فلم ڈائریکٹر کی والدین سے معافی

اینیمیٹڈ فلم ’’فروزن‘‘ 2013ء میں بڑے پردے پر پیش کی گئی تھی۔ اس کہانی کا مرکزی کردار دو بہنیں ہیں جن میں بڑی بہن ایلسا اور چھوٹی کا نام اینا ہے۔ اس کے دیگر نمایاں کرداروں میں کرسٹوف اور اولاف شامل ہیں۔ اس کہانی کو زبردست پزیرائی ملی اور اس نے ریکارڈ بزنس کیا۔

شائقین کے ساتھ ناقدین نے بھی اس کاوش کو سراہا اور یہ فلم متعدد ایوارڈ اپنے نام کرنے میں کام یاب ہو گئی۔ فلم میں اینا کو معروف صدا کار کرسٹین بیل نے اپنی آواز دی جب کہ آئی ڈینا مینزل نے ایلسا کے کردار کے مکالمے ادا کیے۔ اس سپر ہٹ فلم کے ہدایت کار کرس بک اور ڈائریکٹر جینیفر لی ہیں۔

ایڈونچر فلم فروزن کی یہ دو بہنیں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتی ہیں، مگر کسی وجہ سے جدا ہو جاتی ہیں۔ بڑی بہن یعنی ایلسا ایسی قوتوں کی مالک ہے جو کسی بھی شے اور منظر کو انگلی کی جنبش سے برف میں تبدیل کرسکتی ہے۔ یہ دونوں عام لڑکیاں نہیں بلکہ شہزادیاں ہیں۔

کسی طرح اس شہزادی کی پُراسرار صلاحیت اور محیرالعقول قوت کا علم عام لوگوں کو ہوجاتا ہے اور ایلسا انجانے خدشے کے تحت اپنے محل سے فرار ہو جاتی ہے۔ ادھر اینا بے تابی سے بہن کی واپسی کا راستہ دیکھتی ہے، مگر وہ لوٹ کر نہیں آتی۔ تب وہ اپنی بہن کو ڈھونڈنے کے لیے ایک نوجوان لڑکے کی مدد لیتی ہے اور برفانی پہاڑوں میں جا پہنچتی ہے۔ یہاں سے ایڈونچر اور عجیب و غریب واقعات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔

فلم نے دو آسکر اپنے نام کیے تھے۔ فروزن کی مقبولیت اور آسکر ایوارڈ یقیناً اس کے تخلیق کاروں کے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے، لیکن ایک وقت آیا جب فلم کی ڈائریکٹر جینیفر لی کو خاص طور پر اپنے آسکر ایوارڈ یافتہ گیت پر معذرت کرنا پڑی۔ اس کے بول تھے، ’’لیٹ اِٹ گو‘‘۔

ڈائریکٹر کے مطابق فلم کی ریلیز کو سال، دو سال بیت گئے تھے، مگر جہاں جاتی لوگ یہی موضوع چھیڑ دیتے اور ان کی جانب سے ستائش اور تعریفی کلمات کا سلسلہ شروع ہو جاتا، میں بیزار ہوگئی۔ انہی دنوں بعض والدین کی جانب سے یہ شکایات سننے کو ملیں کہ ان کے بچے فلم کا وہی گیت گنگناتے رہتے ہیں جسے آسکر ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ والدین کا کہنا تھاکہ وہ اس سے تنگ آچکے ہیں۔ مجھے یہ جان کر بہت دکھ ہوا اور یہ میرے لیے تکلیف دہ بات تھی۔ تب میں نے فیصلہ کیا اور اپنی مدح سرائی کے جواب میں اظہارِ تشکر کے بجائے لوگوں سے معذرت کرنے لگی۔

جینیفر لی کے مطابق کسی محفل یا راستے میں مجھے پہچان کر لوگ جہاں فلم اور اس کی کہانی کی تعریف کرتے، وہیں اس گیت کی دھن پر بھی اپنی پسندیدگی کا اظہار کیے بغیر نہ رہتے اور جب والدین کی جانب سے شکایات سامنے آئیں تو میں نے افسوس کا اظہار کرنا شروع کر دیا اور ایک موقع ایسا آیا جب باقاعدہ کیمرے کے سامنے والدین سے معافی مانگ لی۔

’’لیٹ اٹ گو‘‘ وہ گانا تھا جس نے امریکا، لندن و دیگر ممالک میں مقبولیت کا نیا ریکارڈ قائم کیا اور میوزیکل چارٹس میں کئی ہفتوں تک سرِ فہرست رہا۔ جینیفر نے حقیقتاً آن اسکرین اُن والدین سے معافی مانگی جو اپنے بچوں کی وجہ سے پریشان تھے۔ دوسری طرف فلم کی مقبولیت کا یہ عالم تھاکہ 41 زبانوں میں ترجمہ کرکے شائقین کے لیے پیش کی گئی۔

The post فلم ڈائریکٹر کی والدین سے معافی appeared first on ایکسپریس اردو.