ابن انشاء کی آج 40 ویں برسی منائی جارہی ہے

 ابن انشاء پاکستان کے متعدد اخبارات میں کالم نگاری بھی کیا کرتے تھے؛ فوٹوفائل

ابن انشاء پاکستان کے متعدد اخبارات میں کالم نگاری بھی کیا کرتے تھے؛ فوٹوفائل

لاہور: معروف شاعر، مزاح نگار اور متعدد شعری و نثری کتابوں کے مصنف ابن انشاء کواپنے مداحوں سے بچھڑے 40 برس بیت چکے ہیں لیکن ان کی شاعری اور نثر آج بھی اپنے پڑھنے اور سننے والوں کو مسحور کردیتی ہیں۔

ابن انشاء 1927ء کو بھارتی صوبہ پنجاب میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام شیر محمد خاں تھا۔ ابن انشاء کی پہچان مزاح نگار اور سفر نامہ نگار کی حیثیت سے ہے لیکن وہ ایک منفرد شاعر بھی تھے۔ وہ پاکستان کے مختلف اخبارات میں کالم نگاری کرتے رہے جب کہ انہوں نے ریڈیو پاکستان اور وزارت ثقافت میں بھی کام کیا۔

ابن انشاء نے اقوام متحدہ کے مشیر کی حیثیت سے متعدد ممالک کا دورہ کیا۔ ان کے شعری مجموعے چاند نگر، دلِ وحشی، اور اس بستی  کے اِک کوچے میں بہت مشہور ہیں۔ مزاح نگاری کے میدان میں ابنِ انشاء کی ’اردو کی آخری کتاب‘ نے شہرتِ دوام کا مقام حاصل کیا جبکہ ان کے سفرنامے ’چلتے ہو تو چین کوچلیے،‘ ’آوارہ گرد کی ڈائری،‘ ’دنیا گول ہے‘ اور ’ابن بطوطہ کے تعاقب میں‘ بھی قارئین کی دلچسپی کا باعث بنے۔

ان کی نظم ’انشاء جی اُٹھو، اب کوچ کرو‘ اُستاد امانت علی خان مرحوم کی آواز میں آج تک شائقینِ موسیقی کے کانوں میں رس گھول رہی ہے۔

اردو ادب کا یہ گراں قدر سرمایہ 11 جنوری 1978ء کو علالت کے باعث لندن میں انتقال کر گیا اور انہیں کراچی کے پاپوش نگر قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ ابنِ انشاء مرحوم کا آخری سفرنامہ ’نگری نگری پھرا مسافر‘ ان کی وفات کے کئی سال بعد شائع کیا گیا۔