ہراسانی کا الزام؛ میشا شفیع کے گھر کے باہر عدالتی نوٹس آویزاں کرنے کا حکم

لاہور: سیشن کورٹ نے گلوکارہ واداکارہ میشا شفیع کے گھر کے باہر عدالتی نوٹس آویزاں کرنے کا حکم دے دیا۔

لاہور کی سیشن کورٹ میں گلوکارہ و اداکارہ میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے دعویٰ کے کیس پر سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل سیشن جج شہزاد احمد نے گلوکار علی ظفر کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار علی ظفر کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ میشا شفیع نے ان پر  ہراساں کرنے کے بلاوجہ الزامات عائد کیے۔  میشا شفیع نے جھوٹی شہرت کے لیے جھوٹے الزامات عائد کیے، جس کی وجہ سے پوری دنیا میں میری شہرت متاثر ہوئی ، لہٰذا عدالت میشا شفیع کو 100 کروڑ روپے ہرجانہ اداکرنے کا حکم دے۔

عدالت نے میشا شفیع کے گھر کے باہر عدالتی نوٹس آویزاں کرنے کا حکم دے دیا اوراس کے ساتھ میشا شفیع  کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے13 اگست تک جواب طلب کرلیا۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: میشا شفیع کا معروف گلوکار علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام

واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے علی ظفر کے وکیل کی درخواست پر میشا شفیع کو ان کے موکل کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے سے روکنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں جواب داخل کرنے کا کہا تھالیکن انہوں نے عدالتی حکم کے باوجود جواب داخل نہیں کروایا۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: جنسی ہراسانی معاملہ؛ عینی شاہدین نے حقیقت سے پردہ اٹھادیا

یاد رہے کہ میشا شفیع نے علی ظفر پر انہیں ایک سے زائد بار جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا جس پر علی ظفر نے میشا کو 100 کروڑ روپے کا لیگل نوٹس بھجوایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ میشا شفیع اپنا الزام واپس لے کر ان سے معافی مانگیں ورنہ وہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے، تاہم میشا شفیع نے معافی مانگنے کے بجائے قانونی ماہرین کی خدمات حاصل کیں جب کہ وہ اب تک اپنے الزامات پر برقرار ہیں۔

The post ہراسانی کا الزام؛ میشا شفیع کے گھر کے باہر عدالتی نوٹس آویزاں کرنے کا حکم appeared first on ایکسپریس اردو.