ذکر بھارتی فلمی صنعت کے کچھ نام ور گیت نگاروں کا

سید خورشید علی المعروف تنویر ؔ نقوی ( 6 فروری 1919 سے 1972):

تنویر ؔنقوی برِصغیر پاک و ہند کے نام ور گیت نگار تھے۔ اُنہوں نے پہلی مرتبہ 19سال کی عمر میں 1938 میں فلم ’’شاعر‘‘ کے لیے گیت لکھے۔ اِن کے فلمی گیت پاک و ہند کی تقسیم سے پہلے ہی عوام میں بے حد مقبول ہوگئے تھے۔ آزادی کے بعد یہ پاکستان آگئے اور یہاں اُردو اور پنجابی فلموں کے بے شمار سُپرہٹ گیت تخلیق کیے۔

آزادی سے پہلے نومبر 1946میں بننے والی ہدایت کار محبوب صاحب کی فلم ’’ انمول گھڑی‘‘ نے اُن کی شہرت میں اضافہ کیا: ’’آواز دے کہاں ہے…‘‘، ’’آ جا میری برباد محبت کے سہارے…‘‘، ’’جواں ہے محبت حسین ہے زمانہ…‘‘!! اِس کے بعد 23 مئی 1947 کو نمائش کے لیے پیش ہونے والی ہدایت کار سید شوکت حسین رضوی صاحب کی فلم ’’جگنو‘‘ کے گیت مثلاً: ’’یہاں بدلا وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے…‘‘ جن کی موسیقی فیروز نظامی نے ترتیب دی، بہت مقبول ہوئے۔ پاکستان آنے پر یہاں بننے والی پہلی فلم ’’ تیری یاد‘‘ کے گیت لکھے۔ 1956 میں بھارتی ہدایت کار کے۔

آصف صاحب نے انہیں اپنی نئی فلم ’’مغلِ اعظم‘‘ کے گیت لکھنے کے لیے بھارت آنے کی دعوت دی۔ اُس وقت پاک و ہند کے درمیان سفر مشکل نہیں تھا۔ تنویرؔ نقوی نے دعوت قبول کی اور بھارت چلے گئے۔ وہاں جا کر انہیں علم ہوا کہ اس فلم کا ایک گیت موسیقار نوشاد نے شکیلؔ بدایونی سے لکھوا لیا ہے۔ اس واقعہ کے بارے میں علی سفیان آفاقی صاحب نے خاکسار کو تفصیل سے بتایا کہ اس کا علم ہوتے ہی تنویرؔ نقوی جلال میں آ گئے اور انہوں نے کے۔ آصف اور موسیقار نوشاد کے لیے کبھی بھی کام کرنے سے انکار کردیا۔ نیز انہوں نے کہا کہ اب وہ بھارت میں ہی رہ کر انہیں بتائیں گے کہ وہ کیا کیا کر سکتے ہیں۔ پھر ایسا ہی ہوا اور تنویرؔ نقوی بھارتی فلمی صنعت پر چھاگئے۔ خاکسار نے یہ واقعہ سکیدار کی کتاب ’’دل کا دیا جلایا‘‘ میں بھی پڑھا۔

تنویرؔ نقوی پا ک و ہند کے وہ واحد شاعر ہیں جنہوں نے بھارت جاکر ایک دفعہ پھر آزادی سے پہلی والی شہرت، توقیر اور پیسہ کمایا۔ یہی زمانہ تھا جب ان کا لکھا ہوا فلم ’’شیریں فرہاد‘‘ کا گیت: ؎

گزرا ہوا زمانہ

آتا نہیں دوبارہ

حافظ خدا تمہارا

لتامنگیشکر کی آواز اور ایس مہندر کی موسیقی میں پاک و ہند میں چھا گیا۔ اس وقت میڈم نورجہاں کی بڑی بہن عیدن تنویرنقوی صاحب کے نکاح میں تھیں۔ بمبئی میں اداکارہ نرگس نے اپنے ایک گھر کو اِن کے لیے مختص کردیا۔ تنویر نقوی کے دیرینہ دوست، مشہور پاکستانی فلمی شخصیت ’’ سِکیدار‘‘ اپنی کتاب ’’ دل کا دیا جلایا ‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’اللہ نے اِن کو چھپر پھاڑ کر دینا شروع کر دیا…لیکن…گھریلو اور ذاتی وجوہ کی بنا پر وہ دوبارہ اپنے بنے بنائے مقام کو چھوڑ کر پاکستان واپس آ گئے حالاں کہ اُس وقت بھارت میں انہیں ایک گیت کے جتنے پیسے ملتے تھے، پاکستان آ کر اتنے پیسے انہیں 6 ماہ میں کہیں جا کر ملتے تھے۔‘‘

پاکستان میں بھی اُن کی پذیرائی ہوئی ۔ 1958 میں بننے والی انور کمال پاشاصاحب کی فلم ’’انار کلی‘‘ سے انہیں بامِ عروج ملا۔ اِس فلم کے دو موسیقار تھے، رشید عطرے اور ماسٹر عنایت حسین صاحبان۔ تمام گیت تنویر نقوی صاحب نے لکھے: ’’ کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں…‘‘، ’’بانوری چکوری کرے دنیا سے چوری چوری چندا سے پیار…‘‘، ’’پہلے تو اپنے دل کی ادا جان جائیے…‘‘، ’’صدا ہوں اپنے پیار کی…‘‘،’’جلتے ہیں ارمان میرا دل روتا ہے۔‘‘ اگلے ہی سال نمائش کے لیے پیش ہونے والی فلم ’’ کوئل‘‘ کے گیتوں نے تو دھوم مچا دی۔ اس کے موسیقار خواجہ خو رشید انور اور ہدایت کار مسعود پرویز تھے۔ مذکورہ فلم کے تمام ہی گیت مقبول ہوئے جیسے: ’’دل کا دیا جلایا میں نے دل کا دل کا دیا جلایا…‘‘، ’’او بے وفا میں نے تجھ سے پیار کیوں کیا…‘‘، ’’رِم جھِم رِم جھِم پڑے پھوار…‘‘،’’ساگر روئے لہریں شور مچائیں…‘‘، ’’تیرے بنا سونی سونی لاگے رے چاندنی رات…‘‘، ’’مہکی فضائیں گاتی ہوائیں…۔‘‘

تنویر ؔ نقوی صاحب نے حضرت شیخ سعدیؒ کی مشورِ عالم نعت:

بلغ العلی بکمالہ

حسنت جمیع خصالہ

کی تضمین کر کے اور اس پر اپنے مصرعے لگا کر خواجہ خورشید انور کی طرز پر زبیدہ خانم اور ساتھیوں کی آواز میں1960 میں بننے والی ہدایت کار لقمان صاحب کی فلم ’’ ایاز‘‘ میںلا زوال بنا دیا: ؎

جو نہ ہوتا تیرا جمال ہی

یہ جہاں تھا خواب و خیال ہی

صلو علیہ و آلہ

مشہور اہلِ قلم جناب ناصر زیدی کا کہنا ہے: ’’ تنویرؔ نقوی کی شاعری صرف فلمی شاعری نہ تھی بلکہ تخلیقی شاعری تھی۔ اگر اسے فلم سے الگ کر کے پڑھا اور چھاپا جائے تو ادبی رنگ میں بھر پور رنگی نظر آتی ہے۔ ‘‘

ستمبر 1965کی پاک بھارت جنگ میں انہوں نے محاذِجنگ پر جا کر یہ مشہور گیت لکھا: ’’ رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو…‘‘ جس کو نورجہاں کی آواز میں صدابند کیا گیا۔

٭شیاما لال بابو رائے المعروف اندیور ( یکم جنوری 1924سے 27فروری 1997):

اندیور بھارتی فلمی صنعت کا ایک بہت بڑا نام ہے۔ بطور گیت نگار ان کی اہمیت1951میں نمائش کے لیے پیش ہونے والی فلم ’’ملہار‘‘ کے گیت سے ہوئی جسے مکیش نے گایا: ’’تارہ ٹوٹے دنیا دیکھے۔۔۔دیکھا نہ کسی نے دل ٹوٹ گیا۔ ‘‘ اسی فلم میں لتا اور مکیش کی آوازوں میں ایک دوگانا: ’’بڑے ارمانوں سے رکھا ہے بلم تیری قسم۔۔۔پیار کی دنیا میں یہ پہلا قدم۔‘‘ ان گانوں کی طرزیں موسیقار روشن نے ترتیب دیں، جو پاک و ہند میں چہار جانب گونجنے لگے۔ اندیور نے فلموں کے لیے ہزاروں گیت لکھے جن میں سے اکثر بے حد مقبول ہوئے۔ 1980کے نازیہ اور زوہیب حسن کے مقبول گیت: ’’آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے تو بات بن جائے…‘‘اور اُن کے دیگر مشہور گیت بھی اندیور نے لکھے۔

اندیور کے کچھ مقبول گیت یہ ہیں:

1۔ جس دل میں بسا تھا پیار تیرا۔۔۔اُس دل کو کبھی کا توڑ دیا۔

فلم: ’’سہیلی‘‘(1965‘ موسیقی: کلیان جی آنند جی، آواز : مکیش

2 ۔ قسمیں وعدے پیار وفا سب باتیں ہیں باتوں کا کیا۔۔۔۔کوئی کسی کا نہیں یہ جھوٹے ناتے ہیں ناتوں کا کیا۔

فلم ’’ اُپکار‘‘(1967)، آواز منّا ڈے، موسیقی: کلیان جی آنند جی

3۔ چندن سا بدن چنچل چَتوَن دھیرے سے تیرا یہ مُسکانا۔۔۔۔۔مجھے دوش نہ دینا جگ والو ہو جاؤں اگر میں دیوانہ۔

فلم’’سراسوتی چندرا‘‘ (1968) ، آواز: مکیش

4۔ چھوڑ دے ساری دنیا کسی کے لیے۔۔۔۔یہ مناسب نہیں آدمی کے لیے

فلم’’پورب پچھم‘‘ (1970) موسیقی کلیان جی آنند جی، آواز: لتا

5۔کوئی جب تمہارا ردے توڑ دے۔۔۔ تڑپتا ہوا جب کوئی چھوڑ دے

موسیقی : کلیان جی آنند جی

6۔ زندگی کا سفر ہے یہ کیسا سفر۔۔۔ کوئی سمجھا  نہیں کوئی جانا نہیں موسیقی: کلیان جی آنند جی

7۔    ہم تمہیں چاہتے ہیں ایسے۔۔۔۔مرنے والا کوئی زندگی چاہتا ہو جیسے

فلم’’ قُربانی‘‘( 1980) آوازیں: آنند کماراور ہمنوا، موسیقی: کلیان جی آنند جی

8۔ ہونٹوں سے چھو لو تم میرا گیت امر کر دو۔۔۔۔بَن جاؤ میت میرے میرا پریت امر کر دو فلم ’’پریم گیت‘‘(1981) آواز: جگجیت سنگھ، موسیقی: جگجیت سنگھ۔

اندیور کو 1976میں بہترین گیت نگار کا فلم فئیر ایوارڈ ملا۔

٭اسرار الحسن خان المعروف مجروحؔ سلطان پوری (یکم اکتوبر 1919سے 24مئی  2000):

یہ یونانی طریقۂ طب کے مستند حکیم تھے۔ ایک موقع پر کسی مشاعرے میں غزل پڑھی اور یہیں سے شاعری، میدانِ عمل کی راہ نما بن گئی اور حکمت پس منظر میں چلی گئی۔ جگر مراد آبادی بھی مجروح کے مصاحبوں میں سے ایک تھے اور اُن کو اپنا استاد مانتے تھے۔ ان کا شمار ترقی پسند شعراء میں ہوتا ہے۔ 1945میں بمبئی کے کسی مشاعرہ گاہ میں انہیں خوب ستائش ملی ۔ مدح شرکاء میں فلم ساز اے -آر-کاردار بھی تھے۔ انہوں نے مجروحؔ کو موسیقار نوشاد علی سے ملایا۔ نوشاد نے مجروحؔ کو ایک دُھن سُنائی اور اس پر گیت لکھنے کو کہا، جس پر انہوں نے منٹوں میں لکھ دیا۔ یوں فلم ’’شاہ جہاں‘‘ کے گیت لکھنے کا معاہدہ طے ہو گیا۔ مذکورہ فلم کے گیت بہت مقبول ہوئے۔ جیسے: ’’کتنا نازک ہے دل یہ نہ جانا۔۔۔ہائے ہائے یہ ظالم زمانہ۔‘‘ کے – ایل -سہگل کی آواز میں مجروح ؔکے گیتوں نے دھوم مچادی اور مجروح کی شہرت کو پر لگ گئے۔ دھڑا دھڑ فلمیں مِلنے لگیں۔ اِن کے لکھنے کا اپنا ایک انداز تھا۔ فلمی گیتوں میں بھی مجروح ؔنے ادبی تقاضوں کو برقرار رکھا۔ وہ پہلے فلمی شاعر ہیں جنہیں 1994میں فلمی دنیا کے سب سے بڑے اعزاز ’’دادا صاحب پھالکے ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔

مجروحؔ کا گیت: ؎ ’’ جب دل ہی ٹوٹ گیا…‘‘ بے حد مقبول تھا۔ روایت ہے کہ اس گیت کو، اِس کے گلوکار کے-ایل- سہگل کے جنازے کے ساتھ بھی بجایا گیا۔ مجروحؔ سلطان پوری نے 55 سال میں 300 سے زیادہ فلموں کے تقریباً چار ہزار گیت لکھے۔ 1964میں فلم ’’ دوستی‘‘ کے لیے لکھے گیت جس کی موسیقی پہلی مرتبہ لکشمی کانت اور پیارے لال نے دی ـ: ؎ ’’چاہوں گا میں تجھے سانجھ سویرے…‘‘ کو اُس سال کے بہترین گیت نگار، گلوکار اور موسیقار کا فلم فیئر ایوارڈ ملا۔

یوں تو مجروحؔ کے مقبول گیت بے شمار ہیں۔ یہاں چند ایک کا ذکر کرتا ہوں:

1975میں بننے والی فلم ’’دھرم کرم‘‘ میں گلوکار مکیش چند ماتھر المعروف مکیش کی آواز میں موسیقار آر-ڈی-برمن کا سپر ہٹ گیت: اک دن بک جائے گا ماٹی کے مول، جگ میں رہ جائیں گے پیارے تیرے بول

اس گیت کے پیچھے ایک دل چسپ کہانی ہے۔ مجروحؔ نے ترقی پسند تحریک کے لیے ساری زندگی جدوجہد کی۔ وہ 1949سے جیلوں میں آتے جاتے رہے۔ یہ 1949 ہی کا زمانہ تھا وہ قید میں تھے، ایسے میں راج کپور نے کچھ مدد کرنا چاہی لیکن مجروحؔ کی خود داری آڑے آئی تب راج کپور نے اُن سے اپنی فلم کے لیے ایک گیت لکھنے کہ فرمائش کی۔ اُس زمانے میں، جب شیلیندرا کو راج کپور نے فلم ’’ برسات ‘‘ کے دو گیت لکھنے پر 500 روپے دیے تھے، مجروحؔ سلطان پوری کو ایک گیت کے 1000روپے دیے۔ پھر یہ گیت راج کپور نے 26 سال بعد 1975 میں فلم ’’دھرم کرم ‘‘ میں استعمال کیا ۔ اسے کہتے ہیں ایثار۔ ٍ ٍ1972 میں نمائش کے لیے پیش ہونے والی فلم ’’پاکیزہ‘‘ میں مجروح کے گیت:’’اِن ہی لوگوں نے…‘‘،’’چلتے چلتے یوں ہی کوئی مِل گیا تھا…‘‘ بہت مشہور ہوئے۔

گو کہ مجروح ؔ نے بہت سے موسیقاروں کے ساتھ کام کیا، جیسے انیل بِسواس، نوشاد علی، مدن موہن، او پی نیر، روشن، لکشمی کانت پیارے لال وغیرہ، لیکن موسیقی کے پنڈتوں کے بقول اِن کے بہترین گیت ایس ڈی برمن اور ان کے صاحب زادے آر ڈی برمن کے ساتھ تخلیق ہوئے۔ مجروحؔ کے ناقدوں کا کہنا ہے ہدایت کار ناصر حسین کی فلموں: ’’تیسری منزل‘‘، ’’یادوں کی بارات‘‘ اور ’’ہم کسی سے کم نہیں‘‘ نے اپنے زمانے کے نوجوانوں کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ مجروحؔ نے ناصر حسین صاحب کے بیٹے ہدایت کار منصور خان کی فلموں کے لیے بھی سُپرہٹ گیت لکھے، جیسے سدا بہار فلم ’’ قیامت سے قیامت تک۔‘‘ اس فلم کے لیے 1988میں مجروحؔ صاحب نے 70سال کی عمر میں یہ لازوال گیت لکھے: ’’ پاپا کہتے ہیں بڑا نام کرے گا…‘‘،’’اے میرے ہمسفر…۔‘‘ اس فلم کے موسیقار آنند ملند تھے۔ ان کے لکھے گیت پر موسیقار اور گلوکار دونوں کو فلم فیئر ایوارڈ ملے یہاں تک کہ اس فلم کو ہر شعبے میں ایوارڈ ملا۔ نہیں ملا تو لازوال گیت لکھنے والے کو نہیں ملا۔ مجروحؔ بھارتی فلموں کے واحد گیت نگار ہیں جو اپنے آخر وقت تک گیت لکھتے رہے۔

یہ اُس دور کے لوگ ہیں جب فلمی صنعت میں تعصب نہیں آیا تھا۔ لوگ کام کو اہمیت دیتے تھے، انسانیت زندہ تھی اور وہ ایک خاندان کی طرح رہتے تھے۔ کام میں پُرخلوص تھے جب ہی انہوں نے لازوال اور سدا بہار گیت تخلیق کیے۔ پیسے کی ضرورت کے باوجود انہوں نے کبھی اسے اہمیت نہیں دی اور فی زمانہ اب پیسہ ہی سب کچھ ہے۔

The post ذکر بھارتی فلمی صنعت کے کچھ نام ور گیت نگاروں کا appeared first on ایکسپریس اردو.

بیٹے کی کوریج کرنے پرکرینہ میڈیا پرسخت برہم

 ممبئی: بالی ووڈ کی بیبو کرینہ اوراداکار سیف علی خان کا بیٹا تیمور پیدائش کے بعد سے ہی میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے، تاہم اب اداکارہ بیٹے کی تصاویراوراس کی ایک ایک حرکت نوٹ کرنے پرخوب برہم ہوگئیں ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بالی ووڈ کی دلکش اداکارہ کرینہ کپورکا انٹرویوکے دوران کہنا تھا کہ انہیں بالکل پسند نہیں ہے جس طرح تیمورکی تصاویراوراس کی ایک ایک حرکت نوٹ کرکے خبروں کی زینت بنایا جاتا ہے، وہ کیا کھاتا ہے، کہاں جاتا ہے، کیا پہنتا یا پھراس کے ہیئر اسٹائل پر بار بار بات کرنا اب برا لگتا ہے، سمجھ نہیں آتا کہ وہ اس ٹرینڈ کو کیسے روکیں کیونکہ وہ محض ابھی 14 ماہ کا ہے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: تیمور خان کی پہلی سالگرہ پر چند یادگار اور خوبصورت تصاویر

اداکارہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ اب تیمور بھی اس ٹرینڈ کا عادی ہوگیا ہے  کیونکہ جب اس کی مختلف تصاویر کا موازنہ کرتی ہوں تو وہ بھی اب پوزدے کر تصویریں کھنچواتا ہے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: سیف علی خان نے تیمورکو مہنگا ترین تحفہ دے دیا

 

ایک بارپھربیٹے کے نام پرہونے والے تنازعات کا پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ بیٹے کے نام کے لیے بہت تنقید برداشت کی تاہم اس سے زیادہ سپورٹ بھی ملی جومعنی رکھتی تھی۔ اداکارہ نے کہا کہ بیٹے کی پیدائش سے پہلے ہی سیف نے ان سے کہا تھا کہ بیٹا ہوا تو اس کا نام تیمورنہیں بلکہ ’فیض‘ رکھیں گے جس پراداکارہ نے انکار کرتے ہوئے کہا تھا فیض نام بھی اچھا ہے لیکن میرا بیٹا مضبوط اورطاقت وربنے گا اس لیے اس کا نام تیمورہی ہوگا اوریہ ہی نام رکھنے پر مجھے بہت فخرہے۔

The post بیٹے کی کوریج کرنے پرکرینہ میڈیا پرسخت برہم appeared first on ایکسپریس اردو.

اجے دیوگن اور الیانا ڈی کروز کی ’’ریڈ‘‘ 16 مارچ کو پاکستان میں ریلیز ہوگی

لاہور: بالی وڈ اسٹاراجے دیوگن اورالیانا ڈی کروزکی نئی فلم ’’ ریڈ‘‘ 16 مارچ کو بھارت اورپاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔

فلم ’ریڈ‘ کو پاکستانی سرکٹ میں ڈسٹری بیوشن کلب کے پلیٹ فارم سے ریلیز کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ راج کمار گپتا کی زیر ہدایت بنی اس ایکشن سسپنس تھرلر فلم میں اجے دیوگن میں انکم ٹیکس آفیسر کا کردار ادا کیا ہے جوٹیکس چوری اور غیر قانونی کاروبار سے دولت لوٹنے والے سماج دشمن عناصر کے خلاف برسرپیکار رہتا ہے۔

فلم میں الیانا ڈی کروز نے اجے دیوگن کی بیوی جب کہ نیشنل ایوارڈ یافتہ فنکار سورب شکلا نے ولن کا کردار ادا کیا ہے۔

پاکستانی لیجنڈ گلوکار استاد نصرت فتح علی خاں مرحوم کا شہرہ آفاق گیت ’’ سانوں اک پل چین نہ آوے‘‘ کا ری میک فلم کی ہائی لائٹ ہے جسے استاد راحت فتح علی خان کی آواز میں ریکارڈ کرکے فلم کا حصہ بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ فلم کی تشہیری مہم زوروشور سے جاری ہے جب کہ آئندہ ہفتے لاہور میں اس کے ’’ پری ویو شو ‘‘ کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔

The post اجے دیوگن اور الیانا ڈی کروز کی ’’ریڈ‘‘ 16 مارچ کو پاکستان میں ریلیز ہوگی appeared first on ایکسپریس اردو.

بالی ووڈ کے ساتھ ساتھ ہالی ووڈ فلموں کی نمائش بھی کی جائے، نمرہ خان

لاہور: اداکارہ وماڈل نمرہ خان نے کہا ہے کہ جس طرح پاکستانی سینما گھروں میں بالی ووڈ ستاروں کی فلمیں دکھائی جارہی ہیں اسی طرح ہالی ووڈ فلمیں بھی معمول کے ساتھ لگائی جائیں۔ 

’’ایکسپریس‘‘سے گفتگوکرتے ہوئے نمرہ خان نے کہا کہ 70ء سے لے کر90ء کی دہائی تک امپورٹ قوانین کے تحت لائی جانے والی ہالی ووڈ فلموں کی پاکستانی فلموں کے ساتھ نمائش ہوتی رہی ہے اورفلم بینوں کی کثیر تعداد پاکستانی فلموں کے ساتھ ساتھ معمول کے مطابق انگریزی فلمیں بھی دیکھا کرتی تھی۔

اداکارہ نے کہا کہ عیدالفطر، عیدالاضحی، جشن آزادی سمیت دیگرتہواروں کے موقع پرسینما مالکان کی کوشش ہوا کرتی تھی کہ ہالی ووڈ کی ایسی فلمیں نمائش کے لیے پیش کی جائیں جن کو دیکھنے کے لیے فلم بین اپنی فیملیز کے ہمراہ سینما گھروں کا رخ کریں۔

نمرہ خان کہا کہ پاکستان میں ایک مرتبہ پھر سے سینما انڈسٹری فروغ پارہی ہے۔ ملک بھرمیں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ سینما گھربنائے جارہے ہیں لیکن ان سینما گھروں میں ہالی ووڈ فلموں کے مقابلے بالی وڈ فلموں کوزیادہ ترجیح دی جارہی ہے۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ ایک طرف توسینما مالکان اورامپورٹرز کی خواہش ہے کہ وہ بھارتی فنکاروںکی فلمیں سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کرکے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کریں لیکن دوسری جانب فلم بینوں کی وہ بڑی تعداد اب ہالی ووڈ فلمیں دیکھنے سے محروم ہے جوآج بھی ماضی کی طرح ہالی ووڈ کی جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ، ایکشن، رومانوی، کامیڈی اورہارر فلمیں دیکھنا چاہتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ جہاں غیرملکی فلمیں امپورٹ کرنے و الے ادارے بھارتی فنکاروںکی فلمیں امپورٹ کرنے کوترجیح دے رہے ہیں ، وہیں انہیں ہالی ووڈکی بہترین فلمیں بھی ضرور امپورٹ کرنی چاہئیں۔

 

The post بالی ووڈ کے ساتھ ساتھ ہالی ووڈ فلموں کی نمائش بھی کی جائے، نمرہ خان appeared first on ایکسپریس اردو.

بنگالی ٹی وی کی اداکارہ نے خودکشی کرلی

 ممبئی: بنگالی ٹی وی کی اداکارہ مومیتا شاہ نے فلموں میں چانس نے ملنے پر خودکشی کرلی۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگالی ٹی وی کی 23 سالہ اداکارہ مومیتا شاہ نے کولکتہ کے اپنے فلیٹ میں گلے میں پھندہ ڈال کر خودکشی کرلی۔ مومیتا کے والدین نے جب ان سے فون پر رابطے کی کوشش کی تو انہیں کوئی جواب نہیں ملا جس پر انہوں نے فلیٹ کے مالک مکان سے رابطہ کیا اور پولیس کو اطلاع کردی۔ پولیس اداکارہ کے فلیٹ کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئی تو انہیں مومیتا کی گلے میں ڈوپٹا ڈالے، چھت سے لٹکتی ہوئی لاش ملی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مومیتا شاہ اسٹرگلنگ اداکارہ تھیں، وہ کولکتہ میں اکیلی رہتی تھیں اور بالی ووڈ انڈسٹری میں قدم رکھنے کی خواہش مند تھیں لیکن اس میں انہیں کامیابی نہیں مل پا رہی تھی جب کہ ان کے پاس سےایک خط بھی موصول ہوا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے کریئر کو لیکر ذہنی طور پر پریشان تھیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اداکارہ کی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آنے کا انتظار ہے جس کے بعد سب کلیئر ہوجائے گا البتہ معاملے سے متعلق تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

The post بنگالی ٹی وی کی اداکارہ نے خودکشی کرلی appeared first on ایکسپریس اردو.

امیتابھ اور جیا بچن  کروڑوں کے قرضدار

نئی دہلی: بھارت کے امیر ترین خاندانوں میں شمار کیے جانے والے بالی ووڈ کے شہنشاہ امیتابھ بچن اور ان کی اہلیہ جیا بچن کروڑوں کے قرضدار نکلے۔

ماضی کی معروف اداکارہ جیا بچن بہترین اداکارہ ہونے کے ساتھ بھارت کی نامور سیاستدان بھی ہیں اور پچھلے کئی برسوں سے بھارتی سیاسی جماعت سماج وادی پارٹی سے منسلک ہیں۔ گزشتہ روز جیا بچن نےبھارتی ریاست اتر پردیش سے راجیہ سبھا (ریاستی اسمبلی) کی امیدوار کی حیثیت سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے اور ساتھ ہی اپنے اور امیتابھ بچن کے اثاثوں کے بارے میں بھی بتایا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق امیتابھ اور جیا بچن کے اثاثوں میں گزشتہ 6 برس کے دوران دگنا اضافہ ہوا، 2012 میں وہ تقریباً 500 کروڑ کے اثاثوں کے مالک تھے تاہم اب ان کے اثاثے 1000 کروڑ تک پہنچ گئے ہیں۔ جیا بچن کی جانب سے جمع کرائے گئے کاغذات کے مطابق اس جوڑی کے پاس موجود طلائی زیورات کی قیمت مجموعی طور پر 62 کروڑ ہے جس میں امیتابھ بچن کے پاس موجود سونے کی چیزوں کی قیمت 36 کروڑ اورجیابچن کے پاس موجود زیورات کی قیمت 26 کروڑ روپے ہے۔ بچن خاندان کے گھر 12 مہنگی گاڑیاں ہیں جن کی قیمت 13 کروڑ روپے ہے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  ریکھا اور جیا بچن میں صلح 

امیتابھ بچن کو گھڑیوں کا بہت شوق ہے جس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ دونوں کے پاس موجود گھڑیوں کی قیمت 3 کروڑ 4 لاکھ روپے ہے جب کہ بالی ووڈ کے شہنشاہ کی عادت بالکل شہنشاہوں والی ہے کیونکہ امیتابھ کے پاس موجود پین کی قیمت 9 لاکھ روپے ہے۔ اس کے علاوہ دونوں کروڑوں کی جائیداد کے مالک ہیں۔ امیتابھ اور جیابچن کے نام پر ممبئی، دہلی، نوئیڈا، بھوپال، پونے، احمد آباد اور گاندھی نگر کے علاوہ فرانس میں بھی جائیداد موجود ہے جس کی قیمت کروڑوں میں ہے۔

ایک بھارتی ویب سائٹ کے مطابق امیتابھ بچن اور جیا بچن کے بھارت اور بیرون ملک  19 بینک اکاؤنٹس ہیں اور انہوں نے بینکوں سے تقریباً 100 کروڑ کا قرض (لون) لے رکھا ہے۔

The post امیتابھ اور جیا بچن  کروڑوں کے قرضدار appeared first on ایکسپریس اردو.

ویرات انوشکا کے مہنگے ترین گھر کی تصاویرمنظرعام پر

ممبئی: بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے اپنے نئے اور مہنگے ترین گھر کی تصویر شیئر کی ہے جس میں وہ اور انوشکا شادی کے بعد شفٹ ہوگئے ہیں۔

بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے گزشتہ روز سوشل میڈیا پر اپنے نئے گھر کی تصویر شیئر کی ہے۔ جس میں ویرات اورانوشکا شادی کے بعد شفٹ ہوچکے ہیں۔ ویرات کوہلی نے اپنے نئے گھر کی بالکنی میں کھڑے ہوکر باہر کا خوبصورت نظارہ مداحوں کو دکھاتے ہوئے کہا ہے’’آپ کہیں اور کیوں جانا چاہیں گےجب آپ کوگھر میں ہی اتنا خوبصورت نظارہ دیکھنے کوملے‘‘۔

Where else would you wanna be when you have such a stunning view from home! ?♥️

A post shared by Virat Kohli (@virat.kohli) on

اس خبرکوبھی پڑھیں: ویرات نے انوشکا سے محبت کی مثال قائم کردی

ممبئی کے علاقے وارلی میں واقع انوشکا اور ویرات کے5 کمروں پر مشتمل نئے اپارٹمنٹ کی قیمت 34 کروڑ روپے ہے۔ 35 ویں منزل پر واقع یہ اپارٹمنٹ ’’اسکائے بنگلوز‘‘کی تعمیرات کا حصہ ہے۔ جس کا شمار ممبئی کی اونچی عمارتوں میں ہوتا ہے۔ اپارٹمنٹ کی بالکنی سے بحرہ عرب کا خوبصورت منظر نظر آتا ہےجو ویرات کی جانب سے شیئر کی گئی تصویر میں بھی نظر آرہا ہے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: ویرات، انوشکا ہنی مون پر مداحوں کو نہیں بھولے

واضح رہے کہ ویرات کوہلی  نے یہ اپارٹمنٹ اپنی شادی سےقبل 2016 میں  بک کروایا تھا  جس کے بعد کہا جارہا تھا کہ ویرات انوشکا شادی کے بعد اس گھر میں رہیں گے، اور اب میڈیا میں گردش کرنے والی یہ قیاس آرائیں سچ ثابت ہوگئی ہیں ویرات اور انوشکا اپنی نئی جنت میں منتقل ہوگئے ہیں اور بہت خوش ہیں۔

The post ویرات انوشکا کے مہنگے ترین گھر کی تصاویرمنظرعام پر appeared first on ایکسپریس اردو.