فلم کی کہانی اور میوزک کے ساتھ ڈائیلاگز پر بھی توجہ دی جائے، حمائمہ ملک

 لاہور:  بین الاقوامی شہرت یافتہ اداکارہ وماڈل حمائمہ ملک نے کہا ہے کہ فلم کی کہانی اور میوزک کے ساتھ ساتھ ڈائیلاگز پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔

’’ایکسپریس‘‘سے گفتگوکرتے ہوئے حمائمہ ملک نے کہا کہ ایک اچھی کہانی کی ڈیمانڈ کیلیے اگرسرمایہ لگایا جائے توبری بات نہیں ، وگرنہ کم بجٹ میں بھی اچھی فلم بن سکتی ہے۔ ہالی ووڈ اوربالی ووڈ میں ایسی بے شمارمثالیں موجود ہیں۔ فلم کی کہانی، لوکیشنز اورمیوزک کے علاوہ اگرڈائیلاگ پربھی تھوڑی سی توجہ دی جائے توپھرایک یا دوہفتے نہیں بلکہ برسوںتک لوگوں کے زہنوں میں رہتی ہے۔

حمائمہ ملک نے کہا کہ ہمارے ہاں اس وقت اچھی فلمیں بن رہی ہیں اورفنکاروں کی پرفارمنس بھی بہت جاندارہے لیکن فلم کی کہانی اورڈائیلاگ پرابھی بھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان اوربھارت کی بہت سی فلمیں ایسی ہیں، جن کے ڈائیلاگز ہمیں آج بھی یاد ہیں۔ بہت سے مزاحیہ ڈرامے ان ڈائیلاگز پربن چکے ہیں جس سے ایک ڈائیلاگ کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

اداکارہ نے کہا کہ جہاں تک بات پاکستانی فلموں کی ہے تواس وقت ہمارے ہاں جدید طرز کے سینما گھربن چکے ہیں اوران کی تعداد میں اضافہ بھی ہورہا ہے۔ دوسری جانب نوجوان فلم میکرز جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ بہت ہی اچھی فلمیں پروڈیوس کررہے ہیں لیکن ان میں کہانی اورڈائیلاگ کی کمی محسوس ہوتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں حمائمہ ملک نے کہا کہ ہمارے ملک میںٹیلنٹ تلاش کرنے کیلیے اکثرورکشاپس کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ایکٹنگ کیلیے بہت سے نوجوان مارے مارے پھرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن رائٹرز کوآگے لانے کیلیے کوئی راستہ تلاش نہیں کرتا۔ اس وقت ہمیں اچھے رائٹرز کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم اچھے رائٹرزنہیں سامنے لائیں گے یا ان کوموقع دیں گے، اس وقت تک جدید ٹیکنالوجی، سینما گھرکچھ نہیں کرسکتے۔

The post فلم کی کہانی اور میوزک کے ساتھ ڈائیلاگز پر بھی توجہ دی جائے، حمائمہ ملک appeared first on ایکسپریس اردو.

بہ زبانِ یوسفی

(مشتاق احمد یوسفی کی کتاب زرگزشت سے کچھ اقتباسات)

٭ہمارے فلرٹیشن کا آغاز

کراچی میں براہ کھوکھراپار وارد ہوئے ہمیں 20 گھنٹے ہوئے تھے۔ وہ صبح نہیں بھولے گی جب ریلوے لائن کے کنارے ایک چھوٹی سی سفید چمکتی تختی پر پہلے پہل ’’پاکستان‘‘ لکھا نظر آیا تو اسے ہاتھ سے چھو چھو کر دیکھا تھا۔ پھر مٹی اٹھاکر دیکھی۔ السلام علیکم کہتے ہوئے سندھی ساربان دیکھے۔ ہندوستان کے نوٹ پر پہلی دفعہ حکومت پاکستان چھپا ہوا دیکھا اور پھر ریگزار راجستھان میں پرکھوں کی قبریں، وہ بولی جو ماں کے دودھ کے ساتھ وجود میں رچی بسی تھی اور اپنے پیاروں کے آنسوؤں سے بھیگے چہرے، خیرگیٔ امروز میں دھند لاتے چلے گئے۔

٭مری بارکیوں دیر اتنی کری

مناباؤ کے اجاڑ اسٹیشن پر دو راتیں تاروں بھرے آسمان کے نیچے گزارنے سے گلا خراب ہوگیا تھا اور محسوس ہوتا تھا گویا حلق میں کوئی بدچلن مینڈک پھنس گیا ہے۔ ذرا منہ کھولتے تو ٹَرّانے لگتا۔ میکلوڈروڈ پر بینک کا ہیڈ آفس تلاش کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی، ہم نے ایک چَھپی ہوئی پرچی پر اپنا نام لکھ کر جنرل منیجر مسٹر ڈبلو۔ جی۔ ایم اینڈرسن کو بھجوایا۔ تقریب بہر ملاقات کے خانے میں باریک حروف میں ’’سرکاری‘‘ لکھ دیا، جس سے ہماری مراد نجی یعنی بسلسلہ ملازمت تھی۔ اور آخر میں، جلی حروف میں : ’’فرستادہ… مسٹر ایم۔ اے۔ اصفہانی، چیئرمین بینک ہٰذا‘‘ سفارش میں لپٹی ہوئی یہ دھمکی ہمارے کام نہ آئی، اس لیے کہ ہمارے بعد آنے والے ملاقاتی جو ہمارے حسابوں ہم سے زیادہ خوش پوش اور حیثیت دار نہ تھے، باری باری شرف باریابی حاصل کرکے رخصت ہوگئے اور ہم سر جھکائے سوچتے ہی رہ گئے کہ مری بارکیوں دیر اتنی کری؟

ڈیڑھ دو گھنٹے بینچ پر انتظار ساغر کھینچنے کے بعد جی میں آئی کہ لعنت بھیجو۔ ایسی ذلت کی نوکری سے بے روزگاری بھلی۔ دیر ہے، اندھیر بھی ہوگا۔ چل خسرو گھر اپنے سانج بھئی چوندیس۔ مرزا غالب بھی تو فارسی مدرس کی سو روپے ماہوار اسامی کے لیے پالکی میں بیٹھ کر مسٹر ٹامسن کے پاس انٹرویو کے لیے گئے تھے، لیکن الٹے پھر آئے۔ اس لیے کہ وہ ان کی پیشوائی کو باہر نہیں آیا۔ کہاروں سے کہا بس ہوچکی ملاقات، پالکی اٹھاؤ۔ ہم بھی استاد کے تتبع میں واپس پالکی میں سوار ہورہے تھے کہ اندر والا بولا، ہوش میں آؤ۔ تم کہاں کے دانا ہو، کس ہنر میں یکتا ہو؟ مرزا تو شاعر آدمی ٹھہرے۔ بندۂ ناخدا! مزے سے بیٹھے کشکول بجاتے رہو۔ تین برس تم ڈپٹی کمشنر رہے۔ سچ کہو کبھی کسی اہل غرض سے سیدھے منہ بات کی؟

٭کچھ نے کہا چہرہ ترا

کمرے میں داخل ہونے سے پہلے ہم نے اپنی دائیں ہتھیلی کا پسینہ پونچھ کر ہاتھ مصافحہ کے لیے تیار کیا۔ سامنے کرسی پر ایک نہایت با رعب انگریز نظر آیا۔ سر بیضوی اور ویسا ہی صاف اور چکنا، جس پر پنکھے کا عکس اتنا صاف تھا کہ اس کے بلیڈگنے جاسکتے تھے۔ بھرے بھرے چہرے پر سیاہ فریم کی عینک۔ کچھ پڑھنا یا پاس کی چیز دیکھنی ہو تو ماتھے پر چڑھاکر اس کے نیچے سے دیکھتا تھا، دور کی چیز دیکھنی ہو تو ناک کی پھننگ پر رکھ کر اس کے اوپر سے دیکھتا تھا۔ البتہ آنکھ بند کرکے کچھ دیر سوچنا ہو تو ٹھیک سے عینک لگالیتا تھا۔ بعد میں دیکھا کہ دھوپ کی عینک بھی ناک کی نوک پر ٹکائے، اس کے اوپر سے دھوپ کا معائنہ کرتا ہوا بینک آتا جاتا ہے۔ آنکھیں ہلکی نیلی جو یقیناً کبھی روشن روشن رہی ہوں گی۔ ناک ستواں ترشی ترشائی۔ نچلا ہونٹ تحکمانہ انداز سے ذرا آگے کو نکلا ہوا۔

٭ہمارا سن پیدائش

اس نے چھنگلیا کے اشارے سے ایک کرسی پر بیٹھنے کو کہا۔ ہم تعمیلاً بیٹھنے والے ہی تھے کہ ناگاہ اسی کرسی کی گہرائیوں سے ایک کتا اٹھ کھڑا ہوا اور ہمارے شانوں پر دونوں پنجے رکھ کر ہمارا گرد آلود منہ اپنی زبان سے صاف کیا۔ ’’مائی ڈاگ ازویری فرینڈلی‘‘ کتے سے تعارف کرانے کے بعد اس نے ایک ہی سانس میں سب کچھ پوچھ لیا۔ کیسے ہو؟ کون ہو؟ کیا ہو؟ اور کیوں ہو؟

سوائے آخری سوال کے ہم نے تمام سوالات کے نہایت تسلی بخش جواب دیے۔

’’تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس بینک کو میں چلا رہا ہوں، مسٹر اصفہانی نہیں۔ خیر۔ تم نے معاشیات پڑھی ہے؟‘‘ اس نے کہا۔

’’نو سر!‘‘

’’حساب میں بہت اچھے تھے؟‘‘

’’نو سر! حساب میں ہمیشہ رعایتی نمبروں سے پاس ہوا، حالانکہ انٹرمیڈیٹ سے لے کر ایم اے تک فرسٹ ڈویژن فرسٹ آیا۔‘‘

’’حساب میں فیل ہونے کے علاوہ تمہارے پاس اس پیشے کے لیے اور کیا کوالی فیکیشن ہے؟‘‘

’’میں نے فلسفہ میں ایم اے کیا ہے۔‘‘

’’ہا ہا ہا! تمہارا سوشل بینک گراؤنڈ کیا ہے؟ کس خاندان سے تعلق ہے؟‘‘

’’میرا تعلق اپنے ہی خاندان سے ہے۔‘‘

’’سچ بولنے کا شکریہ‘‘

اس نے ہماری درخواست میں سن پیدائش دیکھ کر اندوہ گیں لہجے میں کہا کہ ’’بائی دی وے، جس سال تم پیدا ہوئے اسی سال میرے باپ کا انتقال ہوا۔ بڑا منحوس تھا وہ سال!‘‘

٭ایک شہر تھا عالم میں انتخاب

’’رہنے والے کہاں کے ہو؟‘‘

ایک دفعہ تو جی میں آئی کہ میرِ بے دماغ کی طرح کہہ دیں

کیا بودوباش پوچھو ہو یورپ کے ساکنو!

لیکن یہ لکھنؤ کا مشاعرہ نہیں، ملازمت کا انٹرویو تھا۔

’’جے پور… اجمیر کے پاس ہے۔‘‘ ہم نے معذرتی لہجے میں اس شہر کا نام لیا جو کبھی عالم میں انتخاب تھا۔

OH! YES! THE PINK CITY! کیا بات ہے! برٹش ریزیڈنٹ نے ہاتھیوں کی لڑائی دکھائی تھی۔ برما میں ہم دونوں کا ایک ساتھ کورٹ مارشل ہوا تھا۔ میں نے دیکھا ہے تمہارا جے پور۔ سارے شہر میں سڑک کے دونوں طرف ہر عمارت کا یک ساں زعفرانی رنگ، اونچے طُرّے والے راجپوتی صافے اور ان سے بھی اونچی مونچھیں اور ہر دو کو سونڈ سے سلام کرتے ہوئے ہاتھی۔

’’تم راجپوت ہو؟‘‘

’’آدھا۔ نانا تھے، نو مسلم راٹھور۔ طوطے کی چونچ جیسی ناک والے راٹھور‘‘

’’بالکل لال؟‘‘

’’نہیں۔ خمدار۔‘‘

٭مردانہ کھیلوں سے ہماری دل چسپی

’’آخر تم یہ پیشہ کیوں اختیار کرنا چاہتے ہو؟ کوئی معقول وجہ؟‘‘

ہم کافی نروس ہوچکے تھے۔ دو تین دفعہ زور لگانے کے بعد جو آواز اچانک ہمارے منہ سے نکلی وہ اس سے پہلے ہم نے کبھی نہیں سنی تھی۔

شاید اسے بھی ترس آگیا۔ اب کے آسان سوال کیا۔ ’’جوانی، میرا مطلب ہے طالب علمی کے زمانے میں کن کھیلوں سے دلچسپی رہی؟‘‘

’’کیرم اور لوڈو‘‘

’’میرا مطلب مردانہ کھیلوں سے تھا۔‘‘

ہمارا یہ خانہ بالکل خالی تھا۔ پانچویں جماعت میں البتہ سالانہ اسپورٹس کی دوڑ میں ہمارا اکیسواں نمبر آیا تھا۔ دوڑ میں اتنے ہی لڑکے شریک ہوئے تھے۔ کچھ دن فٹ بال سے بھی سرمارا۔

ایک دن ہم نے تین فٹ اچھل کر ’’ہیڈ‘‘ کیا تو جس گول شے سے ہم نے آنکھ بند کرکے پوری قوت سے ٹکر لی وہ دیوقامت جسونت سنگھ چوہان کا مُنڈا ہوا سر نکلا۔ وہ شام کو ٹھنڈائی (بھنگ) پی کر فٹ بال کھیلتا تھا۔ ہماری ناک کا بانسہ اور دل ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا۔

ہم نے عینک اتار کر مردانہ کھیل سے اپنی دیرینہ وابستگی کا ثبوت اینڈرسن کو دکھایا۔ ناک کی خمیدہ ہڈی دیکھ کر بہت ہنسا۔ کہنے لگا تمہارا ایک کان بھی ٹیڑھا لگا ہوا ہے۔

’’اور تم RIMLESS GLASSES کیوں لگاتے ہو؟ تمہاری صورت سراسٹیفرڈ کرپس سے ملتی ہے۔‘‘

’’ذرہ نوازی کا شکریہ!‘‘ ہم نے خوش ہو کر کہا۔

’’مجھے اس باسٹرڈ کی صورت سے نفرت ہے۔‘‘

٭تو پھر اب کیا جگہ کی قید

ہم ابھی اس چوٹ کو ٹھیک سے سہلا بھی نہ پائے تھے کہ استفسار فرمایا ’’کنوارے ہو؟‘‘

’’نو سر!‘‘

’’کتنی بیویاں ہیں؟‘‘ اس نے سوال کرکے دونوں ہونٹ بھینچ لیے۔

’’ایک ۔‘‘

’’مجھے تو چار پر بھی اعتراض نہیں۔ لیکن چار بیویوں میں قباحت یہ ہے کہ چار دفعہ طلاق دینی پڑتی ہے۔‘‘

بھلا وا دے کر پھر وہی سوال دہرایا،’’سفارش اپنی جگہ، لیکن بینک میں کیوں ملازمت کرنا چاہتے ہو؟ بینکر کے کیا فرائض اور ذمے داریاں ہوتی ہیں؟‘‘

یہ سوال سنتے ہی ہمارے ہاتھوں کے روایتی طوطے دوبارہ اڑ گئے اور ایسے اڑے کہ پھر نہ لوٹے۔

بینکاری کے اسرار و روموز تو کجا، ہم نے تو زندگی میں کسی مسلمان بینکر کا نام بھی نہیں سنا تھا۔

مسٹر اینڈرسن نے آخری مرتبہ بڑی دھیرج سے سوال کیا، ’’تم اس پیشے میں کیوں آنا چاہتے ہو؟ میں یہ سوال تمہیں انٹرویو میں فیل کرنے کے لیے نہیں پوچھ رہا ہوں۔ اگر یہی منشا ہوتا تو میں یہ بھی پوچھ سکتا تھا کہ بتاؤ اس کتے کے والد کا کیا نام ہے؟ ہو! ہو! ہو!‘‘

’’آج سے تم خود کو بینک کا COVENANTED OFFICERسمجھو‘‘

اور یوں ہماری زندگی میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا، بل کہ بقول پروفیسر قاضی عبدالقدوس، صفحہ پلٹنے کی آواز بھی دور دور تک سنائی دی۔

The post بہ زبانِ یوسفی appeared first on ایکسپریس اردو.

کپل شرما کو وزن بڑھنے کے باعث پہچاننا مشکل

ممبئی: کروڑوں دلوں کی دھڑکن اور بالی ووڈ کے مزاحیہ اداکار کپل شرما نے پچھلے کچھ عرصے میں اپنے وزن میں اضافہ کیا ہے اور موٹاپے کے باعث انہیں پہچاننا مشکل ہوگیا۔

کپل شرما گزشتہ روز کئی ہفتوں بعد ممبئی واپس آئے اور انہیں دیکھ کر میڈیا سمیت ان کے تمام مداح دنگ رہ گئے کیونکہ ایئرپورٹ پر لی گئی  نئی تصاویر میں کپل شرما وزن بڑھنے کے باعث کافی موٹے نظر آرہے ہیں ۔

کپل شرما ممبئی واپسی سے قبل اپنے مداحوں کو اپنے بڑھے ہوئے وزن کے بارے میں آگاہ کرچکے تھے، ایک مداح نے ان سے سوال پوچھاتھا کہ آپ اب بھی جم جاکر ورزش کررہے ہیں یا موٹے ہوگئے ہیں جس پر کپل نے جواب دیاتھا کہ وہ موٹے ہوگئے ہیں، لیکن جلد ہی وزن کم کرلیں گے۔

تاہم ان کے چاہنے والوں کو یقین نہیں تھا کہ کپل اپنے وزن میں اتنا زیادہ اضافہ کرلیں گے۔

واضح رہے کہ کپل شرما کاکیریئرگزشتہ برس اپنے دوست اور ساتھی اداکار  سنیل گروور کے ساتھ لڑائی کے باعث  مشکلات کا شکار ہوگیا تھا جس کے باعث کپل ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئے تھے تاہم انہوں نے ایک نئی شروعات کرتے ہوئے نئے شو ’دی کپل شرما شو‘کا آغاز کیاتھا لیکن بد قسمتی سے وہ بھی بند ہوگیا تھااور اس کے بعد سے وہ جو بھی پراجیکٹ شروع کررہے ہیں اسے ناکامی کاسامنا کرنا پڑرہاہے یہی وجہ تھی کہ کپل کچھ دنوں کے لیے ممبئی سے باہر چلے گئے تھےاوراب تقریباً دوماہ بعد ان کی واپسی ہوئی ہے۔

The post کپل شرما کو وزن بڑھنے کے باعث پہچاننا مشکل appeared first on ایکسپریس اردو.

اداکارہ ارمینا خان نازیبا گفتگو کرنے پر شیخ رشید پربھڑک اٹھیں

کراچی: پاکستانی اداکارہ ارمینا خان سیاسی جماعت عوامی مسلم لیگ کے سربراہ پر بھڑک اٹھیں اور کہا ایسے شخص کو ٹی وی پر بلانے کی اجازت کیسے دی گئی۔

اداکارہ ارمینا خان سوشل میڈیا پر بہت زیادہ فعال رہتی ہیں اور اداکاری کے علاوہ ملکی مسائل میں بھی بہت زیادہ دلچسپی لیتی ہیں اور اکثروبیشتر اپنے خیالات کا اظہار کرتی رہتی ہیں۔ گزشتہ روز ارمینا خان نے سیاسی جماعت عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی کلاس لیتے ہوئے انہیں خوب کھری کھری سنادیں۔

ارمینا خان نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو کلپ شیئر کیاہے جس میں شیخ رشید کسی ٹاک شو میں بیٹھ کر فلم انڈسٹری کے خلاف نازیبا گفتگو کررہے ہیں۔ ارمینا خان نے فلم انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کے لیے نازیبا لفظ استعمال کرنے پر شیخ رشید کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ’’کون ہے یہ آدمی؟ اوریہ کیوں فلم انڈسٹری کے خلاف نازیبا گفتگو کررہاہے؟ اس کے علاوہ اسے کس نے اجازت دی اتنی نامناسب زبان ٹیلی ویژن پر استعمال کرنے کی؟

ایک صارف نے ٹوئٹر پر ارمینا خان سے کہا آپ نے صرف ایک لفظ پر غور کیا ہے یہ سیاستدان اسی طرح کی باتیں کرتے ہیں جس پر ارمینا خان نے جواب دیتے ہوئے کہا ’’تصور کریں، اس طرح کے لوگ ہمارے لیڈرز ہیں۔‘‘

ایک اور ٹوئٹ میں ارمینا خان نے کہاکہ انہیں اس آدمی(شیخ رشید) کی وجہ سے بہت شرمندگی ہورہی ہے۔ کیسے آپ اپنے وسیع اثرات کی بنا پر کسی کے بارے میں اس طرح کے بیانات دے سکتے ہیں۔ میری ہڈیوں میں سرد لہر دوڑ گئی یہ سب سن کر، کیا یہ سیاستدان تعلیم یافتہ ہیں؟ ان کا پس منظر کیا ہے اور یہ کہاں سے تعلق رکھتے ہیں؟ برطانیہ میں اس شخص کو کسی بھی عوامی دفاتر کے قریب بھٹکنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی۔

The post اداکارہ ارمینا خان نازیبا گفتگو کرنے پر شیخ رشید پربھڑک اٹھیں appeared first on ایکسپریس اردو.

شاہ رخ خان کی فلم’زیرو‘کاٹیزر دیکھ کر ماہرہ خان کا حیران کن ردعمل

ممبئی: عالمی شہرت یافتہ پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان کی فلم’زیرو‘کا ٹیزر دیکھ کر حیران رہ گئیں اورمداحوں سے ٹیزر کے حوالے سےاپنے خیالات کا اظہار کیا۔

بالی ووڈ کے بادشاہ شاہ رخ خان کی فلم ’زیرو‘کا انتظار ان کے مداح بے چینی سے کررہے ہیں، فلم میں شاہ رخ خان پہلی بار ایک بونے کاکردار اداکررہے ہیں، اس کردار کو نبھانے کے لیے انہوں نے بہت محنت کی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے چاہنے والوں کے ساتھ فلمی دنیا سے وابستہ افراد کو بھی فلم کا بےچینی سے انتظار ہے جن میں پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان بھی شامل ہیں۔ حال ہی میں عید الفطر سے قبل فلم’زیرو‘کا دوسرا ٹیزر ریلیز کیاگیا تھا جس میں شاہ رخ خان کے ساتھ سلومیاں بھی بھوجپوری گانے پر رقص کرتے نظر آئے۔ شاہ رخ خان نے ٹیزر کو مداحوں کے لیے عید کا تحفہ قراردیا۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: شاہ رخ اورسلمان خان کی مداحوں کو عید سے قبل عیدمبارک

فلم کے ٹیزر کو شاہ رخ خان کے مداحوں سمیت بالی ووڈ کی متعدد شخصیات نے بھی بے انتہا پسند کیا جب کہ پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان نے بھی فلم کے ٹیزر پر اپناردعمل ظاہر کیا۔ گزشتہ روز ٹوئٹر پر ایک مداح نے ماہرہ خان سے فلم کے ٹیزر سے متعلق سوال کرتے ہوئے کہا ’کیا آپ نے ’زیرو‘کا ٹیزر دیکھا ہے، کیا آپ کو ٹیزر پسند آیا؟‘جس پر ماہرہ خان نے جواب دیتے ہوئے کہا ’جی ہاں میں نے دیکھا ہے ٹیزراور یہ بہترین ہے۔‘

واضح رہے کہ ماہرہ خان نے شاہ رخ خان کے ساتھ 2017 میں فلم’رئیس‘ کے ساتھ بالی ووڈ میں ڈیبیو کیاتھا تاہم بھارت میں پاکستانی فنکاروں پر پابندی لگنے کے بعد ماہرہ کسی دوسرے پراجیکٹ میں نظر نہیں آئیں۔

The post شاہ رخ خان کی فلم’زیرو‘کاٹیزر دیکھ کر ماہرہ خان کا حیران کن ردعمل appeared first on ایکسپریس اردو.

پریانکا چوپڑا زندگی کے یادگارلمحات پرکتاب لکھیں گی

ممبئی: سابق ملکہ حسن اورنامور بالی ووڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا اپنی زندگی کے اتار چڑھاؤ اور خوبصورت لمحات کو یادگار بنانے کے لیے اپنی سوانح حیات لکھیں گی۔

گزشتہ چند برسوں میں بالی ووڈ میں اداکاروں کی جانب سے ان کی زندگی پرمبنی کتاب لکھنے کا سلسلہ زورپکڑگیا ہے۔ گزشتہ برس اداکار رشی کپورنے اپنی زندگی پر کتاب لکھی تھی جب کہ اداکار نوازالدین صدیقی بھی اپنی سوانح حیات لکھ چکے ہیں جس میں ایک خاتون کے ساتھ تعلقات کے انکشاف پرانہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، اور اب اداکارہ پریانکا چوپڑا نے اپنی زندگی کے واقعات پر مبنی کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس کانام ’ان فنشڈ‘ ہوگا اوریہ کتاب اگلے سال بھارت، امریکا اوربرطانیہ میں ایک ساتھ پبلش کی جائے گی۔

پریانکا چوپڑا کا کتاب لکھنے کے حوالے سے کہنا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے سفراوراپنے محسوسات کولفظوں میں ڈھالنے کے لیے تیارہیں، ان کی کتاب حقائق اورمزاح سے بھرپورہوگی جب کہ اس میں وہ اپنی زندگی کے بولڈ واقعات بھی بیان کریں گی جب وہ 17 سال کی عمر میں انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے وابستہ ہوئی تھیں اورمس ورلڈ کا خطاب جیتا تھا۔

پریانکا نے مزید کہا میں ہمیشہ سے اپنے آپ میں سمٹ کر رہنے والی لڑکی ہوں اور اپنی زندگی کے واقعات دوسروں کے ساتھ شیئر کرنا پسند نہیں کرتی لیکن اب میں اپنے ڈر اور کہانی کوبیان کرنے کے لیے تیار ہوں اورامید کرتی ہوں خاص طور پر خواتین میری کہانی سے متاثر ہوں گی۔

انہوں نے کہا خواتین ہمیشہ کہتی ہیں کہ ہمارے پاس سب کچھ نہیں ہے، ہمیں سب کچھ چاہئیے اورمیرا یقین ہے سب کے پاس سب کچھ ہوتا ہے جو میں ثابت کرسکتی ہوں۔

پریانکا چوپڑا کی کتاب بھارت کا معروف پبلشنگ ہاؤس پینگوئن رینڈم ہاؤس پبلش کرے گا جس نے حال ہی میں بھارت کے لیجنڈ موسیقار اے آر رحمان کی سوانح حیات بھی پبلش کرنے کااعلان کیا ہے۔

The post پریانکا چوپڑا زندگی کے یادگارلمحات پرکتاب لکھیں گی appeared first on ایکسپریس اردو.

اداکاری میں مجھے بابرہ شریف اور ریکھا نے بہت متاثر کیا، سونیا خان

 لاہور:  معروف اداکارہ سونیا خان نے کہا ہے کہ عیدالفطر پر پاکستانی فلموں کی نمائش سے سامنے آنے والے رسپانس نے ماضی کی یاد تازہ کردی ہے۔

نیوز چینلز اور سوشل میڈیا کے ذریعے جو اطلاعات ہم تک پہنچیں اس پر میں بے حد خوش ہوں اور بے صبری سے پاکستانی فلموں کی ناروے میں نمائش کی منتظر بھی ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے ’’ایکسپریس‘‘ سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ سونیاخان نے کہا کہ میرا تعلق پاکستان فلم انڈسٹری سے ہے اور میں نے اس کا وہ سنہری دوردیکھ رکھا ہے جس کی آج مثالیں دی جاتی ہیں۔ سنہرے دور میں جہاں مختلف موضوعات پر فلمیں بنائی جاتی تھیں، وہیں فلموں میں نئے چہروں کو متعارف کروانے کا بھی سلسلہ جاری رہتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں ہماری فلموں میں بہت سے باصلاحیت فنکار جلوہ گر ہوئے اور انھوں نے بہترین اننگز کھیلتے ہوئے اپنی منفرد پہچان بنائی۔

آج بھی مجھے کچھ ایسا ہی محسوس ہورہا ہے کیونکہ نوجوان فلم میکرز اور خوبصورت چہرے پاکستان فلم انڈسٹری کو ایک نئی سمت میں لے کرجانا چاہتے ہیں لیکن اس وقت ہمیں کچھ ایسے چہروں کی اشد ضرورت ہے جن کوپاکستانی فلم کا چہرہ قراردیا جاسکے جس طرح ماضی میں وحید مراد اور بابرہ شریف سمیت دیگرتھے۔ اداکاری میں مجھے پاکستان میں بابرہ شریف اور بھارت میں ریکھا نے بہت متاثر کیا۔ ان کا میک اپ، ڈریسنگ اور اداکاری بہت منفرد تھی۔ بابرہ جیسی اداکارہ تو صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔

اسی طرح آج کے دورمیں ہمیں ہیرو اورہیروئن کے روپ میں کچھ ایسے ورسٹائل فنکاربنانا ہوں گے جن کو لوگ پسند کریں۔ اس وقت فلمیں تو بن رہی ہیں اور عید الفطر پر اچھا رسپانس بھی ملا ہے لیکن میں اپنے تجربے کی بنا پر یہ کہنا چاہتی ہوں کہ جب تک ہمارے فنکار لوگوں کے آئیڈیل نہیں بنیں گے تب تک انھیں وہ اسٹارڈم نہیں مل پائے گا جوایک فلمی ستارے کوملتا ہے۔ اس کیلیے انھیں سخت محنت کی ضرورت ہے۔

The post اداکاری میں مجھے بابرہ شریف اور ریکھا نے بہت متاثر کیا، سونیا خان appeared first on ایکسپریس اردو.