہیں۔ ماضی میں پاکستان ٹیلی ویژن سے پیش کئے جانے والے بچوں کی مشہور ڈرامہ سیریل ’’عینک والا جن‘‘ میں بل بتوڑی‘ کا مقبول عام کردارادا کرنے والی اداکارہ نصرت آرا کا 14 اکتوبر کو لاہورمیں انتقال ہوا۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی نصرت آرا تیس سال قبل لاہور منتقل ہوگئی تھیں اور وہیں انہوں نے اپنے عروج اور پھرزوال کا دورگزارا۔پاکستان ٹیلی ویژن سے 90 کے عشرے میں نشرہونے والا ڈرامہ سیریل ’عینک والا جن‘ ایسا سیریل تھا جسے دیکھ کر پوری ایک نسل جوان ہوئی اورآج بھی کوئی بل بتوڑی کونہیں بھولا۔16دسمبر کو اداکار و گلوکار محسن علی کو اس وقت صدمے کا سامنا کرنا پڑا جب ان کی ایک ماہ کی بیٹی کا انتقال ہوا۔ اس سال جدا ہونیوالے دیگر افراد میں ڈائریکٹر پرویز رانا ، ڈائریکٹر دلجیت مرزا، حسین شاد، ایم اے راحت، ظاہر شاہ، ڈائریکٹر اے حفیظ،آصف علی پوتا، نذر شباب، محمد شفیق، گٹارسٹ وقار ذکاء، شاعر حسن اکبر، ڈائریکٹر رومی انشاء،ادریس عادل اور ظفر اعوان شامل ہیں۔

معروف سٹائلسٹ خاور ریاض کے ماڈلز سلمان ریاض اور سونیا طارق نے لو میرج کی۔گلوکار جعفر زیدی اور اداکارہ یمینہ پیرازدہ کی شادی فیملی کی مشاورت سے انجام پائی،گلوکار امانت علی کی شادی فیشن ڈیزائنر سارہ سے ہوئی۔

اداکارہ جاناں ملک اور نعمان جاوید کی شادی اور پھر طلاق ہوئی۔ اداکار میکال ذوالفقار نے بھی اپنی بیوی سارہ کو طلاق دے دی،ٹی وی کے معروف فنکاروں آغا علی اور سارہ خان نے منگنی کا اعلان کیا۔ ٹی وی اداکارہ آنسہ ارشد اور میوزک ڈائریکٹر جے علی نے شادی کرلی۔ اداکاراحمد بٹ اور حمیراارشد کے درمیان کئی بار جھگڑے ہوئے جس کے بعد بات خلع تک جاپہنچی۔

لیکن دونوں نے قریبی دوستوں کی مشاورت کے ساتھ دوبارہ صلح کرلی۔ اسی طرح اداکارہ ویناملک کے اپنے شوہر سے اختلافات سامنے آئے جس کے بعد وینا ملک نے خلع لینے کا اعلان کیا لیکن بعد ازاں مولانا طارق جمیل نے دونوں کے درمیان صلح کرا دی۔ اداکارہ نور اور ولی حامد کے درمیان بھی اختلافات شدت اختیار کر گئے جس کے بعد نور نے خلع لے لی۔ اداکارہ شین جاوید کی شادی انجام پائی۔ اداکارہ فرح طفیل نے خاموشی سے شادی کرلی جسے وہ ابھی تک منظر عام پر لانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اداکار حماد فاروقی بھی رشتہ ازداج سے منسلک ہو گئے۔ ٹی وی اداکارہ ماہم عاصم اور فیضان شیخ نے لو میرج کر لی۔ معروف ماڈل صحیفہ جبار کی شادی ہوئی۔ میرا کوتیرہ سال بعد شادی کیس سے نجات مل گئی البتہ وہ سارا سال اپنی مختلف حرکات کی وجہ سے خبروں کا حصہ بنی رہیں۔

اداکارہ زاریہ صلاح الدین کے گھر پہلی بیٹی کی پیدائش ہوئی۔ اداکارہ ریجا علی کے گھر پہلا بیٹا پیدا ہوا جو پندرہ روز بعد انتقال کرگیا۔ دانش تیمور اور عائزہ خان کے گھر بیٹا پیدا ہوا۔

اداکارہ نور نے طلاق کے بعد شوبز سے ہمیشہ کے لئے کنارہ کشی کا اعلان کرتے ہوئے بقیہ زندگی مکمل اسلامی انداز سے گزارنے کا اعلان کیا۔ جس کے چند روز بعد ان کی چھوٹی بہن فاریہ بخاری نے بھی شوبز سے علیحدگی اختیار کر لی۔

2017ء پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے اتنا بہتر نہیں رہا جتنی توقع کی جا رہی تھی۔2017ء کے دوران اردو فلموں میں ’’ارتھ ٹو‘‘، ’’رنگریزا‘‘ ، ’’تھوڑا جی لے‘‘، ’’بالو ماہی‘‘، ’’یلغار‘‘، ’’وسل‘‘، ’’راستہ‘‘، ’’چلے تھے ساتھ‘‘، ’’جیو سر اٹھا کے‘‘، ’’چین آئے نہ‘‘، ’’پنجاب نہیں جاؤں گی‘‘، ’’نامعلوم افراد 2‘‘ اور’’چھپن چپھائی ‘‘ شامل ہیں جبکہ پشتو فلموں میں ’’سترگے سرے نا منم‘‘، ’’ستا محبت میں زندگی دا‘‘، ’’زخمونہ‘‘ شامل ہیں۔ سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران ریلیز ہونے والی 17 فلموں میں سے ’’مہر النسا وی لب یو‘‘، ’’میں پنجاب نہیں جاؤں گی‘‘ اور ’’نامعلوم افراد2‘‘ کو کامیاب کہا جا سکتا ہے۔

ان فلموں کی نمائش عید الفطر اور عید الاضحیٰ پر ہوئی تھی اس لئے یہ کامیابی سے ہمکنار ہوئیں۔ ماہ نومبر اور دسمبر میں ریلیز ہونے والی فلموں میں رنگریزہ، ارتھ 2، چھپن چْھپائی، ورنہ ، اور عارفہ شامل ہیں۔ واضح رہے کہ اس سال پرانے فنکاروں کے ساتھ ساتھ بہت سے نئے چہرے بھی سلور سکرین پر نظر آئے۔ اس سال جو نئے نام فلموں سے جڑے ان میں ٹی وی ایکٹر دانش تیمور، قرۃ العین، عبیرہ رضوی، حیا سہگل، شہروز سبزواری، سحرش خان، عادل مراد اور نیلم منیر شامل ہیں۔

ہر سال کی طرح اس سال بھی پاکستانی سٹارز نے سوشل میڈیا سے لے کر ٹی وی چیلنز تک اپنے جلوے بکھیرے جس کے سبب لوگ انہیں گوگل سرچ انجن پر تلاش کئے بغیر نہ رہ سکے، گزشتہ برس کے دوران پاکستان میں گوگل پر جن شخصیات کو سب سے زیادہ سرچ کیا گیا ان میں مومنہ مستحسن کا نام قابل ذکر ہے۔ اس کے علاوہ اس سال بی بی سی کی جانب سے مومنہ مستحسن کا نام 100 با اثر خواتین کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا تھا جبکہ برطانوی میگزین ایسٹرن آئی نے مومنہ مستحسن کو ایشیا کی 50 دلکش اور حسین خواتین کی فہرست میں شامل کر کے اس بات کا واضح ثبوت دیا ہے کہ مومنہ مستحسن نا صرف خوبصورت ہیں بلکہ ان کی شخصیت میں ایک ایسا جادو ہے کہ لوگ ان کی جانب کھینچے چلے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ گوگل پر سرچ کی جانے والی شخصیات میں مومنہ مستحسن کا نام ٹاپ 10 میں شامل ہے۔

نجی ٹی وی کے گیم شو سے شہرت حاصل کرنے والی خوبرو حسینہ فبیحا شیرازی بھی اس سال گوگل پر زیادہ سرچ کی جانے والی شخصیات میں شامل ہیں۔ فبیحا شیرازی  بطور ماڈل پہچانی جاتی ہے لیکن انہوں نے اتنی مقبولیت حاصل کر لی ہے کہ پاکستان کی بڑی بڑی اداکاراؤں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ نجی ٹی وی کے ڈرامے ’’یقین کا سفر‘‘ میں ڈاکٹر اسفند یار کا کردار ادا کرنے والے احد رضا میر بھی گزشتہ سال گوگل پر زیادہ سرچ کئے جانے فنکاروں میں شامل ہیں۔ احد رضا میر نے ڈرامے میں اپنے کردار کو اپنی خوبی سے نبایا کہ لڑکیوں کے ساتھ لڑکے بھی ان کے مداح ہو گئے۔

ہانیہ میر: گوگل پر سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی شخصیات میں ہانیہ میر کا نام بھی شامل ہے۔ ہانیہ میر کے لیے 2017ء بہترین ثابت ہوا، انہوں نے کامیڈی اور ایکشن سے بھر پور فلم ’’نا معلوم افراد 2‘‘ میں اداکاری کے علاوہ ہانیہ میر مختلف اشتہارات میں بھی نظر آئیں۔ ردا اصفہانی: اگرچہ اداکارا ردا اصفہانی اب تک بہترین اداکاراؤں میں اپنا نام بنانے میں ناکام رہی ہیں۔ اگر ان کے ڈراموں پر نظر ڈالی جائے تو وہ بھی کچھ زیادہ مقبول نہیں ہوئے ہیں، لیکن اس کے باوجود رد اصفہانی گزشتہ برس کے دوران گوگل کی سرچ کی جانے والی ٹاپ 10شخصیات میں شامل ہیں۔

پاکستان شوبز انڈسٹری کے ہر دل عزیز اداکار فواد خان نے ایک اور اعزاز اپنے نام کیا، فواد خان نے ایک بار پھر پاکستان کے سب سے ہینڈسم مرد کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔برطانوی میگزین ایسٹرن آئی نے ایشیا کے 50 پرکشش اور ہینڈسم مردوں کی فہرست جاری کی، جس میں پاکستانی شوبز انڈسٹری کے ہر دل عزیز اداکار فواد خان کا نام چھٹے نمبر پر ہے، فواد خان نے یہ اعزاز دوسری بار حاصل کیا۔ایسٹرین آئی کی جانب سے جاری کردہ ایشیا کے حسین مردوں کی فہرست میں علی ظفر کا نام بھی شامل ہے، علی ظفر کا نام فہرست میں 12 ویں نمبر پر ہے۔

ہینڈسم مردوں کی اس دوڑ میں عمران عباس بھی شامل ہوئے، برطانوی میگزین کے مطابق حسین مردوں کی فہرست میں عمران عباس 29 ویں نمبر پر براجمان ہیں۔پرکش مردوں کی بات ہو اور عاطف اسلم کا ذکر نہ ہو یہ تو ممکن ہی نہیں، ایسٹرن آئی کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں گلوکار عاطف اسلم نے 43 ویں پوزیشن حاصل کی۔ اس سے قبل ایسٹرن آئی نے گزشتہ ہفتے ایشیا کی پرکشش اور دلکش خواتین کی فہرست جاری کی تھی جس میں ماہرہ خان، مومنہ مستحسن اور حمائمہ ملک کا نام شامل تھا۔تین پاکستانی اداکاراؤں ماہرہ، ماروا اور صبا قمرکو دبئی میں ہونے والی ’’مسالہ ایوارڈز‘‘ کی تقریب میں خصوصی ایوارڈز سے نوازا گیا۔پاکستانی اداکاراؤں نے ایوارڈ شو میں خصوصی دعوت نامے پر شرکت کی اور تینوں اپنے ملوسات کے باعث توجہ کا مرکز بنی رہیں۔ایوارڈ شو کے دوران پاکستانی اداکاراؤں بھارتی فنکاروں کے ساتھ خوب سیلفیاں بھی بنائیں۔

گزشتہ برس ملک بھر میں ثقافتی سرگرمیاں اپنے پورے عْروج پر رہیں، باجود اس کے ملک میں دہشت گردی کی فضا بھی قائم تھی، لیکن ثقافتی اداروں نے پوری توانائی کے ساتھ موسیقی ، رقص اور تھیٹر کو زندہ رکھا۔ پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس جمال شاہ کی سربراہی میں بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر پاکستانی موسیقی اور تھیٹر فروغ دیتا رہا۔ لوک ورثہ اسلام آباد کو ڈاکٹر فوزیہ سعید نے فعال کرتے ہوئے فلم، آرٹ اور موسیقی کے دلچسپ پروگرام پیش کیے۔ اسی طرح نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس نے ضیاء محی الدین کی سربراہی میں سال بھرتھیٹر اور موسیقی سے متعلق پروگراموں کا انعقاد کیا۔ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی نے احمد شاہ کی قیادت میں 2017ء میں ملکی اور بین الاقوامی سطح کے ثقافتی پروگراموں کی میزبانی کے فرائض انجام دیے۔

الحمراء آرٹس کونسل لاہور، پاکستان امریکن کلچرل سینٹر اور صغریٰ صدف کی نگرانی میں چلنے والا ادارہ پلاک اور آل پاکستان میوزک کانفرنس کے تحت رنگارنگ موسیقی اور تھیٹرپیش کیا گیا۔ ملکی ثقافتی اداروں نے کسی حد تک اپنا حق ادا کیا۔ موسیقی کی دنیا میں ان کے کارناموں پر آگے چل کر بات کریں گے۔ 2017ء میں اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں انٹرنیشنل تھیٹر فیسٹیولز کا انعقاد کیا گیا ، جس میں نئے گلوکاروں اور ہنرمندوں کو متعارف کروایا گیا۔ کوک اسٹوڈیو اور پیپسی بیٹل آف دی بینڈ نے درجنوں نئے گلوکاروں کو متعارف کروایا۔

موسیقی کی دنیا میں کئی دہائیوں سے جم کر گلوکاری کرنے والے گائیک سجاد علی نے اپنی بیٹی زوا علی اور بالی وڈ کی فلموں سے شہرت حاصل کرنے والے فن کار علی ظفر نے اپنے چھوٹے بھائی دانیال ظفر کو موسیقی کی دنیا میں متعارف کرایا۔ عالمی شہرت یافتہ گائیک استاد راحت فتح علی خان، نئی نسل کے پسندیدہ گلوکار عاطف اسلم، علی ظفر، شفقت امانت علی، عابدہ پروین، صنم ماروی، راگا بوائز، عارف لوہار، حدیقہ کیانی، حمیرا ارشد، جواد احمد، سلیم جاوید، حسن جہانگیر، آئمہ بیگ، اسرار احمد، قرۃ العین بلوچ اور علی حیدر نے پاکستان اور بیرونی ملک میں ہونے والی محافل موسیقی میں آواز کا جادو جگایا۔ 2017ء میں پاکستانی نژاد برطانوی گلوکارہ سائرہ پیٹر نے درجنوں کنسرٹس میں مغربی کلاسیکی اور صوفیانہ کلام پیش کیا۔ یہی نہیں 2017ء میں کراچی میں تھیٹر اپنے عروج پر رہا۔ انگریزی، سندھی اور اردو ڈرامے پیش کیے گئے۔

’’ناپا‘‘ اکیڈمی تھیٹر کے فروغ میں ہمیشہ سرگرم رہی ہے۔ ضیاء محی الدین، ارشد محمود، راحت کاظمی، اکبر اسلام اور ان کی ٹیم نے معیاری اور اصلاحی تھیٹر کے لیے عمدہ کام کیا۔ گزشتہ برس ناپا اکیڈمی کے تحت چھٹے بین الاقوامی تھیٹر اور موسیقی کے میلے کا انعقاد کیا گیا۔ پندرہ روز تک اس میلے میں درجنوں ملکی اور غیر ملکی فن کاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ عالمی معیار کے اس فیسٹیول میں تھیٹر اور رقص پر مبنی دو درجن پروگرام کام یابی کے ساتھ پیش کیے گئے، جس میں شائقین نے بھرپور دل چسپی کا مظاہرہ کیا۔ تھیٹر اور میوزک فیسٹیول کا آغاز جرمن کے فن کاروں کی دِل چْھو لینے والی پرفارمنس سے کیا گیا۔

استاد نصرت فتح علی خان نے فن قوالی کو پوری دنیا میں نئے رنگ اور منفرد انداز سے متعارف کرایا۔ 2017ء میں استاد راحت فتح علی خان نے اپنے استاد نصرت فتح علی خان کو نئے انداز سے دنیا بھر میں خراج عقیدت پیش کیا۔ راحت فتح علی خان نے یورپ امریکا اور دیگر ممالک میں ’’ٹریبوٹ ٹو نصرت فتح علی خان‘‘ کے عنوان سے میوزک کنسرٹس کیے۔ گزشتہ برس انہوں نے یوٹیوب کے ہیڈ کوارٹر میں زبردست پرفارمنس دی، جسے دنیا بھر میں دیکھا اور پسند کیا گیا۔ راحت فتح علی خان کو گزشتہ برس ایک اور اعزاز حاصل ہوا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کا ایک گوشہ ان کے نام سے منسوب کردیا گیا، بحیثیت پاکستانی یہ بڑے فخر کی بات ہے۔ ان کے علاوہ عاطف اسلم، عابدہ پروین، شفقت امانت علی، سجاد علی، علی ظفر و دیگر نے بھی گزشتہ برس کراچی سمیت دنیا بھر میں شوز کیے۔

2017ء میں ایک اور مثبت پہلو دیکھنے میں آیا کہ اسلام آباد کے ثقافتی اداروں نے قومی نوعیت کے پروگراموں کے انعقاد کیلئے کراچی اور لاہور کا رْخ کیا۔ اس سلسلے میں رنگا رنگ تقاریب کا انعقاد کرکے تہذیب و ثقافت کو فروغ دیا۔ لوک ورثہ کی ڈائریکٹر فوزیہ سعید اور پی این سی اے کے ڈائریکٹر جنرل جمال شاہ نے اپنے اپنے اداروں کی ذمے داریاں نبھاتے ہوئے قابل ذکر پروگرام پیش کیے۔ لوک ورثہ اسلام آباد کی جانب سے دو روزہ ’’لوک میلہ‘‘ سجایا گیا جس کا افتتاح صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید سردار علی شاہ نے کیا۔

ہر سال کی طرح اس سال بھی لاہور میں اردو کے ممتاز شاعر فیض احمد فیض کی یاد میں ’’فیض انٹرنیشنل میلہ‘‘ منعقد کیا گیا، جس میں ادیبوں، شاعروں، گلوکاروں، صحافیوں، فن کاروں، دانش وروں اور فنون لطیفہ کے ماہروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ میلے میں شاعری کے 70برس اور داستان گوئی کے حوالے سے خصوصی سیشن رکھے گئے۔ نامور اداکارہ بشریٰ انصاری، جاوید شیخ، نبیل قریشی، شان، شاہد اور ماہرہ خان نے فلم کے موضوع پر عمدہ گفتگو کی۔ نامور گلوکار جواد احمد، ارشد محمود اور شفقت امانت علی خان نے موسیقی کے رنگ بکھیرے۔ اس موقع پر فنکاروں کا کہنا تھا کہ انسانی تخلیقی صلاحیتیں ہی معاشرے کو ترقی یافتہ بنانے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔

گزشتہ برس ملک میں ہونے والی تھیٹر اور موسیقی کی سرگرمیوں کو پاکستان کے 70برس کی آزادی کے جشن سے جوڑا گیا۔ اس بار آرٹس کونسل میں جشن آزادی کے سلسلے میں دو روزہ آزادی فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا۔ ملک کے نامور فن کاروں نے ملی اور قومی نغمے پیش کرکے حب الوطنی کے جذبوں میں اضافہ کیا گیا۔ پٹیالہ گھرانے سے تعلق رکھنے والے گائیک شفقت امانت علی کو خصوصی طور پر لاہور سے مدعو کیا گیا۔

2017ء لاہورمیں پیش کئے جانے والے سٹیج ڈراموں کا بزنس بھی عروج پررہا۔ گزشتہ برس لاہور، ملتان، فیصل آباد، راولپنڈی اورگوجرانوالہ سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں سٹیج ڈراموںکا کاروبار عروج پررہا۔ ایک طرف توسٹیج ڈراموں کے فنکارتھیٹروں میں چھائے رہے اوردوسری جانب ایکسپریس سمیت نجی چینلز کے پروگراموں میںبھی ان کی شرکت سے پروگراموں کی کامیابی کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کے علاوہ معروف فنکاروں کے طائفے یورپ، امریکہ، آسٹریلیااورمڈل سمیت دیگرممالک میں پرفارم کرنے کیلئے گئے، جہاں انہیں زبردست پذیرائی ملی۔

اب ذرابات کرتے ہیں اور پڑوسی ملک بھارت کی تووہاں پربالی وڈ کنگ شاہ رخ خان کا راج قائم رہا۔ وہ نہ صرف بھارت کے بلکہ دنیا کے دوسرے امیرترین فنکاربھی بن گئے۔ لیکن ان کی پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کے ساتھ ریلیز ہونے والی فلم زیادہ کامیابی حاصل نہ کرسکی۔ اداکارہ انوشکاشرما نے بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی سے شادی رچائی ، لیکن وہ شوبز میں اپنی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رکھیں گی۔ بالی وڈسٹار سلمان خان کی فلم ’’ٹائیگرزندہ ہے‘‘ نے ایک مرتبہ پھردنیابھرمیں مقبولیت حاصل کی۔

بھارتی سینما کوپسند کرنے والوںکی بڑی تعداد نے سلمان خان اورکترینہ کیف کی جوڑی کوبے حد پسند کیا۔ ماضی کے معروف اداکارسشی کپوراورونود کھنہ بھی طویل علالت کے بعد دنیا چھوڑ گئے۔ دونوں مہان فنکاروںکی موت نے بالی وڈ کورنجیدہ کیا۔ بھارت کے معروف کامیڈین کپل شرما کی فلم ’’فرنگی‘‘ زبردست فلاپ رہی۔ فلم کی تشہیری مہم کیلئے کپل شرما نے بے پناہ کوشش کی لیکن ان کی فلم مضبوط کہانی اورمیوزک نہ ہونے کی وجہ سے شائقین کومتاثر نہ کرسکی۔ دوسری جانب بالی وڈ کے سنجیدہ حلقوں نے کپل شرما کومشورہ دیا کہ وہ خود کوٹی وی پروگراموں تک محدود رکھیں ۔

وگرنہ ان کا حال بھی معروف موسیقار ہمیش رشمیا جیسا ہوجائے گا۔ بھارتی فلموں میں برسوں تک راج کرنے والی اداکارہ مادھوری ڈکشٹ نے ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں باقاعدہ رقص کی تربیت دینے کا آغاز کردیا۔ بھارتی ہدایتکارحسنین حیدرآباد والہ اورکوریوگرافرریشماں خان خاص طورپرپاکستانی فلم میں کام کیلئے لاہورآئے۔

جہاں انہوں نے فلمسازسہیل خان کی فلم ’’شورشرابا ‘‘ کی ڈائریکشن دی اورگیتوں پرفنکاروں کورقص کروایا۔ ساؤتھ میں کثیرسرمائے سے بننے والی فلم ’’باہوبلی ‘‘ کے دوسرے پارٹ نے بھی بالی وڈ میں بہترین کاروبار کی نئی تاریخ رقم کی۔ اس فلم کودنیا بھرمیں دیکھا اورپسند کیا گیا۔ فلم میں جہاں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا گیا، وہیںاس فلم کوہندی سمیت دیگرزبانوں میں ڈبنگ کے ساتھ ریلیز کیا گیا۔ بالی وڈ کے ورسٹائل اداکارعرفان خان کی پاکستانی اداکارہ صبا قمر کیساتھ فلم ’’ہندی میڈیم‘‘ ریلیز ہوئی اوراس کوبے حد سراہا گیا۔ بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والے گلوکارواداکاردلجیت دوسانجھ نے بالی وڈ میں اپنے قدم جمائے اوراب وہ آئندہ برس  منفرد پراجیکٹس میں اداکاری اورگلوکاری کرتے دکھائی دینگے۔

واضح رہے کہ پاکستان اوربھارت کے فنکاروں نے نئے سال کی آمد پرنیک تمناؤں کااظہارکرتے ہوئے اس عزم کا اظہارکیا ہے کہ وہ اپنے شعبے میں کام کرتے ہوئے لوگوںکو خوب انٹرٹین کرینگے اوریہ سلسلہ سال بھرجاری رہے گا۔

اردو کے غیر مسلم افسانہ نگار اور شاعر

امید ہے کہ انصاف پسند طبقہ اردو کا ساتھ دے گا۔
 فوٹو : فائل

امید ہے کہ انصاف پسند طبقہ اردو کا ساتھ دے گا۔
فوٹو : فائل

 ؎ ادھر تکرار اُلفت کی، اُدھر جھگڑا وفاؤں کا
جو رنجش پڑگئی باہم، بڑی مشکل سے نکلے گی

یہ مشہورشعر ہے بشیشرناتھ صوفی[Bashesharnath Sufi]ؔ کا، جو تقسیم برصغیر سے قبل اپنے وقت کے ممتاز شاعر تھے۔ (بحوالہ ’اصلاح سخن ، لاہور۔ سن انیس سو دس)۔ خاکسار نے یہ شعر اپنی کتاب ’اردو کے مشہور اشعار۔ ایک جائزہ‘ : تحقیق (سن اشاعت : سن دوہزار ایک) میں شامل کیا ، مگر ’’حرف چیں‘‘ [Composer]نے اُن کا نام غلط کردیا۔ چھَے مرتبہ کی تغلیط و تصحیح کے بعد کتاب شایع ہوئی تو معلوم ہوا کہ اُس نے بشیشر کی بجائے، شبیر ناتھ لکھ دیا ہے۔ اب دو سو اعزازی نسخوں پر ہاتھ سے لکھ کر تصحیح کرنی پڑی۔

یہ شعر اور اس سے جُڑا معاملہ یوں ذہن میں تازہ ہوا کہ شاعر موصوف غیرمسلم تھے اور گزشتہ دنوں ہندوستان میں مقیم، میرے بزرگ کرم فرما دیپک بُدکی صاحب نے ازراہ عنایت اپنی دو تازہ کتب ارسال فرمائی ہیں اور اس ہیچ مدآں کو اس لائق جانا ہے کہ ان کتب کے متعلق خامہ فرسائی بھی کرے۔ ان دو کتابوں میں اُن کے افسانوں کا نیا (اور ساتواں) مجموعہ ’میں اَب وہاں نہیں رہتا‘ اور ایک نہایت اہم، تحقیق پر مبنی کتاب ’’اردو کے غیرمسلم افسانہ نگار‘‘ ہے۔ ممتاز افسانہ نگار و نقاد جناب دیپک بُدکی کی اس کتاب میں ڈھائی سو سے زائد غیرمسلم افسانہ نگاروں کے کوائف شامل ہیں، جبکہ سرسری نظر سے دیکھیں تو یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس تعداد میں اکثریت ہندو حضرات کی ہے۔

اردو کے افسانوی ادب میں پریم چند، کرشن چندر اور راجندرسنگھ بیدی کے اسماء کسی عمارت کے ستون کی طرح مستحکم ہیں اور بقول کسے،’’انھیں نکال دیں تو باقی کیا رہ جاتا ہے‘‘۔ (ضمنی با ت یہ ہے کہ کرشن چندرکی بیگم سلمیٰ صدیقی بنت پروفیسر ڈاکٹر رشید احمدصدیقی کے بقول، کرشن چندر مسلمان ہوگئے تھے اور نکاح نامے میں اپنا نام بھی تبدیل کرکے غازی مَلِک لکھوادیا تھا، مگر عملاً ہندو ہی رہے اور سماجی شہرت بھی کرشن چندر کے نام ہی سے برقرار رہی)۔

اہم سوال یہ ہے کہ اردو ادب کی خدمت کے حوالے سے بات کی جائے تو مذہبی بنیاد پر تخصیص یا تقسیم کیوں کی جائے یا ایسا کرنا کسی محقق کے لیے کیوں ناگزیر ہے؟….. اس کا جواب جناب نندکِشوروِکرَم کی اس تحریر سے مل سکتا ہے جو زیرنظر کتاب میں شامل ہے:’’……..اس سلسلے میں دیپک بُدکی صاحب نے کئی برسوں کی تحقیق کے بعد زیرِنظر کتاب ’اردو کے غیرمسلم افسانہ نگار‘ پیش کی ہے ۔

حالانکہ اس اکیسویں صدی میں ’مسلم‘ اور ’غیرمسلم‘ افسانہ نگاروں کی تخصیص کچھ عجیب سی لگتی ہے …….بہرحال کتاب کا موضوع اور نام کا انتخاب ، مصنف ومرتب کا کام ہے ، ہم اعتراض کرنے والے کون؟….میرے خیال میں بُدکی صاحب نے یہ تخصیص اس لیے کی ہوگی کہ اگر وہ اردو کے تمام افسانہ نویسوں کو اس میں شامل کریں گے تو اس تحقیق میں مزید برسوں لگ جائیں گے اور کام پھر بھی مکمل نہ ہوپائے گا۔

دوسرے اُن کے ذہن میں یہ بات بھی ہوگی کہ آیندہ دس بیس برسوں میں اردو میں غیرمسلم افسانہ نگار ناپید ہوجائیں گے اور شاید اُن پر کوئی تحقیق کرنے والا بھی نہ ہو۔ جہاں تک میرا خیال ہے ، ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں غیرمسلم لکھنے والے ’نا‘ کے برابر رہ جائیں، مگر گزشتہ ایک سو سال کے عرصے میں کی گئی اُن کی کاوشوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکے گا اور اُن پر تحقیق ہوتی رہے گی‘‘۔ خاکسار کی رائے میں موصوف نے انتہائی قنوطیت کا مظاہرہ فرمایا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جس طرح اِنگریز سے آزادی کے بعد، انگریز ہی کے شروع کئے ہوئے ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے للولال جی کی ’’پریم ساگر‘‘ کا مشن آگے بڑھاتے ہوئے اردو کو محدود اور مسدود کرنے کی شعوری مساعی سرکاری سرپرستی میں جاری رکھی گئیں (اور ہندوستان کے معروف ، بزرگ صحافی محترم رشید انصاری سمیت بعض اہل درد کے نزدیک، ابوالکلام آزادؔ جیسے مسلمانوں کے اقتدار میں ہوتے ہوئے اردودشمنی کا یہ سلسلہ جاری رہا)، اس کے باوجود ، اردو سے تعلق جوڑنے والوں میں کسی نہ کسی طر ح اضافہ ہوتا رہا ہے، تو کچھ بعید نہیں کہ ناامیدی کے یہ بادل چھٹ جائیں اور بات مایوسی تک نہ پہنچے۔

اس راقم کو تو زیرنظر کتاب سے معلوم ہوا کہ اردو کے غیرمسلم، خصوصاً ہندوافسانہ نگار اتنی بڑی تعداد میں موجود ہیں یا موجود رہے، مگر طبقہ شعراء میں یہ چلن کہیں زیادہ عام ہے۔ ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ ’’ہرفرعونے را موسیٰ(علیہ السلام)‘‘ کے مصداق ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہونے والی اور ہندی پر عبور کی حامل اردو شاعرہ لتا حیا ؔ نے کس طرح اردو کا بھرپور دفاع کیا ہے اور اس ضمن میں آنند نرائن مُلّا جیسے اہل ذوق کی یاد تازہ کردی ہے، جو کہا کرتے تھے:

مُلّا بنادیا ہے اسے بھی مُحاذ جنگ
اِک صلح کا پیام تھی اردو زباں کبھی

یہاں ضمنی طور پر سابق مُنصف، محترم الیاس احمد ، مرتب ’’گل ہائے پریشاں‘‘ سے استفادہ کرتے ہوئے یہ عبارت اہل دل کے ذوق مطالعہ کے لیے نقل کررہا ہوں:’’اس برے وقت میں بھی اردو کی محبوبیت میں چنداں فرق نہیں، کم از کم اہل نظر یہی سمجھے ہیں ؎

کسے کہ محرم بادصباست می داند+کہ باوجود ِ خزاں، بوئے یاسمن باقیست۔ امید ہے کہ انصاف پسند طبقہ اردو کا ساتھ دے گا اور اُن خطروں میں بھی کمی ہوجائے گی جن سے اردو محصورہے‘‘۔

آمدم برسرمطلب! ہم بات کررہے تھے جناب دیپک بُدکی کی جو ہندوستان کے مقبوضہ کشمیر میں پندرہ فروری سن انیس سو پچاس کو پیدا ہوئے اور سن انیس سونوے سے نامساعد حالات کے سبب ، غازی آباد کے علاقے وسندھرا میں مقیم ہیں۔

افسانہ نگاری، تبصرہ وتنقید اور تحقیق میں شہرت یافتہ ، بُدکی صاحب علم نباتات میں ماسٹرز کی سند کے علاوہ کئی اعلیٰ اسناد کے حامل ہیں جن میں علی گڑھ سے ادیب ماہر کی سند اور فوجی تربیت گاہ سے گریجویشن بھی شامل ہے۔ وہ چار زبانوں اردو، انگریزی ، ہندی اور کشمیری پر دسترس کے ساتھ ساتھ ان میں شایع ہونے والی نگارشات اور متعدد کتب کے خالق کی حیثیت سے دنیا بھر میں پہچانے جاتے ہیں۔ انھوں نے تدریس، انشورنس، ڈاک اور فوج سمیت مختلف و متنوع شعبہ جات میں خدمات انجام دی ہیں اور اب کُل وقتی ادیب ہیں۔

دیپک بُدکی کی کتاب ’اردو کے غیرمسلم افسانہ نگار‘ کی بنیاد یوں پڑی کہ اُنھوں نے سہ ماہی ’فکروتحقیق‘ کے ’افسانہ نمبر‘ بابت اکتوبر تا دسمبر سن دوہزار تیرہ کے لیے مواد بالتحقیق جمع کرکے مدوِن کیا تو بوجوہ اسے مختصر کرنا پڑا، پھر موضوع کی اہمیت کے پیش نظر اسے وسیع کرتے ہوئے ایک مفصل مقالہ تحریر کرکے اسے کتابی شکل دی۔ انھوں نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسی موضوع کے بعض محدودگوشوں پر کتاب تحریر کرنے والوں کا بھی ذکر کیا ہے اور انھیں اپنا پیش رَو مانا ہے، حالانکہ اس موضوع پر یہ اولین مکمل کتاب ہے جسے ایک مدت تک بجائے خود ، سند کا درجہ حاصل رہے گا تاوقتیکہ کوئی اس موضوع سے انصاف کرے اور اُن پہلوؤں سے بھی بخوبی آشنا ہو جو بوجوہ ادیبِ موصوف سے نظرانداز ہوگئے۔

تحقیق اور رَدِتحقیق کا سلسلہ اسی طرح چلتا ہے کہ جب اردو تنقید کا دامن کورا تھا تو محمدحسین آزادؔ کی ’آب حیات‘ اور موضوع کے فرق سے قطع نظر ’’محاسن کلام غالب‘‘ ازعبدالرحمن بِجنوری سند کا درجہ رکھتے تھے ، پھر وسعت ہوتی گئی اور ’’لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا‘‘، ہاں یہ ضرور ہے کہ ان دونوں کتب کے مواد کی وقعت اور مصنفین کی فکری اُپچ بہرحال اپنی جگہ ناقابل فراموش ہیں۔ ’’اردوکے غیرمسلم افسانہ نگار‘‘ کے شروع میں ’اردو کے غیرمسلم افسانہ نگار۔

ایک تعارف‘ کے عنوان سے اردو ادب، صحافت اور ادبی صحافت میں کلیدی کردار ادا کرنے والے بعض غیرمسلم خصوصاً ہندو اہل ذوق کا محض اشارۃً ذکرکیا ہے اور ایک بات بڑے پتے کی بات کہی ہے کہ بقول محمدحافظ سعید، مصنف اردو لٹریچر کے ہندو رائٹرز، ہندوؤں میں دوفرقوں (برادریوں یا ذاتوں) نے اردومیں کمال حاصل کرلیا، ایک کشمیری برہمن تھے اور دوسرے کائستھ۔ یاد رکھئے کہ خود بُدکی صاحب کشمیری ہیں اور اردو کے ساتھ ساتھ کشمیری اور انگریزی ادب سے بھی بحسن وخوبی انصاف کرتے ہیں، جبکہ ایک ضمنی بات یہ ہے کہ ہندوستان میں کائستھ فارسی اور علم ریاضی میں مہارت کے سبب مشہور تھے۔

میرے والد صاحب نے بھی اپنے اسکول، نورمحمدہائی اسکول، حیدرآباد (سندھ) کے ایک ایسے ہی قابل استاد کا ذکر کیا ہے جو سائنس اور ریاضی کے ماہر تھے ۔ (میرے والد محترم رفیع احمد صدیقی صاحب کو اُن کی لیاقت کے سبب، میٹرک کے امتحان میں امتیازی نشانات حاصل کرنے کے فوری بعد، بطور مدرس ملازم رکھ لیا گیا۔ بعد میں انھوں نے بی کام تک تعلیم نیز انگریزی ، ریاضی، ڈرائنگ اور اسکاؤٹس کے لیے باقاعدہ تربیت یافتہ استاد کی حیثیت سے سندھ کی اس درس گاہ کی خدمت کی، بعدازآں، گورنمنٹ سیکنڈری اسکول ، جیل روڈ۔ کراچی اور میری کلاکو اسکول۔ کراچی سے بھی منسلک رہے اور پھر سندھ ایمپلائیز سوشل سیکیوریٹی انسٹی ٹیوشن سے ایک طویل مدت وابستہ رہ کر سبک دوش ہوئے)۔

اسی مضمون میں ادیب موصوف نے برملا اس حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ اردو افسانہ نگاروں کے قافلے کے پیش رَو، پنڈِت رتن ناتھ سرشارؔ اور منشی جوالا پرشاد برقؔ تھے۔ اول الذکر، لکھنؤ میں مقیم کشمیری پنڈت تھے جنھوں نے ’فسانہ آزاد‘ لکھ کر ناول اور افسانے دونوں کی راہ ہموار کی۔ بقول بُدکی صاحب، اردو کے عظیم افسانہ نگار پریم چند نے ’فسانہ آزاد‘ کی تلخیص ’’آزادکتھا‘ کے نام سے چھاپی تھی۔ پنڈ ت صاحب شاعر بھی تھے اور اسیرؔلکھنوی جیسے معروف سخن وَر کے شاگرد تھے، مگر اُن کا بطور شاعر مشہور ہونا مقدر میں نہ تھا۔ لکھنؤ کے مشہور اخبار، ’اَوَدھ اخبار‘ کے یہ فاضل مدیر عربی وفارسی پر گرفت کے ساتھ ساتھ انگریزی تعلیم سے بہرہ مند اور اپنی عملی زندگی کی ابتداء میں مُعَلِم تھے۔

ناول نگار منشی جوالا پرشاد برق ؔبھی اردو کے اولین اور کامیاب ادبی مترجمین میں شامل تھے ، مگر اُنھیں شاعری سے وہ مقام نہیں ملا جو اُن کے معاصرین کو حاصل ہوا۔ ہندوستان کے زیر قبضہ وادی جموں و کشمیر میں اردو ادب و صحافت کی بیش بہا خدمات انجام دی گئیں ۔ اس ضمن میں سرفہرست نام ’کشمیر کے پریم چند‘ ، پریم ناتھ پردیسیؔ کا ہے جنھیں بقول بُدکی صاحب اس خطے میں افسانے کا بانی قرار دیا جاسکتا ہے اور پھر ان کے مقلدین میں پریم ناتھ در، پشکر ناتھ، ویریندرپٹواری ، دیپک کنول، دیپک بدکی اور آنندلہر نے عالمی سطح پر نام کمایا۔

دیپک بدکی کی کتاب ’اردو کے غیرمسلم افسانہ نگار‘ میں شامل اہل قلم کی فہرست میں صرف چند نام ملاحظہ فرمائیں: پریم چند، پنڈت میلا رام وفاؔ، کنھیا لال کپور (نامورطنزو مزاح نگار، شاگرد ِ پطرس بخاری)، شِو برت لال وَرمن، بدری ناتھ سُدَرشن، گوپال مِتّل، دیویندر ستیارتھی، اوپندرناتھ اشکؔ، کرشن چندر، برج موہن دتاتریہ کیفیؔ، راجندرسنگھ بیدی، جمناداس اخترؔ، رام لعل، نریش کمار شاد ؔ(نامور قطعہ نگار شاعر)، گردیال سنگھ عارفؔ، بھگوان داس اعجازؔ (نامور دوہا نگار شاعر جنھوں نے خاکسار کے جریدے ہائیکو انٹرنیشنل کے لیے ازخود ہائیکو نگاری کا آغاز کیا اور ایک عرصے تک اپنے کلام سے نوازتے رہے)، ہمت رائے شرما، ارنسٹ ڈی ڈین، سیموئل وِکٹر بھنجن، بلراج کومل، ستیہ پال آنند (بطور شاعر بھی معروف)، دلیپ سنگھ ، کشمیری لال ذاکرؔ، پرکاش پنڈت (جن کی مرتبہ کئی کتب ہمارے یہاں عا م دستیاب ہیں)، شانتی رنجن بھٹاچاریہ، نریندرلوتھر،اندراشبنم اِندو ؔ(چوبیس نومبر سن انیس سو پچاس کو کراچی ، پاکستان میں متولد، اردو، ہندی اور مراٹھی کی ممتاز شاعرہ۔ خاکسار کے فیس بک حلقے میں شامل)، آنند لہرؔ، آشا پربھات، بلراج مین را، ڈاکٹر کیول دھیر، طالبؔ کاشمیری اور بہاری لال بہارؔشملوی ۔ حصہ نظم بھی غیرمسلم شعراء کی ایک کثیر تعداد سے مملُو نظر آتا ہے ، یہ اور بات کہ معروف اہل سخن یا اساتذہ کی فہرست میں معدودے چند شا مل ہیں جیسے راجہ رام نرائن موزوںؔ جن کا سراج الدولہ کی انگریزوں کے ہاتھوں شکست اور پھر غدار میرجعفر کے بیٹے کے ہاتھوں قتل کے پس منظر میں کہا گیا مشہور زمانہ شعرضرب المَثَل بن چکا ہے:

غزالاں تم تو واقف ہو، کہو مجنوں کے مرنے کی
دِوانہ مرگیا آخر کو ویرانے پہ کیا گزری

پھر نگاہ دوڑائیں تو یہ نام سامنے آتے ہیں: میرزا ہرگوپال تُفتہؔ (شاگرد میرزا غالبؔ)، دَیا شنکر نسیم (مثنوی گلزار ارم) اور مادھورام جوہرؔ فرخ آبادی، جن کے یہ اشعار بہت مشہور ہیں:

بھانپ ہی لیں گے اشارہ سر محفل جو کیا
تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں

………. ……….

اب عطر بھی مَلو تو تکلف کی بُو کہاں
وہ دن ہَوا ہوئے کہ پسینہ گلاب تھا

………. ……….

نالہ بلبل شیدا تو سنا ہنس ہنس کر
اب جگر تھام کے بیٹھو مِری باری آئی

(اردوکے ضرب المثل اشعار۔ تحقیق کی روشنی میں از محمد شمس الحق)

مزید: درگاسہائے سُرورجہاں آبادی، برج نرائن چکبستؔ، منشی جوالا پرشاد برقؔ ، برج موہن دتاتریہ کیفیؔ، تلوک چند محرومؔ، رگھوپتی سہائے فراقؔ گورکھ پوری، پنڈت ہری چند اخترؔ، عرشؔ ملسیانی، جوشؔ ملسیانی، جگن ناتھ آزادؔ، آنندنرائن مُلّا، کُنورمُہندرسنگھ بیدی سحرؔؔ، ہمت رائے شرماؔ۔ بانی اردوماہیا، نیز افسانہ نگار، بھگوان داس اعجازؔ اور بہت سے دیگر۔ اردو کے غیرمسلم شعراء کے سوانح اور کلام کا انتخاب مختلف کتب میں شامل اشاعت ہوا۔ میرے بزرگ معاصر محترم طاہر سلطانی کی منفرد کتاب ’اذان ِ دیر‘ سن انیس سو ستانوے میں منصہ شہود پر آئی جس میں اننچاس غیرمسلم شعراء کا حمدیہ کلام مع کوائف پیش کیا گیا، پھر اُنھی کی دوسری کتاب ’گلشن حمد‘ میں سَتّر غیرمسلم شعراء کا کلام شامل ہے جو سن دو ہزار پانچ میں شایع ہوئی۔ طاہر بھائی کی بھرپور مدد اور حوصلہ افزائی سے نوراحمدمیرٹھی کا کام بھی پایہ تکمیل کو پہنچا۔ (راقم کے غیرمطبوعہ مضمون ’امرعظیم کا سرسری جائزہ‘ سے اقتباس)۔ اب محض امتثال امر اور قارئین کرام کے شوق کے پیش نظر ’اسباق ‘ (پونہ، ہندوستان) میں شامل ، نیز تلامذہ شادؔ عظیم آبادی از سید نعمت اللہ ودیگر کتب میں منقول، حمدونعت و منقبت گو غیرمسلم شعراء کے اسماء نقل کرتا ہوں (اس شمارے کا ماہ وسال اشاعت میرے پاس محفوظ نہیں):۱۔ قمرؔجلال آبادی (اصل نام غیرمذکور)۔۱۹۱۷ء تا ۲۰۰۳ء (بمبئی)۔۲۔آزادؔ گلاٹی۔۳۔ڈاکٹر وِدّیا ساگر آنندؔ۔۴۔آزادؔ عظیم آبادی، بھِوانی پرشاد (تلمیذ شادؔ عظیم آبادی)۔۱۸۷۵ء تا ۱۹۳۵ء۔۵۔عاجزؔگیاوی، منشی میوالال (تلمیذشادؔعظیم آبادی): ۱۸۸۷ء۔ دورعروج۔ صوفی مشرب۔ مجموعہ ہائے کلام : ’کلید گنجینہ توحید‘ (۱۹۲۷ء) اور ’سِرّ توحید‘ (۱۹۳۰ء)…  ۶۔عارفؔ عظیم آبادی، شیو نرائن چودھری (تلمیذ شادؔ عظیم آبادی): ۱۸۸۰ء تا (اندازاً) ۱۹۶۰ء۔۷۔عطاؔ عظیم آبادی، رائے اسیری پرشاد (تلمیذ شادؔ عظیم آبادی): ۱۸۵۵ء تا ۱۹۲۵ء۔ صوفی مشرب۔۸۔مَست ؔ گیاوی، بابو نندکشورلال (تلمیذ شادؔ عظیم آبادی): ۱۸۵۰ء (اندازاً) تا ۱۹۰۵ء (بحوالہ تلامذہ شادؔ عظیم آبادی از سید نعمت اللہ ۔ مطبوعہ جون ۲۰۰۴ء)۔۹۔رائے سنگھ عاقل (سوداؔ کے دوست): سنین غیر مذکور۔تعلق : پنجاب(بحوالہ پنجاب کے قدیم اردو شعراء از خورشید احمد خان یوسفی۔مطبوعہ ۱۹۹۲ء)۱۰۔شورؔ، جارج پیش: پ۔۱۸۲۳ء بمقام کوئل ، علی گڑھ ۔ سن وفات غیرمذکور۔ فرینچ نژاد عیسائی ، اسلامی طرز معاشرت کا دل دادہ۔۱۱۔ موزوںؔ ، مہاراجہ رام نرائن: نواب سراج الدولہ کے مصاحب۔۱۲۔کنورؔ، راجہ اپوربوکرشنابہادر: ۱۸۰۷ء تا ۱۸۶۸ء۔۱۳۔دیبؔ، دیناناتھ: اواخر انیسویں صدی کے ماہر اردو ، فارسی ، سنسکرت و انگریزی۔ }کلکتے کی ادبی داستانیں از ڈاکٹر وفاؔ راشدی۔مطبوعہ ۱۹۹۹ء{۔ (راقم کے غیرمطبوعہ مضمون ’امرعظیم کا سرسری جائزہ‘ سے اقتباس)۔ میرے خیال میں اگر دیپک بُدکی صاحب کو بھرپور مدد فراہم کی جائے جو اُن کے نجی مسائل سے نبردآزما ہوتے ہوئے تحقیق و تصنیف میں معاون ثابت ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اردو کے غیرمسلم شعراء کے موضوع پر ایک اہم کتاب کا اضافہ نہ کرسکے۔n