لیاری کی ’’فلمی صنعت‘‘

شہر قائد کے جس علاقے میں ہم کھڑے تھے، اس جگہ کا نام ہی شاید دوسروں کے ہوش اڑانے کے لیے کافی ہو، ہمارے پیروں تلے موجود سڑک کتنے ہی خون آشام دنوں کی گواہ رہ چکی ہے۔

اس سڑک پر کبھی خون پانی کی طرح بہا کرتا تھا۔ اس سڑک نے گذشتہ چند دہائیوں میں طاقت اور قبضے کی جنگ میں کتنی ہی ماؤں کے بیٹوں، بہنوں کے بھائیوں، اور بیویوں کے سہاگوں کا خون بہتے دیکھا ہوگا۔ لیکن یہ علاقہ تو اب ایک الگ ہی کہانی پیش کر رہا تھا، گلیوں میں کھیلتے بچے، تَھڑوں پر بیٹھے بے فکری سے گپپیں لگاتے، اسمارٹ فونز استعمال کرتے نوجوان، نہ کسی نامعلوم گولی کا نشانہ بننے کا ڈر نہ کوئی اور خوف۔ یہ ہے کراچی کا علاقہ لیاری۔ لیاری اب ایسا علاقہ ہرگز نہیں، جہاں جنگل کا راج ہو، جہاں دن دہاڑے متحارب گروپ ایک دوسرے پر جدید ہتھیاروں اور دستی بموں سے لیس ہوکر حملہ کرتے رہے، لیاری اب جرائم پیشہ افراد، منشیات فروشوں اور گینگ وار کا گڑھ نہیں۔

اس علاقے میں بھی حالات اسی طرح خراب ہوتے ہیں جس طرح شہر کے دوسرے علاقوں میں ہوتے ہیں، جس طرح شہر کے دوسرے علاقوں میں خون خرابہ ہوتا ہے اسی طرح لیاری میں بھی ہوتا ہے، لیکن اب یہاں زندگی اپنی پوری گہماگہمی کے ساتھ جاگ اُٹھی ہے۔ اس بستی کے نام کے ساتھ جُڑے گینگ وار کے تصور کو ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہماری یہاں آمد کا مقصد لیاری کے ایسے با صلاحیت سے نوجوانوں سے ملاقات تھی، جو تمام تر نامساعد حالات کے باوجود لیاری کے مسائل کو فلم جیسے میڈیم کے ذریعے دنیا بھر میں اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جو لوگ لیاری کو پس ماندگی اور گینگ وار استعارے کے طور پر جانتے ہیں انھیں اس علاقے میں فلم سازی کی ابھرتی صنعت کے بارے میں جان کر حیرت ہوگی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ لیاری ہمیشہ سے علمی وادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا گہوارہ رہا ہے، یہاں ایک طرف میدان فٹبال اور باکسنگ کے شان دار کھلاڑے پیدا کرتے رہے ہیں، تو دوسری طرف علم وادب اور ثقافت کے دیے بھی جا بہ جا روشن رہے ہیں۔

اور پھر سیاست تو اس علاقے کی شناخت ہے ہی۔ محض نعرے بازی کی سیاست نہیں، وہ سیاست جو فکروفلسفے کی گود میں پرورش پاتی ہے اور بحث ومباحثے کی فضا میں پروان چڑھتی ہے۔ اس پس منظر اور مصائب اور مسائل کے نرغے میں لیاری میں بہ صلاحیت نوجوانوں کی ایسی کھیپ کی کھیپ تیار ہوچکی ہے جو نہایت کم وسائل اور بہت مشکل حالات کے باوجود معیار شارٹ موویز بنارہے ہیں۔ ان کی تخلیقات عالمی سطح پر مختلف ایوارڈز بھی حاصل کرچکی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق لیاری میں اب تک سو سے زیادہ مختصر دورانیے کی فلمیں بنائی جاچکی ہیں۔ یوں ’’لیاری کی فلمی صنعت‘‘ وجود میں آچکی ہے، اور امید ہے کہ یہ صنعت جلد عالمی سطح پر پاکستان کو چمکتا دمکتا حوالہ بنے گی۔ اس صنعت سے وابستہ افراد سے کی جانے والی گفتگو قارئین کے لیے پیش ہے۔

٭ نعیم نثار بلوچ

نعیم نثار بلوچ کو بلوچی زبان کی پہلی ٹیلی فلم بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس بابت ان کا کہنا ہے کہ 1974ء میں انور اقبال صاحب نے ایک رومانوی فیچر فلم ’’ہمل و ماہ گنج‘‘ کے نام سے بنائی جسے چلنے نہیں دیا گیا۔ اس وقت مجھ جیسے بہت سے بلوچی نوجوان اس فلم کے حق میں تھے، کیوں کہ ہم یہ سمجھتے تھے کہ فلم کے ذریعے ہم اپنی زبان کی ترویج کر سکتے ہیں۔ 1982ء میں ہم دوستوں نے ایک ویڈیو کیمرا خریدا اور اس پر تجربات کرتے رہے۔

1986ء میں ہم نے پہلی بلوچی ٹیلی فلم طنز گیر (طنز کرنے والا) کے نام سے بنائی، جس کے ہم نے تین پارٹ بنائے۔ اس وقت ہماری اس جُرأت کو دیکھتے ہوئے لیاری کے دوسرے نوجوانوں نے بھی مختصر اور دستاویزی فلمیں بنانی شروع کردیں۔ یہاں میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ پہلی بلوچی فلم ’’ہمل و ماہ گنج‘‘ کی مخالفت صرف اسی وجہ سے کی گئی تھی کہ اس میں خواتین کو دکھا یا گیا تھا۔ اور اسی بنیاد پر ہماری فلم کو بھی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ فلم ’’ہمل و ماہ گنج‘‘ کے لیے یہ سلوگن بن گیا تھا کہ ’فلم چلے گی تو سنیما جلے گی‘ اور یہی مخالفت ہماری ٹیلی فلم طنزگیر کے لیے بھی تھی۔ اس وقت اگر اس فلم کی مخالفت نہ کی جاتی تو آج ہماری نسل اس صنعت میں اور بہتر مقام پر ہوتی۔

لیکن تمام تر مخالفت اور نامساعد حالات کے بعد اس کے باوجود ہم نے فلموں کے ذریعے اپنے آپ کو منوایا۔ کئی سال تک یہ معمول رہا کہ ملازمت کے ساتھ ساتھ فلم سازی بھی جاری رکھی اور درجن بھر فلمیں بنائیں۔ مجھے شروع دن سے اسکرین پلے لکھنے کا بہت شوق رہا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ کام میں زیادہ اچھے طریقے سے کرسکتا ہوں، میری اس صلاحیت کو نکھارنے میں بلوچی زبان کے بہت بڑے اداکار دُر محمد خان نے اہم کردار ادا کیا۔

معین اختر کو روحانی استاد سمجھتا ہوں، گھنٹوں ان کے ڈرامے دیکھ کر اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ ہر ساتھ کام کرنے والے سے کچھ نہ کچھ سیکھا۔ جہاں تک بات ہے کہ فلموں میں سرمایہ کاری کون کرتا ہے اس حوالے سے کبھی حکومتی یا کسی نجی ادارے کی جانب سے سرپرستی نہیں کی گئی۔ سب اخراجات خود پورے کیے، بہت سے اداکار ہمارے ساتھ رضاکارانہ طور پر کام کرتے تھے، جب کہ بلوچی زبان کے کچھ سنیئر اداکاروں کو ہم معاوضہ دیتے تھے۔ جب میں نے ٹیلی فلم طنز گیر بنائی تو میرے چاچا نے مجھے بلا کر کہا،’’بے شرم آدمی! تم کو پتا ہے کہ تم کس قبیلے، کس خاندان سے تعلق رکھتے ہو، اور تم یہاں ناچ گا رہے ہو۔‘‘ لیکن دو چار سال بعد اسی چاچا نے مجھے بلا کر کہا،’’سنا ہے فلموں کے اداکار ہوگئے ہو ذرا اپنی فلم تو دکھاؤ!‘‘ میں اس دن بہت خوش ہوا کہ میں جو کام کر رہا ہوں وہ غلط نہیں ہے۔

فلم سازی کے علاوہ میں نے بہت سی اُردو اور انگریزی زبان کی فلموں کی بلوچی زبان میں ڈبنگ کی۔ طنز گیر کی حمایت میں صرف شاہ جہاں بلوچ (لیاری کے ممتاز دانش ور) ہمارے ساتھ کھڑے تھے۔ انہوں نے ہماری حوصلہ افزائی کی، پوری ٹیم کو ایوارڈ دیے۔ اس وقت انہوں نے ایک بات کی تھی جو اب سچ ثابت ہوتی نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا تھا،’’نعیم بیٹا! تم جو کام کررہے ہوں یہ معمولی کام نہیں ہے۔ آگے چل کر جب بلوچی فلموں کی تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں تمہارا نام ضرور لکھا جائے گا۔‘‘ بلوچی زبان ہمارا تشخص ہے اور میں اس پر فخر کرتا ہوں۔ اب آپ یہ دیکھیں کہ لیاری کی خواتین بھی فلم سازی کے میدان میں کام یابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ اب بلوچی فلموں کو نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی سراہا جارہا ہے۔

٭سید احسان شاہ

بین الاقوامی سطح پر لیاری کا نام روشن کرنے والے نوجوانوں میں ایک نام ابھرتے ہوئے فلم ساز، ہدایت کار سید احسان شاہ کا ہے، جن کی فلم ’’جاور‘‘ نے 2016ء میں بحرین کی حکومت کی جانب سے منعقد کیے جانے والے ’’ناصر بن حماد یوتھ کریٹیویٹی ایوارڈفیسٹیول‘‘ میں فلم سازی کے شعبے میں ایوارڈ حاصل کیا۔ یہ لیاری میں بننے والی کسی بھی فلم کو عالمی سطح پر ملنے والا پہلا ایوارڈ تھا۔ اس طرح احسان شاہ نے دنیا کو باور کرایا کہ لیاری صرف گینگ وار کا، خون خرابے کا نام نہیں ہے، لیاری بین الاقوامی سطح پر مشہور ہنرمند، بہ صلاحیت نوجوانوں، کھلاڑیوں، تیراکوں، باکسرز، دانش وروں ادیبوں کا مسکن بھی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ میری جائے پیدائش لیاری ہے۔ ان گلیوں سے بچپن کی یادیں وابستہ ہیں، ادب اور فنون لطیفہ سے آنکھ کھولتے ہی شناسائی ہوگئی تھی۔ بلوچی زبان میں پہلی غزل کہنے والے ملنگ شاہ میرے ابو کے نانا تھے، جو ایران سے ہجرت کرکے لیاری میں رہائش پذیر ہوگئے تھے۔ فلم سازی کے ساتھ ساتھ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ میرا تعلق مڈل کلاس طبقے سے ہے۔ ذریعۂ معاش فلم سازی ہی ہے۔ میں 2009ء سے لیاری میں بلوچی زبان میں مختصر فلمیں بنا رہا ہوں۔

اب تک چھے مختصر دستاویزی فلمیں اور چار مختصر فلمیں بنا چکا ہوں۔ پہلی مختصر فلم ’وہیلز‘ کے نام سے بنائی جس میں لیاری کے سائیکلسٹس کی مہارت اور صلاحیتوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی۔ دوسری فلم ’ورکنگ وومین آف لیاری‘ کے نام سے لیاری کی اُن ملازمت پیشہ خواتین پر بنائی تھی جو نوکری کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھریلو فرائض بھی دل جمعی سے ادا کرتی ہیں۔

چار سال قبل اسٹریٹ چائلڈ فٹ بال ورلڈ کپ میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے اسٹریٹ چلڈرن اور لیاری کے فٹبالرز کو درپیش مسائل پر ’ہڈن ڈائمنڈ آف لیاری‘ کے نام سے فلم بنائی۔ ان تمام فلموں کو مقامی طور پر کافی سراہا گیا۔ 2011ء میں ’’ہم آزمان‘‘ (آسمان) کے نام سے پہلی مختصر فلم بنائی۔ 14منٹ دورانیے کی اس فکشن فلم میں ہم نے اُس دور میں لیاری میں ہونے والے اہدافی قتل، خون خرابے اور گروہی لڑائیوں کے نتیجے میں لیاری کے بچوں کے ذہنوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کو اجاگر کیا تھا۔

احسان شاہ نے بتایا کہ انہوں نے فلم سازی کی تربیت شرمین عبید چنائے کی کو پروڈیوسر حیافاطمہ اقبال سے حاصل کی اور درحقیقت اسی عرصے میں دستاویزی فلمیں بنانے کا شوق پروان چڑھا، کیوں کہ ہمارے اسائنمنٹ ہی ڈاکیومینٹریز بنانا ہوتے تھے۔ 2016 ء میں ہم نے ’جاور‘ بنائی۔ مختصر دورانیے کی اس فلم میں لیاری میں ہونے والی گینگ وار کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان اور گینگ وار کے ظلم کو موضوع بنایا گیا۔ ایسے حساس موضوع پر فلم بنا نے کا مقصد لوگوں کو لیاری کا اصل چہرہ دکھانا تھا، کیوں کہ ہر لیاری والے کو گینگز کا کارندہ کہا اور سمجھا جاتا ہے، ہم (لیاری کے باشندے) گینگز کے کارندے نہیں بل کہ ان کے ظلم کا شکار مظلوم لوگ ہیں۔

ہمارے ایک دوست نے ہمیں بحرین کے ’ناصر بن حماد یوتھ کریٹیویٹی ایوارڈ فیسٹیول‘ کا بتایا کہ بحرین کی حکومت کی جانب سے ایک فیسٹیول ہورہا ہے جس میں پوری دنیا سے فلمیں آرہی ہیں، تو تم بھی اپنی فلم اس ایوارڈ کے لیے بھیج دو۔ اس ایوارڈ میں شمولیت فری تھی۔ جب ہماری فلم شارٹ لسٹ ہوکر ٹاپ تھری میں پہنچی تو یہ بات ہی ہمارے لیے قابل فخر تھی کہ پہلی بار بلوچی زبان میں بننے والی فلم ایک بین الاقوامی ایوارڈ کے لیے نام زد ہوئی۔ باقی دو فلموں میں ایک مِصر کی اور ایک میکسیکن تھی۔ میں خود میکسیکن فلموں کا بہت بڑا شیدائی ہوں اور پہلی بار ہی میرا مقابلہ ایک میکسیکن فلم سے تھا، جو کہ میرے لیے بہت بڑی بات تھی۔ اس ایوارڈ سے ملنے والی رقم سے ہم نے کچھ کیمرے اور تیکنیکی آلات خریدے۔

٭ نازنین شاہ

لیاری کی زرخیز زمین نے بہت سے ہیروں کو جنم دیا ہے جن میں سے ایک ابھرتا ہوا نام بلوچی زبان کی پہلی خاتون فلم ساز نازنین شاہ کا ہے۔ جو بلوچ روایات کے برعکس نہ صرف فلم سازی کی باقاعدہ تعلیم حاصل کر رہی ہیں بل کہ حال ہی میں انہوں نے ’ لیاری اے پریزن ود آؤٹ وال‘ کے نام سے ایک مختصر فلم بنائی ہے، جس میں لیاری کے ابھرتے ہوئے فٹبالرز کے مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اپنی الگ شناخت بنانے والی نازنین بلوچ، احسان شاہ کی اہلیہ ہیں۔

ایک نجی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والی نازنین شاہ مستقبل میں بھی اسی شعبے سے وابستہ رہنا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی ہمیں لیاری کے کچھ اور روشن پہلو بھی دنیا کو دکھا نے ہیں، لیاری میں صرف باکسر اور فٹبالر ہی نہیں ہیں، لیاری میں ڈانسر ہیں میوزیشن ہیں، ہمارے پاس تیراک بہت اچھے ہیں۔ ہم لیاری میں رہتے ہیں، اگر کسی کو بتائیں کہ ہم لیاری میں رہتے ہیں تو ہر کوئی ہمیں حیرانی سے دیکھ کر کہتا ہے آہ، لیاری میں رہتے ہو؟ تو ہم اپنی فلموں کے ذریعے لیاری کے مثبت پہلو دنیا کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔

یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے اس کام میں اپنے گھر والوں کی کسی مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، ہاں البتہ جب میں نے فلم سازی میں تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تو اس وقت کچھ لوگوں کا کہنا تھا،’’پاکستان میں فلم سازی کا کوئی مستقبل نہیں ہے، ایک تو تم بلوچ لڑکی، اوپر سے رہتی بھی لیاری میں ہو، تو اس کام میں تمہارے آگے بڑھنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔‘‘ انہیں یہی لگتا تھا کہ میں اس کام میں فقط وقت کا زیاں کر رہی ہوں۔ لیکن جب میں نے یہ فلم بنائی تو لوگوں نے میرے کام کو بہت سراہا۔

فلم بنانے کے لیے دست یاب وسائل کی بابت ان کا کہنا ہے کہ فلم کی شوٹنگ تو ہم مختصر عرصے میں مکمل کرلیتے ہیں، لیکن ہمیں ایڈیٹنگ کرنے میں کئی ماہ کا عرصہ لگ جاتا ہے۔ ہم نے طے کر رکھا ہے کہ ہر سال چھے ماہ بعد لیاری اور بلوچ عوام پر ایک مختصر فلم ضرور بنائیں گے۔ ہماری فلم کا میڈیم کیوں کہ بلوچی زبان ہے، اس لیے یہ کسی اردو چینل پر نہیں چل سکتی۔ ہم فلم بنانے کے بعد کوئی آڈیٹوریم بک کروا کر اپنی فلم کی اسکریننگ کرتے ہیں اور لیاری کے لوگوں کو مفت میں فلم دکھاتے ہیں، اور لوگ ہمارے کام کو بہت سراہتے بھی ہیں۔

٭ عدیل ولی رئیس

فلم کے یوں تو کئی میڈیم ہیں، لیکن 27 سالہ عدیل ولی رئیس نے اپنے لیے فلم کا ایک مشکل ترین میڈیم ’ خاموش فلموں‘ کا چُنا۔ لیاری کے دبئی چوک میں جنم لینے والے عدیل کی تعلیم تو گرچہ انٹر ہے لیکن فلم سازی ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے، بارہ سال کی عمر سے ہی اپنے والد ولی رئیس کے ساتھ فلموں کی ایڈیٹنگ سیکھنا شروع کردی تھی۔ فلم کے اس اہم ترین شعبے میں انتہائی مہارت رکھتے ہیں۔ اور اسی مہارت کی بنا پر فلم سازی اور گرافک ڈیزائننگ کی تعلیم دینے والے ایک بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ میں سینیماٹو گرافی اور فوٹو گرافی پڑھا رہے ہیں۔

لیاری میں فلم سازی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی بابت ان کا کہنا ہے،’’ہم یہ کام کسی فائدے کے لیے نہیں اپنی روایات، اپنی زبان کو برقرار رکھنے اور دنیا کو لیاری اور خصوصاً بلوچوں کا مثبت چہرہ دکھانے کے لیے کرتے ہیں، میں نے 2012 ء میں اپنی پہلی خاموش دستاویزی فلم موبائل فون کی مدد سے بنائی۔ بارہ منٹ دورانیے کی اس فلم کا نام ’ نیڈ فائر ونگس ٹوورڈز اے نیو لائٹ‘ تھا۔ اس وقت کراچی میں لسانی فسادات اپنے عروج پر تھے۔

اس کے باوجود جشن آزادی کے موضوع پر یہ فلم بنائی۔ اس کے بعد مزید کچھ فلمیں بنائیں۔ 2014 ء میں ہونے والے لیاری فلم فیسٹول میں میری فلم’ ٹوون زا ٹو‘ کو بہترین فلم کا ایوارڈ ملا۔ خاموش فلمیں بنانے کا مقصد ہر زبان کے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانا ہے۔ عدیل ولی رئیس اب تک بارہ ملکی ایوارڈ اور ایک بین الاقوامی ایوارڈ جیت چکے ہیں، ان کی ایک خاموش فلم ’پوسٹر‘ کو گذشتہ سال اٹلی میں ہونے والے مختصر فلموں کے بین الاقوامی فلم فیسٹول میں ’بیسٹ آڈینس ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔ ان کی زیادہ تر فلمیں سماجی مسائل، تعلیم اور چائلڈ لیبر کے موضوعات پر ہیں۔ حال ہی میں اُردو زبان میں بنائی گئی ایک فلم ’مائی مدرز برتھ ڈے‘ کی امریکا میں اسکریننگ ہوئی۔

یہ فلم ایشین فلم فیسٹول اور پاکستان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بھی ایوارڈ کے لیے منتخب ہوئی۔ ممتا جیسے انمول اور خوب صورت رشتے کے گرد گھومتی آٹھ منٹ دورانیے کی اس فلم میں سارے اداکار لیاری کے تھے۔ عدیل ولی کا کہنا ہے کہ کراچی اور پاکستان میں، میں نے ابھی تک کوئی ایسا فلم ساز نہیں دیکھا جو خاموش فلموں پر کام کر رہا ہو اور میں نے خود بھی ہالی وڈ سے متاثر ہوکر خاموش فلمیں بنانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے خاموش فلموں کے علاوہ2015ء میں ’شاہ‘ کے نام سے بننے والی ایک فیچر فلم کے لیے بہ طور معاون ہدایت کار کام کرنے کے ساتھ اس میں اداکاری بھی کی تھی۔ یہ فلم باکسنگ کے موضوع پر بنی تھی۔

لیاری میں فلموں کے لیے درکار وسائل کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ اس وقت لیاری میں چار پروڈکشنز ہاؤسز کام کر رہے ہیں، یہاں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن ہمیں اس کے لیے اپنی جیب بھی دیکھنی پڑتی ہے۔ ایک دل چسپ بات یہ ہے کہ پاکستانی فلمی صنعت کے زیادہ تر لوگ ہمارے پاس آتے ہیں کہ جی ہمیں ولین کے کردار کے لیے کوئی بندہ چاہیے ۔ وہ لیاری کو صرف بد معاشوں، گینگ وار کا گڑھ سمجھتے ہیں۔ میں اپنی ساری فلموں میں مثبت پیغام دیتا ہوں، جب میں نے ’’پوسٹر‘‘ بنائی تھی تو میرے ساتھ ایک چھوٹا لڑکا تھا اس نے بارہ انٹر نیشنل تھیٹر کیے، تھیٹر کے علاوہ اسے ’’عارفہ‘‘ نامی فلم میں اہم کردار آفر ہوا، لیکن بدقسمتی سے یہ فلم کچھ وجوہات کی بنا پر مکمل نہیں ہوسکی۔

ان کا کہنا ہے کہ فلم کا یہ میڈیم نسبتاً تھوڑا مشکل ہے، کیوں کہ خاموش فلم کا اسکرپٹ اس طرح بنانا پڑتا ہے کہ ہر کردار اپنی حرکات و سکنات سے ناظر تک اپنا پیغام موثر طریقے سے پہنچا سکے۔ مزاحیہ فلموں میں تو یہ کام نسبتاً زیادہ آسان ہے کہ کردار اپنی حرکتوں سے ناظرین کو ہنسا کر لوٹ پوٹ کردے، لیکن سماجی مسائل پر ایک لفظ کہے بنا اپنا پیغام ناظر تک پہنچانا تھوڑا مشکل کام ہے۔ میں نے اُردو میں بھی فلمیں بنائیں، جن پر کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ ایک بلوچ اُردو زبان میں کیسے فلم بنا سکتا ہے، لیکن میں اُردو زبان میں اس لیے بھی فلمیں بناتا ہوں کیوں کہ اس زبان کی وسعت بہت زیادہ ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم بھی اپنے کام کو بین الاقوامی مارکیٹ تک پہنچانا چاہتے ہیں، ہم ساری زندگی تو اپنی جیب سے فلمیں نہیں بناسکتے ناں! اگر لیاری کے فلم سازوں کو اچھے آلات اور فلم بنانے کا بجٹ ملے تو پھر آپ دیکھیں کہ صرف لیاری نہیں بل کہ پورے پاکستان کی فلمی صنعت کہاں سے کہاں پہنچ جائے گی۔

٭ عادل بزنجو

شرمیلی طبیعت اور دھیمے لہجے میں بات کرنے والے عادل بزنجو نے لیاری میں ہی جنم لیا۔ جامعہ کراچی سے فلم سازی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنا ذاتی پروڈکشن ہاؤس کھولا، جہاں وہ مختصر فلمیں، ٹی وی کمرشلز اور دستاویزی فلمیں بناتے ہیں۔ عادل بزنجو کا کہنا ہے کہ جامعہ کراچی میں فلم سازی کی تعلیم حاصل کرنے سے بہت پہلے ہی عملی طور پر اس شعبے سے وابستہ ہوگیا تھا، شروع میں ہم ڈبنگ کرتے تھے اس کے بعد مختصر اور دستاویزی فلمیں بنانی شروع کیں۔

ہمیں کبھی کسی ادارے نے سپورٹ نہیں کیا ہم دوست یا ر مل جل کر ہی یہ فلمیں بناتے ہیں، اسکریننگ کرتے ہیں۔ بلوچی زبان کی فلمی صنعت ابھی اتنی ڈیولپ نہیں ہوئی ہے کہ ہم فلمیں بناکر کچھ آمدنی حاصل کرسکیں۔ حال ہی میں ایک بلوچی فلم ’زراب‘ کی نیوپلیکس اور بحرین کے ایک سنیما میں اسکریننگ کی گئی جو کہ ہمارے لیے بہت خوش آئند بات ہے۔ بچپن ہی سے میری خواہش تھی کہ اپنی بات کسی طرح لوگوں تک پہنچا سکوں۔ 2014ء میں ہماری فلم ’اشتروشتی‘ کو آغا خان فلم فیسٹیول میں فکشن کی کٹیگری میں سارے ایوارڈ ملے، جب کہ ہماری ایک فلم ’جاور‘ کو بھی بحرین میں ہونے والے فلم فیسٹول ’’ناصر بن حماد یوتھ کریٹیویٹی ایوارڈفیسٹیول‘‘ میں پہلا انعام ملا۔ جہاں تک بات ہے فلم کی زبان کی تو ہماری اولین ترجیح تو اپنی مادری زبان بلوچی ہے، مگر ہم اُردو زبان میں بھی دستاویزی اور مختصر فلمیں بناتے ہیں۔

لیاری میں فلم سازی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ لیاری میں دس پندرہ سال جاری رہنے والی گروہی لڑائی نے یہاں کی بہت سی کہانیوں کو دبا دیا۔ یہاں کے نوجوانوں نے اپنے احساسات، مسائل اور اپنے تجربات کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کے لیے فلم کے میڈیم کا سہارا لیا۔ گروہی لڑائیوں کے دوران میڈیا نے لیاری کو خانہ جنگی کے شکار علاقے کے طور پر پیش کیا، جب کہ لیاری ا س کے برعکس ہے۔ یہاں کے لوگ فن کے قدر دان ہیں، ادبی رجحان بہت زیادہ ہے، اس علاقے کے بہت سے ادیب، دانش ور، کھلاڑی، باکسر دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں، لیکن میڈیا نے اس بات کو کبھی نہیں بتایا اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے اپنے شہر کے لوگ ہی لیاری میں آنے سے ڈرتے ہیں۔

٭نصیر بنسار

لیاری کے ابھرتے ہوئے اداکاروں میں ایک نام نصیر بنسار کا ہے۔ لیاری کی پہلی خاتون ہدایت کار نازنین بلوچ کی فلم ’لیاری، اے پریزن ود آؤٹ وال‘ میں ’بَھنڈ‘ کے کردار میں اس کی جان دار اداکاری نے اس نوجوان کے لیے نئے دروازے وا کردیے ہیں۔ ریپ موسیقی کے دل داہ نصیر بنسار اس سے پہلے علی گُل پیر اور پاکستان کے دیگر معروف گلوکاروں کے ساتھ بہ طور ریپر کام کرچکے ہیں، لیکن اداکاری کا موقع انہیں نازنین بلوچ نے فراہم کیا۔ لیاری میں فلم سازی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی بابت ان کا کہنا ہے کہ گینگ وار کے دنو ں میں لوگ کئی کئی دن گھروں میں محصور رہتے تھے تو ہم نوجوان وقت گزاری کے لیے موبائل فون کیمرے سے چھوٹے چھوٹے کلپ بنا کر ایک دوسرے کو بھیجتے تھے، جس سے نوجوانوں میں مختصرفلمیں بنانے کا رجحان بڑھا۔ اب آپ خود دیکھیں کہ مجھ سمیت کئی نوجوان گھر والوں کی سخت مخالفت کے باوجود اپنے شوق کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ہمارے لیے فلم ہی سب سے موثر ذریعہ ہے، جس کی مدد سے ہم اس تاثر کو ختم کرسکتے ہیں کہ جی لیاری صرف گینگ وار والوں کا نہیں بلکہ ایسے نوجوانوں کا علاقہ ہے جنہیں اگر موقع دیا جائے تو وہ فلم سازی میں دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرسکتے ہیں۔

٭ شہباز ملک

جامعہ اُردو سے میڈیا سائنسز میں بی ایس کرنے والے نوجوان شہباز ملک کا نام لیاری کے فلمی حلقوں کے لیے نیا نہیں ہے کیوں کہ میٹرک کرنے کے فوراً بعد ہی فلم سازی کی طرف آگئے تھے۔ اپنے اس شوق کی خاطر ابتدا میں گھر والوں کی مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ شہباز ملک کو تیکنیکی مہارت آسکر ایوارڈ یافتہ پاکستانی فلم ساز شرمین عبید چنائے کے ساتھ کام کرکے ملی۔ انہوں نے گذشتہ چند سال سے اپنے طور پر مختصر اور دستاویزی فلمیں بنانی شروع کیں۔ لیاری کے دوسرے فلم سازوں کی طرح شہباز بھی اس صنعت کے فروغ میں حکومتی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے نالاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم تعلیم کے ساتھ ساتھ نوکری کرکے فلمیں بنانے کے لیے پیسے جمع کرتے ہیں اور جب ایک مختصر فلم بنانے کے لیے پیسے جمع ہوجاتے ہیں تو پھر ہم فلم بنانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

ابھی تک بلوچی زبان میں ہی فلمیں بنائی ہیں لیکن آگے چل کر اُردو اور انگریزی میں فلمیں بنانا چاہتا ہوں کیوںکہ اپنے کام کو دنیا بھر میں پہنچانے اور بہتر ابلاغ کے لیے ضروری ہے کہ اس زبان میں فلم سازی کی جائے جس کی وسعت زیادہ ہو، لیکن بلوچی زبان کی ترویج میرا خواب ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میرا شمار بلوچی زبان کے ممتاز فلم سازوں میں کیا جائے۔ تمام تر نامساعد حالات کے باوجود ہم فلم سازی کر رہے ہیں، کیوں کہ جن حالات اور مسائل کا سامنا ہم لوگ کر رہے ہیں، انہیں اجاگر کرنے کے لیے باہر سے آنے والے لوگ اتنا اچھا کام نہیں کر سکتے۔

٭شریف رند

بتیس سال سے بلوچی فلموں میں کام کرنے والے شریف رند کا شمار لیاری کے سنیئر اداکاروں میں ہوتا ہے۔ 1986ء میں بلوچی زبان کی پہلی ٹیلی فلم طنز گیر سے اداکاری کا آغاز کرنے والے شریف رند سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ اپنے شوق کو بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس بابت ان کا کہنا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ خوش قسمت انسان وہ ہے جس کا شوق اس کا ذریعہ معاش بھی ہو۔ اگر مجھے اداکاری سے اچھی آمدن ہورہی ہوتی تو میں اپنی سرکاری ملازمت بھی چھوڑ دیتا۔ ماضی میں فلم سازی اتنا آسان کام نہیں تھا اور مجھے یاد ہے کہ جب پہلی بار اداکاری کی تو اس وقت ری ٹیک کی گنجائش نہیں ہوتی تھی، ایک سین کرنا ہے تو وہ ایک ہی ٹیک میں ہوگا۔ ایم فائیو کے وی سی آر پر پوری فلم بنتی تھی۔ اب تو جدید کیمروں اور سافٹ ویئرز کی بدولت ماضی کے برعکس فلم بنانا زیادہ آسان ہوگیا ہے۔

ہم لیاری والوں کے پاس فلم سازی کی اعلٰی تعلیم نہیں ہے، ڈپلومے نہیں ہیں، فلم سازی کے جدید آلات نہیں ہیں، لیکن عملی طور پر ہمیں فلم بنانے کا بہت وسیع تیکنیکی تجربہ ہے۔ 1986ء میں جب میں نے گھر والوں کو بتایا کہ میں فلم میں کام کررہا ہوں تو نہ صرف گھر والوں بلکہ دوستوں اور محلے والوں کی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اب لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔ ہماری نسل میں فلم سازی اور اس کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔

The post لیاری کی ’’فلمی صنعت‘‘ appeared first on ایکسپریس اردو.

شمائلہ؛ غم وہ کہ لہو کر دیں اندر سے ہمارا دل اپنوں کی ڈھائے ہوئے ستم کی کہانی

جس طرف نگاہ اٹھائیے کہانیاں بکھری ہوئی ہیں۔ چلتی پھرتی کہانیاں، زندہ افسانے اور سچی حکایتیں۔ اتنی کہانیاں کہ انسان کو سکتہ ہوجائے۔

ایسی کہانیاں جنھیں لکھتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہوجائیں، ہاتھ کانپنے لگیں، آنکھیں بھیگ جائیں، دل بند ہونے لگے اور ذہن ساتھ چھوڑ دے۔ قدم قدم پر حرص، طمع اور لالچ کی کہانیاں، رشتے ناتوں کی ناپائیداری کی داستانیں اور دل سوز حکایتیں۔

یہ بھی ایک ایسی ہی کہانی ہے۔ اس سماج کی کہانی جہاں انسان کی قدر و قیمت زر و زمین کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ جہاں خونیں رشتے بھی اپنی قدر و قیمت کھو دیں اور حقارت سے ٹھکرا دیے جاتے ہیں۔ بے حسی، خودغرضی، سفاکی اور فرعونیت کا شاہ کار سماج۔

میں اسے جانتا ضرور تھا اور بہت عرصے سے، کبھی کبھار اس سے بات بھی ہوجاتی تھی۔ اس دن میں اس کی بیمار بوڑھی ماں سے ملنے پہنچا۔ وہ آزردہ بیٹھی ہوئی تھی۔ میں نے اس کی خیریت دریافت کی تو اس کی آنکھیں سرخ ہوگئیں اور پھر اس نے ڈوبتی ہوئی آواز میں کہا: ’’بھائی جان میں بہت تھک گئی ہوں‘‘

میرے کیوں کیا ہوا۔۔۔۔ ؟ کے جواب میں اس نے اپنے عذاب دنوں اور سلگتی راتوں کا ذکر چھیڑا۔ جو کچھ مجھ پر بیتی وہ رہنے دیجیے۔ بہت ساری باتوں پر یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے مگر جب سب کردار ہماری آنکھوں کے سامنے جیتے جاگتے موجود ہوں تو پھر ان کی تکذیب نہیں کی جاسکتی۔ اس نے بزدلوں کی طرح نہیں، جواں مردوں کی طرح زندگی کا سامنا کیا۔ اس نے جن طوفانوں، آندھیوں اور رویوں کا مقابلہ کیا ہے ان کے سامنے بڑے بڑے جری ہمت ہار بیٹھتے ہیں۔

اس میں کمال کا ضبط اور صبر ہے۔ اتنے دکھ سہہ کر بھی وہ مسکراتی رہی ہے۔ اپنے آپ بیتی سناتے ہوئے اس کی آنکھیں نم ناک ضرور ہوئیں، اس کی آواز ضرور رندھ گئی مگر اس نے انھیں برسنے اور بے ترتیب نہیں ہونے دیا۔

مجھے سعود عثمانی یاد آئے۔ شاید اسی کے لیے انھوں نے یہ کہا تھا:

غم وہ کہ لہو کر دیں اندر سے ہمارا دل

ہم وہ کہ پگھل کر بھی آنسو نہ نکلنے دیں

گر وقت کے مرہم کا درماں نہ ملے کوئی

کچھ حادثے انسان کو برسوں نہ سنبھلنے دیں

آئیے شمائلہ سے ملیے اور دعا کیجیے کہ آنے والے دن اس کے لیے نوید مسرت ہوں۔ اس نے جو خواب دیکھے ہیں وہ مجسم ہوجائیں اور وہ اپنی یہ تلخ داستان بھول جائے۔

’’میں پنجاب کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئی۔ ہم چار بہنیں اور اکلوتا بھائی ہے۔ ہم اچھے کھاتے پیتے لوگ تھے۔ کچھ بڑی ہوئی تو اسکول میں داخل کردیا گیا۔ ہمارے گاؤں میں لڑکیوں کا اسکول جانا اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا، مگر میرے والد نے سب کی مخالفت مول لے کر ہمیں پڑھایا۔ دن اچھے گزر رہے تھے۔ ہم سارے لوگ چچا، تایا وغیرہ ایک خاندان کی طرح رہتے تھے۔

میں کچھ بڑی ہوئی تو معلوم ہوا کہ میرے والد نے اپنے خاندان سے باہر شادی کی ہے یعنی میری والدہ غیروں میں سے تھیں۔ اسی لیے چچاؤں اور تایا کے ساتھ ان کے اہل خانہ کا رویہ بھی میری والدہ کے ساتھ اچھا نہیں تھا۔ انھیں ہر وقت یہ سننے کو ملتا کہ وہ غیر خاندان کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں خاندانی امور کے فیصلوں کے وقت الگ رکھا جاتا تھا۔ خیر، پھر بھی وقت اچھا گزر رہا تھا۔ میں آٹھویں میں تھی کہ اچانک میرے والد کا انتقال ہوگیا۔ ہم پر تو قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔ ہم ذہنی طور پر اتنے بڑے حادثے کے لیے تیار ہی نہیں تھی۔ خیر سہارا تھا کہ ہمارے چچا ہیں، تایا ہیں، ہم بے سہارا نہیں ہیں۔ اور کچھ دن تو ہمیں یونہی محسوس بھی ہوا۔

لیکن یہ خواب جلد ہی بکھر گیا اور آہستہ آہستہ ہمارے نصیب سونے لگے اور پھر وہ وقت بھی آیا جب ہم اور ہماری والدہ اس جگہ ایسے رہنے لگے جیسے کوئی ہمیں جانتا ہی نہ ہو۔ سب بیگانے ہوگئے، رشتے ناتے ختم اور آنکھوں کا پانی جاتا رہا۔ ہمیں ہر وقت جھڑکیاں ملتیں، طعنے ملتے، اسکول جانا بند کردیا گیا۔ سب کچھ ہوتے ہوئے ہمیں محروم کردیا گیا۔ ایک دن تنگ آکر میری والدہ نے میرے تایا سے کہا کہ ہمیں علیحدہ کردیں اور ہمارے حصے کی جائیداد ہمیں دے دیں تاکہ ہم سکون سے رہ سکیں۔ پھر کیا تھا، ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا گیا اور پھر جو تشدد ہم پر شروع ہوا وہ ناقابل بیان ہے۔

اس دن تو ہم پر سورج سوا نیزے پر آگیا جب ہمیں گاؤں کے ایک شخص نے آکر بتایا کہ ہمارے اکلوتے بھائی کے قتل کا منصوبہ بنایا گیا ہے اس لیے ہمیں کہیں اور چلے جانا چاہیے۔ ہمارا بھائی اس وقت بی ایس سی کرچکا تھا اور کئی مرتبہ چچاؤں کے تشدد کا شکار ہوا تھا۔ میری والدہ نے تایا سے کہا کہ ہمیں کچھ نہیں چاہیے بس ہمیں یہاں سے جانے دیا جائے۔ انھوں نے کاغذات بنوائے، ہم سب سے دست خط لیے اور ہم ہنستے بستے لوگ اجڑ گئے۔ مجھے وہ دن یاد ہے جب ہم نے گاڑی میں اپنے چند اٹیچی کیس رکھے اور پورا بھرا پُرا گھر چھوڑ کر راول پنڈی پہنچے۔ لوگ تو انڈیا سے ہجرت ہندوؤں کی وجہ سے کرکے یہاں آئے تھے ہمیں ہمارے اپنوں نے ہجرت پر مجبور کردیا۔

راول پنڈی میں میرے بھائی کے ایک دوست رہتے تھے اور امی کے ایک رشتے دار بھی تھے۔ امی کے رشتے داروں نے کچھ ساتھ دیا اور کچھ کا خیال تھا کہ غیروں میں شادی کرنے کا یہی انجام ہوتا ہے۔ کچھ عرصے بعد ہم کراچی آگئے۔ راول پنڈی تو چھوٹا سا شہر ہے۔ روزگار بھی کم تھا۔ ہمیں تو زندگی کی ابتدا کرنی تھی، جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا۔ اب رونے دھونے سے کیا حاصل تھا۔ اس لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ کراچی چلنا چاہیے۔ اب مسئلہ تھا کہ کیسے انتظام کیا جائے۔ مجھے یاد ہے کہ ہم نے اپنے نئے کپڑے، پلنگ کی چادریں اور اپنا زیور بیچ دیا اور یوں ہم کراچی پہنچ سکے۔

سب سے زیادہ تو ہمارا بھائی ہمارے لیے مسئلہ بن گیا۔ ہر وقت اس کے سر پر غصہ سوار رہتا۔ ہمارے پاس کھانے کے لیے پیسے نہیں تھے، وہ اپنے خرچ کے لیے پیسے مانگتا۔ ہم کہتے جاکر کہیں نوکری کرلو تو کہتا تم بہنیں کس لیے ہو۔ تمہاری وجہ سے تو یہ سارا عذاب آیا ہے۔ ہمارے پاس پیسے نہ ہوتے تو وہ ہمیں کمرے میں بند کرکے مارنا شروع کرتا۔ اس کی ایک رٹ ہوتی، ’’مجھے تمہاری وجہ سے یہ دن دیکھنے پڑے ہیں۔‘‘ ہم کراچی پہنچے تو یہاں ایک دور کے رشتے دار تھے، انھوں نے میزبانی کی اور کرائے کا گھر لے دیا۔ ہمارے سامنے والے گھر میں ایک بہت اچھی خاتون رہتی تھیں۔ انھیں جب ہمارے گھر کا حال معلوم ہوا تو انھوں نے ایک سلائی مشین ہمیں دے دی اور ہم نے محلے والوں کے کپڑے سینا شروع کردیے۔

میری والدہ کو سینا پرونا آتا تھا۔ انھوں نے ہمیں بھی سکھایا اور یوں زندگی کی گاڑی چلنا شروع ہوئی۔ بھائی کا رویہ اتنا خراب تھا کہ ہم رات کو بھی ڈر کے مارے نہیں سو سکتے تھے۔ وہ ایک نفسیاتی مریض بن گیا تھا اور ہمارے بس سے باہر تھا۔ ہم اتنی محنت کرتے وہ اچھے اچھے کپڑے پہن کر گھومتا۔ اس نے دوست بنالیے تھے ان میں اس کا وقت گزرتا، رات گھر لوٹتا تو دن بھر کی جمع پونجی پر قبضہ کرلیتا۔ ہم نے اپنے بھائی سے بڑا ظالم نہیں دیکھا۔ اس کی وجہ سے ہمارے رشتے نہ ہوسکے۔ آس پاس کی خواتین تین چار مرتبہ رشتہ لے کر آئیں تو اس نے انھیں بھی بے عزت کرکے گھر سے نکال دیا۔

اس کا کہنا تھا یہ ساری عمر کمائیں گی اور میں کھاؤں گا۔ آپ نے کبھی ایسا بھائی بھی دیکھا ہے؟ میری سب سے بڑی بہن لاہور میں رہتی ہیں، وہ لاہور چلا گیا۔ ہمارے بہنوئی اچھے آدمی ہیں اور ان کا چھوٹا سا کاروبار ہے۔ ایک دن انھوں نے کسی کی امانت ڈیڑھ لاکھ روپے گھر میں لاکر رکھی۔ رات کے وقت میرے بھائی نے وہ پیسے چرائے اور کہیں چلا گیا۔ چار سال ہوگئے ہیں اس کا کچھ پتا نہیں ہے کہ وہ کہاں ہے؟ میرے بہنوئی کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ اتنی بڑی رقم وہ کہاں سے لاتے۔ انھوں نے گھر کا سب کچھ بیچ دیا اور وہ امانت ادا کی۔ چار سال ہوگئے ہیں مگر میرے بہنوئی اب بھی وہ زخم نہیں بھولے۔ اسی وجہ سے ان کا چھوٹا سا کاروبار تباہ ہوگیا۔ لیکن وہ بہت اچھے انسان ہیں، زبان سے کبھی نہیں بولے۔ اسی دوران ہماری سب سے چھوٹی بہن کا رشتہ آگیا اور ہم نے اس کی شادی کردی ہے۔ اب ہم دو بہنیں اپنی والدہ کے ساتھ رہتی ہیں۔

سلائی کا کام تو امی سے سیکھا اور پھر ایک گارمنٹس فیکٹری میں پانچ ہزار ماہانہ پر کام شروع کیا۔ جب مجھے سلائی اچھی طرح آگئی تو میں نے لیدر کی جیکٹ سینا شروع کیں۔ ہم پیس ریٹ پر یہ کام کرتے تھے۔ اس پر بھی بھائی نے اعتراض کیا تھا کہ یہ رات گئے تک آتی ہیں۔ اب تو ہم فیکٹری میں ملازم تھیں اور اوور ٹائم بھی کرنا پڑتا تھا۔ رات گئے تک رکنا بھی پڑتا تھا۔ مگر ہمارا بھائی عذاب بن گیا تھا، کیا کرتے، آخر تھک ہار کر گھر میں بچوں کو قرآن شریف اور ٹیوشن پڑھانا شروع کیا۔ اس میں اتنی آمدنی نہیں تھی۔ بھائی نے اس پر بھی پھر ہنگامہ کھڑا کیا کہ پیسے کم ہیں، خرچ پورا نہیں ہوتا تو میں نے پھر سے گارمنٹس فیکٹری کا کام شروع کیا اور بڑی بہن نے دواؤں کی کمپنی میں پیکنگ شروع کی۔ تفصیل بہت لمبی ہے، بہت سے کام کیے۔ لیکن اﷲ کا بہت احسان ہے، لوگ اچھے ملے۔ پھر بھائی بڑی بہن کے پیسے لے کر کہیں بھاگ گیا اور یوں ہم اکیلے رہ گئے۔

ہمارے اس منافق معاشرے میں بغیر مرد کے رہنا بہت مشکل ہے۔ مگر سچ پوچھیں تو ہم اس اکیلے پن کے عادی ہوگئے ہیں کم از کم ہم پر تشدد تو نہیں ہوتا۔ لوگ اچھے بھی ہیں اور بُرے بھی۔ ہم انھیں ٹھیک تو نہیں کرسکتے اور نہ انھیں اپنی بات پر قائل کرسکتے ہیں۔ لیکن ہم نے خود سے عہد ضرور کر رکھا ہے کہ خواہ کچھ بھی ہوجائے ہمت نہیں ہاریں گے۔ ہم نے دیکھا ہے، اگر آپ ہمت کرلیں تو خدا آپ کی ضرور مدد کرتا ہے۔ ہمیں تو اپنا بھائی بہت یاد آتا ہے۔ کچھ بھی تھا، وہ ہمارا بھائی ہے۔ وہ جہاں رہے خوش رہے۔ میری امی اس کی یاد میں سوکھ کر کانٹا ہوگئی ہیں لیکن وہ بہت باہمت ہیں۔ انھوں نے سب لوگوں کے طعنے سنے، ستم جھیلے مگر ہمت نہیں ہاری، اب بھی ہم تینوں ماں بیٹیاں بیٹھ کر اسے یاد کرتے ہیں۔ کسی نے ہمیں بتایا تھا کہ وہ بنکاک میں ہے اور کوئی کام کرتا ہے۔ اس نے بھی ہم سے رابطہ نہیں کیا۔

ان حالات میں انسان مایوس ہوجاتا ہے، اس کا ہر شے پر سے اعتبار ختم ہوجاتا ہے۔ وہ ہر وقت خوف زدہ رہتا ہے۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ میں کسی سے گفت گُو نہیں کرتی، صرف کام کی حد تک رہتی ہوں۔ ہر وقت بے چینی رہتی ہے۔ میں کسی پر اعتبار نہیں کرتی۔ کسی سے توقعات نہیں باندھتی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ مجھ میں ہمت بھی پیدا ہوئی۔ میں خاموش ضرور رہتی ہوں مگر حالات سے نہیں گھبراتی۔ اور یہ سوچتی ہوں کہ یہی زندگی ہے۔ ہم سے جس قدر بھی ہوسکے اسے خوش گوار بنانا چاہیے، میں کسی کی تکلیف پر بہت زیادہ دکھی ہوجاتی ہوں۔

بس عجیب و غریب ہوگئی ہوں۔ بیٹھے بٹھائے آنسو بہنے لگتے ہیں۔ لیکن خدا کو یاد کرتی ہوں اور پھر اسے اﷲ کی رضا سمجھ کر مطمئن ہوجاتی ہوں۔ مجھے غصہ نہیں آتا۔ دیکھیے انسان غصہ اس وقت کرتا ہے جب اسے کوئی منانے والا ہو۔ آپ اگر خفا ہوجائیں تو کوئی تو منانے والا ہوگا ناں۔ ہمارا کون ہے؟ اس لیے نہ ہی ناراض ہوتی ہوں اور نہ ہی غصہ کرتی ہوں۔ ماں اور ہم بہنوں میں بہت اچھے اور مضبوط رشتے ہیں۔ ہمارا دکھ سانجھا ہے اور جب دکھ مشترک ہو تو محبت بہت پائیدار ہوتی ہے۔ ہم نے یہیں پر رشتے ناتے، تعلقات اور دنیا کی ناپائیداری دیکھی ہے۔ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی محرومی دیکھی ہے۔ ہم نے خون سفید ہوتے دیکھا ہے۔ اب ہم اور کیا دیکھیں گے ہم تو زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں۔ ایسے میں بھی لڑیں جھگڑیں تو زندگی مزید عذاب ہوجائے گی۔

مستقبل کے بارے میں سوچتی ہوں۔ پچھلے دنوں ایک رشتہ بھی آیا ہے۔ اﷲ نے چاہا تو بات بھی ہوجائے گی۔ آج کل یہ سوچتی ہوں کہ آگے کیا ہوگا؟ تیاری کیسے ہوگی؟ امی اور بڑی بہن کا سوچتی ہوں کہ ان کا کیا ہوگا؟ ہم نے کچھ رقم جمع کی تھی کہ اچانک والدہ کی طبیعت خراب ہوگئی اور انھیں اسپتال میں داخل کرنا پڑا اور یوں وہ رقم ان کی بیماری کی نذر ہوگئی۔ میں ایک فیکٹری میں کام کرتی ہوں، وہاں پر کام بند ہوگیا ہے اور یوں میں بے روزگار ہوگئی ہوں۔ صرف بڑی بہن ایک فیکٹری میں کام کرتی ہیں۔ اس سے کچھ گزارا ہو رہا ہے۔ مجھ سے بڑی بہن کا رشتہ نہیں آیا۔ ان کی عمر بھی اتنی زیادہ ہوگئی تو ان کے کیے بہت فکرمند ہوں کہ وہ کیا سوچتی ہوں گی؟

اب میری شادی کی بات چل رہی ہے اور ہم نے انہیں اپنی مالی حیثیت کے بارے میں سب کچھ بتادیا ہے مگر سفید پوشی بھی بہت مصیبت ہے۔ نہ آدمی کچھ کہہ سکتا ہے اور نہ ہی برداشت کرسکتا ہے۔ کچھ نہ کچھ تو ضرور کرنا ہوگا۔ اﷲ پر بھروسا ہے، وہی سب کچھ بہتر کرے گا، جس نے اتنے کٹھن حالات میں پالا ہے، سہارا دیا ہے ہمت دی ہے اب بھی وہی ہے اور اس کا سہارا ہی حقیقی سہارا ہے۔ انسان اچھے خواب دیکھتا ہے۔ میں ابھی اچھے خواب دیکھتی ہوں۔ اچھے دنوں کے خواب۔ اﷲ ضرور یہ دن پھیرے گا۔ ہمیشہ تکالیف اور دکھ تو نہیں رہیں گے اس سے مایوس ہونا تو کفر ہے۔ سب سے بڑا اور مضبوط سہارا تو خدا کا ہے۔ جب مشکلات آئیں تو گھبرائیے نہیں، ہمت کیجیے۔ جو لوگ ہمت سے، محنت سے حالات کا مقابلہ کرتے ہیں وہ انھیں مایوس نہیں کرتا۔ صرف خدا پر بھروسا کیجیے۔

The post شمائلہ؛ غم وہ کہ لہو کر دیں اندر سے ہمارا دل اپنوں کی ڈھائے ہوئے ستم کی کہانی appeared first on ایکسپریس اردو.

خوابوں کی تعبیر

گھر میں صحت مند بیل
اسماء خان، اسلام آباد

خواب: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں کالج سے واپس آتی ہوں تو دیکھتی ہوں کہ گھر کے صحن میں ایک موٹا تازہ بیل بندھا ہے اور سارے گھر والے اس کے گرد جمع ہیں۔ میں حیران ہو کر پوچھتی ہوں کہ ابھی تو عید قربان بہت دور ہے تو پھر یہ بیل کیوں لے لیا ۔ اس پہ میرے والد خوشی سے بتاتے ہیں کہ ان کو یہ بہت سستا ملا ہے ،اس لئے انہوں نے خرید لیا ۔ سارے گھر والے بہت خوش ہو رہے ہوتے ہیں اور مستقبل کے لئے کوئی منصوبہ بندی کر رہے ہوتے ہیں کہ اب اگلی دفعہ ہم کو کچھ بھی نہیں لینا پڑے گا اور اس کی دیکھ بھال کریں گے تو یہ اچھا تندرست بھی رہے گا جبکہ وہ پہلے ہی سے کافی صحت مند ہوتا ہے۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر : اچھا خواب ہے جو اس بات کو دلیل کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ کے جاہ وجلال میں اضافہ ہو گا ۔ آپ کی عزت و توقیر میں اضافہ ہو گا ۔ رزق کی فراوانی اور کاروبار میں برکت کو ظاہر کرتا ہے ۔ دولت کے حصول میں آسانیاں ہوں گی جس سے آپ کے مال و وسائل میں بھی بہتری آئے گی ۔آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یاحی یا قیوم کاورد کیا کریں۔

اپنی شادی ہوتے دیکھنا
لبنیٰ قیوم ، لاہور

خواب: میں نے خواب دیکھا کہ میری شادی ہو رہی ہے۔ گھر میں خوب ہنگامہ ہوتا ہے اور میرے سارے کزنز و رشتہ دار سب ہوتے ہیں۔ گھر میں کافی رونق ہوتی ہے ۔ پھر نکاح کے لئے سب گھر کے مرد اندر آتے ہیں اور مجھ سے نکاح نامے پر دستخط کرواتے ہیں۔ اس کے بعد رخصتی ہو جاتی ہے اور میں گاڑی میں سوار ہو کر اپنے سسرال چلی جاتی ہوں ۔ پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر: اس خواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ نہ کرے کسی پریشانی غم یا خوف کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اللہ نہ کرے آپ بیمار بھی ہو سکتی ہیں ۔ گھر میں رکاوٹ یا بندش بھی ہو سکتی ہے ۔ اس طرح کاروبار میں کوئی کمی یا نقصان کا خطرہ ہو سکتا ہے ۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے ہر نماز کے بعد استغفار بھی کیا کریں ۔ آپ کچھ صدقہ و خیرات بھی کریں۔

ہوا میں اڑنا
توقیر رسول ، لاہور

خواب : میں نے دیکھا کہ میں رات اپنی چھت پہ سو رہا ہوتا ہوں پھر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں آسمان کی طرف اڑ رہا ہوں اور اپنے آپ کو ایسا نظر آتا ہوں کہ جیسے اس دنیا کی بجائے نہ جانے کسی اوپر والے جہاں میں سفر کر رہا ہوں ۔ میں نیچے دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں تو مکانات اور دیگر اشیاء بہت چھوٹی نظر آتی ہیں ۔ میں فضا سے پھر نیچے آنا شروع ہو جاتا ہوں تو دوبارہ اپنے گھر کی چھت پہ ہوتا ہوں ۔

تعبیر: اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ کی مہربانی سے آپ کے درجات میں بلندی آئے گی اور رزق میں اضافہ بھی ہو گا جس سے مال اور وسائل میں برکت ہو گی ۔ آپ کوشش کریں کہ نماز پنجگانہ کی پابندی کیا کریں اور کثرت سے یاحی یا قیوم کا ورد بھی جاری رکھیں ۔

زلزلے سے ڈر کربھاگنا
سارہ حنیف، گوجرانوالہ

خواب : میں نے خواب دیکھا کہ میں اپنے ایک دوست کے گھر میں ہوں ۔ میری ایک دوست کی سالگرہ کا فنکشن ہے اور میری تمام سہیلیاں اس کے گھر میں موجود ہیں۔ اچانک مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میری کرسی ہل رہی ہے۔ میں اپنی دوسری دوست کی طرف دیکھتی ہوں تو وہ کہتی ہے کہ زلزلہ آرہا ہے۔ اس پہ ہمارے گروپ کی ایک دو لڑکیاں جو زلزلے سے بہت خوف زدہ ہوتی ہیں چیخنا شروع کر دیتی ہیں اور باہر کی طرف بھاگتی ہیں ۔ میں بھی باقی سب دوستوں کے ساتھ باہر کی طرف لپکتی ہوں ۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔

تعبیر:۔ اس خواب سے ظاہر ہو تا ہے کہ اللہ نہ کرے کسی پریشانی یا مشکل کا اچانک سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ کسی اچانک بیماری کو بھی دلیل کر سکتا ہے جس سے ناگہانی پریشانی یا غم کا سامنا ہو سکتا ہے ۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے ہر نماز کے بعد استغفار بھی کیا کریں اور کچھ صدقہ و خیرات بھی کریں ۔

شیر پلاٹ میں سو رہا ہے
چودھری احمد علی، رحیم یار خان

خواب-:میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے گھر کے ساتھ ایک پرانا خالی پلاٹ ہے اور اس پلاٹ کے اندر ایک شیر سو رہا ہوتا ہے۔ میں اس پلاٹ کے قریب جاتا ہوں اور شیر کو دیکھ کر خوفزدہ ہوتا ہوں ۔ میں اس کے انتہائی قریب جاتا ہوں اور محسوس کرتا ہوں کہ شیر گہری نیند  سو رہا ہوتا ہے پھر میں ایک دکان سے کچھ چیزیں خرید کر واپس گھر جاتا ہوں اور  تسلی کرتا ہوں کہ شیر  ابھی سو رہا ہوتا ہے ۔ پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر-:یہ خواب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ نہ کرے کوئی پریشانی آسکتی ہے، کوئی قریبی رشتہ دار یا دوست دشمنی کرنے کی کوشش کرے گا مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے آپ محفوظ رہیں گے۔ کاروبار میں بھی کمی ہو سکتی ہے۔ آپ کے مال اور وسائل میں بھی کمی آ سکتی ہے۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور ہر نماز کے بعد کثرت سے یا سلام یا حفیظ کا ورد بھی کیا کریں اور ہر منگل یا ہفتہ کو کالے ماش، کالے چنے یا کالا کپڑا اپنے اوپر سے وار کر کسی مستحق کو دے دیں۔

سسرآم دیتا ہے
فردوس، ملتان

خواب-: میں نے دیکھا کہ میں اپنی بیوی کو ملنے کے لئے گاؤں جاتا ہوں، میرے سسر بھی وہاں ہوتے ہیں وہ مجھے وہاں پر دیکھ کربہت خوش ہوتے ہیں، بچے بھی آ جاتے ہیں۔ میرے سسر اپنے ملازم سے آموں کی دو پیٹی منگوا کر مجھے دیتے ہیں اور خود بس سٹینڈ پر آتے ہیں۔ ان کا ملازم بھی ساتھ تھا جس نے دونوں آموں کی پیٹیاں اٹھائی ہوئی تھیں۔ پھر میرے سسر  نے دونوں آموں کی پیٹیاں بس کے اندر رکھ دیں اور ہم بھی بچوں کے ساتھ بس میں بیٹھ جاتے ہیں ۔ پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر-: اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے اگر آپ کی بیگم حاملہ ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو بیٹے سے نوازے گا۔ گھر میں آرام اور سکون ملے گا۔ کاروبار میں ترقی ہو گی ۔ آپ کے رزق میں اضافہ ہو گا۔ آپ کے مال اور وسائل میں بھی بہتری آئے گی ۔ کسی بزرگ سے آپ کو روحانی فیض بھی مل سکتا ہے۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثر ت سے یاشکور یا حفیظ کا ورد بھی کریں ۔ اگر ہو  سکے تو کچھ صدقہ اور خیرات بھی کریں۔

دروازے پر پردہ
افسری بیگم ساہیوا ل

خواب: میں نے خواب میں دیکھا کہ کچھ سودا خریدنے کے لئے بازار جاتی ہوںاور جب میں سامان خرید کر بازار سے واپس آتی ہوں تو میں نے دیکھا کہ میرے گھر کے دروازے کے اوپر ایک خوبصورت پردہ پڑا ہوا ہوتا ہے۔ میں اس پردے کو دیکھ کر بہت پریشان ہو جاتی ہوں کہ کس نے پردہ ڈالا ہے، میں نے تو کبھی بھی دروازے پر پردہ نہیں لگایا تھا۔ مگر آج نہ جانے میرے گھر کے دروازے کے اوپر پردہ کون لگا گیا۔ میں اسی پریشانی میں سوچ رہی ہوتی ہوں تو پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر: خواب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ نہ کرے کوئی پریشانی خوف یا غم درپیش ہو سکتا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی کاروباری راز پوشیدہ نہیں رہے گا۔ کچھ باتوں سے آپ کو کچھ حاصل نہیں ہو سکتا ۔ آپ کے مال اور وسائل میں کمی آسکتی ہے آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں ۔ رات کو سونے سے پہلے نبی کریمؐ کی سیرت پاک کا مطالعہ کیا کریں اور کچھ اللہ کی راہ میں صدقہ خیرات کریں۔

کپڑوں پر غلاظت دیکھنا
چودھری اعجاز احمد،ملتان

خواب: میں نے چند دن پہلے دیکھا اور کافی پریشان ہوگیا۔ خواب کچھ  یوں ہوتا ہے کہ میں دفتر جانے کے لئے اپنے کمرے کی الماری سے کپڑے نکالتا ہوں اور یہ دیکھ کر پریشان ہوتا ہوں کہ میرے ایک سفید رنگ کے سوٹ کے اوپر گندگی اور غلاظت لگی ہوتی ہے۔ قمیض اور شلوار بھی کافی زیادہ غلاظت سے بھری ہوتی ہے۔ پریشان ہوجاتا ہوں کہ یہ گندگی کہاں سے ان کپڑوں کے اوپر لگ گئی۔ میں اسی سوچ میں ہوتا ہوں کہ میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر : یہ خواب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ نہ کرے کوئی پریشانی آ سکتی ہے اور کسی طرف سے کوئی الزام بھی لگایا جا سکتا ہے جس سے آپ کی عزت اور وقار کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔  کاروبار میں بھی کمی آسکتی ہے جس سے مال اور وسائل میں بھی کمی ہو سکتی ہے۔ گھر میں پریشانی وغیرہ آسکتی ہے۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کریں اورکثرت سے ہر نماز کے بعد استغفار بھی کیا کریں اور کچھ صدقہ و خیرات بھی کریں۔

بلندی سے گرنا
ناہید خانم۔ سوات

خواب:۔میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک پہاڑ پر بیٹھی ہوں۔ پہاڑ کے ایک طرف سمندر ہے اور دوسری طرف آبادی ہے۔ میں آبادی کی طرف جانا چاہتی ہوں اور اٹھ کر آہستہ آہستہ اترنے لگتی ہوں اور اچانک ایک سانپ میرے ہاتھ پر گر جاتا ہے۔ میں ایک دم ڈر جاتی ہوں کہ کہیں مجھے کاٹ نہ لے۔ یہ سوچ کر میں تیزی سے قدم بڑھاتی ہوں مگر پھسل جاتی ہوں اور تیزی سے نیچے گرنے لگتی ہوں۔ اس کے ساتھ ہی میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر:۔کئی دفعہ کھانا دیر سے کھانے سے معدہ میں رطوبت جمع ہو جاتی ہے اور درد اور گیس کا باعث بنتی ہے اور کبھی ہضم اور قبض کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ صبح ہلکی اور موسمی غذائیں استعمال کریں۔ موسم تبدیل ہو رہا ہے۔ اس لیے دیر سے کھانا مت کھائیں، جلدی کھائیں اور زود ہضم غذائیں استعمال کریں۔

لڑکی کو مارنا
وحید احمد۔ سرگودھا

خواب:۔میں نے کل رات خواب میں ایک لڑکی دیکھی جو کہ میرے ساتھ باغ میں چہل قدمی کر رہی تھی۔ اچانک ایک دم سے کہیں سے کچھ لوگ نمودار ہوتے ہیں اور اس کو پکڑ کر مارنا شروع کر دیتے ہیں۔ میں اس وقت بہت ڈر جاتا ہوں اور ایک درخت کے پیچھے چھپ جاتا ہوں۔ کافی دیر بعد جب سب لوگ چلے جاتے ہیں تو میں باہر نکلتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ وہ لڑکی مر چکی ہے۔ یہ دیکھ کر میں احساسِ ندامت، ڈر اور خوف کے ساتھ بھاگ جاتا ہوں۔ جب میں گھر پہنچتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ وہی لڑکی میری والدہ کے ساتھ بیٹھی باتیں کر رہی ہوتی ہے۔

تعبیر:۔آپ کے خواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کسی کی طرف ملتفت ہیں اور اس کے حصول میں بظاہر ناکام ہوئے ہیں۔ صحیح قدم اٹھانے اور صحیح ذرائع استعمال کرنے سے یہ سب رکاوٹیں دور ہو سکتی ہیں۔آپ نماز پنجگانہ کی پابندی کریں اور یاحی یاقیوم کا ورد کریں۔ حسب توفیق صدقہ و خیرات کا اہتمام کریں۔

سونے کی انگوٹھی
سمیرا بتول، لاہور

خواب؛۔ میں نے خواب دیکھا کہ میں اپنے سسرال میں ہوں اور کچھ دن گزارنے اپنی امی کے گھر جانے والی ہوں جب شام کو میرے میاں گھر آتے ہیں تو میرا سامان پیک دیکھ کر ایک لفافہ مجھے دیتے ہیں ۔ میں جلدی میں اس کو کھول کر نہیں دیکھتی بلکہ سامان میں رکھ دیتی ہوں اور جب امی کے گھر ایک دن میری نظر اس پر پڑتی ہے تو میں کھول کر دیکھتی ہوں تو اس میں سونے کی ایک انگوٹھی ہوتی ہے ۔ میں اسے دیکھ کر بہت خوش ہوتی ہوں اور اپنے میاں کو فون کرکے ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔

تعبیر:۔ اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی و فضل سے آپ کی عزت و توقیر میں اضافہ ہوگا ۔ جس سے گھر میں آرام و سکون کی فراوانی ہوگی۔ اس سے کاروبار میں برکت بھی مراد ہو سکتی ہے۔ آپ کوشش کریں کہ نماز پنجگانہ کی پابندی کریں اور کثرت سے یاحی یاقیوم کا ورد بھی کیا کریں۔ رات کو سونے سے قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک کا مطالعہ کیا کریں ۔

سورج کی روشنی کم ہوتے دیکھنا
محمد عنایت، لاہور

خوا ب ؛ میں نے خواب دیکھا کہ میں اپنی فیملی کے ساتھ اپنے گاؤں چھٹیا ں گزارنے گیا ہوا ہوں اور ایک دن میں اپنے کزنز کے ساتھ کھیتوں میں سیر کو جاتا ہوں، وہاں ہم تقریباً پورا دن گزارتے ہیں اور کھاتے پیتے مزے کرتے ہیں ۔ پھر میرے کزنز وہیں موجود ڈیرے پر چارپا ئیوں پر نیم دراز باتیں کرنے لگ جاتے ہیں۔ میں ذرا چلتا ہوا آگے کھیتوں کی طرف جاتا ہوں ، وہاں میری نظر سورج ڈوبنے کے منظر پر پڑتی ہے ۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے اس کی روشنی مدھم ہو رہی ہو ۔ مجھے یہ اپنا وہم لگتا ہے اور میں غور سے دیکھتا ہوں مگر واقعی سورج آہستہ آہستہ نیچے کی طرف جا رہا ہوتا ہے اور اس کی تمازت تیزی سے ختم ہو رہی ہوتی ہے۔ یہ دیکھ کر میں ڈیرے کی طرف بھاگتا ہوں کہ اپنے کزنز کو بلاؤں ، مگر اس کے ساتھ ہی میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر:۔ خواب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ نہ کرے کوئی ناگہانی مصیبت یا پریشانی آسکتی ہے ۔ یا مالی طور پر مفلسی کا دورہ ہو سکتا ہے ۔ کاروبار میں نقصان کا بھی احتمال ہے ۔ اگر ملازمت ہے تو اس میں بھی مسائل کا سامنا درپیش ہو سکتا ہے ۔ آپ کوشش کریں کہ نماز پنجگانہ کی پابندی کریں اور کثرت سے ہر نماز کے بعد استغفار بھی کیا کریں اور صدقہ و خیرات لازمی کریں ۔

کمرے کی صفائی
توصیف شہزاد ، لاہور

خواب ؛ میں نے دیکھا کہ میں شام کو دفتر سے گھر آتا ہوں تو میرا کمرہ کافی صاف ستھرا ہوتا ہے ۔کافی چیزوں کی سیٹنگ تبدیل کی گئی ہوتی ہے ۔ میں دل میں سوچتا ہوں کہ شائد امی نے اس کمرے کی خاص تفصیلی صفائی کرائی ہے ۔ سب سے زیادہ مختلف مجھے اپنا بستر لگتا ہے جو کہ بالکل سفید ہوتا ہے کیونکہ ہمارے گھر میں زیادہ تر بستروں پر رنگدار چادریں استمال ہوتی ہیں ۔ سفید رنگ کا بستر مجھے بھی کافی اچھا لگتا ہے اور میں اس پر لیٹ جاتا ہوں۔ پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر:۔ یہ خواب اچھا ہے اور اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے گھریلو یا کاروباری معاملات میں آپ کی عزت و توقیر میں اضافہ ہوگا ۔ حتی کہ خاندان میں بھی نیک نامی بڑھے گی ۔ آپ نماز پنجگانہ کی پابندی کیا کریں اور کثرت سے یاحی  یاقیوم کا ورد کیا کریں۔

تلاوت کرنا
اسماء علی ، لاہور

خواب ؛۔ میں نے خواب دیکھا کہ ہمارے کالج میںکوئی فنکشن ہو رہا ہے جس میں لوگ اسٹیج پہ بلا کے باقی لوگوں کو مجبور کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ بھی کچھ پڑھیں یا گائیں ۔ جب میری سہیلیاں میرا نام پکارتی ہیں تو میں وہاں جاکر اونچی آواز میں قرآن پاک کی تلاوت شروع کردیتی ہوں ۔ کیونکہ میری آواز کافی اچھی ہے (میں گھر میں بھی نعت خوانی کرتی رہتی ہوں) اس وقت سبھی  لوگ میری تعریف کرتے ہیں اور میری ٹیچر باقاعدہ مجھے بلاکر مبارک دیتی ہیں ۔ اس کے بعد میر آنکھ کھل جاتی ہے۔ برائے مہربانی مجھے اس کی تعبیر بتا دیں۔

تعبیر:۔ بہت اچھا خواب ہے جو اس بات کو دلیل کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ نیکی کی طرف مائل ہوں گی اور قرآن پاک کی تلاوت کا شوق بھی رہے گا ۔ یہ بہت خوشی کی بات ہے کیونکہ اس سے دل کو سکون حاصل ہوگا۔ آپ کوشش کریں کہ نماز پنجگانہ کی پابندی کریں اور روزانہ سورۃ البقرہ کی تلاوت کریں چاہے چند آیات یا ایک صفحہ ہی پڑھیں مگر روزانہ اس کو معمول بنالیں ۔ کثرت سے یاحی یاقیوم کا ورد کیا کریں۔

زعفران کے پودے
ثناء ابراہیم ، لاہور

خواب :۔ میں نے دیکھا کہ میں نے زعفران کے پودے خریدے ہیں اور ان کو اپنے گھر میں لگایا ہے۔ کچھ دنوں بعد ان سے پودے نکل آتے ہیں اور کچھ ہی عرصہ بعد ان پہ انتہائی خوبصورت پھول نکل آتے ہیں جن کو دیکھ کر ہم سب گھر والے بہت خوش بھی ہوتے ہیں اورحیران بھی کہ اتنے زیادہ پھول ۔ میں بہت خوشی خوشی ان سے زعفران کی ڈنڈیاں چن لیتی ہوں۔

تعبیر:۔ بہت اچھا خواب ہے اور اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بہت رحمت آپ پہ نازل ہوگی جس پر شکر واجب ہے آپ پہ اور اس کے علاوہ مالی معاملات میں بہت آسانی وبرکت ہوگی جس سے گھریلو وکاروباری زندگی بہت آرام دہ ہوگی۔ آپ نماز پنجگانہ کی پابندی کیا کریں اور کثرت سے یاحی یاقیوم کا ورد کیا کریں حسب توفیق صدقہ خیرات لازمی کیا کریں۔

باغ سے پھول توڑنا
صائمہ نعمان ، لاہور

خواب ؛ میں نے خواب دیکھا کہ میں اپنی دوست کے گھر دعوت میں آئی ہوئی ہوں اور اس کے باغ میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ چہل قدمی کر رہی ہوں۔ اس کے باغ میں رنگارنگ کے پھول کھلے ہوئے ہیں جن کو میں دیکھ کر بہت خوش ہوتی ہوں اور باقی دوستوں کے منع کرنے کے باوجود وہ پھول توڑ لیتی ہوں جن کو میری دوست یاسمین کے پھول کہہ کر پکارتی ہے۔ پھر اس کے بعد میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر ؛۔ یہ خواب کسی گھریلو یا کاروباری معاملے میں پریشانی یاغم کی طر ف اشارہ کرتا ہے۔ خاص طور پر اگر آپ شادی شدہ ہیں تو گھریلو معاملات میں سخت کشیدگی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ آپ ہر منگل یا جمعرات کو گیارہ روپے صدقہ دیں ۔ ہر نماز کے بعد استغفار کی تسبیح پڑھیں۔ آپ کے لئے محفل مراقبہ میں بھی دعا کرا دی جائے گی ۔

The post خوابوں کی تعبیر appeared first on ایکسپریس اردو.

خوابوں کی تعبیر

 میٹھے آڑو کھانا
زہرہ بیگم، ملتان

خواب: میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے شوہر دفتر سے واپسی پر کچھ چیزیں لے کر آتے ہیں اور جلدی سے ریفریجریٹر میں رکھ دیتے ہیں۔ پھر وہ کپڑے بدل کر کھانے کی میز پر آتے ہیں۔ ہم سب میاں بیوی اور بچے میز کے گرد بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔ تو پھر میرے شوہر بتاتے ہیں کہ میں آپ کے لئے آڑو لایا ہوں اور وہ ریفریجریٹر میں رکھ آیا ہوں۔ میں جلدی سے دو آڑو نکال کر میز کے اوپر رکھ دیتی ہوں اور پھر چھری سے ان کو کاٹ کر سب کے سامنے رکھ دیتی ہوں۔ آڑو بڑے میٹھے ہوتے ہیں اور مزیدار بھی۔ میرے بچے بڑے شوق سے کھاتے ہیں اور پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر:۔ اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ کے رزق میں اضافہ ہو گا۔ آپ کو مال اور نعمت سے نوازا جائے گا۔ آپ کے ہاں اللہ تعالیٰ ایک نیک فرزند عطا فرمائیں گے جس سے آپ کے خاندان کی عزت اور وقار میں اضافہ ہو گا۔ کاروبار میں برکت ہو گی۔ آپ کے مال اور وسائل میں بھی بہتری آئے گی۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یا حی یا قیوم کا ورد بھی کیا کریں۔

روشن آنکھیں
حاجی غلام سرور، فیصل آباد

خواب: میں نے دیکھا کہ میں بزرگوں کے مزار پر ہوتا ہوں اور وہاں پر محفل میلاد ہو رہی ہوتی ہے۔ اور خاص طور پر ذکر مبارک ہو رہا ہوتا ہے جس کو سن کر میری آنکھیں پر نم ہو جاتی ہیں۔ پھر میں اپنے آپ کو اپنے کمرے میں دیکھتا ہوں اور اس کے بعد جا کر شیشہ دیکھتا ہوں تو میری آنکھیں بہت زیادہ روشن ٰنظر آتی ہیں جو میرے لئے بہت بڑا اعزاز ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو میری آنکھوں سے آنسوؤں کا بہہ جانا پسند آتا ہے اور پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر:۔ اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ کو کسی بزرگ سے روحانی فیض ملے گا۔ آپ متقی اور پرہیز گار ہوں گے۔ آپ کے رزق میں اضافہ ہو گا جس سے آپ کے مال اور وسائل میں بھی بہتری آئے گی۔ آپ کو اپنے حلقہ احباب میں عزت اور توقیر ملے گی۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یا حی یا قیوم کا ورد کیا کریں۔

بچھو دیکھنا
جاوید احمد، راولپنڈی

خواب:۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے کمرے میں زمین پر بیٹھا ہوا ہوتا ہوں۔ نہ جانے کمرے میں ایک بچھو کہاں سے آ جاتا ہے۔ میں اس بچھو کو دیکھ کر مارنے کیلئے کوئی چیز ڈھونڈتا ہوں تو مجھے اپنے کمرے میں کوئی چیز نہیں ملتی پھر میں باہر سے ایک ڈنڈا اٹھا کر لاتا ہوں تو مجھے بچھو نظرنہیں آتا۔ وہ بچھو نہ جانے کہاں غائب ہو جاتا ہے اور تلاش کے باوجود نہیں ملتا۔ میں اس پریشانی میں کھڑا ہو جاتا ہوں۔ پھر میری آنکھیں کھل جاتی ہیں۔

تعبیر: یہ خواب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ نہ کرے کوئی شخص اچانک دشمن بن جائے گا جو آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔ آپ کی طبیعت میں رنج و ملال بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ آپ کے ذہن کے اوپر ایک خوف اور پریشانی آ سکتی ہے جس سے آپ کو صدمہ اور تکلیف بھی اٹھانی پڑے گی۔ آپ کے کاروبار میں کوئی بندش یا رکاوٹ بھی پیدا ہو سکتی ہے جس سے آپ کے مال اور وسائل میں کمی آ سکتی ہے۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور ہر نماز کے بعد کثرت سے استغفار بھی کیا کریں۔

امتحان کی تیاری کرتی ہوں
بیا ساحل،اٹلی

خواب:۔میں نے دیکھا کہ میں اپنے کمرے میں اپنی کتابوں کے ساتھ میز پر بیٹھی ہوئی ہوں اور اپنے سالانہ امتحان کی تیاری کر رہی ہوتی ہوں کہ میری امی میرے کمرے میں آتی ہیں اور مجھے چائے دے کر چلی جاتی ہیں۔ وہ مجھ سے میری تیاری کے بارے میں بھی پوچھتی ہیں کہ تیاری کیسی ہو رہی ہے۔ میں امی کو بتاتی ہوں اور پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر:۔ اس خواب سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ اللہ نہ کرے آپ کسی آزمائش میں پڑسکتی ہیں یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کے کسی نئے کام میں رکاوٹ پیدا ہو جائے آپ کو سخت محنت سے دو چار ہونا پڑے گا۔آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یا حی یا قیوم کا ورد کریں اور کچھ صدقہ اور خیرات بھی کریں۔

انجیر کھانا
خوشی محمد، سوات

خواب:۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے گاؤں میں ہوتا ہوں۔گاؤں میں ہمارا سیب کا باغ ہے مگر اس میں میرے دادا نے کچھ پودے انجیر کے بھی لگائے ہوئے ہوتے ہیں۔ میں ان انجیر کے پودوں کے پاس جاتا ہوں اور وہاں سرخ خوشبودار انجیر توڑ کر کھاتا ہوں۔ انجیر کھانے سے مجھے خاص قسم کی لذت محسوس ہوتی ہے جو آنکھ کھلنے کے بعد تک زبان پر جاری رہتی ہے۔

تعبیر:۔ اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے بیماری سے شفاء عطا ہوگی۔ اللہ تعالیٰ رزق میں برکت عطا فرمائیں گے۔آپ کے مال اور وسائل دونوں میں اضافہ ہوگا۔آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں۔کثرت سے وضو یا بغیر وضو کے یا حی یا قیوم کا ورد کیاکریں۔ رات کو سونے سے پہلے ضرور نبی کریمؐ کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کیا کریں اور کچھ خیرات بھی کیا کریں۔

مرشد کریم سے ملاقات
وجاہت عالم،جھنگ

خواب:۔ میں نے دیکھا کہ میں ایک محفل میں ہوتا ہوں۔ وہاں بہت سے بزرگ بھی تشریف فرما ہوتے ہیں۔ پھر اچانک میری نظر ایک بزرگ پر رک جاتی ہے۔ میں غور سے انہیں دیکھتا ہوں تو وہ میرے مرشد کریم ہوتے ہیں۔ میں جلدی سے ان کے پاس جاتا ہوں ان سے بڑی خوشی سے ملتا ہوں اور ان کے قدموں میں بیٹھ جاتا ہوں۔ تعبیر بتا دیجئے۔

تعبیر:۔ اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ کو روحانی فیض ملے گا۔ اللہ تعالیٰ آپ کے دین ودنیا کے مقاصد پورے کریں گے۔ مرشد کریم کے ساتھ آپ کی محبت اور لگاؤ میں اضافہ ہوگا۔آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے وضو یا بغیر وضو یا حی یا قیوم کا ورد کیاکریں۔ رات کو سونے سے پہلے کثرت سے درود شریف پڑھا کریں۔ آپ کیلئے محفل مراقبہ میں دعا بھی کروا دی جائے گی۔

The post خوابوں کی تعبیر appeared first on ایکسپریس اردو.

سُر سِسکیوں میں ڈھل گئے اور چیخ اُٹھی ہے لے

ہم دہشت کے بارود میں کیوں جُھلس رہے ہیں۔۔۔وحشت ہمارے گلی کوچے کیوں سُرخ کر رہی ہے۔۔۔۔انتہاپسندی نے کیوں ہماری زمین کو جہنم بنا رکھا ہے۔۔۔جنسی بھیڑیے ہمارے بچوں کا ماس کیوں چبا رہے ہیں؟۔۔۔ان سوالوں کا جواب تلاش کرنے کے لیے کوئی تحقیقی مقالہ پڑھنے کی ضرورت نہیں، بلوچستان کے لوک گلوکار اُستاد بشیر بلوچ کا المیہ ان سارے سوالوں کا جواب دے رہا ہے۔ یہ ذاتی صدمہ پاکستان میں فن کی بے قدری کا نوحہ ہے۔

عشروں سُر بکھیرتے بشیربلوچ کی سسکیاں لفظوں میں ڈھل کر خبر بنیں تو ہر حساس دل اپنے لُہو میں نہا گیا۔ یہ فن کار معاشی بدحالی اور حکومت ومعاشرے کی بے اعتنائی سے گل گرفتہ ہوکر دو وقت کی روٹی کے عوض اپنے سو سے زاید اعزازات دینے کی صدا لگا رہا ہے۔ اُس کی یہ صدا حکومت اور معاشرے کے لیے ذلت کا ’’اعزاز‘‘ ہے، شرمندگی کا تمغہ ہے، آئیے ہاتھ بڑھا کر وصول کریں اور اپنے خالی سینوں پر سجائیں۔ ایک سچا فن کار اور خوددار انسان نہ بندوق اٹھا سکتا ہے نہ کاسۂ گدائی، بس اس کے پاس احتجاج کا یہی طریقہ تھا کہ خود کو ملنے والے اعزازات اہل اقتدار اور معاشرے کے منہہ پر دے مارے۔ وہ ملک جہاں کالے دھندے کرنے والے عزت پاتے ہیں۔

لوگوں کے خون سے زر کشید کرنے والے افتخار سے نوازے جاتے ہیں، لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کرنے والوں کو آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے، وہاں دھرتی سے جُڑا کھرا گایک اپنی عزت نفس کا گلا گھونٹ کر روٹی کے لیے آواز لگانے پر مجبور ہوگیا ہے۔ اس سے پہلے کہ بشیر بلوچ کا درد سُناتی خبر ہیجان خیز خبروں کے شور میں گُم ہوجائے، ہم نے اس درد کو پورے صفحے پر پھیلا کر کوشش کی ہے کہ شاید کوئی اس کی سُن لے اور ملک اور سماج کی عزت بچ جائے۔

۔۔۔

کہتے ہیں کہ موسیقی روح کی غذا ہے جسے اگر کوئی گہرائیوں میں اتر کر سنے تو یہ دل میں اترتی چلی جاتی ہے۔ پوری دُنیا میں موسیقی کا لگاؤ اپنی اپنی طرز کا ہے لیکن مشرقی موسیقی کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔ یہ اُچھل کود کا نام نہیں، اس میں سُر ہے کلام ہے۔ اس موسیقی میں صوفیانہ طرز کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے جس میں بڑے بڑے صوفیائے کرام نے مالک کے ساتھ وابستگی اور دُنیا کے نشیب و فراز سے آگاہی دی ہے۔ اس موسیقی کو سب سے زیادہ لوک فن کاروں نے ترویج دی اور کلام کو اپنی لوک موسیقی میں ڈھال کر نہ صرف اس کلام کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کیا بلکہ اسے عام لوگوں تک رسائی بھی دی۔ یہی وہ لوک فن کار ہیں جنہوں نے اپنی تہذیب و تمدن کو اپنے سُروں میں ڈھالا۔

پاک سرزمین کی دولت ایسے ہی فنکاروں کی مرہون منت ہے جنہوں نے نہ صرف صوفیائے کرام کی سرزمین پر پیدا ہونے کا حق ادا کیا بلکہ اپنے فن کے ذریعے وطن سے محبت اور لگن کو آشکار کیا۔ اس سرزمین نے سینکڑوں بلکہ ہزاروں لوک فن کاروں کو جنم دیا، اس کی خس و خاشاک کو اپنی دھنوں میں بکھیر دیا۔ ایسے ہی ایک لوک فنکار بشیر بلوچ ہیں۔

ممتاز فوک فن کار بشیر بلوچ 1944ء میں سبی کے علاقے مٹھڑی میں پیدا ہوئے ان کے والد معروف زمیندار بہادر خان تھے۔17 سال تک وہیں پلے بڑھے، بچپن میں گلوکاری کا شوق پید ا ہوگیا تو میڈم نور جہاں، لتا، محمد رفیع کے گانوں کی پیروڈی کرنے لگے۔ کھلی فصاؤں اور ٹھنڈی چھاؤں والے علاقے میں سروں کو چھیڑنے کی عادت سی پڑ گئی۔ دس سال کی عمر میں یتیم ہونے والے بشیر بلوچ کو والد کی موت کا صدمہ برداشت نہ ہوسکا تو غمگین گانوں کو اپنے ذہن کا مسکن بنالیا۔ یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا، پھر اہل خانہ کے ہمراہ کوئٹہ منتقل ہوگئے۔

بشیر بلوچ دو بھائی ہیں، بڑے بھائی کا نام امیر علی ہے جو حیدر آباد میں رہائش پذیر ہیں۔

’’یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوںگے، افسوس ہم نہ ہوںگے‘‘ ہروقت گنگناتے رہتے تھے معروف موسیقار عاشق حسین سمراٹ ان کے چچا تھے۔ یوں کہیے کہ ان کو گائیکی ورثے میں ملی۔ عاشق حسین سمراٹ نے ان کی بڑی پذیرائی کی جو بقول ان کے میڈم نورجہاں کے بھی استاد تھے۔ عاشق حسین سمراٹ کا مشہور گانا ’’او جانے والے ٹھہر ذرا، رک جا‘‘ بڑا مقبول ہورہا تھا۔ بشیر بلوچ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے چچا سے بہت کچھ سیکھا۔ کوئٹہ منتقل ہونے کے بعد استاد تاج محمد تاجل، محمد فیض کو اپنا استاد بنالیا۔ کوئٹہ کے معروف علاقے بروری کی ندی کو اپنا مسکن بنالیا۔ دن رات ندی کے کنارے اپنے استادوں کے دیے ہوئے سبق سے سروں کو باندھتا رہتا۔ طفیل نیازی کے ساتھ بھی بڑی رغبت پائی۔ شروع میں وہ لتا، میڈم نور جہاں، محمد رفیع، مہدی حسن کو کاپی کرتے تھے اور ملکی سطح پر سیکڑوں پروگراموں میں ان معروف گلوکاروں کی بڑے حوصلے کے ساتھ پیروڈی کی، جہاں ان کی بڑی حوصلہ افزائی ہوئی۔ اس کے بعد براہوئی لوک موسیقی، ’’لعل نہ دانہ‘‘ گا کر لوک موسیقی کو اپنالیا اور رفتہ رفتہ براہوئی زبان میں لوک موسیقی پر عبور حاصل کرلیا۔

یہ کہتے ہیں کہ پاکستان سے بہت زیادہ محبت ہے۔ 1965ء میں جہاں لوگ ملک کی سلامتی اور تحفظ کے لیے محو جہد تھے، وہیں میں نے بھی اپنا حصہ اس جنگ میں بھرپور انداز میں ڈالا۔ اس جنگ میں میرا نغمہ ’’وطن اینو آزاداے‘‘ یعنی میراوطن آزاد ہے بہت مشہور ہوا۔ 65 کی جنگ میں نہ صرف پاکستان بلکہ سب مسلمانوں کے لیے اﷲ تعالیٰ کی طرف سے تحفہ تھی۔ اس جنگ میں ایک جذبہ تھا۔ جہاں میڈم نور جہاں نے ملی نغمے گاکر پاک فوج کے جوانوں کو عزم و ہمت کا لازوال درس دیا وہیں ہم جیسے فنکار بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے۔

یہ کہتے ہیں کہ1968ء میں فیلڈ مارشل ایوب خان کو براہوئی لوک گیت سنایا تو اُنہوں نے بھی حوصلہ افزائی کی ۔ میرے استاد میری بہت رہنمائی کیا کرتے تھے۔ اس دوران میں اچھا گانا گانے لگ گیا تھا۔ 1976ء میں ’’میرا وطن دل کا چمن یہ انجمن‘‘ بہت مشہور ہوا۔ یہ نغمہ پی آئی اے کی فلائٹس میں بھی چلتا تھا۔ اسی دوران میں نے چاروں صوبوں کے لیے ایک ملی نغمہ گا کر بہت داد و تحسین حاصل کی ’’زیبا پاکستان ننا‘‘ (پیارا پاکستان ہمارا)۔

دوران تربیت میں نے35 سال تک ریاضت کی اور اپنے اساتذہ کی خدمت کی تمام زندگی سُروں کو ڈھونڈتا رہا۔ اس دوران مجھے دو مرتبہ صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی بھی ملے۔ ایک تقریب میں محمد علی، زیبا اور میڈم نور جہاں ایوارڈ تقسیم کررہے تھے۔ میں نے لوک گانے گائے تو محمد علی مرحوم نے مجھے ایوارڈ دیا اور کہا کہ اتنے لوگوں کو دیکھ کر آپ گھبرائے کیوں نہیں۔ تو میں نے انہیں جواب دیا کہ جب میں گائیکی میں مصروف ہوتا ہوں تو کتنا بھی بڑا ہجوم ہو میرا لنک صرف اﷲ تعالیٰ کے ساتھ رہتا ہے۔

بشیر بلوچ کا کہنا ہے کہ مجھے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام محمد یوسف اور گورنر گل محمد جوگیزئی کی جانب سے بھی ایوارڈ دیئے گئے خیبر پختونخوا سے کتاب اور سند دی گئی۔ اب تک سیکڑوں ایوارڈز حاصل کرچکا ہوں۔ 132 ایوارڈز میری زندگی کا اثاثہ ہیں۔ میں کبھی بڑے ہالوں میں گاتا تو کبھی ریڑھیوں پر بھی گالیتا تھا۔ سندھی ٹوپی پہنتا تھا۔ ٹی وی کے لیے پگڑی ثقافت کو اُجاگر کرنے کے لیے پہنتا تھا۔ بلوچستان کی سابق صوبائی وزیر مس پری گل آغا نے مجھے ایوارڈ دیئے۔ 1955ء میں جب ریڈیو پر گانا شروع کیا تو ایک گانے کے5 روپے ملتے تھے ۔ سیلون پر چلنے والے ریڈیو کی خبریں اور گانے سننے کے لیے لوگوں کی قطاریں لگی رہتی تھیں۔ گانے کا پانچ روپے معاوضہ بھی مجھے اے کلاس گائیکی کا ملاتا تھا کیوںکہ میں نے ریڈیو والوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھے اے کلاس دی جائے، بی کلاس میں نہیں گاؤں گا۔

بشیر بلوچ اپنے ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو نے جب وہ وزیراعظم تھے ایک مرتبہ مجھے کہا کہ تمہیں ’’ہوجمالو‘‘ آتا ہے۔ میں نے ہاں میں جواب دیا تو اُنہوں نے کہا کہ گاؤ تو میں نے ’’ہو جمالو‘‘ گایا۔ بھٹو مرحوم نے میری بڑی حوصلہ افزائی کی اور300 روپے دیئے جو آج کے دور میں تین لاکھ کے برابر ہیں۔ چکلالہ ٹی وی کے ابتدائی دنوں میں مجھے گانے کے135 روپے دیئے جاتے تھے۔

70 سالہ بشیر بلوچ ایک مرتبہ پھر اپنی زندگی کے ابتدائی سالوں میں کھو جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اس وقت ایس پی زمان نے مجھے کہا تھا کہ گانا سناؤ۔ میں نے انکار کردیا تھا۔ ان کے دوست نے بھی اصرار کیا تو میں نے18 سال کی عمر میں انہیں مکمل گانا سنادیا ’’تیری دنیا سے دل بھرگیا، جیسے جادو کوئی کرگیا، زندگی دینے والے سن‘‘ تو انہوں نے خوش ہو کر مجھے دو روپئے دیئے۔ تو میں 8 آنے کا نصف کلو بکرے کا گوشت گھر لے گیا۔ گھر والوں نے پوچھا کہ پیسے کہاں سے آئے تو میں نے ساری کہانی سنا ڈالی۔

یہ کہتے ہیں کہ میں نے تعلیم حاصل نہیں کی صرف سر، تال کی تعلیم حاصل کی ہے۔ پنجابی، سندھی، فارسی ، پشتو، مارواڑی اور ہندکو زبانوں پر عبور حاصل ہے۔1977ء میں ابو ظبی میں پاکستانی سفیر نے مجھے بلوایا۔ یہ23 مارچ کو پاکستان ڈے کا پروگرام تھا۔ وہاں میں نے ملی نغمے گائے اور مجھے وہاں بڑی پذیرائی ملی۔ سات ایشیائی ممالک انڈیا، نیپال، بھوٹان، سری لنکا، چین میں سُروں کو بکھیرا۔ آج حال ہوا یہ ہے کہ آپ کے سامنے گاڑی والے نے روک کر مجھے500 روپے دیئے۔1977ء میں کراچی، لاہور، اسلام آباد، تربت، گوادر میں پروگرام کئے اور داد سمیٹی۔

یہ کہتے ہیں اُس دور میں میں نے کئی یتیم بچوں کی پرورش کی کیوںکہ میں خود دس سال کی عمر میں یتیم ہوگیا تھا۔ حضورؐ بھی یتیم تھے۔ یہی وجہ ہے کہ یتیم کی قدر و منزلت میں جانتا تھا۔ مجھے لوگ کہتے تھے کہ غمگین گانا گایا کرو تو میں یہ گانا گاتا تھا’’اتنے بڑے جہاں میں کوئی نہیں ہمارا‘‘۔

بشیر بلوچ کہتے ہیں کہ میں نے بڑے بڑے دور دیکھے ہیں۔ دوسرے فن کار آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیتے تھے ایک پروگرام میں محمد علی اور زیبا بھی بیٹھے تھے۔ مجھے یقین نہیں تھا کہ مجھے بھی ایوارڈ ملے گا۔ محمد علی زیبا نے کہا کہ کل دیکھیں گے کہ آپ کو کیسے ایوارڈ نہیں ملتا۔ اگلے روز جب ایوارڈ تقسیم کرنے کی تقریب منعقد ہوئی تو بلوچستان سے ایوارڈ کے لیے میرا نام پکارا گیا اور مجھے ایوارڈ مل گیا۔ جاوید اقبال نے مجھے سلور جوبلی ایوارڈ دیا۔ میرے پاس اتنے ایوارڈ ہیں کہ میرے مداح میرے گھر سے ایوارڈ اُٹھا کر لے جاتے ہیں اور اپنے گھروں میں سجاتے ہیں۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے مجھ سے چاروں صوبوں کے ملی نغمے کی فرمائش کی تو میں نے چاروں صوبوں کی ثقافت کو ملی نغمے میں اُجاگر کردیا جس پر اُنہوں نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں اور مجھے داد دی۔ اب وہ اس دُنیا میں نہیں ہیں۔ اُنہوں نے میرے لیے پیپلز پارٹی سلور جوبلی ایوارڈ کا اعلان کیا تھا لیکن وہ نہیں ملا۔ جب میں نے بے نظیر بھٹو کے سامنے پہلی مرتبہ پرفارم کیا تو بلاول ان کی گود میں تھا ۔ یہ کہتے ہیں کہ میں نے جس کے سامنے گایا وہ میرا ہوگیا۔ آج کل تو کیسٹوں کے فن کار ہیں یہ تو نقل بھی نہیں کرسکتے لیکن انہیں مراعات سے نوازا جارہا ہے۔

ایک پروگرام میں جب میں نے پرفارم کیا تو میڈم نور جہاں اُٹھ کر آئیں اور کہا کہ بشیر آپ نے کہاں سے ایسا گانا سیکھ لیا ہے۔ میں نے کہا کہ اپنے استادوں سے رہنمائی حاصل کی ہے۔ میں نے اپنے چچا عاشق حسین سمراٹ سے سیکھا ہے۔ ان ہی الفاظ کے ساتھ پھر بشیر بلوچ نے سُر کا جادو بکھیرا

’’او جانے والے رے ٹھہرو ذرا رک جاؤ، لوٹ آؤ‘‘

یہ کہتے ہیں کہ میں نے بہت محنت کی۔ کوئٹہ کے علاقے بروری کی ندی کنارے جہاں بقول لوگوں کے جنات ہوتے تھے اور رات کو لوگ وہاں سے گزرنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے، تین سال تک درخت کے سائے تلے بیٹھ کر ریاض کیا۔ سابق گورنر بلوچستان نواب غوث بخش رئیسانی نے مجھے نصیحت کی تھی کہ براہوئی زبان کو کبھی نہیں چھوڑنا۔ ان کے گھر میں ایک تقریب میں میں نے ایک ملی نغمہ پیش کیا جس پر اُنہوں نے مجھے ایک سو روپے کا نوٹ دیا (بلیو رنگ کا) اور ساتھ تاکید کی کہ مذہب، رنگ و نسل اور تعصب سے بالاتر ہو کر ہمیشہ ملک کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا، یہی وجہ ہے کہ میں ہر قسم کے تعصب سے بالاتر ہوں اور یہی نصیحت میری والدہ کی بھی تھی۔ میری والدہ کو بھی وطن عزیز سے والہانہ لگاؤ تھا۔ میری والدہ 85 سال کی عمر میں فوت ہوگئیں۔ جب بھی اسٹیج پر پرفارم کرتا ہوں تو والدہ کی نصیحتیں یاد آجاتی ہیں۔ اس موقع پر بشیر بلوچ آبدیدہ ہوگئے۔ یہ کہتے ہیں کہ مرحوم نواب محمد اکبر خان بگٹی بھی مجھے بے حد پسند کرتے تھے۔ اُنہوں نے جب جمہوری وطن پارٹی کی بنیاد رکھی تو مجھے کہا کہ پارٹی کے لیے کوئی نغمہ گاؤں۔ میں نے ان کی پارٹی کے لیے نغمہ گایا۔ اس دور میں اُنہوں نے مجھے60 ہزار روپے بھجوائے۔

میں تو سب کا فن کار ہوں۔ میں انقلابی گانے نہیں گاتا، صرف پاکستان کے لیے گاتا ہوں۔ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔ ہمیں آپس کی رنجشیں بھلادینی چاہییں اور وطن کے تحفظ کے لیے متحد ہوجانا چاہیے۔

یہ کہتے ہیں کہ ایک تقریب کے دوران میں نے براہوئی میوزک ’’لعل نا دانا‘‘ گایا تو اس موقع پر چیف آف جھالاوان نواب دودا خان بھی موجود تھے جنہوں نے اس دور میں مجھے263 روپے دیئے۔ بشیر بلوچ کا کہنا ہے کہ لوک موسیقی ورثے کو اُجاگر کرتی ہے۔ لوک موسیقی میں صوفیانہ کلام کو بڑی اہمیت حاصل ہے جس میں صوفیائے کرام اﷲ تعالیٰ سے رجوع کا ایک بہتر موقع فراہم کرتے ہیں۔ اگر کوئی دل کی گہرائی سے صوفیائے کرام کے کلام سے لگاؤ رکھے تو اس کی تاریں کہیں اور جُڑ جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوک موسیقی میں عارفانہ کلام کو بڑی اہمیت حاصل ہے اس موسیقی سے ایک لگاؤ ہے جو دلوں کو تازگی بخشتا ہے۔ اس لئے سب کہتے ہیں کہ موسیقی روح کی غذا ہے۔

بشیر بلوچ کا کہنا ہے کہ انہوں نے70 سالہ زندگی میں بڑے نشیب و فراز دیکھے ہیں، بھیڑ بکریاں چَرائی ہیں، پیسوں کا انبار بھی دیکھا، مختلف ممالک میں بھی پرفارم کیا جہاں سے پذیرائی سمیٹی اور لوگ احتراماً میرے ساتھ اُٹھ کھڑے ہوا کرتے تھے۔ مجھے موسیقی سے اس حد تک لگاؤ ہے کہ میں نے اپنے آگے کسی کو ٹھہرنے نہیں دیا۔

بشیر بلوچ نے پہلی شادی24 سال کی عمر میں کی۔ اہل خانہ کی رضامندی سے۔ پہلی شادی سے ان کے تین بچے پیدا ہوئے، جن میں دو بچے فوت ہوگئے اور ایک بیٹی کی شادی کردی۔ دوسری شادی20 سال قبل صحبت پور بلوچستان کی بیوہ خاتون کے ساتھ کی جس سے میری تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ میں نے اس کے پہلے بچے کو بھی پالا پوسا جو پاک فوج میں ہے اور گھر کے خرچ کے لیے کچھ بھجوادیتا ہے۔ میری موجودہ شادی سے دو بیٹوں کی عمریں12 اور10 سال کے درمیان ہیں جو سرکاری اسکول میں پڑھتے ہیں ۔ دونوں بچیاں بھی اسکول میں پڑھتی ہیں۔ چند روز قبل بچے کے جوتے نہ ہونے کی وجہ سے اسے اسکول سے نکال دیا گیا تھا، پھر ایک دردمند نے جوتے خرید کر دیئے۔

یہ کہتے ہیں کہ 70 سالہ موسیقی سے لگاؤ کا صلہ مجھے آج یہ ملا کہ میں کس مپرسی کی زندگی گزاررہا ہوں۔ بچوں کے اسکول کے اخراجات گھر کے دوسرے معاملات چلانا میرے لئے مشکل ہوتا جارہا ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ بچوں کی صرف ایک یونیفارم ہے۔ رات کو دھوتے ہیں تو صبح پہن کر اسکول جاتے ہیں۔ سر چھپانے کے لیے میرے پاس گھر نہیں تھا۔ کوئٹہ کے نواحی علاقے دیبہ میں ایک سابق صوبائی وزیر علی مدد جتک نے بنا کر دیا تو سر چھپانے کو جگہ ملی۔ ایک ہی کمرے میں سب لوگ گزر بسر کرنے لگے۔ کچھ عرصہ قبل انتہائی تنگ دستی کی حالت میں جب میں نے اپنے ایوارڈز فروخت کرنا چاہے تو اس وقت کے چیف سیکرٹری سیف اﷲ چٹھہ نے میری مالی معاونت کی، جس سے گھر میں دو کمرے اور بنادیئے۔ اب ہم اس گھر میں رہ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سابق چیف سیکرٹری سے ملاقات میں میں نے انہیں علامہ اقبال کا کلام سنایا تو وہ مجھے داد دیئے بغیر نہ رہ سکے اور مجھے50 ہزار روپے دیئے جس سے گھر کا دال دلیا منگایا۔

بشیر بلوچ کا کہنا تھا کہ یہاں فن کاروں کی کوئی قدر نہیں ہے۔ زندگی کا طویل عرصہ لوک موسیقی کو فروغ دینے کے بعد اب پچھتارہا ہوں۔ دکھ ہوتا ہے جب میں کہیں جاتا ہوں تو لوگ میرا مذاق اُڑاتے ہیں۔ جس ٹی وی اسٹیشن کو میں نے اپنی گائیکی سے روح بخشی آج میرا وہاں سننے والا کوئی نہیں۔ طبیعت کی ناسازی کے باوجود گھنٹوں حکام بالا کے کمروں کے باہر انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے ایوارڈ کا کیا فائدہ جن کے ہوتے ہوئے بھیک مانگوں میں کوئی بڑا مطالبہ نہیں کرتا، عزت سے وقت گزارنے کے لیے حکومت میرے لیے ماہانہ وظیفہ مقرر کرے، جیسا کہ دوسرے صوبوں میں فن کاروں کو دیا جاتا ہے۔ سندھ، پنجاب اور کے پی کے میں فن کاروں کو 20 سے 30 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے، جب کہ ہمارے صوبے میں تقریب منعقد کرکے پیسے ہڑپ کرلیے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے یہاں فن کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی، جبکہ چار روز قبل امریکا سے ایک مہربان کا فون آیا جنہوں نے مجھ سے کہا کہ بشیر گانا سناؤ۔ میں خوشی سے پھولے نہیں سمایا اور میرا حوصلہ بلند ہوا۔ دو سال تک پروجیکٹ ڈائریکٹر امتیاز مجھے15 ہزار روپے ماہانہ بھجواتے تھے۔ اب ان کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔ صوبے کے لیے میری خدمات کے اعتراف میں معزز جج ظہور شاہوانی میرے گھر گندم بھجواتے ہیں، جب کہ ان کا بھائی نثار بچوں کے تعلیمی اخراجات میں ہاتھ بٹاتا ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ جس فن کو میں نے اپنی وراثت سمجھا آج دکھی دل سے کہتا ہوں کہ میری بھول تھی اور چاہتے ہوئے بھی میں اپنے بچوں کو موسیقی کی طرف نہیں لاؤں گا۔

بشیر بلوچ کہتے ہیں کہ جہاں لتا، رفیع، میڈم نور جہاں میرے پسندیدہ گلوکار ہیں وہیں معروف گلوکارہ مہہ جبیں قزلباش جو اس وقت چھوٹی عمر کی تھیں میری بڑی مداح تھیں۔ اپنی جوانی کے حوالے سے کہتے ہیں، اس میں بڑے قصے اور کہانیاں ہیں لیکن میں جس طرح1965ء کی جنگ میں ملک کی سلامتی کے لیے پرعزم تھا ملک کے لیے آج بھی وہی جذبہ ہے کیوںکہ پاکستان ایک گل دستے کی مانند ہے جہاں سبھی لوگ ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔

The post سُر سِسکیوں میں ڈھل گئے اور چیخ اُٹھی ہے لے appeared first on ایکسپریس اردو.

خوابوں کی تعبیر

آڑو کھانا
عائشہ عمر۔ حیدر آباد

خواب: میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے شوہر دفتر سے واپسی پر کچھ چیزیں لے کر آتے ہیں اور جلدی سے ریفریجریٹر میں رکھ دیتے ہیں۔ پھر وہ کپڑے بدل کر کھانے کی میز پر آتے ہیں۔ ہم سب میاں بیوی اور بچے میز کے گرد بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔ تو پھر میرے شوہر بتاتے ہیں کہ میں آپ کے لئے آڑو لایا ہوں اور وہ ریفریجریٹر میں رکھ آیا ہوں۔ میں جلدی سے دو آڑو نکال کر میز کے اوپر رکھ دیتی ہوں اور پھر چھری سے ان کو کاٹ کر سب کے سامنے رکھ دیتی ہوں۔ آڑو بڑے میٹھے ہوتے ہیں اور مزیدار بھی۔ میرے بچے بڑے شوق سے کھاتے ہیں اور پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر:۔ اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ کے رزق میں اضافہ ہو گا۔ آپ کو مال اور نعمت سے نوازا جائے گا۔ آپ کے ہاں اللہ تعالیٰ ایک نیک فرزند عطا فرمائیں گے جس سے آپ کے خاندان کی عزت اور وقار میں اضافہ ہو گا۔ کاروبار میں برکت ہو گی۔ آپ کے مال اور وسائل میں بھی بہتری آئے گی۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یا حی یا قیوم کا ورد بھی کیا کریں۔

روشن آنکھیں
حاجی غلام سرور، سکھر
خواب: میں نے دیکھا کہ میں بزرگوں کے مزار پر ہوتا ہوں اور وہاں پر محفل میلاد ہو رہی ہوتی ہے۔ اور خاص طور پر ذکر مبارک ہو رہا ہوتا ہے جس کو سن کر میری آنکھیں پر نم ہو جاتی ہیں۔ پھر میں اپنے آپ کو اپنے کمرے میں دیکھتا ہوں اور اس کے بعد جا کر شیشہ دیکھتا ہوں تو میری آنکھیں بہت زیادہ روشن ٰنظر آتی ہیں جو میرے لئے بہت بڑا اعزاز ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو میری آنکھوں سے آنسوؤں کا بہہ جانا پسند آتا ہے اور پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر:۔ اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ کو کسی بزرگ سے روحانی فیض ملے گا۔ آپ متقی اور پرہیز گار ہوں گے۔ آپ کے رزق میں اضافہ ہو گا جس سے آپ کے مال اور وسائل میں بھی بہتری آئے گی۔ آپ کو اپنے حلقہ احباب میں عزت اور توقیر ملے گی۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یا حی یا قیوم کا ورد کیا کریں۔

بچھو دیکھنا
جاوید اقبال۔ جام پور
خواب:۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے کمرے میں زمین پر بیٹھا ہوا ہوتا ہوں۔ نہ جانے کمرے میں ایک بچھو کہاں سے آ جاتا ہے۔ میں اس بچھو کو دیکھ کر مارنے کیلئے کوئی چیز ڈھونڈتا ہوں تو مجھے اپنے کمرے میں کوئی چیز نہیں ملتی پھر میں باہر سے ایک ڈنڈا اٹھا کر لاتا ہوں تو مجھے بچھو نظرنہیں آتا۔ وہ بچھو نہ جانے کہاں غائب ہو جاتا ہے اور تلاش کے باوجود نہیں ملتا۔ میں اس پریشانی میں کھڑا ہو جاتا ہوں۔ پھر میری آنکھیں کھل جاتی ہیں۔

تعبیر: یہ خواب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ نہ کرے کوئی شخص اچانک دشمن بن جائے گا جو آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔ آپ کی طبیعت میں رنج و ملال بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ آپ کے ذہن کے اوپر ایک خوف اور پریشانی آ سکتی ہے جس سے آپ کو صدمہ اور تکلیف بھی اٹھانی پڑے گی۔ آپ کے کاروبار میں کوئی بندش یا رکاوٹ بھی پیدا ہو سکتی ہے جس سے آپ کے مال اور وسائل میں کمی آ سکتی ہے۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور ہر نماز کے بعد کثرت سے استغفار بھی کیا کریں۔

کرکٹ کھیلنا
انیس احمد۔ کراچی
خواب:۔ میں نے دیکھا کہ میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ ایک میدان میں ہوتا ہوں۔ میرے ایک دوست کے پاس بیٹ اور بال ہے پھر ہم سب دوست مل کر کرکٹ کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارے کچھ دوست باؤلنگ کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔ میں بیٹنگ کیلئے جاتا ہوں اور میرا ایک دوست باؤلنگ شروع کردیتا ہے۔ میں ایک زور دار ہٹ لگاتا ہوں۔ میدان میں کافی لوگ جمع ہو جاتے ہیں اور ہمارا میچ دیکھتے ہیں۔ پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر:۔ اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ کو امتحان میں کامیابی ملے گی۔کوئی خوشخبری ملنے کا امکان ہے جس کام کو آپ ذوق وشوق سے کریں گے۔ اس کا انجام بھی بہتر ہوگا۔ نوکری ملنے کا امکان ہے۔ کاروبار میں برکت ہوگی جس سے آپ کے مال اور وسائل میں اضافہ ہوگا۔آپ نماز پنجگانہ ادا کیاکریں اور کثرت سے یا حی یا قیوم کا ورد جاری رکھیں۔

بال سفید دیکھنا
چودھری حاکم علی، سرگودھا
خواب :۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے کمرے میں ہوتا ہوں اور چارپائی سے اٹھ کر واش روم میں جاتا ہوں تو شیشہ میں اپنی شکل کو دیکھتا ہوں۔ میں نے دیکھا کہ میرے سر کے تمام بال سفید ہو چکے ہیں۔ میں باربار دونوں ہاتھ سفید بالوں پر لگاتا ہوں پھر میں سوچتا ہوں کہ کل صبح کو میرے سر کے تمام بال کالے تھے مگر اب سب سفید ہوگئے ہیں۔ میں اسی سوچ میں ہوتا ہوں کہ آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر:۔ اچھا خواب ہے جواس بات کو ظاہر کرتاہے کہ آپ کی عزت اور توقیر میں اضافہ ہوگا۔آپ کا مرتبہ بلند ہوگا۔ گھر میں راحت اور سکون ملے گا۔ آپ کے کاروبار میں برکت ہوگی جس سے آپ کے مال اور وسائل میں اضافہ ہوگا۔آپ نماز پنجگانہ ادا کیاکریں اور کثرت سے یا حی یا قیوم کا ورد جاری رکھیں۔

کپڑوں کو آگ لگ جاتی ہے
نسرین بیگم، کوئٹہ
خواب:۔ میں نے دیکھا کہ میں اپنے باروچی خانے میں ہوتی ہوں اور بچوں کے لئے ناشتہ بنا رہی ہوں کہ میرے دوپٹہ میں آگ لگ جاتی ہے اور جلد ہی میرے کپڑوں میں پھیل جاتی ہے۔ میری بڑی بیٹی جلدی سے آتی ہے اور ایک کمبل میرے اوپر ڈال کر آگ کو بجھانے کی کوشش کرتی ہے۔ پھر تھوڑی دیر میں آگ بجھ جاتی ہے۔آگ سے میرے کپڑے جسم سے چپک جاتے ہیں اور میں رونا شروع کر دیتی ہوں۔ میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر:۔ یہ خواب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ نہ کرے کوئی پریشانی غم یا خوف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آنکھوں اور جسم کے کسی حصہ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے کوئی بندش یا رکاوٹ ہو سکتی ہے۔کاروبارمیں بھی کمی آسکتی ہے جس سے آپ کے مال اور وسائل میں کمی آسکتی ہے۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کریں اور کثرت سے استغفار کریں اور صدقہ و خیرات بھی کریں۔

باغ میں ہد ہد کی آواز
احمدمختار، شیخوپورہ
خواب:۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ صبح سیر کیلئے اپنے گھر کے قریبی سرسبز اور خوبصورت باغ میں ہوں۔ وہاں بہت سے پرندے ہوتے ہیں۔ بہت سے درخت ہیں۔ ان درختوں کے نیچے سے گزرتا ہوں۔ درخت کے اوپر ہد ہد بیٹھی ہوتی ہے اور وہ اپنی میٹھی آواز میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کر رہی ہوتی ہے۔ میں اس درخت کے پاس کھڑا اس کی آواز سے لطف اندوز ہو رہا ہوتا ہوں۔ پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر:۔ اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتاہے کہ کوئی دلی مراد پوری ہوگی۔کسی کام کے سلسلہ میں آپ کو کامیابی ہوگی۔ علم وحکمت میں اضافہ ہوگا۔ کاروبارمیں اضافہ ہوگا اور آپ کی تنگدستی اور پریشانی دور ہوگی۔آپ کے کاروبار میں برکت ہوگی جس سے آپ کے مال اور وسائل میں اضافہ ہوگا۔آپ نماز پنجگانہ ادا کیاکریں اور کثرت سے یا حی یا قیوم کا ورد جاری رکھیں۔کچھ صدقہ اور خیرات بھی کریں۔

نیاز بو کا پودا دیکھنا
احمد علی، رحیم یار خان

خواب:۔ میں نے دیکھا کہ میں اپنے ایک دوست کو ملنے کیلئے اس کے گھر جاتا ہوں۔ اس کا گھر بہت بڑا ہوتا ہے اور اس نے گھر کے باہر کافی تعداد میں پھول اور پودے لگا رکھے ہیں۔ ان میں کچھ پودے نیاز بو کے بھی ہوتے ہیں۔ نیاز بو کی بڑی اچھی خوشبو ہوتی ہے جس سے مجھے کافی زیادہ راحت ملتی ہے۔ میں تمام پودوں کو دیکھتا ہوں جس میں کافی تعداد میں پھول بھی ہوتے ہیں۔ تو پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر:۔ اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ کو خوشخبری ملے گی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو فرزند عطا فرمائے گا جس سے آپ کے خاندان کو عزت اور وقار ملے گا۔ آپ کی دین و دنیا دونوں میں بہتری آئے گی۔ آپ کے رزق میں اضافہ ہو گا اور آپ کے مال اور وسائل میں بھی بہتری آئے گی۔ آپ کو اپنے مقاصد میں کامیابی ملے گی۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یا شکور یا عزیز کا ورد بھی جاری رکھیں۔

کھیت میں سکے ملتے ہیں
چوہدری شہباز ، اوکاڑہ
خواب: میں نے دیکھا کہ میں اپنے کھیت میں ہل چلا رہا ہوتا ہوں۔ اچانک میرے ہل کی نوک کسی چیز سے ٹکراتی ہے۔ وہاں سے زمین کو کھودتا ہوں تو مجھے زمین سے کچھ تانبے کے سکے ملتے ہیں۔ میں ان تمام کو اس جگہ سے باہر نکالتا ہوں اور ان سے مٹی اتارتا ہوں۔ یہ سکے کافی پرانے ہوتے ہیں۔ پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر: اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ کو مقدمے میں فتح نصیب ہو گی۔ آپ کے رزق میں اضافہ ہو گا جس سے آپ کے مال اور وسائل میں بھی بہتری آئے گی۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں۔ اور کثرت سے یا حی یا قیوم کا ورد بھی کیا کریں۔ رات کو سونے سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت پاک کا مطالعہ کیا کریں۔

The post خوابوں کی تعبیر appeared first on ایکسپریس اردو.

خوابوں کی تعبیر

 

خوبصورت چادر خریدنا
امجد بھٹی، لاہور
خواب: میں نے خواب دیکھا کہ میں اپنے والدین کے ساتھ کہیں بازار جا رہا ہوں ، میرے والدین کو کوئی جاننے والے اسی بازار میں ملتے ہیں تو وہ ان سے بات چیت کرنے لگ جاتے ہیں۔ میں بور ہو کر آگے مارکیٹ میں گھومنے لگ جاتا ہوں۔ اسی دوران میری نظر ایک خوبصورت چادر پر پڑتی ہے تو میں رک کر اسے دیکھنے لگتا ہوں۔ اس کے رنگین ڈیزائن مجھے اتنے پسند آتے ہیں کہ میں باقاعدہ طور پر ان کو پکڑ پکڑ کر دیکھتا ہوں۔ پھر میں اسے خرید کر اپنے بیگ میں رکھ لیتا ہوں، اس کے بعد مجھے نہیں یاد کہ کیا ہوا۔
تعبیر: اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ کو ایک نیک شریک حیات ملے گی۔ جس سے آپ کو بھی ہدایت ملے گی ۔ آپ کے کاروبار میں برکت ہو گی، مال و وسائل میں بہتری آئے گی ۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یا حی یا قیوم کا ورد کیا کریں۔ کوشش کریں کہ اللہ کی راہ میں کچھ خیرات کر دیں۔

پھولوں کی کیاریاں
ام النورین، فیصل آباد
خواب: میں نے دیکھا کہ میں اور باقی فیملی کے لوگ کسی باغ میں سیر کرنے آئے ہیں۔ باقی گھر والے تو ایک جگہ پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگ جاتے ہیں مگر میرے میاں مجھے اشارہ کرتے ہیں تو ہم اٹھ کر گھومنے چل پڑتے ہیں۔ آگے ہی کسی قطعہ پر بہت ہی خوبصورت پھول لگے ہوتے ہیں اور گلابوں کی کیاریاں بنی ہوتی ہیں ۔ میں وہاں رک جاتی ہوں اور اپنے میاں کو بھی وہ پھول دکھاتی ہوں۔
تعبیر: یہ خواب اچھا ہے، اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے کسی نیک اور صالح فرزند کو ظاہر کرتا ہے جو آپ کے لئے توقیر اور عزت کا باعث ہو گا ۔ آپ کے خاندان کے نام کو وقار و عزت دے گا ۔ آپ کے رزق میں بھی اضافہ ہو گا اور آپ کے مال و وسائل میں بھی بہتری آئے گی۔ گھر میں آرام و سکون ہو گا ، آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یا حی یا قیوم کا ورد کیا کریں۔

حجام گھر آ کر بال کاٹتا ہے
ارشد علی، فیصل آباد
خواب: میں نے خواب دیکھا کہ میں کچھ دن کے لئے چھٹیاں گزارنے اپنے گائوں آتا ہوں اور ایک دن گائوں کا حجام ہمارے گھر آتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ میری حجامت بنانے آیا ہے۔ وہ مجھے اپنے پاس بٹھا لیتا ہے اور میری حجامت بناتے ہوئے مجھے آسانی دیتے ہوئے کہتا ہے کہ میں نے سوچا کہ آپ کو آنے کی تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل جاتی ہے۔
تعبیر: اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ کی زندگی میں نکھار پیدا ہو گا ۔ عمر میں برکت ہو گی، رزق میں اضافہ اللہ کی مہربانی سے ہو گا جس سے یقینی طور پر مال و وسائل میں بہتری آئے گی۔ اگر اللہ نہ کرے کوئی بیماری ہے تو شفا کاملہ عطا ہو گی ۔ آپ کوشش کریں کہ نماز پنجگانہ کی پابندی کریں اور کثرت سے یا حی یا قیوم کا ورد بھی جاری رکھیں۔

اناج کے ڈھیر
عمارہ وسیم، لاہور
خواب : یہ خواب میرے میاں نے دیکھا ہے اور وہ دیکھتے ہیں کہ ہماری جو دکان ہے اس کے پیچھے ہی ہمارا گودام ہے جو ہم سامان رکھنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ وہاں صفائی کے دوران دیکھتے ہیں کہ جگہ جگہ کھلے اناج کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں اور جگہ جگہ پڑے ہوتے ہیں۔ جبکہ میرے میاں عام طور پر اناج کو اس طرح کھلا نہیں رکھتے۔
تعبیر: اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ کے رزق میں اضافہ ہو گا۔ کاروبار میں برکت ہو گی۔ مال و وسائل میں بھی بہتری آئے گی۔ دولت بھی ملے گی جس سے خوشی نصیب ہو گی۔ گھر میں آرام و سکون ملے گا ۔ دین و دنیا دونوں میں بھلائی آئے گی ۔ عزت و توقیر میں اضافہ ہو گا۔ آپ نماز پنجگانہ کی پابندی کریں اور کثرت سے یاحی یا قیوم کا ورد کیا کریں ۔

زیور بیچنا
تبسم کوثر، وہاڑی
خواب: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے جو زیور شادی پر تحفتاً پائے تھے اور بعد میں اپنی ساس کے پاس رکھوا دیئے تھے۔ دیکھتی ہوں کہ میرے میاں نے ان سے لے کر کہیں بیچ دیا ہے حتیٰ کہ وہ چین اور انگوٹھی جو ان کو دی تھی وہ بھی انہوں نے بیچ دی ہے۔ دوسرے منظر میں مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے بیچنا وہ اپنا چاہتے تھے اور وہی نکالا اس کے بعد کا حصہ مجھے یاد نہیں مگر یہ سوچ کافی مضبوطی سے آنکھ کھلنے کے بعد بھی رہی ۔
تعبیر: مرد اور عورت کے لئے سونے کی تعبیر الگ ہے، یہ خواب اچھا ہے ، پریشانی کی بات نہیں۔ اللہ کے فضل و کرم سے رزق میں اضافہ ہو گا اور گھر و کاروبار میں برکت ہو گی ۔ کسی پریشانی یا مشکل وقت سے نجات حاصل ہوگی ۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یا شکور یا حفیظ کا ورد کیا کریں۔

جیل نما جگہ پر بند ہونا
منصور علی، لاہور
خواب: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں کسی جیل نما جگہ پر بند ہوں، کہیں سے بھی باہر جانے کا راستہ نہیں ہے، اگر کہیں ہے بھی تو وہاں جیل کی طرح کے دروازے لگے ہوئے ہیں ۔ اگلے منظر میں دیکھتا ہوں کہ میں اسی عمارت کی چھت پر کھڑا اذان دے رہا ہوں اور پھر جانے کہاں سے ادھر لوگ آ جاتے ہیں جو میرے ساتھ ادھر نماز پڑھنے لگ جاتے ہیں ۔ اس کے بعد جب میں دوبارہ ان کمروں کی طرف جاتا ہوں جہاں پہلے بھی گیا تھا اور سلاخیں نما دروازے دیکھ کر واپس آ گیا تھا، وہاں اب کچھ نہیں ہوتا بلکہ کمروں میں دروازوں کی جگہ ہوتی ہی نہیں بس چوکور سا خلا ہوتا ہے ۔ میں نارمل انداز میں باہر نکل کر گھر کی طرف چل پڑتا ہوں۔
تعبیر: اچھا خواب ہے جو کسی پریشانی غم یارکاوٹ کو دور کرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی اس سے نجات پا کر آپ کی عزت و توقیرپھر سے بحال ہوجائے گی اور پریشانیاں و رکاروٹیں دور ہوکر کاروبار میں بھی برکت ہوگی، سکون ہوگا ، آپ نمازپنجگا نہ کی پابندی کریں اور کثرت سے یاحی یا قیوم کاورد کریں ۔

تلوار کمر سے لٹکانا
صائم مرتضٰی، لاہور
خواب : میں نے خواب دیکھا کہ میں اپنے دوستوں کے ساتھ کسی قلعہ میں موجود ہوں، جہاں عجائب گھر نما سا کمرہ ہے۔ اور ادھر پرانے زمانے کا اسلحہ رکھا گیا ہے۔ میرے دوست اور میں حیران ہوکر ان کو دیکھتے ہیں ایک دوست وہاں لٹکی ہوئی تلوار اتار لیتا ہے اور میں اس سے لے کر اپنی کمر کے ساتھ لٹکا لیتا ہوں۔ اس کے بعد ہم ادھر ادھر گھوم پھر کے مزید چیزیں دیکھتے ہیں اور میں نادانستگی میں اس تلوار کو باندھے گھومتا پھر تا ہوں اور کوئی بھی گارڈ مجھے نہیں روکتا ۔ حتی کہ میں جب میں وہاں سے نکلتاہوں تو وہ پہرے دار مجھے جھک کر سلام کرتا ہے اور روکتا نہیں۔
تعبیر: آپ کا خواب اچھا ہے اس میں پریشانی والی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ ازدواجی زندگی کی خوشخبری یا نوکری وکاروبار میں ترقی پر دلیل کرتا ہے جس سے رزق میں اضافہ ہوگا یا مال و وسائل میں بہتری آئے گی۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یاحی یاقیوم کا ورد کیا کریں۔

کمرے میں سانپ
اسماء خان ، شیخوپورہ
خواب: میں نے خواب دیکھا کہ میں اپنے کمرے میں بیٹھی پڑھ رہی ہوتی ہوں کہ اچانک میری نظر چھت پر پڑتی ہے وہاں پنکھے کے ساتھ ایک رسی سی لٹک رہی ہوتی ہے۔ میں یہ سوچ رہی ہوتی ہوں کہ کہ میرے بھتیجے بھتیجیوں کا کارنامہ ہوگا کہ کمرے میں کھیل کے دوران بچوں نے یہ دوپٹہ یا رسی اچھال کر پنکھے پہ لٹکا دی، بچوں کو بلانے کیلئے میں اٹھتی ہوں تاکہ اٹھ کے ان کو ڈانٹوں اس دوران وہ رسی ہلنا شروع کر دیتی ہے۔ تب مجھ پہ یہ انکشاف ہوتا ہے کہ یہ رسی نہیں بلکہ سانپ ہے۔ یہ دیکھ کر میں دہشت زدہ ہوکر چیخنا شرو ع کردیتی ہوں۔
تعبیر: یہ خواب اس بات کو ظاہر کرتا کہ اللہ نہ کرے کوئی پریشانی آسکتی ہے۔ کو ئی عزیز و رشتے داری دشمنی کرنے کی کوشش کرے گا مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو تو کچھ بھی نقصان نہیں ہوگا، آپ محفوظ رہیں گی ۔ یہ معاملات نوکری، کاروبار یا تعلیمی معاملات کو بھی خراب کر سکتے ہیں۔ آپ نما ز پنجگانہ کی پابندی کریں اور ہر نماز کے بعد کثرت سے یا سلام یا حفیظ کا ورد کیا کریں۔ ہر منگل یا ہفتہ کو کالے چنے یا کالا کپڑا اپنے اوپر سے وار کر کسی مستحق کو دے دیا کریں۔

دکان اور سامان پر قبضہ
مقبول حسین، اسلام آباد
خواب: میں نے دیکھا کہ میں گھر میں بیٹھا بچوں کے ساتھ باتیں کر رہا ہوں میرے فون پر کسی مارکیٹ والے کی کال آتی ہے کہ مالک مکان نے تمہاری دوکان پر تالا ڈال دیا ہے اور سامان بھی قبضہ میں کرلیا ہے۔ یہ سن کر میں بہت پریشان ہوتا ہوں۔ اصل میں حقیقت بھی وہی ہے کہ کاروبار میں کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان مسائل کو لے کر بھی پریشانی ہے۔ اس لئے خواب دیکھ کر اور زیادہ پریشانی ہوگئی ہے ،کیا مجھے کوئی اس کا حل مل سکتا ہے ؟
تعبیر: یہ خواب پریشانی کو ظاہر کرتا ہے مگر اللہ کی رحمت سے نا امید ہونا کسی مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔ اللہ آپ کو اپنے حفظ وامان میں رکھیں۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ رات کو بعد ازنماز عشاء اول وآخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ 211 مرتبہ آیت الکرسی پڑھ کر اللہ سے دعا کریں۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور سجدے میں جا کر نہایت عاجزی سے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں ۔ ہر نماز کے بعد استغفار کریں۔

ننھیال میں ناشتہ کرنا
سید برکت علی شاہ ، لاہور
خواب : میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے ننھیال گئی ہوئی ہوں اور وہاں میری ممانی سب بچوں کو ناشتہ دے رہی ہوتی ہیں۔ گھر کے سب بچے اور نوجوان ان کے گرد کچن میں ہی جمع ہوتے ہیں۔ جب میری باری آتی ہے تو میں دیکھتی ہوں کہ مجھے باقی کزنز کے برعکس ناشتے میں پنیر اور شہد ملتا ہے۔ میں یہ دیکھ کر بہت خوش ہوتی ہوں اور مزے سے کھاتی ہوں۔
تعبیر؛ اچھا خواب ہے اور کسی خوشخبری و آسانی پہ دلیل کرتا ہے۔ یہ تعلیمی امور سے متعلقہ ہو سکتی ہے یا گھریلو اور کاروباری زندگی سے بھی۔ اس سے رزق میں بھی اضافہ ہوگا اور مال ومسائل میں بھی برکت ہوگی اور ظاہری سی بات ہے کہ اس سے گھر میں بھی آرام وسکون ملے گا ۔ آپ نماز پنجگانہ اداکیا کریں اور کثرت سے یا حی یا قیوم کا ورد کیا کریں ۔

تنگ جوتا
انیسہ جاوید ، گوجرانوالہ
خواب: میں نے دیکھا کہ میں سکول جا رہی ہوں مگر جوتا کافی تنگ کر رہا ہے۔ میں یہ سوچ کر پریشان ہوتی ہوں کہ میرا اب سارا دن سکول میں کیسے گزرے گا۔ اس کے علاوہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کیا کروں۔کبھی سوچتی ہو ں کہ گھر واپس چلی جائوں کبھی سوچتی ہوں کہ سکول کے نزدیک کسی استاد کا گھر ہو تو وہاں سے تبدیل کرائوں۔ اسی کشمکش میں سکول پہنچ جاتی ہوں اور میری آنکھ کھل جاتی ہے۔
تعبیر: آپ کا خواب کچھ پریشانی کو ظاہر کرتا ہے جس کا تعلق نوکری وکاروبار سے بھی ہو سکتا ہے اور گھریلو معاملات میں بھی، جس سے ذہنی پریشانی ہوسکتی ہے۔ ظاہری سی بات ہے کہ مال ووسائل کمی یا ان میں رکاوٹوں سے ذہنی مسائل جنم لیتے ہیں۔ آپ نماز پنجگانہ کی پابندی کیا کریں اور کثرت سے یاحی یا قیوم کا ورد کیا کریں۔

گھر میں دعوت
رقیہ محبوب ، ملتان
خواب:۔ میں نے خواب دیکھا کہ میں نوکری سے واپس گھر آتی ہوں تو دیکھتی ہوں کہ گھر میں بہت سے مہمان آئے ہوئے ہیں اور میری امی نے تقریباً دعوتی کھانا پکایا ہوتا ہے۔ میں بھی مہمانوں کے ساتھ کھانے میں شریک ہو جاتی ہوں۔ انواع و اقسام کے کھانے دیکھ کر میری بھوک چمک اٹھتی ہے اور میں جی بھر کر ان سے انصاف کرنے لگ جاتی ہوں۔ کچھ کھانے اتنے لذیذ ہوتے ہیں کہ میں دوبارہ پلیٹ ان سے بھر لیتی ہوں اور بار بار کھاتی ہوں۔
تعبیر:۔ اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ کے رزق میں اضافہ ہو گا۔ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں اضافہ ہو گا اور آپ کی مطلوبہ جگہ نوکوی بھی مل سکتی ہے۔ کاروبار میں بھی برکت ہو گی اور اس سے مال و وسائل میں بھی بہتری ہو گی ۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور رات کو سونے سے قبل نبی کریم ﷺ کی سیرت پاک کا مطالعہ کیا کریں۔

مرغابی کا شکار کرنا
یاور حیات، بہاولپور
خواب:۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنی زمینوں پر ہوتا ہوں اور وہاں سے اپنے دوستوں کے ساتھ شکار کیلئے نکلتاہوں۔ ہم تین دوست ہوتے ہیں۔ ایک میرا بھائی جو جیپ چلارہا ہوتا ہے۔ ہم مرغابی کے شکار کیلئے نکلتے ہیں۔ راستے میں شکار نہیں ملتا۔ آخر کار ایک جھیل نما جگہ پر بہت سی مرغابیاں ہوتی ہیں۔ پھر وہاں کافی دیر تک شکار کھیلتے ہیں اور بہت سی مرغابیاں پکڑ کر انہیں ذبح کرکے اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔
تعبیر:۔ اچھا خواب ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ کے رزق اور وسائل دونوں میں اضافہ ہوگا۔آپ کے مالی وسائل میں مزید بہتری آئے گی اور برکت ہوگی۔آپ آرام اور سکون سے زندگی گزاریں گے۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یا حی یا قیوم کا ورد کیا کریں۔ رات کو سونے سے پہلے نبی کریمؐ کی سیرت طیبہ کا مطالعہ بھی کیا کریں۔

امتحان کی تیاری کرتی ہوں
بیا ساحل،اٹلی
خواب:۔میں نے دیکھا کہ میں اپنے کمرے میں اپنی کتابوں کے ساتھ میز پر بیٹھی ہوئی ہوں اور اپنے سالانہ امتحان کی تیاری کر رہی ہوتی ہوں کہ میری امی میرے کمرے میں آتی ہیں اور مجھے چائے دے کر چلی جاتی ہیں۔ وہ مجھ سے میری تیاری کے بارے میں بھی پوچھتی ہیں کہ تیاری کیسی ہو رہی ہے۔ میں امی کو بتاتی ہوں اور پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔
تعبیر:۔ اس خواب سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ اللہ نہ کرے آپ کسی آزمائش میں پڑسکتی ہیں یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کے کسی نئے کام میں رکاوٹ پیدا ہو جائے آپ کو سخت محنت سے دو چار ہونا پڑے گا۔آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یا حی یا قیوم کا ورد کریں اور کچھ صدقہ اور خیرات بھی کریں۔

مٹھائی تقسیم کرنا
مدثرہ علی، اسلام آباد
خواب:۔ میں نے دیکھا کہ میری ساس کچھ ڈبے لے کر میرے کمرے میں آتی ہیں اور میرے حوالے کرکے کہتی ہیں کہ ان کو سب رشتے داروں میں بانٹ دو ۔ میں کچھ ڈبے پلیٹوں میں ڈال کر اپنے دیور کو دیتی ہوں کہ محلے میں بھی بانٹ آئے۔ کچھ ڈبے میری ساس خود لے جاتی ہیں تاکہ جا کے رشتوں داروں میں بانٹ سکیں ۔ میں بھی کچھ ڈبے اٹھا کر سائیڈ پہ رکھ لیتی ہوں کہ میں دے آئوں گی۔ پھر اسی دوران گھنٹی کی آواز سن کر میں باہر دیکھتی ہوں تو ہمارے مالی کی فیملی کھڑی ہوتی ہے میں ان کو بھی کچھ ڈبے دے دیتی ہوں ۔ اس پر وہ بہت خوش ہوتے ہیں بلکہ ان کے بچے تو ادھر ہی کھانے لگ جاتے ہیں ۔
تعبیر:۔ اچھا خواب ہے جو کسی خوشخبری پر دلیل کرتا ہے۔ اس کے علاوہ رزق حلال میں برکت بھی ہو گی جس سے کاروبار میں اضافہ ہو گا اور مال و وسائل میں برکت ہو گی۔ یہ سب آپ کے لئے خیرو برکت کا موجب بنے گا۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یاحی یا قیوم کا ورد کیا کریں۔ ہو سکے تو کچھ خیرات بھی کیا کریں۔

مختصر جوابات:
مدثر سطان، لاہور
آپ جوابی لفافے کے ساتھ اپنا خواب دوبارہ لکھ کر بھجیں براہ راست جواب دے دیا جائے گا۔
کاشف مغل، سیالکوٹ
اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ کی عمر دراز ہو گی اور زندگی میں عزت و توقیر میں اضافہ ہو گا۔ گھریلو زندگی بھی پرسکون ہو گی اور انشاء اللہ اولاد کی طرف سے بھی فرماں برداری کا مظاہرہ ہو گا۔آپ کوشش کریں کہ نماز پنجگانہ کی پابندی کریں اور کثرت سے یاحی یا قیوم کا ورد کیا کریں۔
احمد حسین، وہاڑی
یہ خواب اچھا ہے اور اس بات کوظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے رزق میں اضافہ ہو گا۔ کاروبار میں بھی برکت ہو گی۔ اور اس سے مال و وسائل میں بہتری ہو گی۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یاشکور یا حفیظ کا ورد کیا کریں ۔
تبسم خان، لاہور
یہ خواب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ نہ کرے کوئی مشکل آسکتی ہے۔ گھر کا ماحول بھی کچھ پریشان کن ہو سکتا ہے۔ بیوی سے تعلقات کشیدہ ہو سکتے ہیں یا ان کے مزاج میں سختی آسکتی ہے جس سے ذہن میں پریشانی کا عنصر زیادہ ہو سکتا ہے۔ یا حی یا قیوم کا ورد کیا کریں۔ کچھ صدقہ و خیرات بھی کیا کریں۔
کوثر اسلم، لاہور
اللہ نہ کرے کہ کسی قسم غیر ضروری اخراجات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کاروبار میں بھی کچھ ایسی صورتحال ہو سکتی ہے۔ آپ نماز پنجگانہ کی پابندی کریں اور کثرت سے استغفار کیا کریں ۔
آسیہ بشیر، پشاور
پریشانی کی بات نہیں اللہ کے فضل و کرم سے یہ خواب ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے رزق حلال میں برکت ہو گی۔ آپ نماز پنجگانہ کی پابندی کیا کریں اور کثرت سے یاحی یا قیوم کا ورد کیا کریں۔ کوشش کریں کہ گھر میں پرندوں کو کھانا ڈالنے کا اہتمام کیا جائے۔
عمر خان، اٹک
آپ کا خواب ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ کو اولاد نرینہ نصیب ہو گی ۔ آپ نماز پنجگانہ کی پابندی کریں اور کثرت سے یاحی یا قیوم کا ورد کیا کریں ۔n

The post خوابوں کی تعبیر appeared first on ایکسپریس اردو.