کچھ الگ کرنا چاہتا تھا اس لیے ریپ میوزک سیکھا

 میں نے آجتک اپنے گیتوں میں وہی کچھ بیان کیا ہے جومیری زندگی کے ساتھ بیت چکا ہے۔ فوٹو : فائل

میں نے آجتک اپنے گیتوں میں وہی کچھ بیان کیا ہے جومیری زندگی کے ساتھ بیت چکا ہے۔ فوٹو : فائل

ہمیشہ وہی لوگ ملک وقوم کا نام روشن کرتے ہیں جوزندگی کے مختلف شعبوں میں ایسا انوکھا اورمنفرد کام کریں جس سے ان کے وطن کوایک نئی پہچان ملے۔

اس سلسلے میں زیادہ ترشخصیات کا تعلق کھیل اورفنون لطیفہ سے ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ زندگی کے تمام شعبوں میں یہ دو شعبے ایسے ہیں جن کی کوئی سرحد نہیں ہے۔ کھلاڑیوں کے کھیل کو پسند کرنیوالوں کا تعلق کسی ایک ملک، قوم سے نہیں ہوتا ، اسی طرح فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں میں اپنے فن سے اپنی منفرد پہچان بنانے والے بھی کسی سرحد کے محتاج نہیں ہوتے۔

ان کا فن سرحدوں کوختم کرتا اورلوگوںکو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔ خاص طورپرموسیقی سے وابستہ گلوکاراور میوزیشن اپنے فن کے ذریعے جہاں لوگوںکو انٹرٹین کرتے ہیں وہیں امن، محبت، بھائی چارے کا پیغام بھی دنیا تک پہنچاتے ہیں۔ ایسا ہی گلوکاروں میں ایک نام نوجوان نسل کے پسندیدہ ریپ گلوکاربوھیمیا کا بھی ہے۔ پاکستانی نژاد امریکی ریپ گلوکار بوھیمیا کا شمار میوزک کی اس انوکھی اورمنفرد صنف میں صف اول پرہوتا ہے۔

بوھیمیا نے ’’ ایکسپریس‘‘ کوخصوصی انٹرویودیتے ہوئے کہا کہ میراپیدائشی نام راجرڈیوڈ ہے لیکن فنی دنیا میں مجھے بوھیمیا کے نام سے جانا اورپکارا جاتا ہے۔ میری پیدائش کراچی میں ہوئی اوربچپن پشاورمیں گزرا۔ اسی دوران میوزک سے لگاؤ ہوااورپھرگیارہ برس کی عمر میں والدین کے ہمراہ امریکہ شفقٹ ہوگیا۔ بچپن میں ہی شاعری کا شوق پیدا ہوگیا۔ میں پہلے اردومیں اشعارلکھتا تھا۔

دوسری جانب ملکہ ترنم نورجہاں اوربھارتی فلموں کے معروف پلے بیک سنگر محمد رفیع، کشورکماراور مکیش کے گیتوں سے بہت متاثر تھا ۔ جہاں تک بات ریپ میوزک کی ہے توکچھ الگ کرنا چاہتا تھا اس لئے باقاعدہ امریکہ میں ریپ میوزک سیکھا۔ ویسے توتمام والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ پائلٹ، ڈاکٹریا انجینئربنے لیکن میرے والد نے غلطی یہ کی کہ مجھے چھوٹی عمر میں ہی بطور تحفہ ایک’ کی بورڈ ‘ لے دیا۔

اس کوپلے کیا توبہت اچھا لگا اس کے بعد میں نے اپنی والدہ کو کہا کہ مجھے بڑا ’ کی بورڈ‘ چاہئے اورپھر یہ سلسلہ آگے ہی بڑھتا رہا۔ ایک طرف میں اپنے ساتھ پیش آنیوالے واقعات کو شاعری کا اندازدے رہا تھا تودوسری جانب ان کی دھنیں بھی کمپوز کررہا تھا۔ مگر کبھی سوچا نہ تھا کہ میری اپنی کوئی پہچان ہوگی۔ کوئی منزل کوئی ٹارگٹ زہن میں نہیں تھا۔ میوزک سے وابستہ ہونے کی وجہ سے بس خیال تھا کہ میں بس کسی بینڈ کا ’کی بورڈ پلیئر‘ بنوں گا۔

’’ البتہ پاکستان کے سپورٹس سٹارجہانگیرخان اورعمران خان کی شہرت کے چرچے دیکھ کریہ خیال کبھی کبھی ضرور آتا تھا کہ کاش میں بھی ان کی طرح شہرت کی بلندیوںکوچھولوں اورمیری وجہ سے بھی پاکستان کا نام دنیا میں جانا جائے‘‘۔ جب میں امریکی ریاست کیلیفورنیا منتقل ہوا تووہاں کاکلچراورلوگ میرے لئے سب کچھ نیا تھا۔ مجھے انگریزی نہیں آتی تھی جس کی وجہ سے بہت دشواری کا سامنا تھا۔ کچھ دوست بنے اورپھر آہستہ آہستہ وہاں کے کلچر سے آشنائی ہونے لگی۔

میں جس علاقے میں رہتا تھا وہاں زیادہ تر’ریپ میوزک ‘ کو پسند کیاجاتاتھا۔’ ریپ میوزک ‘ ہپ ہاپ کی ایک صنف ہے اوریہ کوئی مذاق نہیں بلکہ بہت سنجیدہ میوزک اورکام ہے۔ مجھے ’کی بورڈ‘ پلے کرنے کاشوق تھا اوردیکھتے ہی دیکھتے مجھے ریپ میوزک پسندآنے لگا۔ امریکہ میں ویسے تو بہت سے معروف ریپر تھے لیکن نذیرالمعروف ناز کا ریپ میوزک مجھے بہت متاثر کرتا تھا۔

یہ سب کچھ اندرہی اندرچل رہا تھا مگرکوئی درست سمت نہیں مل رہی تھی ۔ میں شاعری کرتا اوراس کومحفوظ کرلیتا۔ 90ء کی دہائی میں جب میری والدہ دنیا سے رخصت ہوئی تو مجھے گہراصدمہ پہنچا اورمیں نے اپنے والد اوربہن بھائیوں کوچھوڑ کر دوستوں کے ہمراہ رہنا شروع کر دیا ۔ میرے تمام دوست میوزک سے وابستہ تھے اس لئے ریاضت کا سلسلہ جاری رہا۔ والدہ کی وفات پر میں نے ایک گیت لکھا جس کودوستوںنے سوشل ویب سائٹ پردیا توکچھ وقت گزرنے کے بعد اس کی شہرت برطانیہ تک پہنچ گئی۔ پہلے انٹرویو کیلئے مجھ ’’ بی بی سی‘‘ کی ٹیم نے رابطہ کیا تومیں حیران رہ گیا۔

پھر میں نے دوستوں کے ساتھ مل کر باقاعدہ اپناایک سٹائل ترتیب دیا اورپھرجو بھی گایا وہ لوگوں کے دلوں میں اترتا چلا گیا۔ میں دنیا کا واحد پنجابی ریپرہوں جس کی پیدائش اردو بولنے والے شہرکراچی میںہوئی اورہوش پشتوزبان کے شہرمیں پشاورمیں سنبھالا لیکن میوزک کی جانب جب باقاعدہ آیا تویہاں انگریزی بولی جاتی تھی۔ مگر ریپ میوزک میں جوگیت تیارکئے وہ سب کے سب پنجابی زبان میں ہوتے ۔ جومیری پہچان بنے اوردیکھتے ہی دیکھتے مجھے ’کنگ آف پنجابی ریپ ‘ کا خطاب مل گیا۔ اس خطاب کے ملنے پرمجھے بچپن کی باتیں یادآئیں کہ جس طرح سابق کرکٹرعمران خان اورسکواش سٹار جہانگیر خان کی شہرت کے چرچے پوری دنیا میں تھے اسی طرح اب لوگ مجھے بھی جاننے لگے ہیں اورمیرے نام کے ساتھ بھی پاکستان کانام آنے لگاہے۔

میرا میوزک لوگوں کوصرف انٹرٹین ہی نہیں کرتا بلکہ اس کے ذریعے جوپیغام دوسروں تک پہنچتاہے وہ امن، دوستی کا ہے۔ میں نے آجتک اپنے گیتوں میں وہی کچھ بیان کیا ہے جومیری زندگی کے ساتھ بیت چکا ہے۔ میرے گیت میری زندگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ بلکہ وہ حقیقت کے قریب ترہیں ، شاید اسی لئے لوگ مجھ سے اورمیرے میوزک سے اتنا پیارکرتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں بوھیمیا نے بتایا کہ میں نے اپنے کیرئیرکا پہلا گیت جو آج بھی لوگوںکو بہت پسند ہے کپڑوں کی الماری میں بیٹھ کرریکارڈ کیا تھا اوروہی میری شہرت کا سبب بنا بلکہ ’بی بی سی ‘ کے میوزک چارٹ پر پہلے پانچ گیتوں میں بھی شامل ہوا۔ جب یہ بات مجھے دوستوںکے ذریعے پتہ چلی تو میں حیران رہ گیا۔ مجھے یونہی محسوس ہورہا تھا کہ میرے دوست میرا مزاق اڑانے کیلئے سب کچھ کہہ رہے ہیں ، لیکن جب ’بی بی سی‘ کی ٹیم نے انٹرویوکیلئے مجھے سے رابطہ کیا تومجھے حقیقت کااندازہ ہوا۔

ریپ میوزک کے حوالے بوھیمیا کا کہنا تھا کہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں بہت سے نام نہاد ریپ سنگر سامنے آچکے ہیں جو ریپ میوزک کو گاتے نہیں بلکہ مذاق اڑاتے ہیں۔ یہ میوزک کی ایک بہت سنجیدہ صنف ہے جس کا حقیقت سے بہت گہراتعلق ہوتاہے۔

ایک ریپ سنگر اپناگیت خود لکھتا ہے اورخود ہی اس کی کمپوزیشن بناتاہے لیکن بدقسمتی سے بھارت میں ریپ میوزک کا مذاق سمجھ کر پیش کیاجارہاہے جو درست نہیں ہے۔ میرا یہ ماننا ہے کہ بھارت میں ایک بھی ریپ سنگرایسا نہیں ہے جس کوریپ میوزک کی ’’ الف ب‘‘ کا پتہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ بالی وڈ سٹار اکشے کمارنے جب میرا میوزک سنا توانہوں نے اپنی فلم ’چاندنی چوک ٹوچائنہ‘ میں نا صرف میرا گیت شامل کیا بلکہ اس گیت کومیرے ساتھ فلمبند بھی کروایا۔ میں بالی وڈ کیلئے بھی بہت کام کررہا ہوں جو آنے والی فلموںمیں میرے چاہنے والے سن سکیں گے۔

خاص طورپراکشے کمارمیرے میوزک کو اپنی فلموںمیں شامل کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی مجھے بالی وڈ سے بہت سی آفرز ہیں لیکن میں اپنی مرضی سے کام کرنا پسند کرتاہوں، بلاوجہ کی مداخلت مجھے اچھی نہیں لگتی۔ اس لئے بہت سے پراجیکٹ پرکام کرنے سے معذرت کرلیتاہوں۔