خوابوں کی تعبیر

انجیر کھانا
کوثر پروین، لاہور

خواب: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے نانا کے گاؤں آئی ہوئی ہوں اور وہاں پر بہت سے لوگ میری نانی کے گھر جمع ہیں۔ جن میں سے کچھ ہمارے رشتے دار اور کچھ آس پاس کے ہمسائے ہیں۔ میرے نانا ابو کو کوئی آدمی انجیر نکال کر دیتا ہے اور وہ بہت خوشی سے سب رشتے داروں میں تقسیم کردیتے ہیں۔ مجھے بھی اچھی خاصی ملتی ہے۔ میں اپنی کزنز کے برعکس سارے نہیں کھاتی بلکہ کچھ ہی کھا کے باقی سب سمیٹ کے رکھ لیتی ہوں۔ اس پر سب کزنز میرا مذاق اڑاتی ہیں۔ اسی دوران میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر: اس خواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کے اندر غرض اور طمع زیادہ ہوگیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنے کی لگن آپ کے اندر پیدا ہوگی مگر اس کا فائدہ نہیں کوئی ہو سکے گا۔ دل کو سکون نہیں ملے گا۔ آپ قناعت پسندی کا مظاہرہ کریں، نماز پنجگانہ ادا کریں اور ہر نماز کے بعد کثرت سے استغفار بھی کیا کریں۔ کچھ نہ کچھ اللہ کی راہ میں خیرات کریں۔

گھر میں سانپ
علی جان ، سوات

خواب: میں نے دیکھا کہ میں اپنے کمرے میں لیٹا ہوں اور کسی کتاب کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ اسی دوران باہر سے کچھ چیخنے پکارنے کی آوازیں سن کر میں باہر جاتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ میری والدہ اور بہن ایک سانپ دیکھ کر خوفزدہ ہو رہی ہوتی ہیں اور چلا رہی ہوتی ہیں۔ میں جلدی سے ایک وائپر پکڑ لیتا ہوں اور اسے مارنے کی کوشش کرتا ہوں۔ کبھی وہ کہیں گھستا ہے کبھی کسی کونے میں ۔ میں مار مار کے اس کو زخمی کر دیتا ہوں اور پھر جب وہ ادھ موا ہو جاتا ہے تو اس کو اپنے صحن کے کچے گھڑے میں ڈال کر اوپر مٹی ڈال دیتا ہوں۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی ۔

تعبیر: اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ اپنے دشمن پر قابو پا لیں گے اور دشمن پر فتح حاصل ہو گی۔ آپ نماز پنجگانہ کی پابندی کیا کریں اور ہر نماز کے بعد کثرت سے استغفار بھی کیا کریں اور کچھ نہ کچھ اللہ کی راہ میں لازمی خیرات کیا کریں۔

پہاڑی مقام کی سیر
محمد جاوید ، ساہیوال

خواب: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں کسی پہاڑی علاقے میں گھومنے گیا ہوا ہوں، جیسے کشمیر سائیڈ ہو۔ وہاں کسی جنگل میں گھومتے گھوماتے میری نظر ایک درخت پر پڑتی ہے تو میں دیکھتا ہوں کہ اس پر ایک انتہائی خوش رنگ پرندہ بیٹھا ہے۔ میں کافی دیر کھڑا اس کو دیکھتا رہتا ہوں۔ وہ بھی بالکل ساکت بیٹھا رہتا ہے جیسے ہی میں اس کی تصویر لینے کیلئے اپنا موبائل جیب سے نکالتا ہوں، وہ اڑ جاتا ہے ۔

تعبیر: یہ خواب اچھا ہے اور خوش قسمتی پر دلیل کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ کی عزت و توقیر میں اضافہ ہو گا۔ اپنے خاندان میں بھی بزرگی عطا ہوگی ، اس سے خیروبرکت میںاضافہ ہوگا۔ آپ کے کاروبار میں بھی مال و وسائل کے بڑھنے سے ترقی ہوگی۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یاحی یا قیوم کا ورد کیا کریں حسب توفیق صدقہ و خیرات بھی کیا کریں۔

گھر کی صفائی کرنا
نوشین علی،جھنگ

خواب :میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے گاؤں میں گھر کے اندر صفائی کر رہی ہوں چونکہ وہ کچا ہے تو بہت زیادہ گرد وغبار کا طوفان سا اٹھا ہوتا ہے جو کہ مجھ سے کسی طرح بھی کم نہیں ہو رہا ہوتا۔ پانی لگانے سے ہر جگہ کیچڑ سا بن جاتا ہے مگر وہ گردوغبار نہیں بیٹھتا حالانکہ ہمارا گاؤں والا گھر کچا تو ہے مگر کبھی اصل میں اس طرح ہوا نہیں کہ اتنا شدید غبار اٹھا ہو، پھر ایسا گھنا جیسے دھند ہو ۔

تعبیر: یہ خواب ظاہر کرتا ہے کہ اللہ نہ کرے کہ آپ کے سر پر غیر ضروری اور اچانک اخراجات کا بوجھ آسکتا ہے۔ اس سے کاروبار میں رکاوٹ بھی مراد ہو سکتی ہے جیسے کسی مال کا دیر سے نکلنا یا پیسوں کی واپسی دیر سے ہونا ۔ اللہ نہ کرے قرض لینے کی نوبت بھی آسکتی ہے۔ آپ کوشش کریں کہ نماز پنجگانہ کی پابندی کریں اور کثرت سے یا حی یا قیوم کا ورد کیا کریں۔

نماز کی تلقین
امین واجد، قصور

خواب: میں نے دیکھا کہ میٹرک کا رزلٹ آگیا ہے اور میں لائٹ نہ ہونے کی وجہ سے دوسرے محلے میں اپنے دوستوں کے ساتھ نیٹ کیفے کی تلاش میں جا رہا ہوتا ہوں کہ میرے کسی دوست کا فون آتا ہے کہ سب اس کے گھر آ جائیں۔ ہم مل کے اس کے گھر کی طرف چل پڑتے ہیں۔ بازار سے گزرتے ہوئے ایک بزرگ اپنے مریدوں کے ساتھ جا رہے ہوتے ہیں۔ ہم میں سے ایک دوست ان کی طرف ادب سے سلام کرنے رک جاتا ہے اس کو دیکھ کر ہم بھی رک جاتے ہیں اور ان سے سلام کرنے لگ جاتے ہیں ۔ وہ میرے ہاتھ بڑھانے پر بہت شفقت سے مجھے گلے لگاتے ہیں اور جیب سے ٹوپی نکال کر میرے سر پر رکھ دیتے ہیں اور ہم سب سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ چلو نماز کا وقت ہے۔ اس پر ہم سب دوست ان کے ساتھ مسجد کی طرف چل پڑتے ہیں ۔

تعبیر: اچھا خواب ہے اور اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ کو اپنے بزرگوں سے فیض ملے گا اور ان کی طرز فکر بھی منتقل ہوگی۔ دین و دنیا میں کامیابی ہو گی اور ذہنی طورپر اللہ سے وابستگی رہے گی۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور رات ہونے سے قبل نبی کریم ؐ کی سیرت پاک کا مطالعہ کیا کریں۔

والدہ کے گھر جھگڑا
زینب علی، راولپنڈی

خواب : میں نے خواب میں دیکھا کہ میں کافی دنوں بعد اپنے میکے آئی ہوتی ہوں اور اپنے والدین کے پورشن میں بیٹھی اپنی والدہ سے باتیں کر رہی ہوتی ہوں۔ اس دوران میرے دونوں بھائیوں کے جھگڑنے کی آواز سن کر میں اور میری والدہ باہر جاتے ہیں تو وہاں میرے دونوں بھائی ایک دوسرے سے جھگڑنے کے ساتھ جائیداد کو تقسیم کرکے الگ الگ گھر لینے کے بارے میں بات کر رہے ہوتے ہیں۔ اس پر میری والدہ بہت پریشان ہوتی ہیں اور چکرا کر ادھر ہی گر جاتی ہیں مگر اس کے باوجود بھائی چپ نہیں کرتے۔ میں پریشانی میں اپنی والدہ کو دیکھنے لگتی ہوں مگر گھبراہٹ میں مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میں کروں ۔ اسی دوران میری آنکھ کھل گئی مگر یہ گھبراہٹ مجھے اس کے بعد بھی رہی۔

تعبیر :۔ یہ خواب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ نہ کرے کوئی ناگہانی مصیبت یا پریشانی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جس سے گھر کے آرام وسکون میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔ اس سے کاروباری معاملات میں بھی رکاوٹ یا بندش مراد لی جا سکتی ہے جس سے مال و وسائل میں کمی آسکتی ہے۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور ہرنماز کے بعد کثرت سے یاحی یاقیوم کا ورد کیا کریں۔

تہجد کی نماز
نویدہ مراد،فیصل آباد

خواب: میں نے دیکھا کہ میں اپنے گھر میں ہوں اور تہجد کیلئے اٹھ کر وضوکرنے جاتی ہوں۔ نماز ادا کرنے کے بعد میں دعا کیلئے جب ہاتھ اٹھاتی ہوں تو مجھ پر رقت طاری ہو جاتی ہے۔ میں کوئی دعا مانگ نہیں پاتی بلکہ زار وقطار رونا شروع کردیتی ہوں۔ سارا وقت بس روئے ہی چلی جاتی ہوں کہ میرے میاں پھر مجھے ہلا کر متوجہ کرتے ہیں تومیں جلدی سے اٹھ کر ناشتے کیلئے کچن کی طرف چل دیتی ہوں اور وہاں کام کرتے ہوئے مسلسل ہی سوچتی رہتی ہوں کہ میں نے توفلاں دعا مانگتی تھی یا فلاں کے بارے میں دعاکرنی تھی۔

تعبیر:۔ آپ کا خواب اچھا ہے۔ خیروبرکت پر دلیل کرتا ہے۔ اللہ تعالی کی نعمت سے سرفراز ہوں گی ۔ اس سے گھریلو وکاروباری زندگی میں آسانی ہوگی۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یاحی یاقیوم کا ورد کیا کریں۔ روزانہ سورۃ بقرہ کی تلاوت کیا کریں ۔ جتنی بھی آپ آسانی سے کر سکیں۔

آسمان سے روشنی اترتی ہے
خالدہ بی بی، لاہور

خواب:۔ میں نے خواب دیکھا کہ میں اپنے آبائی گھر میں ہوں جبکہ مصیبت میں ہم اس کو بیچ چکے ہیں ۔کئی سالوں سے میں دیکھتی ہوں کہ ہم چھت پہ سوئے ہوئے ہیں جیسے ہم اپنے بچپن میں سوئے تھے۔ لائٹ گئی ہوئی ہے اور میں چھت پہ ٹہل رہی ہوں۔ اسی دوران میں دیکھتی ہوں کہ آسمان سے ایک نور کا ہیولہ سا اترتا نظر آتا ہے۔ اس کی روشنی سے ہماری چھت بھی جیسے دن کی روش میں نظر آتی ہے ویسی نظر آتی ہے۔ اس نور میں میرے والد صاحب ہوتے ہیں جو کہ گھر کی چھت پہ اترتے ہیں۔ میں ان کو دیکھ کر خوش ہوجاتی ہوں اور وہ بھی مسکرا کر مجھے دیکھتے ہیں مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اس روشنی کے باوجود باقی والے اسی طرح سوئے ہوئے ہیں۔

تعبیر:۔ اچھا خواب ہے جو آپ کے والد صاحب کے اچھے مقام پر ہونے کو دلیل کرتا ہے۔ نیک روحوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو بھی اپنے والد صاحب سے فیض ملے گا یعنی مال و وسائل میں برکت ہوگی ۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا ۔کریں اور کثرت سے یاحی یا قیوم کا ورد کیا کریں ۔ اپنے والد صاحب کی روح کو ایصال ثواب کے لئے سب لوگ سوا لاکھ مرتبہ آیت کریمہ پڑھ کر ان کو تحفتاً بھیجیں۔

The post خوابوں کی تعبیر appeared first on ایکسپریس اردو.

کس رنگ کا لباس پہنیں

بعض خواتین اکثر اس الجھن میں مبتلا نظر آتی ہیں کہ وہ کس رنگ کے کپڑے پہنیں۔

واقعی یہ تھوڑا مشکل سا امر ہے اور اس صورت میں تو اور بھی مشکل ہوجاتا ہے جب سامنے ڈھیر سارے کپڑے رکھے ہوں اور ان میں سے کسی ایک اور اچھے سے رنگ کے لباس کا انتخاب کرنا پڑجائے۔

سمجھ دار اور باذوق خواتین اپنی اس الجھن کو بڑی نفاست سے خود ہی سلجھاتے ہوئے اپنے لیے کسی نہ کسی طرح مناسب رنگ منتخب کرہی لیتی ہیں، لیکن ایسی بھی کئی خواتین ہیں جو اپنے لباس کے بارے میں عجیب سے مخمصے کا شکار نظر آتی ہیں۔ وہ کسی ایک رنگ کو اپنے لیے مخصوص کرلیتی ہیں، اگر ڈارک بلو رنگ پسند ہے تو بس ہرلباس میں ڈارک بلو رنگ ہی ڈھونڈتی ہیں۔

شاپنگ پر بھی جانا ہو تو اچھے اچھے رنگوں کے باوجود اپنے پسندیدہ رنگ کے لیے بے انتہا پریشان ہوجاتی ہیں۔ ان کی جاننے والیاں، کزنز، فرینڈ وغیرہ جو ان کی اس عادت سے واقف ہوتی ہیں، کسی خوشی کے موقع پر انہیں لباس کا تحفہ دینے میں جھجکتی ہیں۔ ہر وقت خود پر ایک ہی رنگ طاری کرلینا بعض اوقات ایک نفسیاتی عمل لگتا ہے۔ ازرہ کرم اپنی اس عادت سے پیچھا چھڑائیے۔

کسی ایک رنگ کو اپنے لیے خاص مت کیجیے۔ آپ یہ ضرور دیکھیں کہ آپ پر کس رنگ کا لباس زیادہ  اچھا لگ رہا ہے۔ لیکن اس بات پر بھی دھیان دیجیے کہ آپ کے مقابل آنے والی کوئی بھی خاتون آپ کو اس رنگ کے لباس میں دیکھ کر کیا رائے رکھتی ہے۔ اگر مقابل کی نگاہ میں ستائش ہے تو یہ  اچھی بات ہے، لیکن اگر وہ آپ کے پسندیدہ رنگ کے بارے میں ناپسندیدگی کا اظہار کرے تو پھر دیگر خواتین کی رائے بھی لیجیے، اگر سب کی رائے ایک جیسی ہے تو آپ اس رنگ کے لباس پہننا ترک کردیں، کیوں کہ ’’پہنیے جگ بھاتا اور کھائیے من بھاتا‘‘ کے نسخے پر عمل کرنا بھی کبھی کبھی ضروری ہوجاتا ہے۔ لباس کے رنگ کا انتخاب دوسروں کی پسند کے ساتھ ساتھ اپنی جسامت، چہرے کی رنگت، فٹنس اور اپنی عمر کے لحاظ سے کیجیے۔

ہلکے سانولے چہرے اور پرکشش نقوش والی خواتین پر ہر طرح کے لباس کا رنگ کھل جاتا ہے، پھر چاہے ان کی جسامت اور عمر کتنی بھی ہو۔ ان کو لباس کے رنگوں کا انتخاب کرتے ہوئے زیادہ دقت نہیں اٹھانی پڑتی لیکن یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ ہر خاتون پر ہر رنگ نہیں سج سکتا، اگر آپ گہرے سانولے چہرے والی خاتون ہیں تو کبھی شوخ رنگوں کے کپڑے مت پہنیے،  ہمیشہ اپنے لیے ہلکے رنگوں والے کپڑے منتخب کیجیے۔

بھاری جسامت والی خواتین اپنے چہرے کی رنگت کے مطابق ہر طرح کے رنگ پہن سکتی ہیں، لیکن انہیں یہ بھی خیال رکھنا چاہیے کہ ایسے کپڑے نہ پہنیں جو ان کے جسم کو مزید نمایاں کریں۔ لمبی پتلی اور گورے چہرے والی لڑکیوں کو تیز گہرے اور شوخ رنگوں کے لباس سوٹ کرتے ہیں، یہ اگر ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں تو دیکھنے والوں کی نگاہ میں اچھا تاثر نہیں ابھرتا۔ بڑی عمر کی خواتین کو بھڑکیلے اور گہرے رنگ کے لباس پہننے سے گریز کرنا چاہیے۔

تیز رنگ کے لباس پہننے سے ان کے ساتھ ’’بوڑھی گھوڑی لال لگام‘‘ والا معاملہ ہوجاتا ہے۔ درمیانی عمر کی خواتین رنگوں کا انتخاب کرتے وقت موسم کو پیش نظر بھی رکھ سکتی ہیں۔ سردی ہے تو آپ تیز رنگوں کے لباس زیب تن کریں، لیکن اگر گرمی کا موسم ہے تو ہلکے اور لائٹ رنگوں کے لباس  مناسب ہوں گے۔  لیکن یہ  بھی ضروری ہے کہ وہ رنگ آپ کی شخصیت کے عین مطابق لگے۔

شادی بیاہ کی تقاریب دوپہر میں ہیں  تو ہلکے رنگوں کے لباس پہنیے، البتہ رات کی تقاریب میں آپ اپنی  پسند کا رنگ چوزکرسکتی ہیں،  لیکن پھر آپ میک اپ اس طرح کریں کہ چہرہ لباس کے رنگ کے ہم آہنگ رہے۔ چھوٹی بچیوں کو آپ بے بی پنک، بلیک، وائٹ اور ہلکے بلو اور ہرے کلرز پہنا سکتی ہیں۔ بچی اگر ذرا بڑی ہے تو آپ اسے ہر رنگ کے کپڑے پہنائیں، ساتھ ہی آپ دیکھتی رہیں کہ جیسے جیسے وہ بڑی ہورہی ہیں تو  ان پر کون کون سے رنگ جچ رہے ہیں،  پھر اسی مناسبت سے ان کے لیے رنگوں کا انتخاب کیجیے۔

 

The post کس رنگ کا لباس پہنیں appeared first on ایکسپریس اردو.

خوابوں کی تعبیر

امی کی قینچی

غضنفر علی،لاڑکانہ

خواب:۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ میری امی کمرے میں شور مچا رہی ہوتی ہیں۔ پتہ کرنے پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ امی کی قینچی کہیں گم ہوگئی ہے جو انہوں نے کپڑے سینے کی مشین پر رکھی ہوئی تھی۔ مگر اب ان کو قینچی کی ضرورت ہے اور قینچی نہیں ملتی۔ میں امی کو بتاتی ہوں کہ مل جائے گی مگر وہ سنتی ہی نہیں، اتنے میں میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر:۔ اس خواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کے عزیزوں اور رشتہ داروں میں جو ناراضگی ہے وہ دور ہو جائے گی۔ جائیداد کی تقسیم ہو جائے گی اور آپ کو اس میں سے اپنا معقول حصہ بھی مل جائے گا۔ اس کے بعد آپ کی پریشانی اور غم و فکر دور ہو جائے گا۔ معاشی حالات بہتر ہو جائیں گے۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے وضو یا بغیر وضو یاحفیظ یا اللہ کا ورد بھی کیا کریں۔

باغ میں سبز گھاس

علی شاہ۔لاہور

خواب: میں نے دیکھا کہ میں ایک باغ میں سیر کر رہا ہوتا ہوں۔ باغ کے اندر سبز رنگ کی بڑی خوبصورت گھاس ہوتی ہے، اور میں اس وقت گھاس پر چلتا ہوں۔ گھاس بڑی نرم ہوتی ہے اور اس پر چل کر میرا دل بہت خوش ہوتا ہے، پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے، اس خواب کی تعبیر بتا دیجئے۔

تعبیر: اچھا خواب ہے جو اس بات کوظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ کے رزق میں اضافہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ مال اور وسائل میں برکت عطا فرمائیں گے۔ گھر میں آرام اور سکون ملے گا۔ کاروبار میں ترقی کے نئے نئے مواقع ملیں گے۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے وضو یا بغیر وضو یا حی یا قیوم کا ورد بھی کریں۔ رات کو سوتے وقت نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ بھی کریں۔

چشمے کا پانی پینا

علی ظفر،پتوکی

خواب:۔ میں نے دیکھا کہ میں اپنے کھیت کی طرف جا رہا ہوتا ہوں ۔ میرا کھیت پہاڑ کے دامن میں ہے۔ جب میں پہاڑ کے قریب سے گزرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ پہلے چشمہ سے پانی بہت کم ہوتا تھا لیکن آج جب میں چشمہ کے پاس سے گزرتا ہوں تو پانی کناروں سے باہر بڑی تیزی سے نکل رہا ہوتا ہے۔ میں تھوڑی دیرتک اس پانی کو دیکھتا اور پھر دونوں ہاتھوں سے پانی پیتا ہوں۔ جب میں سیر ہو جاتا ہوں تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ پھر اپنے کھیت کی طرف جاتا ہوں کہ میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر:۔ اس خواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے رزق میں اضافہ ہوگا۔ آپ کے عزیز و اقارب کو آپ سے فائدہ ہوگا اور اگر آپ نوکری کرتے ہیں تو نوکری میں ترقی ہو سکتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے کاروبار یا دکانداری کرتے ہیں تو اس میں برکت ہوگی۔ آپ آرام اور سکون سے آباد رہیں گے۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یا شکور کا ورد بھی کریں۔ رات کو سیرت کی کتاب میں سے حضورؐ کے اخلاق کا حصہ پڑھا کریں۔

زخم ٹھیک ہوگیا

خالد جعفری،پشاور

خواب: میں نے دیکھا کہ میں نماز پڑھ رہی ہوتی ہوں کہ میری ایک دوست مجھے سر پر بلا مارتی ہے اور میرے سر سے خون نکلتا ہے میں بہت چیختی ہوں۔ پھر میں کمرے میں ہوتی ہوں اور ڈاکٹر میرا آپریشن کرتے ہیں اور میرے جسم پر ہلدی کا لیپ کردیتے ہیں۔ ہلدی کی وجہ سے میرا زخم ٹھیک ہو جاتا ہے۔ پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے اس خواب کی تعبیر بتادیں۔

تعبیر: اچھا خواب ہے جودوحصوں پر مشتمل ہے۔ خواب کا پہلا حصہ اللہ کی بندگی اور سعادت کی نشاندہی کرتا ہے۔ دوسرا حصہ پریشانی ظاہرکرتا ہے جو وقتی طور پر آئے گی۔ مگر اللہ تعالیٰ آپ کو آرام وسکون عطا فرمائیں گے۔آپ نماز پنجگانہ ادا کیاکریں۔ باوضو یا بغیر وضو کثرت سے یا حی یا قیوم کا ورد کریں اور اللہ کی راہ میں کچھ صدقہ اور خیرات کریں۔

مجھے گولی لگ گئی

عشرت جاوید۔لاہور

خواب: کچھ دن پہلے میں نے خواب میں دیکھا جس کی وجہ سے میں کافی پریشان ہوں۔ میں نے دیکھا کہ میں بازار میں جا رہا ہوں وہاں ایک موٹر سائیکل سوار بہت تیزی سے گزرتا ہے اور ایک دکاندار کو جا کر مارنا شروع کردیتا ہے۔ میں ان دونوں کو لڑتا ہوا دیکھ کر ان کے پاس جاتا ہوں اور دونوں کو ایک دوسرے سے چھڑواتا ہوں۔ ایک لڑکے نے پستول نکال کرگولی چلائی جو مجھے لگ جاتی ہے۔ میں زخمی ہوکر زمین پر گر جاتا ہوں۔ میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر: اس خواب سے پتا چلتا ہے کہ اللہ نہ کرے آپ کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا ہو سکتا ہے یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کو کوئی بڑا نقصان ہو جائے۔کاروبار میں بھی نقصان ہو سکتاہے۔آپ نماز پنجگانہ اداکریں اور کثرت سے ہرنماز کے بعد استغفار کیا کریں۔ اللہ کی راہ میں صدقہ اور خیرات کریں۔

صندل کا شربت پینا

محمد موسیٰ۔لاہور

خواب: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں باہر سے گھر آتا ہوں۔ مجھے سخت گرمی لگی ہوئی ہے اور میں پسینے میں شرابور ہوں پھر میری بیوی مجھے صندل کا شربت تیار کرکے دیتی ہے اور وہ شربت میں پیتا ہوں۔ شربت پینے کے بعد مجھے سکون ملتا ہے اور میں آرام سے سو جاتا ہوں۔ اس خواب کی تعبیر بتا دیجئے۔

تعبیر: اس خواب سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے اگر آپ بیمار ہیں تو جلد آپ کو صحت عطا ہو گی۔ اللہ تعالیٰ آپ کی عمر دراز فرمائیں گے اورآپ کو صحت، آرام اور سکون کی زندگی عطا ہوگی۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یا اللہ یا رحمن یا رحیم کاورد کریں،کوشش کریں کہ صبح فجر کی نماز کے بعد گہرے گہرے سانس ناک کے ذریعہ اندر لیا کریں اورآہستہ آہستہ ہوا باہر نکال دیا کریں۔ آپ کے لئے محفل مراقبہ میں دعا بھی کروا دی جائے گی۔

فیروزے کی انگوٹھی

عامر بیگ۔سیالکوٹ

خواب: میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے میاں میرے لئے فیروزے کی ایک انگوٹھی لاتے ہیں اور وہ انگوٹھی مجھے دیتے ہیں۔ انگوٹھی سونے کی اور بہت خوبصورت ہوتی ہے، میں جلدی سے ہاتھ دھو کر اس انگوٹھی کو اپنے دائیں ہاتھ میں پہن لیتی ہوں، پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر: اچھا خواب ہے، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے مقصد میں کامیاب کریں گے۔ آپ کو راحت اور آرام ملے گا۔ اللہ تعالیٰ آپ کے رزق اور وسائل دونوں میں برکت عطا فرمائیں گے۔ اچھے کام کرنے میں فتح ملے گی۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے وضو یا بغیر وضو یا شکور یا عزیز کا ورد کیا کریں، آپ کیلئے محفل مراقبہ میں دعا کروا دی جائے گی، کچھ خیرات بھی کریں۔

گھر میں گندم کا ڈھیر

مہوش بنگش۔گوجرانوالہ

خواب: میں نے دیکھا کہ میں اپنے کام سے گھر واپس آتا ہوں جب میں اپنے بڑے کمرے میں جاتا ہوں تو وہاں گندم کا ایک بہت بڑا ڈھیر پڑا ہوتا ہے۔ میں اس کو قریب سے دیکھتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ یہ گندم کہا ںسے آئی ہے اور کس نے ادھر رکھ دی ہے؟ میں ابھی اس بات کو سوچ رہا ہوتا ہوں کہ میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر: اچھا خواب ہے یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ کے رزق اور وسائل میں برکت ہو گی، اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ کے کاروبار اور ملازمت میں ترقی ہوگی۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یا شکور کا ورد کیا کریں۔ بعد از نماز عصر اوّل آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ گیارہ مرتبہ سورہ کوثر پڑھ کر خود کو دم کر لیا کریں، گھر میں لوبان کی دھونی دیں۔

بازار میں شوروغل

زہرہ جبین۔مردان

خواب : میں نے خواب میں دیکھا کہ بازار سے گزر رہا ہوں کہ راستے میں ایک جگہ کافی لوگ جمع ہیں۔ بازار میں ان کی لڑائی کی وجہ سے کافی شوروغل ہوتا ہے۔آوازوں کی سمجھ نہیں آتی ہے۔ میں بھی ایک طرف کھڑے ہوکر دیکھتا ہوں پھر ہجوم میری طرف بڑھتا ہے۔ میں ان کے گھیرے میں بھی آجاتا ہوں پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر: اس خواب سے ظاہر ہوتاہے کہ اللہ نہ کرے آپ کی پریشانیوں اور مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ کسی بنے ہوئے کام میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے سکون اور آرام میں خلل پیدا ہوسکتا ہے آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یا حی یاقیوم کا ورد کریں اور رات کو سونے سے پہلے نبی کریمؐ کی سیرت کی کتاب میں حضورﷺ کی اسوہ حسنہ کا مطالعہ کریں اور کوشش کریں کہ ان پر عمل کریں۔

خود کو قبرستان میں دیکھنا

سمیرا رضا۔کراچی

خواب: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں چند لوگوں کے ساتھ ایک قبرستان میں ہوتا ہوں، ہم لوگ ایک جگہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں، قبرستان میں کچھ قبریں پکی ہوتی ہیں اور کچھ کچی، میں ایک قبر پر کھڑا ہو کر فاتحہ پڑھتا ہوں، اس خواب کی تعبیر بتا دیجئے۔

تعبیر: اس خواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خواب آپ کے لئے باعث عبرت ہو گا۔ قید خانے سے بھی تشبیہہ دی جا سکتی ہے۔ آپ کے لئے مشکلات اور پریشانیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے ’’استغفار‘‘ بھی کریں۔ کچھ اللہ کی راہ میں خیرات کریں یا اپنے اوپر سے وار کر صدقہ کر دیں۔ آپ کے لئے محفل مراقبہ میں دعا بھی کروا دی جائے گی۔n

والد نور کے ہالے میں

شانی،جھنگ

خواب: میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے والد جو تین چار روز پہلے وفات پا چکے ہیں آسمان سے زمین پر آتے ہیں۔ وہ نور کے ہالے میں لپٹے ہوتے ہیں۔ وہ ہمارے گھر میں آتے ہیں نور کا یہ ہالہ انہیں چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ نورانی فرشتے ان کے گرد ہیں۔ میرے والد بارعب مطمئن اور خوشگوار نورانی چہرے کے ساتھ ہمارے گھر میں ایک شیشم کا درخت تھا جو اب کٹ گیا، وہاں آکر رک جاتے ہیں۔ میری والدہ اور میں والد کو نور کے گھیرے میں دیکھ کر سبحان اللہ، الحمداللہ، اللہ اکبر اور با آواز بلند لاالہ الااللہ پڑھتے ہوئے نہایت ادب اور تعظیم سے ان کے پیچھے پیچھے چلتے ہیں۔آنکھ کھلی تو میں بلند آواز میں کلمہ پڑھ رہا تھا۔اس کی تعبیر کے ساتھ کوئی روحانی وظائف بھی بتائیے اور مراقبہ میں دعا کروادیں۔

تعبیر:اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے والد عالم اعراف میں ایک اچھے مقام پر ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے سکون اور آرام میں ہیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نبی کریمؐ کی شفقت ہے۔ آپ تمام گھر والے مل کر سوا لاکھ مرتبہ تیسرا کلمہ پڑھ کر اپنے والد کو ایصال ثواب کردیں اور کچھ ان کے نام کے کپڑے یا کھانا غرباء میں تقسیم کردیں۔ آپ کیلئے محفل مراقبہ میں دعا بھی کروا دی جائے گی۔آپ نماز پنجگانہ ادا کریں اور کثرت سے یا حی یا قیوم کا ورد بھی کریں۔

کاروبار پر بندش

محمد حیات۔مری

خواب: میں خواب میں خود کو ہر وقت پریشان دیکھتا ہوں، آپ سے گزارش ہے کہ میری مدد فرمایئے۔ میری ایک چھوٹی سی دکان ہے دو تین سال سے دن بدن میں مقروض ہوتا جا رہا ہوں، میں نے دو تین عاملوں سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ آپ پر جادو ہے، زلزلے کی وجہ سے بھی کاروبار متاثر ہے، آپ مہربانی فرما کر بتایئے کہ کیا میرے کاروبار پر کسی نے بندش کروائی گئی ہے؟

جواب: اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، آپ بندش اور جادو کے چکر میں نہ پڑیں۔ عامل حضرات اگر یہ نہ بتائیں تو ان کا کاروبار نہیں چلتا، وہ لوگوں کو خوف میں مبتلا کر دینا چاہتے ہیں۔ آپ رات کو بعد از نماز عشاء اوّل و آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ 21 مرتبہ سورہ فلق، 21 مرتبہ سورہ الناس پڑھ کر پانی پر دم کر کے دو حصوں میں تقسیم کریں۔ ایک حصہ گھر اور دکان کے اندر چاروں کونوں میں چھڑک دیں، اور دوسرا حصہ خود پی لیا کریں۔ اس عمل کو آپ 90 یوم تک کریں آپ اپنے کام کی نئے سرے سے منصوبہ بندی کریں اور ان حالات کا جائزہ لیں جن کی وجہ سے آپ کو قرض لینے کی نوبت آئی۔ بعد از نماز عصر اوّل و آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ 11مرتبہ سورہ کوثر پڑھ کر اپنے اوپر دم کر لیا کریں۔ آپ کو کسی بھی عامل کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف اور صرف نماز پنجگانہ ادا کر کے اللہ تعالی سے دعا کریں۔

گھوڑے پر سواری

کامران علی خان۔پشاور

خواب: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے کھیتوں میں ہوتا ہوں۔ میرا ایک مزارعہ ایک بہت ہی اچھا گھوڑا لاتا ہے اور مجھے کہتا ہے کہ یہ نیا گھوڑا خریدا ہے۔ میں اس گھوڑے پر سوار ہو جاتا ہوں اور اسے اپنے علاقے میں لے جاتا ہوں۔ مجھے سواری کرتے ہوئے بہت مزہ آتا ہے۔ پھر میں اپنے گھر کی طرف آتا ہوں۔ راستے میں لوگ میری طرف دیکھتے ہیں، پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ تعبیر بتا دیجئے۔

تعبیر: اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے آپ کے مال و دولت میں اضافہ فرمائیں گے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سیاست یا حکومت میں آپ کو بہت عزت اور کوئی منصب بھی مل سکتا ہے۔ آپ کی عزت اور توقیر میں بھی اضافہ ہو گا، اللہ تعالیٰ آپ کے وسائل میں اضافہ فرمائیں گے، آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یا حی یا قیوم کا ورد بھی کریں، وضو یا بغیر وضو کے۔

The post خوابوں کی تعبیر appeared first on ایکسپریس اردو.

خوابوں کی تعبیر

 مسواک خریدنا
عثمان علی، وہاڑی

خواب :۔ میں نے خواب دیکھا کہ میں اپنے گھر سے نماز ادا کرنے مسجد جاتا ہوں وہاں مسجد کے باہر ایک صاحب مسواک بیچ رہے ہوتے ہیں۔ کافی لوگ ان سے خرید رہے ہوتے ہیں ۔ میں بھی سوچتا ہوں کہ ان سے لے لوں اور پھر میں کافی ساری مسواکیں خرید لیتا ہوں اور وہیں پر مسواک کرنے لگ جاتا ہوں۔ برائے مہربانی فرما کر اس کی تعبیر بتا دیجیئے۔

تعبیر:۔ اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے دین و دنیا دونوں میں بھلائی نصیب ہوگی۔ اللہ وسائل اور رزق میں برکت عطا فرمائیں گے جس کی وجہ سے ادائیگی قرض احسن طریقہ سے مکمل ہوگی۔ گھریلو معاملات میں بھی آسانی ہوگی۔ اولاد سعادت مند اور فرمانبردار ہوگی۔ آپ نماز پنجگانہ کی پابندی کریں اور وضو یا بغیر وضو کثرت سے یا اللہ یا رحمن یا رحیم کا بھی ورد کیا کریں۔

گرم کھانے سے منہ جلنا
سویرا خان، اسلام آباد

خواب :۔ میں نے دیکھا کہ میں کالج سے دوپہر کو گھر آتی ہوں تو بہت بھوکی ہوتی ہوں۔ کچن میں امی ابھی کھانا پکا رہی ہوتی ہیں۔ میرے بھوک، بھوک چلانے پر امی مجھے ڈانٹتی ہیں کہ صبر کرو ابھی کھانا پکنے میں وقت ہے۔ پھر امی کسی کام سے کچن سے باہر جاتی ہیں تو میں گرم گرم سالن نکال کر کھانا شروع کردیتی ہوں جس سے میرے ہاتھ اور منہ بری طرح جل جاتا ہے۔ برائے کرم اس کی تعبیر بتا دیں ۔

تعبیر: یہ خواب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ نہ کرے کسی مصیبت یا مشکل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ کسی پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔ زندگی کے معاملات میں کسی ناگہانی مصیبت کا سامنا ہوسکتا ہے۔ معاملات میں کسی رکاوٹ یا بندش کا سامنا ہو سکتا ہے۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور ہر نماز کے بعد کثرت سے استغفار کا ورد کیا کریں۔ کسی منگل یا ہفتہ کو کالے ماش کالے چنے یا کالا کپڑا کسی مستحق کو دے دیں۔ آپ کے لئے محفل مراقبہ میں دعا کرا دی جائے گی۔

خالہ گفٹ پیک دیتی ہے
اسماء طارق ،لاہور

خواب :۔ میں نے خواب دیکھا کہ میں اپنی خالہ کے گھر رہنے آئی ہوں۔ وہاں ان کا پورا سسرال ہے۔ جب میں کچھ دن رہنے کے بعد واپس جا رہی ہوتی ہوں تو خالہ کی ساس مجھے ایک گفٹ پیک دیتی ہیں ۔ جب گھر آکے میں اس کو کھولتی ہوں تو اس میں ایک چھوٹی سی نماز کی کتاب اور ایک زرد رنگ کا انتہائی جھلملاتا ہوا سوٹ ہوتا ہے۔ میرے گھر والے بھی اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں کہ آنٹی نے کس قدر نفیس اور خوبصورت قیمتی لباس مجھے دیا ہے۔

تعبیر:۔ اچھا خواب ہے جو کہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ کو دین کی سمجھ عطا ہوگی۔ اگر گھر میں کوئی بیمار ہے تو اس کو شفا ہوگی ۔ خدانخواستہ کاروباری یا گھریلو معاملات میں کوئی مسئلہ ہے تو خدا کی مہربانی سے وہ حل ہوجائے گا ۔ آپ کوشش کریں کہ نماز پنجگانہ کی پابندی کریں اور کثرت سے یاحی یا قیوم کا ورد کیا کریں اور ہوسکے تو حسب توفیق صدقہ و خیرات بھی کیا کریں۔

فصل جلد تیار ہونا
نعیم بلوچ، لاہور

خواب :۔ میں نے خواب دیکھا کہ میں اپنے آبائی گاؤں گیا ہوا ہوں اور کھیتوں میں گھوم رہا ہوں۔ پھر میں ٹیوپ ویل سے فصلوں کو پانی لگا دیتا ہوں جس سے دیکھتے ہی دیکھتے تمام فصل اسی وقت پک کر تیار ہوجاتی ہے۔ میں یہ دیکھ کر بہت حیران ہوتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ اتنی جلدی کیسے فصل پک کے تیار ہوگئی اس کو تو تیار ہونے میںکم از کم چھ مہینے چاہیے ہوتے ہیں۔ میں یہ دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہوں۔ اسی وقت میرے بھائی ادھر آجاتے ہیں تو وہ بھی یہ دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل جاتی ہے ۔

تعبیر:۔ اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ کی مہربانی سے آپ کو کامیابی ملے گی۔ خوشخبری بھی دلیل کرتا ہے۔ یہ خواب جس سے کاروبار میں برکت ہو گی اور ترقی ہو گی۔ گھر میں آرام اور سکون بھی رہے گا۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یاحی یا قیوم کا ورد کیا کریں۔

تالاب میں نہانا
احمد نصیر، لاہور

خواب:۔ میں نے دیکھا کہ ہم سب دوست کہیں گھومنے گئے ہوئے ہیں۔ کافی پر فضا مقام ہوتا ہے۔ میں اور میرے دوست بہت خوش ہوتے ہیں اور سب ادھر ادھر گھومنے لگتے ہیں۔ اسی دوران ہم کو ایک انتہائی صاف شفاف پانی کا تالاب نظر آتا ہے۔ میں فوراً اس میں چھلانگ لگا دیتا ہوں اور انتہائی برفیلے پانی میں نہانے لگتا ہوں جس سے مجھے بے حد خوشی ملتی ہے۔ تازگی کا احساس ہوتا ہے اور لگتا ہے کہ جیسے نہا کر نیا ہو گیا ہوں۔ میرا پانی میں سے نکلنے کا دل ہی نہیں کرتا۔ دل چاہتا ہے کہ یونہی اس میں نہاتا رہوں ۔ مگر اس کے بعد مجھے نہیں یاد شائد آنکھ کھل گئی۔

تعبیر:۔ ماشااللہ بہت اچھا خواب ہے۔ خوشخبری و خوش نصیبی پر دلیل کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اگر آپ خدا نخواستہ کسی بیماری میں مبتلا ہیں تو اس سے بھی شفا یاب ہوں گے۔ زندگی میں راحت اور آرام ہو گا ۔آپ کوشش کریں کہ نماز پنجگانہ کی پابندی کریں اور کثرت سے یاحی یا قیوم کا ورد کیا کریں اور اگر ہو سکے تو اللہ کی راہ میں کچھ خیرات بھی کریں۔

خوش ذائقہ دودھ
انیسہ مغل،گوجرانوالہ

خواب: میں نے خواب دیکھا کہ میں صبح، صبح باغ میں سیر کرنے آئی ہوں اور وہاں ایک آدمی بہت بڑے بڑے برتنوں میں دودھ ڈال کر بیچ رہا ہوتا ہے۔ میں اس کے پاس رکتی ہوں اور اس سے دودھ ایک چھوٹی سی پیالی میں لے کر پیتی ہوں جو کہ انتہائی خوشبودار اورلذیز لگتا ہے۔ میں اس سے برتن بھر کر خرید لیتی ہوں۔

تعبیر:۔ اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اگر آپ حاملہ ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے ایک فرزند سے نوازے گا۔ کسی بزرگ سے روحانی فیض بھی مراد ہو سکتا ہے ۔ غرض اس خواب کا مطلب خوشی بزرگی اور بڑوں سے سعادت حاصل ہونا ہے ۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یاشکور یا حفیظ کا ورد بھی کیا کریں۔ کچھ صدقہ و خیرات بھی ممکن ہو تو کریں۔

نئے پل کی تعمیر
اصغر منیر، سرگودھا

خواب: میں نے دیکھا کہ ہمارے گاؤں کا پل جو بہت عرصے سے ٹوٹا پڑا ہے ، اس کی جگہ نیا پل تعمیر کیا جا رہا ہے۔ میں بھی قریب جا کر کھڑے ہوکر لوگوں کو باتیں کرتا دیکھتا ہوں اور سب کی ہاں میں ہاں ملاتا ہوں ۔ سب بہت خوش ہو رہے ہوتے ہیں کہ اب شہرجانا سب کے لئے آسان ہو جائے گا ۔اس کے بعد مجھے میرے گھر والوں نے جگا دیا ۔

تعبیر:۔ یہ خواب اچھا ہے اور ترقی کو ہی دلیل کرتا ہے۔ یہ آسانی آرام اور سکون کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر آپ کاروبار سے منسلک ہیں تو اس میں برکت ہو گی جس سے مال اور وسائل میں برکت ہو گی۔ اگر کہیں ملازمت کرتے ہیں تو اس میں یقینی طور پر ترقی ہو گی ۔ آپ نماز پنجگانہ کی پابندی کریں اور کثرت سے یاحی یا قیوم کا ورد بھی کریں۔

دوست کا والد پھل دیتا ہے
محمد منیر خرم ، گوجرانوالہ

خواب :۔ میں نے خواب دیکھا کہ میں اپنے دوست کے باغات میں گیا ہوا ہوں ۔ ان کے پھلوں کے باغات ہوتے ہیں۔ وہاں بہت پھل لگا ہوتا ہے۔ میں ان کی تعریف کرتا ہوں تو اس کے ابو کافی پھل مجھے اتروا کر دیتے ہیں۔ میں وہیں باغ میں بیٹھ کر کھانے لگ جاتا ہوں ۔ اس میں مختلف پھل ہوتے ہیں جو کہ انتہائی لذیز اور خوشبودار ہوتے ہیں ۔

تعبیر: اچھا خواب ہے اور زرق میں برکت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے مراد ایک فرزند بھی ہو سکتا ہے جو آپ کی عزت و توقیر میں اضافہ کا باعث ہو گا ۔ آپ نماز پنجگانہ کی پابندی کریں اور یا شکو ر اور یا حفیظ کا ورد کیا کریں ۔

مزار پر حاضری
مخدوم خاور، وہاڑی

خواب: میں نے خواب دیکھا کہ میں اپنے بزرگوں کے مزار پر موجود ہوں اور وہاں درود پاکؐ کا ورد ہو رہا ہوتا ہے۔ میں بھی اس محفل میں شامل ہو جاتا ہوں اور سب کے ساتھ مل کر درود شریف پڑھنے لگ جاتا ہوں۔ اس کو پڑھتے ہوئے مجھے بڑا سکون ملتا ہے اور آنکھیں بھی نم ہو جاتی ہیں ۔

تعبیر : ۔ اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ کی مہربانی سے کسی روحانی بزرگ سے آپ کی ملاقات ہو گی اور روحانی فیض بھی ملے گا ۔ آپ کے رزق حلال میں برکت ہو گی اور مزید آسانیاں بھی ہوں گی۔ گھر میں آرام و سکون ہو گا ۔ آپ نماز پنجگانہ کی پابندی کریں اور کثرت سے یاحی یا قیوم کا ورد کیا کریں اور رات کو سوتے وقت سیرت طیبہؐ کا مطالعہ ضرور کیا کریں ۔

تنگ جوتا پہننا
المارہ غزل، لاہور

خواب :۔ میں نے دیکھا کہ میں نیا جوتا پہن کر کالج جا رہی ہوں  مگر گھر سے نکلتے ہی مجھے اس بات کا احساس ہو جاتا ہے کہ یہ مجھے کافی تنگ ہے اور بہت کاٹ رہا ہے ۔ میں کافی مشکل سے چلتی ہوئی آگے بڑھتی ہوں مگر دو قدم چلنا بھی دوبھر ہو جاتا ہے ۔

تعبیر:۔ یہ خواب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ نہ کر ے کوئی مشکل پیش آ سکتی ہے۔ گھر یا کاروباری معاملات سے اس کا تعلق ہو سکتا ہے ۔ اگر آپ شادی شدہ ہیں تو تعلقات میں کشیدگی بھی آسکتی ہے۔ آپ ہر نماز کے بعد استغفار کی تسبیح لازمی پڑھیں اور کثرت سے یاحی یا قیوم کا ورد کیا کریں۔

بزرگ لاٹھی دیتے ہیں
ذوالفقار علی، لاہور

خواب :۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں کہیں گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے آیا ہوا ہوں اور رات بھر رکنے کے لئے کسی خانقاہ جیسی جگہ میں رک جاتا ہوں۔ وہاں کافی رعب دار سی شخصیت والے بزرگ ہوتے ہیں جو کہ سب کو بعد از عشاء لیکچر دے رہے ہوتے ہیں۔ کافی عجیب عجیب سے لوگ وہاں آ رہے ہوتے ہیں ۔ میں بھی عشاء سے فارغ ہو کر وہاں ان کا خطاب سننے لگ جاتا ہوں ۔ وہ سیرت النبیؐ پر روشنی ڈال رہے ہوتے ہیں۔ ان کا انداز بیان انتہائی خوب صورت ہوتا ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ جب سب لوگ جانے لگتے ہیں تو وقت رخصت وہ مجھے ایک انتہائی خوبصورت سی لاٹھی دیتے ہیں جو کہ شائد صندل کی لکڑی سے بنی ہوتی ہے۔ اس سے خوشبو پھوٹ رہی ہوتی ہے۔ میں وہ لکڑی کی انتہائی دیدہ زیب لاٹھی لے کر بہت خوش ہوتا ہوں ۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر: اچھا خواب ہے جو ظاہر کر تا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ کی عزت و وقار میں اضافہ ہو گا۔ آپ کی رسائی حکومت اور اہل اقتدار تک ہو گی ۔ اللہ تعالیٰ بے حساب رزق عطا کریں گے اور اس کی برکت سے روزی اور مال و وسائل میں بھی اضافہ ہو گا۔ اپنے حلقہ احباب میں بھی عزت اور توقیر ہو گی ۔ آپ نماز پنجگانہ اداکیا کریں اور کثرت سے یا حی یا قیوم کا ورد جاری رکھیں۔

گھر میں پودا لگانا
نبیلہ علی، لاہور

خواب:۔ میں نے خواب دیکھا کہ میرے ابو نے صحن میں ایک پودا لگایا۔ اگلے دن ہم سو کر اٹھے تو دیکھا کہ ایک ہی دن میں وہ بہت بڑا ہو چکا ہے۔ ہم یہ دیکھ کر حیران ہوتے ہیں۔ اس سے اگلے دن اس کا سائز مزید بڑا ہو چکا ہوتا ہے۔ مزید چند دنوں میں وہ باقاعدہ ایک درخت بن چکا ہوتا ہے اور اس کی انتہائی خوش رنگ شاخیں گھنی ہوکر خوب چھاؤں دے رہی ہیں۔

تعبیر: ۔ بہت اچھا خواب ہے جو کہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی و رحمت سے آپ کے رزق میں فراوانی ہو گی۔ کاروبار میں برکت ہو گی اور اضافہ ہو گا جس سے مال و وسائل میں بہتری آئے گی۔ آپ نماز پنجگانہ کی پابندی کریں اور کثرت سے یاحی یاقیوم کا ورد کیا کریں ۔

گاؤں کا تالاب خشک ہوتا ہے
خاور جتوئی، لیہ

خواب-: میں نے دیکھا کہ میں شہر سے اپنے گاؤں کی طرف جا رہا ہوتا ہوں تو راستے میں گاؤں کا ایک بہت بڑا تالاب آتا ہے۔ یہ تالاب اس گاؤں کے بندوں نے بنایا تھا اور جب میں تالاب کو دیکھتا ہوں تو وہ مکمل طور پر خشک ہو چکا ہوتا ہے۔ میں تالاب کو خشک دیکھ کر بہت زیادہ پریشان ہو جاتا ہوں، پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر-:یہ خواب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ نہ کرے کوئی غم یا پریشانی آ سکتی ہے۔ کاروبار میں نقصان ہونے کا اندیشہ ہے، جس سے مال اور وسائل دونوں میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ دوست احباب سے تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ رزق میں کمی بھی ہو سکتی ہے۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور ہر نماز کے بعد کثرت سے استغفار کیا کریں۔ کچھ صدقہ اور خیرات بھی کریں۔

سانپ پکڑ لیتا ہوں
نواز، خانپور

خواب: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے کمرے میں لیٹا ہوا ہوتا ہوں اور میر ی نظر سامنے دروازے پر پڑتی ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ ایک سانپ نہ جانے کہاں سے میرے کمرے کی طرف آ رہا ہوتا ہے۔ میں جلدی سے ایک چھڑی کی مدد سے سانپ پر قابو پالیتا ہوں اور پھر اس کو پکڑ کر مار دیتا ہوں۔ مارنے کے بعد اس کو اٹھا کر وہاں ایک کھڈے میں پھینک دیتا ہوں اور پھر اوپر سے مٹی ڈال دیتا ہوں تو میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر: اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے آپ کو دشمن پر فتح دیں گے اور آپ اس پر قابو پا لیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے وسائل اور مال میں برکت عطا فرمائیں گے۔ کاروبار میں اضافہ ہو گا۔ مشکلات پر قابو پانا آسان ہو جائے گا۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یا حی یا قیوم کا ورد بھی کریں۔ کسی بھی منگل یا ہفتہ کے دن کالے ماش‘ کالے چنے اور کالا کپڑا صدقہ کردیں۔

انار خریدتا ہوں
اویس نور،کوئٹہ

خواب: میں نے دیکھا کہ میں بازار میں کچھ خریدنے کیلئے جاتا ہوں۔ پھر ایک دوکان کے سامنے سے ایک ریڑھی والے سے ایک خوبصورت انار خریدتا ہوں۔ وہ انار دیکھنے میں بڑا خوبصورت اور اچھا لگتا ہے۔ میں دوکاندار کو اس کی قیمت ادا کرنے کے بعد انار گھر لے آتا ہوں۔ گھر آ کر اس کو چھری سے کاٹتا ہوں ۔ اس کے دانے بڑے خوشنما اور سرخ ہوتے ہیں۔ پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر: اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ کے کاروبار میں اضافہ ہو گا جس سے آپ کے وسائل اور مال میں ترقی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ایک صالح فرزند سے نوازیں گے جس سے آپ کے خاندان کی عزت اور توقیر ہو گی۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے وضو یا بغیر وضو کے یا حی یا قیوم کا ورد بھی جاری رکھیں۔ رات کو سونے سے پہلے نبی کریمؐ کی سیرت پاک کا مطالعہ ضرور کیا کریں۔

باجرہ کی روٹی
فاطمہ ملک، ساہیوال

خواب: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنی خالہ کے گاؤں میں ہوں۔ میری خالہ میرے لئے دوپہر کو باجرہ کی روٹی اور ساگ لے کر آتی ہے۔ لسی اور مکھن بھی ساتھ رکھا ہوتا ہے۔ وہ گرم گرم باجرہ کی روٹی کے اوپر ایک مکھن کا پیڑا رکھتی ہے جس سے روٹی نرم ہو جاتی ہے۔ میں ساگ کے ساتھ وہ روٹی کھاتی ہوں تو مجھے بڑا مزہ آتا ہے اور میری خالہ سامنے بیٹھی محبت بھری نگاہ سے دیکھتی ہے تو میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر: اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ کے رزق میں اضافہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ مال اور وسائل میں کشادگی عطا فرمائیں گے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی دلی مراد جلدی پوری ہو جائے۔ گھر میں آرام اور سکون میں اضافہ ہو گا۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یا شکور کا ورد بھی جاری رکھیں۔

سونے کا بازو بند
جہان آرا بیگم،کراچی

خواب: میں نے دیکھا کہ میرے شوہر جب کام سے واپس آتے ہیں تو ان کے ہاتھ میں ایک ڈبہ ہوتا ہے۔ وہ ڈبہ لا کر مجھے دے دیتے ہیں جب میں وہ ڈبہ کھولتی ہوں تو اس میں سونے کا ایک با زو بند ہوتا ہے جس کے اوپر بڑے خوبصورت سرخ اور نیلے رنگ کے نگینے لگے ہوتے ہیں۔ میں جلدی سے اپنے میاں صاحب سے کہتی ہوں کہ وہ میرے بازو کے اوپر یہ بازو بند باندھ دیں۔ میں خوشی سے بے قرار ہو جاتی ہوں۔ پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر:اچھا خواب ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان محبت اور عزت میں اضافہ ہو گا۔ گھر میں آرام اور سکون نصیب ہو گا جس سے مال اور وسائل میں برکت ہو گی۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یا حی یا قیوم کا ورد کیا کریں اور اللہ کی راہ میں کچھ صدقہ اور خیرات بھی کریں۔

The post خوابوں کی تعبیر appeared first on ایکسپریس اردو.

لیاری کی ’’فلمی صنعت‘‘

شہر قائد کے جس علاقے میں ہم کھڑے تھے، اس جگہ کا نام ہی شاید دوسروں کے ہوش اڑانے کے لیے کافی ہو، ہمارے پیروں تلے موجود سڑک کتنے ہی خون آشام دنوں کی گواہ رہ چکی ہے۔

اس سڑک پر کبھی خون پانی کی طرح بہا کرتا تھا۔ اس سڑک نے گذشتہ چند دہائیوں میں طاقت اور قبضے کی جنگ میں کتنی ہی ماؤں کے بیٹوں، بہنوں کے بھائیوں، اور بیویوں کے سہاگوں کا خون بہتے دیکھا ہوگا۔ لیکن یہ علاقہ تو اب ایک الگ ہی کہانی پیش کر رہا تھا، گلیوں میں کھیلتے بچے، تَھڑوں پر بیٹھے بے فکری سے گپپیں لگاتے، اسمارٹ فونز استعمال کرتے نوجوان، نہ کسی نامعلوم گولی کا نشانہ بننے کا ڈر نہ کوئی اور خوف۔ یہ ہے کراچی کا علاقہ لیاری۔ لیاری اب ایسا علاقہ ہرگز نہیں، جہاں جنگل کا راج ہو، جہاں دن دہاڑے متحارب گروپ ایک دوسرے پر جدید ہتھیاروں اور دستی بموں سے لیس ہوکر حملہ کرتے رہے، لیاری اب جرائم پیشہ افراد، منشیات فروشوں اور گینگ وار کا گڑھ نہیں۔

اس علاقے میں بھی حالات اسی طرح خراب ہوتے ہیں جس طرح شہر کے دوسرے علاقوں میں ہوتے ہیں، جس طرح شہر کے دوسرے علاقوں میں خون خرابہ ہوتا ہے اسی طرح لیاری میں بھی ہوتا ہے، لیکن اب یہاں زندگی اپنی پوری گہماگہمی کے ساتھ جاگ اُٹھی ہے۔ اس بستی کے نام کے ساتھ جُڑے گینگ وار کے تصور کو ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہماری یہاں آمد کا مقصد لیاری کے ایسے با صلاحیت سے نوجوانوں سے ملاقات تھی، جو تمام تر نامساعد حالات کے باوجود لیاری کے مسائل کو فلم جیسے میڈیم کے ذریعے دنیا بھر میں اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جو لوگ لیاری کو پس ماندگی اور گینگ وار استعارے کے طور پر جانتے ہیں انھیں اس علاقے میں فلم سازی کی ابھرتی صنعت کے بارے میں جان کر حیرت ہوگی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ لیاری ہمیشہ سے علمی وادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا گہوارہ رہا ہے، یہاں ایک طرف میدان فٹبال اور باکسنگ کے شان دار کھلاڑے پیدا کرتے رہے ہیں، تو دوسری طرف علم وادب اور ثقافت کے دیے بھی جا بہ جا روشن رہے ہیں۔

اور پھر سیاست تو اس علاقے کی شناخت ہے ہی۔ محض نعرے بازی کی سیاست نہیں، وہ سیاست جو فکروفلسفے کی گود میں پرورش پاتی ہے اور بحث ومباحثے کی فضا میں پروان چڑھتی ہے۔ اس پس منظر اور مصائب اور مسائل کے نرغے میں لیاری میں بہ صلاحیت نوجوانوں کی ایسی کھیپ کی کھیپ تیار ہوچکی ہے جو نہایت کم وسائل اور بہت مشکل حالات کے باوجود معیار شارٹ موویز بنارہے ہیں۔ ان کی تخلیقات عالمی سطح پر مختلف ایوارڈز بھی حاصل کرچکی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق لیاری میں اب تک سو سے زیادہ مختصر دورانیے کی فلمیں بنائی جاچکی ہیں۔ یوں ’’لیاری کی فلمی صنعت‘‘ وجود میں آچکی ہے، اور امید ہے کہ یہ صنعت جلد عالمی سطح پر پاکستان کو چمکتا دمکتا حوالہ بنے گی۔ اس صنعت سے وابستہ افراد سے کی جانے والی گفتگو قارئین کے لیے پیش ہے۔

٭ نعیم نثار بلوچ

نعیم نثار بلوچ کو بلوچی زبان کی پہلی ٹیلی فلم بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس بابت ان کا کہنا ہے کہ 1974ء میں انور اقبال صاحب نے ایک رومانوی فیچر فلم ’’ہمل و ماہ گنج‘‘ کے نام سے بنائی جسے چلنے نہیں دیا گیا۔ اس وقت مجھ جیسے بہت سے بلوچی نوجوان اس فلم کے حق میں تھے، کیوں کہ ہم یہ سمجھتے تھے کہ فلم کے ذریعے ہم اپنی زبان کی ترویج کر سکتے ہیں۔ 1982ء میں ہم دوستوں نے ایک ویڈیو کیمرا خریدا اور اس پر تجربات کرتے رہے۔

1986ء میں ہم نے پہلی بلوچی ٹیلی فلم طنز گیر (طنز کرنے والا) کے نام سے بنائی، جس کے ہم نے تین پارٹ بنائے۔ اس وقت ہماری اس جُرأت کو دیکھتے ہوئے لیاری کے دوسرے نوجوانوں نے بھی مختصر اور دستاویزی فلمیں بنانی شروع کردیں۔ یہاں میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ پہلی بلوچی فلم ’’ہمل و ماہ گنج‘‘ کی مخالفت صرف اسی وجہ سے کی گئی تھی کہ اس میں خواتین کو دکھا یا گیا تھا۔ اور اسی بنیاد پر ہماری فلم کو بھی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ فلم ’’ہمل و ماہ گنج‘‘ کے لیے یہ سلوگن بن گیا تھا کہ ’فلم چلے گی تو سنیما جلے گی‘ اور یہی مخالفت ہماری ٹیلی فلم طنزگیر کے لیے بھی تھی۔ اس وقت اگر اس فلم کی مخالفت نہ کی جاتی تو آج ہماری نسل اس صنعت میں اور بہتر مقام پر ہوتی۔

لیکن تمام تر مخالفت اور نامساعد حالات کے بعد اس کے باوجود ہم نے فلموں کے ذریعے اپنے آپ کو منوایا۔ کئی سال تک یہ معمول رہا کہ ملازمت کے ساتھ ساتھ فلم سازی بھی جاری رکھی اور درجن بھر فلمیں بنائیں۔ مجھے شروع دن سے اسکرین پلے لکھنے کا بہت شوق رہا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ کام میں زیادہ اچھے طریقے سے کرسکتا ہوں، میری اس صلاحیت کو نکھارنے میں بلوچی زبان کے بہت بڑے اداکار دُر محمد خان نے اہم کردار ادا کیا۔

معین اختر کو روحانی استاد سمجھتا ہوں، گھنٹوں ان کے ڈرامے دیکھ کر اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ ہر ساتھ کام کرنے والے سے کچھ نہ کچھ سیکھا۔ جہاں تک بات ہے کہ فلموں میں سرمایہ کاری کون کرتا ہے اس حوالے سے کبھی حکومتی یا کسی نجی ادارے کی جانب سے سرپرستی نہیں کی گئی۔ سب اخراجات خود پورے کیے، بہت سے اداکار ہمارے ساتھ رضاکارانہ طور پر کام کرتے تھے، جب کہ بلوچی زبان کے کچھ سنیئر اداکاروں کو ہم معاوضہ دیتے تھے۔ جب میں نے ٹیلی فلم طنز گیر بنائی تو میرے چاچا نے مجھے بلا کر کہا،’’بے شرم آدمی! تم کو پتا ہے کہ تم کس قبیلے، کس خاندان سے تعلق رکھتے ہو، اور تم یہاں ناچ گا رہے ہو۔‘‘ لیکن دو چار سال بعد اسی چاچا نے مجھے بلا کر کہا،’’سنا ہے فلموں کے اداکار ہوگئے ہو ذرا اپنی فلم تو دکھاؤ!‘‘ میں اس دن بہت خوش ہوا کہ میں جو کام کر رہا ہوں وہ غلط نہیں ہے۔

فلم سازی کے علاوہ میں نے بہت سی اُردو اور انگریزی زبان کی فلموں کی بلوچی زبان میں ڈبنگ کی۔ طنز گیر کی حمایت میں صرف شاہ جہاں بلوچ (لیاری کے ممتاز دانش ور) ہمارے ساتھ کھڑے تھے۔ انہوں نے ہماری حوصلہ افزائی کی، پوری ٹیم کو ایوارڈ دیے۔ اس وقت انہوں نے ایک بات کی تھی جو اب سچ ثابت ہوتی نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا تھا،’’نعیم بیٹا! تم جو کام کررہے ہوں یہ معمولی کام نہیں ہے۔ آگے چل کر جب بلوچی فلموں کی تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں تمہارا نام ضرور لکھا جائے گا۔‘‘ بلوچی زبان ہمارا تشخص ہے اور میں اس پر فخر کرتا ہوں۔ اب آپ یہ دیکھیں کہ لیاری کی خواتین بھی فلم سازی کے میدان میں کام یابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ اب بلوچی فلموں کو نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی سراہا جارہا ہے۔

٭سید احسان شاہ

بین الاقوامی سطح پر لیاری کا نام روشن کرنے والے نوجوانوں میں ایک نام ابھرتے ہوئے فلم ساز، ہدایت کار سید احسان شاہ کا ہے، جن کی فلم ’’جاور‘‘ نے 2016ء میں بحرین کی حکومت کی جانب سے منعقد کیے جانے والے ’’ناصر بن حماد یوتھ کریٹیویٹی ایوارڈفیسٹیول‘‘ میں فلم سازی کے شعبے میں ایوارڈ حاصل کیا۔ یہ لیاری میں بننے والی کسی بھی فلم کو عالمی سطح پر ملنے والا پہلا ایوارڈ تھا۔ اس طرح احسان شاہ نے دنیا کو باور کرایا کہ لیاری صرف گینگ وار کا، خون خرابے کا نام نہیں ہے، لیاری بین الاقوامی سطح پر مشہور ہنرمند، بہ صلاحیت نوجوانوں، کھلاڑیوں، تیراکوں، باکسرز، دانش وروں ادیبوں کا مسکن بھی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ میری جائے پیدائش لیاری ہے۔ ان گلیوں سے بچپن کی یادیں وابستہ ہیں، ادب اور فنون لطیفہ سے آنکھ کھولتے ہی شناسائی ہوگئی تھی۔ بلوچی زبان میں پہلی غزل کہنے والے ملنگ شاہ میرے ابو کے نانا تھے، جو ایران سے ہجرت کرکے لیاری میں رہائش پذیر ہوگئے تھے۔ فلم سازی کے ساتھ ساتھ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ میرا تعلق مڈل کلاس طبقے سے ہے۔ ذریعۂ معاش فلم سازی ہی ہے۔ میں 2009ء سے لیاری میں بلوچی زبان میں مختصر فلمیں بنا رہا ہوں۔

اب تک چھے مختصر دستاویزی فلمیں اور چار مختصر فلمیں بنا چکا ہوں۔ پہلی مختصر فلم ’وہیلز‘ کے نام سے بنائی جس میں لیاری کے سائیکلسٹس کی مہارت اور صلاحیتوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی۔ دوسری فلم ’ورکنگ وومین آف لیاری‘ کے نام سے لیاری کی اُن ملازمت پیشہ خواتین پر بنائی تھی جو نوکری کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھریلو فرائض بھی دل جمعی سے ادا کرتی ہیں۔

چار سال قبل اسٹریٹ چائلڈ فٹ بال ورلڈ کپ میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے اسٹریٹ چلڈرن اور لیاری کے فٹبالرز کو درپیش مسائل پر ’ہڈن ڈائمنڈ آف لیاری‘ کے نام سے فلم بنائی۔ ان تمام فلموں کو مقامی طور پر کافی سراہا گیا۔ 2011ء میں ’’ہم آزمان‘‘ (آسمان) کے نام سے پہلی مختصر فلم بنائی۔ 14منٹ دورانیے کی اس فکشن فلم میں ہم نے اُس دور میں لیاری میں ہونے والے اہدافی قتل، خون خرابے اور گروہی لڑائیوں کے نتیجے میں لیاری کے بچوں کے ذہنوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کو اجاگر کیا تھا۔

احسان شاہ نے بتایا کہ انہوں نے فلم سازی کی تربیت شرمین عبید چنائے کی کو پروڈیوسر حیافاطمہ اقبال سے حاصل کی اور درحقیقت اسی عرصے میں دستاویزی فلمیں بنانے کا شوق پروان چڑھا، کیوں کہ ہمارے اسائنمنٹ ہی ڈاکیومینٹریز بنانا ہوتے تھے۔ 2016 ء میں ہم نے ’جاور‘ بنائی۔ مختصر دورانیے کی اس فلم میں لیاری میں ہونے والی گینگ وار کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان اور گینگ وار کے ظلم کو موضوع بنایا گیا۔ ایسے حساس موضوع پر فلم بنا نے کا مقصد لوگوں کو لیاری کا اصل چہرہ دکھانا تھا، کیوں کہ ہر لیاری والے کو گینگز کا کارندہ کہا اور سمجھا جاتا ہے، ہم (لیاری کے باشندے) گینگز کے کارندے نہیں بل کہ ان کے ظلم کا شکار مظلوم لوگ ہیں۔

ہمارے ایک دوست نے ہمیں بحرین کے ’ناصر بن حماد یوتھ کریٹیویٹی ایوارڈ فیسٹیول‘ کا بتایا کہ بحرین کی حکومت کی جانب سے ایک فیسٹیول ہورہا ہے جس میں پوری دنیا سے فلمیں آرہی ہیں، تو تم بھی اپنی فلم اس ایوارڈ کے لیے بھیج دو۔ اس ایوارڈ میں شمولیت فری تھی۔ جب ہماری فلم شارٹ لسٹ ہوکر ٹاپ تھری میں پہنچی تو یہ بات ہی ہمارے لیے قابل فخر تھی کہ پہلی بار بلوچی زبان میں بننے والی فلم ایک بین الاقوامی ایوارڈ کے لیے نام زد ہوئی۔ باقی دو فلموں میں ایک مِصر کی اور ایک میکسیکن تھی۔ میں خود میکسیکن فلموں کا بہت بڑا شیدائی ہوں اور پہلی بار ہی میرا مقابلہ ایک میکسیکن فلم سے تھا، جو کہ میرے لیے بہت بڑی بات تھی۔ اس ایوارڈ سے ملنے والی رقم سے ہم نے کچھ کیمرے اور تیکنیکی آلات خریدے۔

٭ نازنین شاہ

لیاری کی زرخیز زمین نے بہت سے ہیروں کو جنم دیا ہے جن میں سے ایک ابھرتا ہوا نام بلوچی زبان کی پہلی خاتون فلم ساز نازنین شاہ کا ہے۔ جو بلوچ روایات کے برعکس نہ صرف فلم سازی کی باقاعدہ تعلیم حاصل کر رہی ہیں بل کہ حال ہی میں انہوں نے ’ لیاری اے پریزن ود آؤٹ وال‘ کے نام سے ایک مختصر فلم بنائی ہے، جس میں لیاری کے ابھرتے ہوئے فٹبالرز کے مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اپنی الگ شناخت بنانے والی نازنین بلوچ، احسان شاہ کی اہلیہ ہیں۔

ایک نجی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والی نازنین شاہ مستقبل میں بھی اسی شعبے سے وابستہ رہنا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی ہمیں لیاری کے کچھ اور روشن پہلو بھی دنیا کو دکھا نے ہیں، لیاری میں صرف باکسر اور فٹبالر ہی نہیں ہیں، لیاری میں ڈانسر ہیں میوزیشن ہیں، ہمارے پاس تیراک بہت اچھے ہیں۔ ہم لیاری میں رہتے ہیں، اگر کسی کو بتائیں کہ ہم لیاری میں رہتے ہیں تو ہر کوئی ہمیں حیرانی سے دیکھ کر کہتا ہے آہ، لیاری میں رہتے ہو؟ تو ہم اپنی فلموں کے ذریعے لیاری کے مثبت پہلو دنیا کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔

یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے اس کام میں اپنے گھر والوں کی کسی مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، ہاں البتہ جب میں نے فلم سازی میں تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تو اس وقت کچھ لوگوں کا کہنا تھا،’’پاکستان میں فلم سازی کا کوئی مستقبل نہیں ہے، ایک تو تم بلوچ لڑکی، اوپر سے رہتی بھی لیاری میں ہو، تو اس کام میں تمہارے آگے بڑھنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔‘‘ انہیں یہی لگتا تھا کہ میں اس کام میں فقط وقت کا زیاں کر رہی ہوں۔ لیکن جب میں نے یہ فلم بنائی تو لوگوں نے میرے کام کو بہت سراہا۔

فلم بنانے کے لیے دست یاب وسائل کی بابت ان کا کہنا ہے کہ فلم کی شوٹنگ تو ہم مختصر عرصے میں مکمل کرلیتے ہیں، لیکن ہمیں ایڈیٹنگ کرنے میں کئی ماہ کا عرصہ لگ جاتا ہے۔ ہم نے طے کر رکھا ہے کہ ہر سال چھے ماہ بعد لیاری اور بلوچ عوام پر ایک مختصر فلم ضرور بنائیں گے۔ ہماری فلم کا میڈیم کیوں کہ بلوچی زبان ہے، اس لیے یہ کسی اردو چینل پر نہیں چل سکتی۔ ہم فلم بنانے کے بعد کوئی آڈیٹوریم بک کروا کر اپنی فلم کی اسکریننگ کرتے ہیں اور لیاری کے لوگوں کو مفت میں فلم دکھاتے ہیں، اور لوگ ہمارے کام کو بہت سراہتے بھی ہیں۔

٭ عدیل ولی رئیس

فلم کے یوں تو کئی میڈیم ہیں، لیکن 27 سالہ عدیل ولی رئیس نے اپنے لیے فلم کا ایک مشکل ترین میڈیم ’ خاموش فلموں‘ کا چُنا۔ لیاری کے دبئی چوک میں جنم لینے والے عدیل کی تعلیم تو گرچہ انٹر ہے لیکن فلم سازی ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے، بارہ سال کی عمر سے ہی اپنے والد ولی رئیس کے ساتھ فلموں کی ایڈیٹنگ سیکھنا شروع کردی تھی۔ فلم کے اس اہم ترین شعبے میں انتہائی مہارت رکھتے ہیں۔ اور اسی مہارت کی بنا پر فلم سازی اور گرافک ڈیزائننگ کی تعلیم دینے والے ایک بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ میں سینیماٹو گرافی اور فوٹو گرافی پڑھا رہے ہیں۔

لیاری میں فلم سازی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی بابت ان کا کہنا ہے،’’ہم یہ کام کسی فائدے کے لیے نہیں اپنی روایات، اپنی زبان کو برقرار رکھنے اور دنیا کو لیاری اور خصوصاً بلوچوں کا مثبت چہرہ دکھانے کے لیے کرتے ہیں، میں نے 2012 ء میں اپنی پہلی خاموش دستاویزی فلم موبائل فون کی مدد سے بنائی۔ بارہ منٹ دورانیے کی اس فلم کا نام ’ نیڈ فائر ونگس ٹوورڈز اے نیو لائٹ‘ تھا۔ اس وقت کراچی میں لسانی فسادات اپنے عروج پر تھے۔

اس کے باوجود جشن آزادی کے موضوع پر یہ فلم بنائی۔ اس کے بعد مزید کچھ فلمیں بنائیں۔ 2014 ء میں ہونے والے لیاری فلم فیسٹول میں میری فلم’ ٹوون زا ٹو‘ کو بہترین فلم کا ایوارڈ ملا۔ خاموش فلمیں بنانے کا مقصد ہر زبان کے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانا ہے۔ عدیل ولی رئیس اب تک بارہ ملکی ایوارڈ اور ایک بین الاقوامی ایوارڈ جیت چکے ہیں، ان کی ایک خاموش فلم ’پوسٹر‘ کو گذشتہ سال اٹلی میں ہونے والے مختصر فلموں کے بین الاقوامی فلم فیسٹول میں ’بیسٹ آڈینس ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔ ان کی زیادہ تر فلمیں سماجی مسائل، تعلیم اور چائلڈ لیبر کے موضوعات پر ہیں۔ حال ہی میں اُردو زبان میں بنائی گئی ایک فلم ’مائی مدرز برتھ ڈے‘ کی امریکا میں اسکریننگ ہوئی۔

یہ فلم ایشین فلم فیسٹول اور پاکستان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بھی ایوارڈ کے لیے منتخب ہوئی۔ ممتا جیسے انمول اور خوب صورت رشتے کے گرد گھومتی آٹھ منٹ دورانیے کی اس فلم میں سارے اداکار لیاری کے تھے۔ عدیل ولی کا کہنا ہے کہ کراچی اور پاکستان میں، میں نے ابھی تک کوئی ایسا فلم ساز نہیں دیکھا جو خاموش فلموں پر کام کر رہا ہو اور میں نے خود بھی ہالی وڈ سے متاثر ہوکر خاموش فلمیں بنانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے خاموش فلموں کے علاوہ2015ء میں ’شاہ‘ کے نام سے بننے والی ایک فیچر فلم کے لیے بہ طور معاون ہدایت کار کام کرنے کے ساتھ اس میں اداکاری بھی کی تھی۔ یہ فلم باکسنگ کے موضوع پر بنی تھی۔

لیاری میں فلموں کے لیے درکار وسائل کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ اس وقت لیاری میں چار پروڈکشنز ہاؤسز کام کر رہے ہیں، یہاں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن ہمیں اس کے لیے اپنی جیب بھی دیکھنی پڑتی ہے۔ ایک دل چسپ بات یہ ہے کہ پاکستانی فلمی صنعت کے زیادہ تر لوگ ہمارے پاس آتے ہیں کہ جی ہمیں ولین کے کردار کے لیے کوئی بندہ چاہیے ۔ وہ لیاری کو صرف بد معاشوں، گینگ وار کا گڑھ سمجھتے ہیں۔ میں اپنی ساری فلموں میں مثبت پیغام دیتا ہوں، جب میں نے ’’پوسٹر‘‘ بنائی تھی تو میرے ساتھ ایک چھوٹا لڑکا تھا اس نے بارہ انٹر نیشنل تھیٹر کیے، تھیٹر کے علاوہ اسے ’’عارفہ‘‘ نامی فلم میں اہم کردار آفر ہوا، لیکن بدقسمتی سے یہ فلم کچھ وجوہات کی بنا پر مکمل نہیں ہوسکی۔

ان کا کہنا ہے کہ فلم کا یہ میڈیم نسبتاً تھوڑا مشکل ہے، کیوں کہ خاموش فلم کا اسکرپٹ اس طرح بنانا پڑتا ہے کہ ہر کردار اپنی حرکات و سکنات سے ناظر تک اپنا پیغام موثر طریقے سے پہنچا سکے۔ مزاحیہ فلموں میں تو یہ کام نسبتاً زیادہ آسان ہے کہ کردار اپنی حرکتوں سے ناظرین کو ہنسا کر لوٹ پوٹ کردے، لیکن سماجی مسائل پر ایک لفظ کہے بنا اپنا پیغام ناظر تک پہنچانا تھوڑا مشکل کام ہے۔ میں نے اُردو میں بھی فلمیں بنائیں، جن پر کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ ایک بلوچ اُردو زبان میں کیسے فلم بنا سکتا ہے، لیکن میں اُردو زبان میں اس لیے بھی فلمیں بناتا ہوں کیوں کہ اس زبان کی وسعت بہت زیادہ ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم بھی اپنے کام کو بین الاقوامی مارکیٹ تک پہنچانا چاہتے ہیں، ہم ساری زندگی تو اپنی جیب سے فلمیں نہیں بناسکتے ناں! اگر لیاری کے فلم سازوں کو اچھے آلات اور فلم بنانے کا بجٹ ملے تو پھر آپ دیکھیں کہ صرف لیاری نہیں بل کہ پورے پاکستان کی فلمی صنعت کہاں سے کہاں پہنچ جائے گی۔

٭ عادل بزنجو

شرمیلی طبیعت اور دھیمے لہجے میں بات کرنے والے عادل بزنجو نے لیاری میں ہی جنم لیا۔ جامعہ کراچی سے فلم سازی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنا ذاتی پروڈکشن ہاؤس کھولا، جہاں وہ مختصر فلمیں، ٹی وی کمرشلز اور دستاویزی فلمیں بناتے ہیں۔ عادل بزنجو کا کہنا ہے کہ جامعہ کراچی میں فلم سازی کی تعلیم حاصل کرنے سے بہت پہلے ہی عملی طور پر اس شعبے سے وابستہ ہوگیا تھا، شروع میں ہم ڈبنگ کرتے تھے اس کے بعد مختصر اور دستاویزی فلمیں بنانی شروع کیں۔

ہمیں کبھی کسی ادارے نے سپورٹ نہیں کیا ہم دوست یا ر مل جل کر ہی یہ فلمیں بناتے ہیں، اسکریننگ کرتے ہیں۔ بلوچی زبان کی فلمی صنعت ابھی اتنی ڈیولپ نہیں ہوئی ہے کہ ہم فلمیں بناکر کچھ آمدنی حاصل کرسکیں۔ حال ہی میں ایک بلوچی فلم ’زراب‘ کی نیوپلیکس اور بحرین کے ایک سنیما میں اسکریننگ کی گئی جو کہ ہمارے لیے بہت خوش آئند بات ہے۔ بچپن ہی سے میری خواہش تھی کہ اپنی بات کسی طرح لوگوں تک پہنچا سکوں۔ 2014ء میں ہماری فلم ’اشتروشتی‘ کو آغا خان فلم فیسٹیول میں فکشن کی کٹیگری میں سارے ایوارڈ ملے، جب کہ ہماری ایک فلم ’جاور‘ کو بھی بحرین میں ہونے والے فلم فیسٹول ’’ناصر بن حماد یوتھ کریٹیویٹی ایوارڈفیسٹیول‘‘ میں پہلا انعام ملا۔ جہاں تک بات ہے فلم کی زبان کی تو ہماری اولین ترجیح تو اپنی مادری زبان بلوچی ہے، مگر ہم اُردو زبان میں بھی دستاویزی اور مختصر فلمیں بناتے ہیں۔

لیاری میں فلم سازی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ لیاری میں دس پندرہ سال جاری رہنے والی گروہی لڑائی نے یہاں کی بہت سی کہانیوں کو دبا دیا۔ یہاں کے نوجوانوں نے اپنے احساسات، مسائل اور اپنے تجربات کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کے لیے فلم کے میڈیم کا سہارا لیا۔ گروہی لڑائیوں کے دوران میڈیا نے لیاری کو خانہ جنگی کے شکار علاقے کے طور پر پیش کیا، جب کہ لیاری ا س کے برعکس ہے۔ یہاں کے لوگ فن کے قدر دان ہیں، ادبی رجحان بہت زیادہ ہے، اس علاقے کے بہت سے ادیب، دانش ور، کھلاڑی، باکسر دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں، لیکن میڈیا نے اس بات کو کبھی نہیں بتایا اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے اپنے شہر کے لوگ ہی لیاری میں آنے سے ڈرتے ہیں۔

٭نصیر بنسار

لیاری کے ابھرتے ہوئے اداکاروں میں ایک نام نصیر بنسار کا ہے۔ لیاری کی پہلی خاتون ہدایت کار نازنین بلوچ کی فلم ’لیاری، اے پریزن ود آؤٹ وال‘ میں ’بَھنڈ‘ کے کردار میں اس کی جان دار اداکاری نے اس نوجوان کے لیے نئے دروازے وا کردیے ہیں۔ ریپ موسیقی کے دل داہ نصیر بنسار اس سے پہلے علی گُل پیر اور پاکستان کے دیگر معروف گلوکاروں کے ساتھ بہ طور ریپر کام کرچکے ہیں، لیکن اداکاری کا موقع انہیں نازنین بلوچ نے فراہم کیا۔ لیاری میں فلم سازی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی بابت ان کا کہنا ہے کہ گینگ وار کے دنو ں میں لوگ کئی کئی دن گھروں میں محصور رہتے تھے تو ہم نوجوان وقت گزاری کے لیے موبائل فون کیمرے سے چھوٹے چھوٹے کلپ بنا کر ایک دوسرے کو بھیجتے تھے، جس سے نوجوانوں میں مختصرفلمیں بنانے کا رجحان بڑھا۔ اب آپ خود دیکھیں کہ مجھ سمیت کئی نوجوان گھر والوں کی سخت مخالفت کے باوجود اپنے شوق کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ہمارے لیے فلم ہی سب سے موثر ذریعہ ہے، جس کی مدد سے ہم اس تاثر کو ختم کرسکتے ہیں کہ جی لیاری صرف گینگ وار والوں کا نہیں بلکہ ایسے نوجوانوں کا علاقہ ہے جنہیں اگر موقع دیا جائے تو وہ فلم سازی میں دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرسکتے ہیں۔

٭ شہباز ملک

جامعہ اُردو سے میڈیا سائنسز میں بی ایس کرنے والے نوجوان شہباز ملک کا نام لیاری کے فلمی حلقوں کے لیے نیا نہیں ہے کیوں کہ میٹرک کرنے کے فوراً بعد ہی فلم سازی کی طرف آگئے تھے۔ اپنے اس شوق کی خاطر ابتدا میں گھر والوں کی مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ شہباز ملک کو تیکنیکی مہارت آسکر ایوارڈ یافتہ پاکستانی فلم ساز شرمین عبید چنائے کے ساتھ کام کرکے ملی۔ انہوں نے گذشتہ چند سال سے اپنے طور پر مختصر اور دستاویزی فلمیں بنانی شروع کیں۔ لیاری کے دوسرے فلم سازوں کی طرح شہباز بھی اس صنعت کے فروغ میں حکومتی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے نالاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم تعلیم کے ساتھ ساتھ نوکری کرکے فلمیں بنانے کے لیے پیسے جمع کرتے ہیں اور جب ایک مختصر فلم بنانے کے لیے پیسے جمع ہوجاتے ہیں تو پھر ہم فلم بنانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

ابھی تک بلوچی زبان میں ہی فلمیں بنائی ہیں لیکن آگے چل کر اُردو اور انگریزی میں فلمیں بنانا چاہتا ہوں کیوںکہ اپنے کام کو دنیا بھر میں پہنچانے اور بہتر ابلاغ کے لیے ضروری ہے کہ اس زبان میں فلم سازی کی جائے جس کی وسعت زیادہ ہو، لیکن بلوچی زبان کی ترویج میرا خواب ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میرا شمار بلوچی زبان کے ممتاز فلم سازوں میں کیا جائے۔ تمام تر نامساعد حالات کے باوجود ہم فلم سازی کر رہے ہیں، کیوں کہ جن حالات اور مسائل کا سامنا ہم لوگ کر رہے ہیں، انہیں اجاگر کرنے کے لیے باہر سے آنے والے لوگ اتنا اچھا کام نہیں کر سکتے۔

٭شریف رند

بتیس سال سے بلوچی فلموں میں کام کرنے والے شریف رند کا شمار لیاری کے سنیئر اداکاروں میں ہوتا ہے۔ 1986ء میں بلوچی زبان کی پہلی ٹیلی فلم طنز گیر سے اداکاری کا آغاز کرنے والے شریف رند سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ اپنے شوق کو بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس بابت ان کا کہنا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ خوش قسمت انسان وہ ہے جس کا شوق اس کا ذریعہ معاش بھی ہو۔ اگر مجھے اداکاری سے اچھی آمدن ہورہی ہوتی تو میں اپنی سرکاری ملازمت بھی چھوڑ دیتا۔ ماضی میں فلم سازی اتنا آسان کام نہیں تھا اور مجھے یاد ہے کہ جب پہلی بار اداکاری کی تو اس وقت ری ٹیک کی گنجائش نہیں ہوتی تھی، ایک سین کرنا ہے تو وہ ایک ہی ٹیک میں ہوگا۔ ایم فائیو کے وی سی آر پر پوری فلم بنتی تھی۔ اب تو جدید کیمروں اور سافٹ ویئرز کی بدولت ماضی کے برعکس فلم بنانا زیادہ آسان ہوگیا ہے۔

ہم لیاری والوں کے پاس فلم سازی کی اعلٰی تعلیم نہیں ہے، ڈپلومے نہیں ہیں، فلم سازی کے جدید آلات نہیں ہیں، لیکن عملی طور پر ہمیں فلم بنانے کا بہت وسیع تیکنیکی تجربہ ہے۔ 1986ء میں جب میں نے گھر والوں کو بتایا کہ میں فلم میں کام کررہا ہوں تو نہ صرف گھر والوں بلکہ دوستوں اور محلے والوں کی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اب لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔ ہماری نسل میں فلم سازی اور اس کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔

The post لیاری کی ’’فلمی صنعت‘‘ appeared first on ایکسپریس اردو.

شمائلہ؛ غم وہ کہ لہو کر دیں اندر سے ہمارا دل اپنوں کی ڈھائے ہوئے ستم کی کہانی

جس طرف نگاہ اٹھائیے کہانیاں بکھری ہوئی ہیں۔ چلتی پھرتی کہانیاں، زندہ افسانے اور سچی حکایتیں۔ اتنی کہانیاں کہ انسان کو سکتہ ہوجائے۔

ایسی کہانیاں جنھیں لکھتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہوجائیں، ہاتھ کانپنے لگیں، آنکھیں بھیگ جائیں، دل بند ہونے لگے اور ذہن ساتھ چھوڑ دے۔ قدم قدم پر حرص، طمع اور لالچ کی کہانیاں، رشتے ناتوں کی ناپائیداری کی داستانیں اور دل سوز حکایتیں۔

یہ بھی ایک ایسی ہی کہانی ہے۔ اس سماج کی کہانی جہاں انسان کی قدر و قیمت زر و زمین کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ جہاں خونیں رشتے بھی اپنی قدر و قیمت کھو دیں اور حقارت سے ٹھکرا دیے جاتے ہیں۔ بے حسی، خودغرضی، سفاکی اور فرعونیت کا شاہ کار سماج۔

میں اسے جانتا ضرور تھا اور بہت عرصے سے، کبھی کبھار اس سے بات بھی ہوجاتی تھی۔ اس دن میں اس کی بیمار بوڑھی ماں سے ملنے پہنچا۔ وہ آزردہ بیٹھی ہوئی تھی۔ میں نے اس کی خیریت دریافت کی تو اس کی آنکھیں سرخ ہوگئیں اور پھر اس نے ڈوبتی ہوئی آواز میں کہا: ’’بھائی جان میں بہت تھک گئی ہوں‘‘

میرے کیوں کیا ہوا۔۔۔۔ ؟ کے جواب میں اس نے اپنے عذاب دنوں اور سلگتی راتوں کا ذکر چھیڑا۔ جو کچھ مجھ پر بیتی وہ رہنے دیجیے۔ بہت ساری باتوں پر یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے مگر جب سب کردار ہماری آنکھوں کے سامنے جیتے جاگتے موجود ہوں تو پھر ان کی تکذیب نہیں کی جاسکتی۔ اس نے بزدلوں کی طرح نہیں، جواں مردوں کی طرح زندگی کا سامنا کیا۔ اس نے جن طوفانوں، آندھیوں اور رویوں کا مقابلہ کیا ہے ان کے سامنے بڑے بڑے جری ہمت ہار بیٹھتے ہیں۔

اس میں کمال کا ضبط اور صبر ہے۔ اتنے دکھ سہہ کر بھی وہ مسکراتی رہی ہے۔ اپنے آپ بیتی سناتے ہوئے اس کی آنکھیں نم ناک ضرور ہوئیں، اس کی آواز ضرور رندھ گئی مگر اس نے انھیں برسنے اور بے ترتیب نہیں ہونے دیا۔

مجھے سعود عثمانی یاد آئے۔ شاید اسی کے لیے انھوں نے یہ کہا تھا:

غم وہ کہ لہو کر دیں اندر سے ہمارا دل

ہم وہ کہ پگھل کر بھی آنسو نہ نکلنے دیں

گر وقت کے مرہم کا درماں نہ ملے کوئی

کچھ حادثے انسان کو برسوں نہ سنبھلنے دیں

آئیے شمائلہ سے ملیے اور دعا کیجیے کہ آنے والے دن اس کے لیے نوید مسرت ہوں۔ اس نے جو خواب دیکھے ہیں وہ مجسم ہوجائیں اور وہ اپنی یہ تلخ داستان بھول جائے۔

’’میں پنجاب کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئی۔ ہم چار بہنیں اور اکلوتا بھائی ہے۔ ہم اچھے کھاتے پیتے لوگ تھے۔ کچھ بڑی ہوئی تو اسکول میں داخل کردیا گیا۔ ہمارے گاؤں میں لڑکیوں کا اسکول جانا اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا، مگر میرے والد نے سب کی مخالفت مول لے کر ہمیں پڑھایا۔ دن اچھے گزر رہے تھے۔ ہم سارے لوگ چچا، تایا وغیرہ ایک خاندان کی طرح رہتے تھے۔

میں کچھ بڑی ہوئی تو معلوم ہوا کہ میرے والد نے اپنے خاندان سے باہر شادی کی ہے یعنی میری والدہ غیروں میں سے تھیں۔ اسی لیے چچاؤں اور تایا کے ساتھ ان کے اہل خانہ کا رویہ بھی میری والدہ کے ساتھ اچھا نہیں تھا۔ انھیں ہر وقت یہ سننے کو ملتا کہ وہ غیر خاندان کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں خاندانی امور کے فیصلوں کے وقت الگ رکھا جاتا تھا۔ خیر، پھر بھی وقت اچھا گزر رہا تھا۔ میں آٹھویں میں تھی کہ اچانک میرے والد کا انتقال ہوگیا۔ ہم پر تو قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔ ہم ذہنی طور پر اتنے بڑے حادثے کے لیے تیار ہی نہیں تھی۔ خیر سہارا تھا کہ ہمارے چچا ہیں، تایا ہیں، ہم بے سہارا نہیں ہیں۔ اور کچھ دن تو ہمیں یونہی محسوس بھی ہوا۔

لیکن یہ خواب جلد ہی بکھر گیا اور آہستہ آہستہ ہمارے نصیب سونے لگے اور پھر وہ وقت بھی آیا جب ہم اور ہماری والدہ اس جگہ ایسے رہنے لگے جیسے کوئی ہمیں جانتا ہی نہ ہو۔ سب بیگانے ہوگئے، رشتے ناتے ختم اور آنکھوں کا پانی جاتا رہا۔ ہمیں ہر وقت جھڑکیاں ملتیں، طعنے ملتے، اسکول جانا بند کردیا گیا۔ سب کچھ ہوتے ہوئے ہمیں محروم کردیا گیا۔ ایک دن تنگ آکر میری والدہ نے میرے تایا سے کہا کہ ہمیں علیحدہ کردیں اور ہمارے حصے کی جائیداد ہمیں دے دیں تاکہ ہم سکون سے رہ سکیں۔ پھر کیا تھا، ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا گیا اور پھر جو تشدد ہم پر شروع ہوا وہ ناقابل بیان ہے۔

اس دن تو ہم پر سورج سوا نیزے پر آگیا جب ہمیں گاؤں کے ایک شخص نے آکر بتایا کہ ہمارے اکلوتے بھائی کے قتل کا منصوبہ بنایا گیا ہے اس لیے ہمیں کہیں اور چلے جانا چاہیے۔ ہمارا بھائی اس وقت بی ایس سی کرچکا تھا اور کئی مرتبہ چچاؤں کے تشدد کا شکار ہوا تھا۔ میری والدہ نے تایا سے کہا کہ ہمیں کچھ نہیں چاہیے بس ہمیں یہاں سے جانے دیا جائے۔ انھوں نے کاغذات بنوائے، ہم سب سے دست خط لیے اور ہم ہنستے بستے لوگ اجڑ گئے۔ مجھے وہ دن یاد ہے جب ہم نے گاڑی میں اپنے چند اٹیچی کیس رکھے اور پورا بھرا پُرا گھر چھوڑ کر راول پنڈی پہنچے۔ لوگ تو انڈیا سے ہجرت ہندوؤں کی وجہ سے کرکے یہاں آئے تھے ہمیں ہمارے اپنوں نے ہجرت پر مجبور کردیا۔

راول پنڈی میں میرے بھائی کے ایک دوست رہتے تھے اور امی کے ایک رشتے دار بھی تھے۔ امی کے رشتے داروں نے کچھ ساتھ دیا اور کچھ کا خیال تھا کہ غیروں میں شادی کرنے کا یہی انجام ہوتا ہے۔ کچھ عرصے بعد ہم کراچی آگئے۔ راول پنڈی تو چھوٹا سا شہر ہے۔ روزگار بھی کم تھا۔ ہمیں تو زندگی کی ابتدا کرنی تھی، جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا۔ اب رونے دھونے سے کیا حاصل تھا۔ اس لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ کراچی چلنا چاہیے۔ اب مسئلہ تھا کہ کیسے انتظام کیا جائے۔ مجھے یاد ہے کہ ہم نے اپنے نئے کپڑے، پلنگ کی چادریں اور اپنا زیور بیچ دیا اور یوں ہم کراچی پہنچ سکے۔

سب سے زیادہ تو ہمارا بھائی ہمارے لیے مسئلہ بن گیا۔ ہر وقت اس کے سر پر غصہ سوار رہتا۔ ہمارے پاس کھانے کے لیے پیسے نہیں تھے، وہ اپنے خرچ کے لیے پیسے مانگتا۔ ہم کہتے جاکر کہیں نوکری کرلو تو کہتا تم بہنیں کس لیے ہو۔ تمہاری وجہ سے تو یہ سارا عذاب آیا ہے۔ ہمارے پاس پیسے نہ ہوتے تو وہ ہمیں کمرے میں بند کرکے مارنا شروع کرتا۔ اس کی ایک رٹ ہوتی، ’’مجھے تمہاری وجہ سے یہ دن دیکھنے پڑے ہیں۔‘‘ ہم کراچی پہنچے تو یہاں ایک دور کے رشتے دار تھے، انھوں نے میزبانی کی اور کرائے کا گھر لے دیا۔ ہمارے سامنے والے گھر میں ایک بہت اچھی خاتون رہتی تھیں۔ انھیں جب ہمارے گھر کا حال معلوم ہوا تو انھوں نے ایک سلائی مشین ہمیں دے دی اور ہم نے محلے والوں کے کپڑے سینا شروع کردیے۔

میری والدہ کو سینا پرونا آتا تھا۔ انھوں نے ہمیں بھی سکھایا اور یوں زندگی کی گاڑی چلنا شروع ہوئی۔ بھائی کا رویہ اتنا خراب تھا کہ ہم رات کو بھی ڈر کے مارے نہیں سو سکتے تھے۔ وہ ایک نفسیاتی مریض بن گیا تھا اور ہمارے بس سے باہر تھا۔ ہم اتنی محنت کرتے وہ اچھے اچھے کپڑے پہن کر گھومتا۔ اس نے دوست بنالیے تھے ان میں اس کا وقت گزرتا، رات گھر لوٹتا تو دن بھر کی جمع پونجی پر قبضہ کرلیتا۔ ہم نے اپنے بھائی سے بڑا ظالم نہیں دیکھا۔ اس کی وجہ سے ہمارے رشتے نہ ہوسکے۔ آس پاس کی خواتین تین چار مرتبہ رشتہ لے کر آئیں تو اس نے انھیں بھی بے عزت کرکے گھر سے نکال دیا۔

اس کا کہنا تھا یہ ساری عمر کمائیں گی اور میں کھاؤں گا۔ آپ نے کبھی ایسا بھائی بھی دیکھا ہے؟ میری سب سے بڑی بہن لاہور میں رہتی ہیں، وہ لاہور چلا گیا۔ ہمارے بہنوئی اچھے آدمی ہیں اور ان کا چھوٹا سا کاروبار ہے۔ ایک دن انھوں نے کسی کی امانت ڈیڑھ لاکھ روپے گھر میں لاکر رکھی۔ رات کے وقت میرے بھائی نے وہ پیسے چرائے اور کہیں چلا گیا۔ چار سال ہوگئے ہیں اس کا کچھ پتا نہیں ہے کہ وہ کہاں ہے؟ میرے بہنوئی کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ اتنی بڑی رقم وہ کہاں سے لاتے۔ انھوں نے گھر کا سب کچھ بیچ دیا اور وہ امانت ادا کی۔ چار سال ہوگئے ہیں مگر میرے بہنوئی اب بھی وہ زخم نہیں بھولے۔ اسی وجہ سے ان کا چھوٹا سا کاروبار تباہ ہوگیا۔ لیکن وہ بہت اچھے انسان ہیں، زبان سے کبھی نہیں بولے۔ اسی دوران ہماری سب سے چھوٹی بہن کا رشتہ آگیا اور ہم نے اس کی شادی کردی ہے۔ اب ہم دو بہنیں اپنی والدہ کے ساتھ رہتی ہیں۔

سلائی کا کام تو امی سے سیکھا اور پھر ایک گارمنٹس فیکٹری میں پانچ ہزار ماہانہ پر کام شروع کیا۔ جب مجھے سلائی اچھی طرح آگئی تو میں نے لیدر کی جیکٹ سینا شروع کیں۔ ہم پیس ریٹ پر یہ کام کرتے تھے۔ اس پر بھی بھائی نے اعتراض کیا تھا کہ یہ رات گئے تک آتی ہیں۔ اب تو ہم فیکٹری میں ملازم تھیں اور اوور ٹائم بھی کرنا پڑتا تھا۔ رات گئے تک رکنا بھی پڑتا تھا۔ مگر ہمارا بھائی عذاب بن گیا تھا، کیا کرتے، آخر تھک ہار کر گھر میں بچوں کو قرآن شریف اور ٹیوشن پڑھانا شروع کیا۔ اس میں اتنی آمدنی نہیں تھی۔ بھائی نے اس پر بھی پھر ہنگامہ کھڑا کیا کہ پیسے کم ہیں، خرچ پورا نہیں ہوتا تو میں نے پھر سے گارمنٹس فیکٹری کا کام شروع کیا اور بڑی بہن نے دواؤں کی کمپنی میں پیکنگ شروع کی۔ تفصیل بہت لمبی ہے، بہت سے کام کیے۔ لیکن اﷲ کا بہت احسان ہے، لوگ اچھے ملے۔ پھر بھائی بڑی بہن کے پیسے لے کر کہیں بھاگ گیا اور یوں ہم اکیلے رہ گئے۔

ہمارے اس منافق معاشرے میں بغیر مرد کے رہنا بہت مشکل ہے۔ مگر سچ پوچھیں تو ہم اس اکیلے پن کے عادی ہوگئے ہیں کم از کم ہم پر تشدد تو نہیں ہوتا۔ لوگ اچھے بھی ہیں اور بُرے بھی۔ ہم انھیں ٹھیک تو نہیں کرسکتے اور نہ انھیں اپنی بات پر قائل کرسکتے ہیں۔ لیکن ہم نے خود سے عہد ضرور کر رکھا ہے کہ خواہ کچھ بھی ہوجائے ہمت نہیں ہاریں گے۔ ہم نے دیکھا ہے، اگر آپ ہمت کرلیں تو خدا آپ کی ضرور مدد کرتا ہے۔ ہمیں تو اپنا بھائی بہت یاد آتا ہے۔ کچھ بھی تھا، وہ ہمارا بھائی ہے۔ وہ جہاں رہے خوش رہے۔ میری امی اس کی یاد میں سوکھ کر کانٹا ہوگئی ہیں لیکن وہ بہت باہمت ہیں۔ انھوں نے سب لوگوں کے طعنے سنے، ستم جھیلے مگر ہمت نہیں ہاری، اب بھی ہم تینوں ماں بیٹیاں بیٹھ کر اسے یاد کرتے ہیں۔ کسی نے ہمیں بتایا تھا کہ وہ بنکاک میں ہے اور کوئی کام کرتا ہے۔ اس نے بھی ہم سے رابطہ نہیں کیا۔

ان حالات میں انسان مایوس ہوجاتا ہے، اس کا ہر شے پر سے اعتبار ختم ہوجاتا ہے۔ وہ ہر وقت خوف زدہ رہتا ہے۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ میں کسی سے گفت گُو نہیں کرتی، صرف کام کی حد تک رہتی ہوں۔ ہر وقت بے چینی رہتی ہے۔ میں کسی پر اعتبار نہیں کرتی۔ کسی سے توقعات نہیں باندھتی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ مجھ میں ہمت بھی پیدا ہوئی۔ میں خاموش ضرور رہتی ہوں مگر حالات سے نہیں گھبراتی۔ اور یہ سوچتی ہوں کہ یہی زندگی ہے۔ ہم سے جس قدر بھی ہوسکے اسے خوش گوار بنانا چاہیے، میں کسی کی تکلیف پر بہت زیادہ دکھی ہوجاتی ہوں۔

بس عجیب و غریب ہوگئی ہوں۔ بیٹھے بٹھائے آنسو بہنے لگتے ہیں۔ لیکن خدا کو یاد کرتی ہوں اور پھر اسے اﷲ کی رضا سمجھ کر مطمئن ہوجاتی ہوں۔ مجھے غصہ نہیں آتا۔ دیکھیے انسان غصہ اس وقت کرتا ہے جب اسے کوئی منانے والا ہو۔ آپ اگر خفا ہوجائیں تو کوئی تو منانے والا ہوگا ناں۔ ہمارا کون ہے؟ اس لیے نہ ہی ناراض ہوتی ہوں اور نہ ہی غصہ کرتی ہوں۔ ماں اور ہم بہنوں میں بہت اچھے اور مضبوط رشتے ہیں۔ ہمارا دکھ سانجھا ہے اور جب دکھ مشترک ہو تو محبت بہت پائیدار ہوتی ہے۔ ہم نے یہیں پر رشتے ناتے، تعلقات اور دنیا کی ناپائیداری دیکھی ہے۔ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی محرومی دیکھی ہے۔ ہم نے خون سفید ہوتے دیکھا ہے۔ اب ہم اور کیا دیکھیں گے ہم تو زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں۔ ایسے میں بھی لڑیں جھگڑیں تو زندگی مزید عذاب ہوجائے گی۔

مستقبل کے بارے میں سوچتی ہوں۔ پچھلے دنوں ایک رشتہ بھی آیا ہے۔ اﷲ نے چاہا تو بات بھی ہوجائے گی۔ آج کل یہ سوچتی ہوں کہ آگے کیا ہوگا؟ تیاری کیسے ہوگی؟ امی اور بڑی بہن کا سوچتی ہوں کہ ان کا کیا ہوگا؟ ہم نے کچھ رقم جمع کی تھی کہ اچانک والدہ کی طبیعت خراب ہوگئی اور انھیں اسپتال میں داخل کرنا پڑا اور یوں وہ رقم ان کی بیماری کی نذر ہوگئی۔ میں ایک فیکٹری میں کام کرتی ہوں، وہاں پر کام بند ہوگیا ہے اور یوں میں بے روزگار ہوگئی ہوں۔ صرف بڑی بہن ایک فیکٹری میں کام کرتی ہیں۔ اس سے کچھ گزارا ہو رہا ہے۔ مجھ سے بڑی بہن کا رشتہ نہیں آیا۔ ان کی عمر بھی اتنی زیادہ ہوگئی تو ان کے کیے بہت فکرمند ہوں کہ وہ کیا سوچتی ہوں گی؟

اب میری شادی کی بات چل رہی ہے اور ہم نے انہیں اپنی مالی حیثیت کے بارے میں سب کچھ بتادیا ہے مگر سفید پوشی بھی بہت مصیبت ہے۔ نہ آدمی کچھ کہہ سکتا ہے اور نہ ہی برداشت کرسکتا ہے۔ کچھ نہ کچھ تو ضرور کرنا ہوگا۔ اﷲ پر بھروسا ہے، وہی سب کچھ بہتر کرے گا، جس نے اتنے کٹھن حالات میں پالا ہے، سہارا دیا ہے ہمت دی ہے اب بھی وہی ہے اور اس کا سہارا ہی حقیقی سہارا ہے۔ انسان اچھے خواب دیکھتا ہے۔ میں ابھی اچھے خواب دیکھتی ہوں۔ اچھے دنوں کے خواب۔ اﷲ ضرور یہ دن پھیرے گا۔ ہمیشہ تکالیف اور دکھ تو نہیں رہیں گے اس سے مایوس ہونا تو کفر ہے۔ سب سے بڑا اور مضبوط سہارا تو خدا کا ہے۔ جب مشکلات آئیں تو گھبرائیے نہیں، ہمت کیجیے۔ جو لوگ ہمت سے، محنت سے حالات کا مقابلہ کرتے ہیں وہ انھیں مایوس نہیں کرتا۔ صرف خدا پر بھروسا کیجیے۔

The post شمائلہ؛ غم وہ کہ لہو کر دیں اندر سے ہمارا دل اپنوں کی ڈھائے ہوئے ستم کی کہانی appeared first on ایکسپریس اردو.

خوابوں کی تعبیر

گھر میں صحت مند بیل
اسماء خان، اسلام آباد

خواب: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں کالج سے واپس آتی ہوں تو دیکھتی ہوں کہ گھر کے صحن میں ایک موٹا تازہ بیل بندھا ہے اور سارے گھر والے اس کے گرد جمع ہیں۔ میں حیران ہو کر پوچھتی ہوں کہ ابھی تو عید قربان بہت دور ہے تو پھر یہ بیل کیوں لے لیا ۔ اس پہ میرے والد خوشی سے بتاتے ہیں کہ ان کو یہ بہت سستا ملا ہے ،اس لئے انہوں نے خرید لیا ۔ سارے گھر والے بہت خوش ہو رہے ہوتے ہیں اور مستقبل کے لئے کوئی منصوبہ بندی کر رہے ہوتے ہیں کہ اب اگلی دفعہ ہم کو کچھ بھی نہیں لینا پڑے گا اور اس کی دیکھ بھال کریں گے تو یہ اچھا تندرست بھی رہے گا جبکہ وہ پہلے ہی سے کافی صحت مند ہوتا ہے۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر : اچھا خواب ہے جو اس بات کو دلیل کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ کے جاہ وجلال میں اضافہ ہو گا ۔ آپ کی عزت و توقیر میں اضافہ ہو گا ۔ رزق کی فراوانی اور کاروبار میں برکت کو ظاہر کرتا ہے ۔ دولت کے حصول میں آسانیاں ہوں گی جس سے آپ کے مال و وسائل میں بھی بہتری آئے گی ۔آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے یاحی یا قیوم کاورد کیا کریں۔

اپنی شادی ہوتے دیکھنا
لبنیٰ قیوم ، لاہور

خواب: میں نے خواب دیکھا کہ میری شادی ہو رہی ہے۔ گھر میں خوب ہنگامہ ہوتا ہے اور میرے سارے کزنز و رشتہ دار سب ہوتے ہیں۔ گھر میں کافی رونق ہوتی ہے ۔ پھر نکاح کے لئے سب گھر کے مرد اندر آتے ہیں اور مجھ سے نکاح نامے پر دستخط کرواتے ہیں۔ اس کے بعد رخصتی ہو جاتی ہے اور میں گاڑی میں سوار ہو کر اپنے سسرال چلی جاتی ہوں ۔ پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر: اس خواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ نہ کرے کسی پریشانی غم یا خوف کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اللہ نہ کرے آپ بیمار بھی ہو سکتی ہیں ۔ گھر میں رکاوٹ یا بندش بھی ہو سکتی ہے ۔ اس طرح کاروبار میں کوئی کمی یا نقصان کا خطرہ ہو سکتا ہے ۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے ہر نماز کے بعد استغفار بھی کیا کریں ۔ آپ کچھ صدقہ و خیرات بھی کریں۔

ہوا میں اڑنا
توقیر رسول ، لاہور

خواب : میں نے دیکھا کہ میں رات اپنی چھت پہ سو رہا ہوتا ہوں پھر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں آسمان کی طرف اڑ رہا ہوں اور اپنے آپ کو ایسا نظر آتا ہوں کہ جیسے اس دنیا کی بجائے نہ جانے کسی اوپر والے جہاں میں سفر کر رہا ہوں ۔ میں نیچے دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں تو مکانات اور دیگر اشیاء بہت چھوٹی نظر آتی ہیں ۔ میں فضا سے پھر نیچے آنا شروع ہو جاتا ہوں تو دوبارہ اپنے گھر کی چھت پہ ہوتا ہوں ۔

تعبیر: اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ کی مہربانی سے آپ کے درجات میں بلندی آئے گی اور رزق میں اضافہ بھی ہو گا جس سے مال اور وسائل میں برکت ہو گی ۔ آپ کوشش کریں کہ نماز پنجگانہ کی پابندی کیا کریں اور کثرت سے یاحی یا قیوم کا ورد بھی جاری رکھیں ۔

زلزلے سے ڈر کربھاگنا
سارہ حنیف، گوجرانوالہ

خواب : میں نے خواب دیکھا کہ میں اپنے ایک دوست کے گھر میں ہوں ۔ میری ایک دوست کی سالگرہ کا فنکشن ہے اور میری تمام سہیلیاں اس کے گھر میں موجود ہیں۔ اچانک مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میری کرسی ہل رہی ہے۔ میں اپنی دوسری دوست کی طرف دیکھتی ہوں تو وہ کہتی ہے کہ زلزلہ آرہا ہے۔ اس پہ ہمارے گروپ کی ایک دو لڑکیاں جو زلزلے سے بہت خوف زدہ ہوتی ہیں چیخنا شروع کر دیتی ہیں اور باہر کی طرف بھاگتی ہیں ۔ میں بھی باقی سب دوستوں کے ساتھ باہر کی طرف لپکتی ہوں ۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔

تعبیر:۔ اس خواب سے ظاہر ہو تا ہے کہ اللہ نہ کرے کسی پریشانی یا مشکل کا اچانک سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ کسی اچانک بیماری کو بھی دلیل کر سکتا ہے جس سے ناگہانی پریشانی یا غم کا سامنا ہو سکتا ہے ۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثرت سے ہر نماز کے بعد استغفار بھی کیا کریں اور کچھ صدقہ و خیرات بھی کریں ۔

شیر پلاٹ میں سو رہا ہے
چودھری احمد علی، رحیم یار خان

خواب-:میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے گھر کے ساتھ ایک پرانا خالی پلاٹ ہے اور اس پلاٹ کے اندر ایک شیر سو رہا ہوتا ہے۔ میں اس پلاٹ کے قریب جاتا ہوں اور شیر کو دیکھ کر خوفزدہ ہوتا ہوں ۔ میں اس کے انتہائی قریب جاتا ہوں اور محسوس کرتا ہوں کہ شیر گہری نیند  سو رہا ہوتا ہے پھر میں ایک دکان سے کچھ چیزیں خرید کر واپس گھر جاتا ہوں اور  تسلی کرتا ہوں کہ شیر  ابھی سو رہا ہوتا ہے ۔ پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر-:یہ خواب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ نہ کرے کوئی پریشانی آسکتی ہے، کوئی قریبی رشتہ دار یا دوست دشمنی کرنے کی کوشش کرے گا مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے آپ محفوظ رہیں گے۔ کاروبار میں بھی کمی ہو سکتی ہے۔ آپ کے مال اور وسائل میں بھی کمی آ سکتی ہے۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور ہر نماز کے بعد کثرت سے یا سلام یا حفیظ کا ورد بھی کیا کریں اور ہر منگل یا ہفتہ کو کالے ماش، کالے چنے یا کالا کپڑا اپنے اوپر سے وار کر کسی مستحق کو دے دیں۔

سسرآم دیتا ہے
فردوس، ملتان

خواب-: میں نے دیکھا کہ میں اپنی بیوی کو ملنے کے لئے گاؤں جاتا ہوں، میرے سسر بھی وہاں ہوتے ہیں وہ مجھے وہاں پر دیکھ کربہت خوش ہوتے ہیں، بچے بھی آ جاتے ہیں۔ میرے سسر اپنے ملازم سے آموں کی دو پیٹی منگوا کر مجھے دیتے ہیں اور خود بس سٹینڈ پر آتے ہیں۔ ان کا ملازم بھی ساتھ تھا جس نے دونوں آموں کی پیٹیاں اٹھائی ہوئی تھیں۔ پھر میرے سسر  نے دونوں آموں کی پیٹیاں بس کے اندر رکھ دیں اور ہم بھی بچوں کے ساتھ بس میں بیٹھ جاتے ہیں ۔ پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر-: اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے اگر آپ کی بیگم حاملہ ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو بیٹے سے نوازے گا۔ گھر میں آرام اور سکون ملے گا۔ کاروبار میں ترقی ہو گی ۔ آپ کے رزق میں اضافہ ہو گا۔ آپ کے مال اور وسائل میں بھی بہتری آئے گی ۔ کسی بزرگ سے آپ کو روحانی فیض بھی مل سکتا ہے۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں اور کثر ت سے یاشکور یا حفیظ کا ورد بھی کریں ۔ اگر ہو  سکے تو کچھ صدقہ اور خیرات بھی کریں۔

دروازے پر پردہ
افسری بیگم ساہیوا ل

خواب: میں نے خواب میں دیکھا کہ کچھ سودا خریدنے کے لئے بازار جاتی ہوںاور جب میں سامان خرید کر بازار سے واپس آتی ہوں تو میں نے دیکھا کہ میرے گھر کے دروازے کے اوپر ایک خوبصورت پردہ پڑا ہوا ہوتا ہے۔ میں اس پردے کو دیکھ کر بہت پریشان ہو جاتی ہوں کہ کس نے پردہ ڈالا ہے، میں نے تو کبھی بھی دروازے پر پردہ نہیں لگایا تھا۔ مگر آج نہ جانے میرے گھر کے دروازے کے اوپر پردہ کون لگا گیا۔ میں اسی پریشانی میں سوچ رہی ہوتی ہوں تو پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر: خواب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ نہ کرے کوئی پریشانی خوف یا غم درپیش ہو سکتا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی کاروباری راز پوشیدہ نہیں رہے گا۔ کچھ باتوں سے آپ کو کچھ حاصل نہیں ہو سکتا ۔ آپ کے مال اور وسائل میں کمی آسکتی ہے آپ نماز پنجگانہ ادا کیا کریں ۔ رات کو سونے سے پہلے نبی کریمؐ کی سیرت پاک کا مطالعہ کیا کریں اور کچھ اللہ کی راہ میں صدقہ خیرات کریں۔

کپڑوں پر غلاظت دیکھنا
چودھری اعجاز احمد،ملتان

خواب: میں نے چند دن پہلے دیکھا اور کافی پریشان ہوگیا۔ خواب کچھ  یوں ہوتا ہے کہ میں دفتر جانے کے لئے اپنے کمرے کی الماری سے کپڑے نکالتا ہوں اور یہ دیکھ کر پریشان ہوتا ہوں کہ میرے ایک سفید رنگ کے سوٹ کے اوپر گندگی اور غلاظت لگی ہوتی ہے۔ قمیض اور شلوار بھی کافی زیادہ غلاظت سے بھری ہوتی ہے۔ پریشان ہوجاتا ہوں کہ یہ گندگی کہاں سے ان کپڑوں کے اوپر لگ گئی۔ میں اسی سوچ میں ہوتا ہوں کہ میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر : یہ خواب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ نہ کرے کوئی پریشانی آ سکتی ہے اور کسی طرف سے کوئی الزام بھی لگایا جا سکتا ہے جس سے آپ کی عزت اور وقار کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔  کاروبار میں بھی کمی آسکتی ہے جس سے مال اور وسائل میں بھی کمی ہو سکتی ہے۔ گھر میں پریشانی وغیرہ آسکتی ہے۔ آپ نماز پنجگانہ ادا کریں اورکثرت سے ہر نماز کے بعد استغفار بھی کیا کریں اور کچھ صدقہ و خیرات بھی کریں۔

بلندی سے گرنا
ناہید خانم۔ سوات

خواب:۔میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک پہاڑ پر بیٹھی ہوں۔ پہاڑ کے ایک طرف سمندر ہے اور دوسری طرف آبادی ہے۔ میں آبادی کی طرف جانا چاہتی ہوں اور اٹھ کر آہستہ آہستہ اترنے لگتی ہوں اور اچانک ایک سانپ میرے ہاتھ پر گر جاتا ہے۔ میں ایک دم ڈر جاتی ہوں کہ کہیں مجھے کاٹ نہ لے۔ یہ سوچ کر میں تیزی سے قدم بڑھاتی ہوں مگر پھسل جاتی ہوں اور تیزی سے نیچے گرنے لگتی ہوں۔ اس کے ساتھ ہی میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر:۔کئی دفعہ کھانا دیر سے کھانے سے معدہ میں رطوبت جمع ہو جاتی ہے اور درد اور گیس کا باعث بنتی ہے اور کبھی ہضم اور قبض کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ صبح ہلکی اور موسمی غذائیں استعمال کریں۔ موسم تبدیل ہو رہا ہے۔ اس لیے دیر سے کھانا مت کھائیں، جلدی کھائیں اور زود ہضم غذائیں استعمال کریں۔

لڑکی کو مارنا
وحید احمد۔ سرگودھا

خواب:۔میں نے کل رات خواب میں ایک لڑکی دیکھی جو کہ میرے ساتھ باغ میں چہل قدمی کر رہی تھی۔ اچانک ایک دم سے کہیں سے کچھ لوگ نمودار ہوتے ہیں اور اس کو پکڑ کر مارنا شروع کر دیتے ہیں۔ میں اس وقت بہت ڈر جاتا ہوں اور ایک درخت کے پیچھے چھپ جاتا ہوں۔ کافی دیر بعد جب سب لوگ چلے جاتے ہیں تو میں باہر نکلتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ وہ لڑکی مر چکی ہے۔ یہ دیکھ کر میں احساسِ ندامت، ڈر اور خوف کے ساتھ بھاگ جاتا ہوں۔ جب میں گھر پہنچتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ وہی لڑکی میری والدہ کے ساتھ بیٹھی باتیں کر رہی ہوتی ہے۔

تعبیر:۔آپ کے خواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کسی کی طرف ملتفت ہیں اور اس کے حصول میں بظاہر ناکام ہوئے ہیں۔ صحیح قدم اٹھانے اور صحیح ذرائع استعمال کرنے سے یہ سب رکاوٹیں دور ہو سکتی ہیں۔آپ نماز پنجگانہ کی پابندی کریں اور یاحی یاقیوم کا ورد کریں۔ حسب توفیق صدقہ و خیرات کا اہتمام کریں۔

سونے کی انگوٹھی
سمیرا بتول، لاہور

خواب؛۔ میں نے خواب دیکھا کہ میں اپنے سسرال میں ہوں اور کچھ دن گزارنے اپنی امی کے گھر جانے والی ہوں جب شام کو میرے میاں گھر آتے ہیں تو میرا سامان پیک دیکھ کر ایک لفافہ مجھے دیتے ہیں ۔ میں جلدی میں اس کو کھول کر نہیں دیکھتی بلکہ سامان میں رکھ دیتی ہوں اور جب امی کے گھر ایک دن میری نظر اس پر پڑتی ہے تو میں کھول کر دیکھتی ہوں تو اس میں سونے کی ایک انگوٹھی ہوتی ہے ۔ میں اسے دیکھ کر بہت خوش ہوتی ہوں اور اپنے میاں کو فون کرکے ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔

تعبیر:۔ اچھا خواب ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی و فضل سے آپ کی عزت و توقیر میں اضافہ ہوگا ۔ جس سے گھر میں آرام و سکون کی فراوانی ہوگی۔ اس سے کاروبار میں برکت بھی مراد ہو سکتی ہے۔ آپ کوشش کریں کہ نماز پنجگانہ کی پابندی کریں اور کثرت سے یاحی یاقیوم کا ورد بھی کیا کریں۔ رات کو سونے سے قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک کا مطالعہ کیا کریں ۔

سورج کی روشنی کم ہوتے دیکھنا
محمد عنایت، لاہور

خوا ب ؛ میں نے خواب دیکھا کہ میں اپنی فیملی کے ساتھ اپنے گاؤں چھٹیا ں گزارنے گیا ہوا ہوں اور ایک دن میں اپنے کزنز کے ساتھ کھیتوں میں سیر کو جاتا ہوں، وہاں ہم تقریباً پورا دن گزارتے ہیں اور کھاتے پیتے مزے کرتے ہیں ۔ پھر میرے کزنز وہیں موجود ڈیرے پر چارپا ئیوں پر نیم دراز باتیں کرنے لگ جاتے ہیں۔ میں ذرا چلتا ہوا آگے کھیتوں کی طرف جاتا ہوں ، وہاں میری نظر سورج ڈوبنے کے منظر پر پڑتی ہے ۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے اس کی روشنی مدھم ہو رہی ہو ۔ مجھے یہ اپنا وہم لگتا ہے اور میں غور سے دیکھتا ہوں مگر واقعی سورج آہستہ آہستہ نیچے کی طرف جا رہا ہوتا ہے اور اس کی تمازت تیزی سے ختم ہو رہی ہوتی ہے۔ یہ دیکھ کر میں ڈیرے کی طرف بھاگتا ہوں کہ اپنے کزنز کو بلاؤں ، مگر اس کے ساتھ ہی میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر:۔ خواب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ نہ کرے کوئی ناگہانی مصیبت یا پریشانی آسکتی ہے ۔ یا مالی طور پر مفلسی کا دورہ ہو سکتا ہے ۔ کاروبار میں نقصان کا بھی احتمال ہے ۔ اگر ملازمت ہے تو اس میں بھی مسائل کا سامنا درپیش ہو سکتا ہے ۔ آپ کوشش کریں کہ نماز پنجگانہ کی پابندی کریں اور کثرت سے ہر نماز کے بعد استغفار بھی کیا کریں اور صدقہ و خیرات لازمی کریں ۔

کمرے کی صفائی
توصیف شہزاد ، لاہور

خواب ؛ میں نے دیکھا کہ میں شام کو دفتر سے گھر آتا ہوں تو میرا کمرہ کافی صاف ستھرا ہوتا ہے ۔کافی چیزوں کی سیٹنگ تبدیل کی گئی ہوتی ہے ۔ میں دل میں سوچتا ہوں کہ شائد امی نے اس کمرے کی خاص تفصیلی صفائی کرائی ہے ۔ سب سے زیادہ مختلف مجھے اپنا بستر لگتا ہے جو کہ بالکل سفید ہوتا ہے کیونکہ ہمارے گھر میں زیادہ تر بستروں پر رنگدار چادریں استمال ہوتی ہیں ۔ سفید رنگ کا بستر مجھے بھی کافی اچھا لگتا ہے اور میں اس پر لیٹ جاتا ہوں۔ پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر:۔ یہ خواب اچھا ہے اور اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے گھریلو یا کاروباری معاملات میں آپ کی عزت و توقیر میں اضافہ ہوگا ۔ حتی کہ خاندان میں بھی نیک نامی بڑھے گی ۔ آپ نماز پنجگانہ کی پابندی کیا کریں اور کثرت سے یاحی  یاقیوم کا ورد کیا کریں۔

تلاوت کرنا
اسماء علی ، لاہور

خواب ؛۔ میں نے خواب دیکھا کہ ہمارے کالج میںکوئی فنکشن ہو رہا ہے جس میں لوگ اسٹیج پہ بلا کے باقی لوگوں کو مجبور کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ بھی کچھ پڑھیں یا گائیں ۔ جب میری سہیلیاں میرا نام پکارتی ہیں تو میں وہاں جاکر اونچی آواز میں قرآن پاک کی تلاوت شروع کردیتی ہوں ۔ کیونکہ میری آواز کافی اچھی ہے (میں گھر میں بھی نعت خوانی کرتی رہتی ہوں) اس وقت سبھی  لوگ میری تعریف کرتے ہیں اور میری ٹیچر باقاعدہ مجھے بلاکر مبارک دیتی ہیں ۔ اس کے بعد میر آنکھ کھل جاتی ہے۔ برائے مہربانی مجھے اس کی تعبیر بتا دیں۔

تعبیر:۔ بہت اچھا خواب ہے جو اس بات کو دلیل کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ نیکی کی طرف مائل ہوں گی اور قرآن پاک کی تلاوت کا شوق بھی رہے گا ۔ یہ بہت خوشی کی بات ہے کیونکہ اس سے دل کو سکون حاصل ہوگا۔ آپ کوشش کریں کہ نماز پنجگانہ کی پابندی کریں اور روزانہ سورۃ البقرہ کی تلاوت کریں چاہے چند آیات یا ایک صفحہ ہی پڑھیں مگر روزانہ اس کو معمول بنالیں ۔ کثرت سے یاحی یاقیوم کا ورد کیا کریں۔

زعفران کے پودے
ثناء ابراہیم ، لاہور

خواب :۔ میں نے دیکھا کہ میں نے زعفران کے پودے خریدے ہیں اور ان کو اپنے گھر میں لگایا ہے۔ کچھ دنوں بعد ان سے پودے نکل آتے ہیں اور کچھ ہی عرصہ بعد ان پہ انتہائی خوبصورت پھول نکل آتے ہیں جن کو دیکھ کر ہم سب گھر والے بہت خوش بھی ہوتے ہیں اورحیران بھی کہ اتنے زیادہ پھول ۔ میں بہت خوشی خوشی ان سے زعفران کی ڈنڈیاں چن لیتی ہوں۔

تعبیر:۔ بہت اچھا خواب ہے اور اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بہت رحمت آپ پہ نازل ہوگی جس پر شکر واجب ہے آپ پہ اور اس کے علاوہ مالی معاملات میں بہت آسانی وبرکت ہوگی جس سے گھریلو وکاروباری زندگی بہت آرام دہ ہوگی۔ آپ نماز پنجگانہ کی پابندی کیا کریں اور کثرت سے یاحی یاقیوم کا ورد کیا کریں حسب توفیق صدقہ خیرات لازمی کیا کریں۔

باغ سے پھول توڑنا
صائمہ نعمان ، لاہور

خواب ؛ میں نے خواب دیکھا کہ میں اپنی دوست کے گھر دعوت میں آئی ہوئی ہوں اور اس کے باغ میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ چہل قدمی کر رہی ہوں۔ اس کے باغ میں رنگارنگ کے پھول کھلے ہوئے ہیں جن کو میں دیکھ کر بہت خوش ہوتی ہوں اور باقی دوستوں کے منع کرنے کے باوجود وہ پھول توڑ لیتی ہوں جن کو میری دوست یاسمین کے پھول کہہ کر پکارتی ہے۔ پھر اس کے بعد میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

تعبیر ؛۔ یہ خواب کسی گھریلو یا کاروباری معاملے میں پریشانی یاغم کی طر ف اشارہ کرتا ہے۔ خاص طور پر اگر آپ شادی شدہ ہیں تو گھریلو معاملات میں سخت کشیدگی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ آپ ہر منگل یا جمعرات کو گیارہ روپے صدقہ دیں ۔ ہر نماز کے بعد استغفار کی تسبیح پڑھیں۔ آپ کے لئے محفل مراقبہ میں بھی دعا کرا دی جائے گی ۔

The post خوابوں کی تعبیر appeared first on ایکسپریس اردو.